Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

مکافات عمل یاد آیا کُچھ ۔۔۔؟

11,753 görüntüleme • 10 ay önce •via X (Twitter)

22 Yorum

Ikram Barlas profil fotoğrafı
Ikram Barlas10 ay önce

مر گیا مردود۔۔نہ فاتحہ نہ درود۔۔۔نریاں گالاں۔۔تمھارے سمیت

Dr Muhammad J Siddiqi profil fotoğrafı
Dr Muhammad J Siddiqi10 ay önce

فیض حمید 15 سال کے لیئے قید بامشقت کی سزا پا گئے! آگے آگے ہوتا ہے کیا!

sarwat profil fotoğrafı
sarwat10 ay önce

Apnay saaray khandaan ko PIA me najayez bharti kerwanay pe ab hisaab de raha hoga.

Bakht Rawan Wardag profil fotoğrafı
Bakht Rawan Wardag10 ay önce

مشاہد اللہ خان — جرات، بصیرت اور سیاسی استقامت کی علامت پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود مدھم نہیں ہوتیں۔ ایسی ہی ایک آواز، جو سچائی کے ساتھ لرزہ ڈالنے والی دھمک نہیں بلکہ اصولی جرات رکھتی تھی، وہ مرحوم سینیٹر مشاہد اللہ خان کی آواز تھی۔ ان کی گفتگو میں شائستگی بھی تھی اور طنز کی کاٹ بھی۔ جب وہ بولتے تھے تو حکمرانوں کے تخت ہلتے تھے اور اپوزیشن کے ناروا رویوں پر ضرب لگتی تھی۔ ان کا سب سے مشہور جملہ، جو آج بھی سیاسی تاریخ کا حصہ ہے، یہ تھا: “ہمیں جیلوں سے مت ڈراؤ، ہم نے مشرف کی جیلیں دیکھی ہیں۔ ہمیں جیلوں میں ڈالو، کوئی فرق نہیں پڑتا… لیکن یاد رکھو! آج تم طاقت میں ہو— کل جب تمہاری آنکھوں میں آنسو ہوں گے، تب تمہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہوگا!” یہ جملہ صرف ایک سیاسی انتباہ نہیں تھا، بلکہ تاریخ کے اصول کی گونج تھا— ظلم کا انجام ہمیشہ الٹ کر ظالم کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ مشاہد اللہ: جرات اور مزاحمت کا استعارہ مشاہد اللہ خان کا سیاسی کیریئر اصولوں پر مبنی تھا۔ انہوں نے زندگی بھر: آمریت کی مخالفت کی سیاسی انتقام کا مقابلہ کیا اور جمہوریت کے لیے کھڑے رہے جب وہ کہتے تھے کہ: “ہم نے مشرف کی جیلیں دیکھی ہیں، ہمیں کس بات کا خوف؟” تو یہ کوئی سیاسی نعرہ نہیں تھا، بلکہ اُن کے تجربات کا نچوڑ تھا۔ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ظلم سہ کر بھی زبان نہیں بدلی، موقف نہیں بدلا، اور اصولوں کا سودا نہیں کیا۔ طاقتوروں کو تنبیہ — ظلم ہمیشہ واپس آتا ہے مشاہد اللہ خان مخالفین کو بارہا خبردار کرتے تھے: “اقتدار کا نشہ اترتے دیر نہیں لگتی۔ آج تم ہنس رہے ہو، کل تم رو رہے ہوگے اور تمہیں دلاسہ دینے والا بھی نہیں ملے گا!” یہ الفاظ اُس وقت کی حکومتی صفوں میں چبھتے تھے لیکن وقت نے کئی بار ثابت کیا کہ مشاہد اللہ کی یہ باتیں پیشن گوئی کی طرح پوری ہوئیں۔ انہوں نے ہمیشہ سیاست میں اخلاقیات کا درس دیا۔ ان کا کہنا تھا: “سیاست مخالف کو مٹانے کا نام نہیں — سیاست برداشت، عقل اور اخلاق کا نام ہے۔ جو اسے انتقام بناتے ہیں، وقت انہیں خود عبرت بنا دیتا ہے۔“ شعر و سخن میں لپٹا ہوا ان کا پیغام مرحوم اکثر پارلیمنٹ میں شعر پڑھ کر ماحول کو واضح پیغام دے دیتے تھے۔ جیسے: ؎ ہم کو اُن سے وفا کی ہے امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے ؎ آدمی آدمی سے ملتا ہے دل مگر کم کسی سے ملتا ہے ان کے یہ اشعار محض گفتگو کو خوبصورت بنانے کے لیے نہیں ہوتے تھے، بلکہ سیاسی اخلاقیات کی یاد دہانی ہوتے تھے۔ مشاہد اللہ کی موت — مگر اُن کی بات آج بھی زندہ ہے آج وہ دنیا میں نہیں رہے، مگر ان کا لہجہ، ان کی جرات، ان کی سیاسی بصیرت، اور ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار یہ سب پاکستان کی سیاسی تاریخ کے روشن باب ہیں۔ بہت سے لوگ شاید ان کے نام سے اختلاف رکھتے ہوں، لیکن اُن کے اس جملے میں موجود سچائی سے کوئی انکار نہیں کرسکتا: “ظلم ہمیشہ واپس پلٹتا ہے— اور جب پلٹتا ہے تو اس کے سامنے کوئی کھڑا نہیں رہ سکتا۔” مشاہد اللہ خان مرحوم کا سیاسی کردار یہ سبق دیتا ہے کہ: جیل انسان کو نہیں توڑتی، ظالم کے کردار کو بے نقاب کرتی ہے طاقت وقتی ہے، اصول دائمی ہیں اور جو لوگ آج دوسروں کو رولاتے ہیں، کل خود روتے نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کا نام آج بھی سچ، مزاحمت اور جمہوری غیرت کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ -

Rehana sahi profil fotoğrafı
Rehana sahi10 ay önce

بہت خوبصورت انسان ! اللہ بے حساب مغفرت فرماۓ آمین

shani  Je profil fotoğrafı
shani Je10 ay önce

مرحوم شدید کرپٹ واقع ہوئے تھے۔۔۔۔۔ایسی گندی اولاد پیچھے چھوڑی ہے جو کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی اسکو گالیاں پڑوانے سے۔۔۔۔۔۔۔

USER12345678 profil fotoğrafı
USER1234567810 ay önce

Mother fucker was right bastard.

Haqeeqat - X profil fotoğrafı
Haqeeqat - X10 ay önce

کاش یہ بندہ آج حیات ہوتا اور اپنی آنکھوں سے زلالت دیکھتا

Kamran Siddiqui profil fotoğrafı
Kamran Siddiqui10 ay önce

گراوٹ کی انتہا ہے۔ ہم اپنی مصیبت کو آزمائش جبکہ دوسرے کی مصیبت کو مقافات عمل کہتے ہیں۔ “ نواز اینڈ کو “ پر اکثر مقدمے بینظیر حکومت کے تھے۔ پانامہ لیک میں نام عمران نے ڈالا تھا ؟ اکثر مقدمے کرپشن کے تھے “ کافرانہ نظام تو چل سکتا ہے ظلم کا نہیں” فرعوں کی مثال سے کُچھ سیکھ لیں۔

Mohammedsuper215 profil fotoğrafı
Mohammedsuper21510 ay önce

This Behnchod is rotting in hellfire

Saad Noor profil fotoğrafı
Saad Noor10 ay önce

Kon roya hain???kon hospital gaya hain

Farzam Shah PMLn profil fotoğrafı
Farzam Shah PMLn10 ay önce

Just make one good institution so great it can save Pakistan everytime. fEAT Pakistani Nation.😂

karimkhan profil fotoğrafı
karimkhan10 ay önce

bas Karo..tmy ni lagta tete najyez baap 100 time ziada zukam karaha ha

M Akram Arain profil fotoğrafı
M Akram Arain10 ay önce

اللہ تعالہ مرحوم مشاہداللہ کو غریق رحمت فرمائے بہت دور اندیش بہت سچے انسان تھے💕

Naturelover profil fotoğrafı
Naturelover10 ay önce

قلم فروش صحافی

Muhammad Nadeem profil fotoğrafı
Muhammad Nadeem10 ay önce

شہزادہ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے آمین کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے آمین

FAIQ profil fotoğrafı
FAIQ10 ay önce

نجم ولی خان تم جیسے بھی اسی مرشد کے نام کی کمائی کھا رہے ہو ورنہ تمہاری دکانداری نہ چلے

Humayun Baqai profil fotoğrafı
Humayun Baqai10 ay önce

Sir this histrionic speech !! this going on last 78 years indefinitely in the hand dictatorship Pakistan, I knew real PML due my father Muslim league, they looted my father election and had faded memories grate leader of that time era? it need to stop? do bipartisan politics

A R J B profil fotoğrafı
A R J B10 ay önce

👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍

Imran Qadri profil fotoğrafı
Imran Qadri10 ay önce

ایک بات تو مانو رو کون رہا ہے آپ لوگ یا جیل میں بیٹھا شخص

nasir abbas profil fotoğrafı
nasir abbas10 ay önce

Great leaders can see what others cannot see

𒆜Saim🥀 profil fotoğrafı
𒆜Saim🥀10 ay önce

mar geya bsrk lakin lgta tum nhi nhi marna

Benzer Videolar