正在加载视频...

视频加载失败

میرا جمہوری سسٹم پر اتنا believe نہیں رہا لگتا ہے کہ مغرب کا دیا ہوا یہ concept پوری دنیا میں اب فیل ہو رہا ہے ۔ capitalism بھی 8 ارب کی آبادی کے 90 فیصد سے زیادہ لوگوں کو غربت یا struggling stage سے نکلنے نہیں دے رہا ۔...

50,004 次观看 • 4 个月前 •via X (Twitter)

39 条评论

Gohar Butt 的头像
Gohar Butt4 个月前

جمہوریت کی ناکامی میں بھی سرمایہ داروں کا سب سے بڑا کردار ہے جو انفارمیشن پر اجارہ رکھتے ہیں ، آپ غور کریں تمام میڈیا ہاوسز سرمایہ داروں کے ہیں جو ان کے نفاد کو یقینی بنانے کے لیے قائم کیے گئے ہیں ، میڈیا کو کنٹرول کرکے عوام کو وہی بتایا جاتا ہے جس " سسٹم " کے مفاد میں ہو

Gohar Butt 的头像
Gohar Butt4 个月前

سوشلزم ہی واحد طریقہ کار ہے جس کے تحت معاشرے میں دولت کی بہتر تقسیم ہوسکتی ہے ، باقی سرمایہ داری نظام تو اپنے نام سے ظاہر کرتا ہے کہ وہ سرمایہ داروں کے مفاد کے لیے ہے اس میں محنت کش کو صرف اتنا حصہ ملتا ہے جسکے استعمال سے وہ محنت کرسکے

waqar hashmi 的头像
waqar hashmi4 个月前

@NaureenJanjua subhan Allah... subhan Allah...noon league ki worker.. pti sy nishaan cheen k.. un k top leadrs ko jalsaa na krny deyn.. arrests hon.. Es py kuch arz krain ?..

Naureen Saleem Janjua 的头像
Naureen Saleem Janjua4 个月前

یہ زیادتی ہے سب کو برابر کیمپین کرنے کا حق ہے ۔ فری اینڈ فئیر الیکشن ہونے چاہئیں جو بھی جیتے

waqar hashmi 的头像
waqar hashmi4 个月前

Thanks..

PakistaniPeeps🇵🇰 的头像
PakistaniPeeps🇵🇰4 个月前

ایمانداری سے دیکھا جائے تو اسلام میں جمہوریت نہیں خلافت یا صدارتی نظام ہے ۔۔۔ہمیں جمہوریت کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا خود صدارتی نظام چلا رہے۔۔۔ سب گول مال ہے

𝐃𝐫 𝐒𝐮𝐠𝐡𝐫𝐚 𝐒𝐚𝐝𝐚𝐟 的头像
𝐃𝐫 𝐒𝐮𝐠𝐡𝐫𝐚 𝐒𝐚𝐝𝐚𝐟4 个月前

@mkw72 جمہوری نظام جمہور سے ہوتا ھے اور آجکل کے رہنما جمہور کی حالت سے لاتعلق ہو رہے ہیں . دنیا کے بڑے جمہوری ملکوں میں بھی شخصی اور گروہی آمریت غالب ھے . اُن کے اللے تللے دیکھ کر بادشاہت کا گمان ہوتا ھے۔ . باقی پُچھ گِچھ کرن آلیاں نوں اَنھے وا ووٹ پان دی بجائے سوچنا چاہی دا اے

Adnan Khalid 的头像
Adnan Khalid4 个月前

Democracy is the best fraud !

Naureen Saleem Janjua 的头像
Naureen Saleem Janjua4 个月前

💯

❤️ابو محمد 😘 的头像
❤️ابو محمد 😘4 个月前

نون لیگ کا اب وتیرہ بن گیا ہے ووٹ مانگنے کے لیے خواجہ سعد رفیق جیسے ایماندار لوگوں کو سامنے لایا جاتا ہے اور کرسی پر بیٹھنے کے بعد اویس لگاری جیسے بے غیرت لوگوں کو وزیر بنا کر غریب عوام کا جینا دو بھر کیا جاتا ہے

KattaNews5🪴1🇵🇰🇬🇧🇸🇦🇹🇷 的头像
KattaNews5🪴1🇵🇰🇬🇧🇸🇦🇹🇷4 个月前

@Sarfrazmirza16 ایسا نظام چاہئے ۔۔ بس۔۔۔

The Hermit 的头像
The Hermit4 个月前

یہ نظریہ ہی غلط ہے جس ملک میں بھونکنے کے پیسے ملتے ہوں ٹٹے پوشی کرنے کا معاوضہ ملتا ہو وہاں تقسیم کیسے برابر ہوسکتی ہے چوسی جاؤ پیسہ چھاپی جاؤ تمہیں اچھے لگتے ہیں تو گھر ایک سٹیج لگا کر ان کو کھڑا کر لو ہمیں ذرا اچھے نہیں لگتے

Mickey Gill ✝️🇵🇰 的头像
Mickey Gill ✝️🇵🇰4 个月前

@pakistanipeeeps The concept of communion was portrayed as an anti God concept by the capitalist moguls, The word communist was drawn parallel to atheist. Just to bring in religious emotions to fire up the war on that. Only democracy without actual oversight also brings in sloppy decisions

Naseem Akram 的头像
Naseem Akram4 个月前

@SA55Ca مکمل اتفاق کرتی ہوں۔ جمہوریت کے جھنجھنے سے ٹوڈلرز بہلائے گئے ہیں۔

Gohar Butt 的头像
Gohar Butt4 个月前

سوشل میڈیا ایپس کے بعد انفارمیشن کا Flow کچھ بہتر ہوا ہے لیکن اس کو بھی کنٹرول کیا جاتا ہے اور انٹرنیشنل قوتیں اس کو اپنے مفاد میں استعمال کرتی ہیں

Nighat Khan 的头像
Nighat Khan4 个月前

@GQAbbasi Absolutely right

Veni Vidi Vici 的头像
Veni Vidi Vici4 个月前

جمہوری نظام؛ کیا آپ کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ الیکشن لڑ سکیں؟ کیا الیکشن عام آدمی کا ہے؟ یہ چند خاندان ہیں جو جمہوریت کے نام پر بزنس کرتے ہیں۔ الیکشن ان کی کمائی اور دھندہ ہے۔ جب ان کے دھندے میں مندا شروع ہوتا تو یہ پارلیمان کی سپرمیسی کا چورن لے کے پہنچ جاتے ہیں

Aamir 的头像
Aamir4 个月前

جب سے سوشل میڈیا عام ہوا ہے تب سے لوگوں کی سوچ کو سسٹمیٹک طریقے سے manipulate کرنا آسان ہو گیا ہے۔ اس کا آغاز Brexit سے ہوا تھا اور اب پوری دنیا میں جاری و ساری ہے۔ سوشل میڈیا پر بنائے جانے والے بیانئیے نے لوگوں کی اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود کر دی ہے اور وہ بھیڑوں کی طرح ایک طرف چل نکلتے ہیں۔

Caiser Mahmood 的头像
Caiser Mahmood4 个月前

جمہوریت اپنی اصل روح سے نافذ نہیں ہوتی، اس میں بھی فرد واحد اور آمریت کا عنصر غالب رہتا ہے، عوامی نمائندے عوام سے ووٹ لے کر عوام کو ہی جوتے مارنے لگ جاتے ہیں یا چھپ کر بیٹھ کر ہیں ملتے نہیں اگر مل جائیں تو کہتے ہیں کسی شے کا اختیار نہیں۔

Chaudhry Altaf 的头像
Chaudhry Altaf4 个月前

@pakistanipeeeps سیاسی عمل، فری اینڈ فیئر الیکشن اور الیکٹڈ گورنمنٹ کوتسلیم کرنے کی جو باتیں آپ نے جو کیں ہیں، اندر سے آپ بہت پکی جمہوریت پسند ہیں۔ ہاں البتہ آپ کی یہ بات بھی 100% درست ہے کہ کیپیٹل ازم نے لوگوں کا جینا حرام کردیا ہے۔

Ahmad Nawaz Kamyana 的头像
Ahmad Nawaz Kamyana4 个月前

جمہوریت کی رائج قسم جمہور کو بیوقوف بنانے کے لیے ایجاد کی گئی ہے

KhadimAli 的头像
KhadimAli4 个月前

پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کے زمیداری معذرت کے ساتھ ھندوستانی اور پنجاب کی بیروکرسی سیاستدان تاجر مذہبی طبقہ اور طاقتور اسٹبلشمنٹ کا گٹھہ جوڑ ہے اس میں نہ بنگال نہ سندھ نہ خیبرپختون خوہ سرائیکی بلوچستان کا کوئی کردار نہیں ہے

𝓜𝓸𝓱𝓪𝓶𝓶𝓪𝓭 𝓤𝓼𝓶𝓪𝓷 𝓚𝓱𝓪𝓷 的头像
𝓜𝓸𝓱𝓪𝓶𝓶𝓪𝓭 𝓤𝓼𝓶𝓪𝓷 𝓚𝓱𝓪𝓷4 个月前

are provided to them. I pray to Allah that in the future this gap between expectations and reality may decrease but unfortunately the situation appears to be deteriorating with each passing day.

Iftikhar Hussain 的头像
Iftikhar Hussain4 个月前

سوشل میڈیا کی طاقت سے نت نئے بیانیوں نے جمہوریت کی ماں بہن ایک کردی ہے۔ جمہوریت کی موجودہ شکل ایک نئے سسٹم کو جنم دے چکی ہے۔ شخصیت پرستی کا عنصر غالب آ چکا ہے۔

sajjad janjua 的头像
sajjad janjua4 个月前

@kdastgirkhan درست کہا، ورلڈ آرڈر جہاں تبدیل ہو رہا ہے وہاں اس سے جڑی حقیقتیں اور نظامی باریکیاں بھی تبدیل ہو کر رہیں گی۔

SanKhan® 的头像
SanKhan®4 个月前

مسلہ جمہوریت میں نہیں، مسلہ تب ہوتا ہے جب جمہوریت اکثریت کی آمریت بن جاتی ہے۔یہ لائین بڑی باریک ہے اور کراس ہوتے سمجھ ہی نہیں آتی۔نعرہ مور ڈیموکریسی کا لگ رہا ہوتا ہے اور اصل میں مور آمریت ہو رہی ہوتی ہے

Fayyaz Sherpao 的头像
Fayyaz Sherpao4 个月前

متفق ہیں میڈم

‏علیﷻ پرست 的头像
‏علیﷻ پرست4 个月前

سوشلزم بہترین طریقہ ہے، ترقی اور سماجی مساوات کا اور حقیقی جمہوریت کا

Pakistani 的头像
Pakistani4 个月前

گلگت الیکشن کمپئین کا خلاصہ یہی ہے کہ پپل پالٹی اور پی ٹی آئی کے لیڈران ہر تقریر میں نواز شریف کے خلاف بول رہے ہیں اور نواز شریف نے اپنی تقریر میں انکا کسی کا نام تک نہیں لیا اور کہا کہ ووٹ دو یا نا دو کام کروائیں گے پہلے بھی کروایا آپ گواہ ہیں نواز شریف کی جوتی جیسے بھی نیی یہ😊

M.Tahir Shahzad 的头像
M.Tahir Shahzad4 个月前

@saqib2041 جمہوریت توصرف فریب ھے؛لو مینٹیلٹی غربت کی ماری بھوکی ننگی قوموں کو بیوقوف بنانےکاصرف ایک ٹول ھے؟ جسے مغرب اپنےمفادات کیلیے ایک ٹول کے طورپر استعمال کرتاھے؟ خواجہ سعدجیسےبھی جمھوریت کےنام پردھبہ ہیں؟ جبکہ اپنےآپ کو اچھادکھانےکیلیےقانون اور آئین کےقتل عام سےبھی دریغ نہ کرتےھوں؟

ابنِ آدم 的头像
ابنِ آدم4 个月前

نواز شریف ،خواجہ سعدرفیق اور خرم دستگیر خان کو دکھا کر ملک پر چاچو ، محمد اورنگزیب اور اویس لغاری مسلط کرنا بھی فراڈ ہے

@Pakistan-First 的头像
@Pakistan-First4 个月前

تو ان سب کا خواجہ سعد رفیق کی موجودہ ویڈیو سے کیا تعلق ہے،!!،دیکھ تو لیا کریں کہ لکھتے ہوئے لگا کیا رہی ہیں!!

Naureen Saleem Janjua 的头像
Naureen Saleem Janjua4 个月前

@PakStudies2025 پڑھ تو لیا کریں کیا اور کیوں لکھا ہے

@Pakistan-First 的头像
@Pakistan-First4 个月前

جی ایک چھوٹی سی جلسی لوکل موجودہ اور ایک جنرل عالمی تبصرہ پاڑ فلسفہ اور تبصرہ۔۔کہیں میچ نہیں کرتے

Fahad Haroon 的头像
Fahad Haroon4 个月前

میڈم کی جاب مشکل ترین جس میں نفس اور اپنی رائے کو مارنا پڑتا ہے ۔ جیسے کوئی ایونٹ ہو رہا ہے اور معلوم ہے کے کدّو کوئی فائدہ نہیں ہونا پھر بھی مائیک پکڑ کر رپورٹ کرنا 😁گستاخی معاف

ZeeViews 的头像
ZeeViews4 个月前

جب ایک درویش نے متوازی نظام دیا تو پوری مغرب اور سرمایہ دار اس کے پیچھے پڑ گئے۔ سلطنتوں کے ٹکڑے کر دئیے اور بڑے فخر سے ہم سینہ پھلا کر کہتے رہے۔ فتوے دئیے کہ اشتراکیت قرآن سے متصادم ہے اور سرمایہ داریت ہی قرآنی نظام ہے۔ خلافت و ملوکیت کا ٹھٹہ اڑایا۔

Engr. Javed JQM 的头像
Engr. Javed JQM4 个月前

@Sarfrazmirza16 اسلام کا دیا ہوا نظام حکومت ہی آج تک دنیا کا سب سے بہترین اور کامیاب ترین نظام حکومت ہے۔

mohammad 的头像
mohammad4 个月前

@KashifSabir پاکستان سارے سیاستدان باؤلے چوتیا لسانی ترقی یافتہ ممالک کے لیڈروں سے 200سال پیچھے ہیں یہیوجہ78سالوں پاکستان کا دوالیہ نکال دیا پاکستان توانائی کے زخائر ختم کرکے مقامی انڈسٹریز کو ختم کردیا گیا چند ایک اشرافیہ کی انڈسٹری چل رہی اب یہ سفر سیکس انڈسٹریز کیطرف ہے رواں دواں خاموشی سے

Irfan 的头像
Irfan4 个月前

جمہوریت ہی بہتر نظام ہے، چائنہ جیسا ملک اس کے اہم ترین جزو کیپیٹلزم کو دل و جان سے اپنا چکا.بس امریکہ نے اسے اتھاریٹیرینزم کا تڑکہ لگا دیا. جہاں تک ہم ہیں تو یہاں جمہوریت پروان ہی نہیں چڑھنے دیتے. میثاق جمہوریت کے جواب میں لولہا لنگڑا ہائبرڈ نظام مسلط کر دیا دو دہائیوں سے.

相关视频

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 次观看 • 9 个月前

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 次观看 • 9 个月前

نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئی تحصیلیں بنانا اور نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں۔ بھارت میں بھی نئے صوبے بنے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک کی انتظامی ساخت کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے۔ نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں، لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے یا نہیں۔ لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے، جبکہ وہ اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری آشیرباد پر ہوا ہے، یا میری اجازت سے ہوا ہے؟ یا وفاقی کابینہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے؟ یا اگر کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے۔ کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں، میں ایک سال سے زیادہ عرصہ چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا۔ مگر ہمارے سر پر یہ تھوپ دیا گیا کہ تم تو انضمام کے مخالف ہو۔ ہم نے کہا، نہیں، ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ فاٹا کے عوام اور ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، لہٰذا اس میں کئی آپشنز ہو سکتے ہیں۔ ذرا وہاں کے عوام سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ صوبے میں انضمام چاہتے ہیں، ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں، یا اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان سے نہیں پوچھا گیا۔ آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ وہاں کے عوام کی زندگی اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہ خود نہیں سمجھ رہے کہ ہم اب فاٹا ہیں یا صوبے کا حصہ ہیں۔ وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، باقی نظام تو دور کی بات ہے۔ یہ کوئی کیک تو نہیں کہ آپ آرام سے چھری لے کر جس طرح چاہیں اسے کاٹ دیں۔ صوبہ بنانے کی بات کے لیے کیا ملک تیار ہے؟ آپ مجھے بتائیں، اگر چار یا پانچ بھائیوں کا مشترکہ مکان ہو اور اس کے بعض حصوں میں آگ لگ جائے، تو اس وقت وہ آگ بجھائیں گے یا کہیں گے کہ آئیے بھائی، پہلے اس کی تقسیم کر لیتے ہیں؟ ہر چیز کے لیے ایک مناسب ماحول بنانا پڑتا ہے۔ سوائے اس کے کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات ہیں، جو بدامنی ہے، جس نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، ان سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے آپ ہم سب کو ایک نئی بحث میں لگا دیتے ہیں۔ روز نئے ایشو اٹھاتے ہیں، پھر اس پر بحث ہوتی ہے۔ یہ صوبوں والی بحث پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہے۔ ہم اصولی طور پر صوبوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر قومیتوں کی بنیاد پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اور اگر محض انتظامی بنیادوں پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اس پر ہر صوبے کے عوام کا ردِعمل آئے گا۔ وہ کہیں گے کہ یہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، مجھے اس صوبے میں شامل کرو یا نہ شامل کرو۔ یہ سارے معاملات ابھی باقی ہیں۔ ایک مشکل مسئلے میں اتنی آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال دیا گیا ہے کہ شاید یہ ان کے بس میں نہ ہو، بلکہ اس سے مشکلات اور پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو جائے۔ یہی میرے خدشات ہیں۔ ہر چیز مشاورت سے ہونی چاہیے تھی۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ یہاں مختلف قومیتیں رہتی ہیں، ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔ آپ اس شناخت کو نظرانداز کریں گے یا اسے سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے؟ یہ سارے معاملات غور و فکر کی ضرورت ہیں۔ میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے، یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اب کیا کرنا ہے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل آج بھی ہے اور کل بھی تھا، وہ ہے ملک کا آئین۔ آئین کے مطابق ملک کو چلاؤ، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، اور اللہ کے دین اور اس کے احکامات کے مطابق قانون سازی بھی شروع ہو جائے گی۔اور عوام میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی کہ اصل میں ہماری مرضی کی حکومتیں ہونی چاہئیں، ہم پر جبراً کوئی حکومتی مسلط نہ کی جائے۔ لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں، جیسے واقعی یہ عوام کی حکومتیں ہوں، جبکہ یہ بھی انہی کی حکومتیں ہوتی ہیں اور ان کی لگام بھی انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عوام پریشان ہیں، عوام کی کوئی حکومت نہیں ہے۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ انہوں نے یہ باتیں کس حیثیت میں کی ہیں؟ وہ کابینہ کے رکن ہیں۔ اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ مستعفی ہو جائے، یا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آ جائیں۔ نہیں، نوکری بھی اسی تنخواہ پہ کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں، تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں۔ 'چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے مجھ کو اکثر، ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے۔' امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

43,314 次观看 • 2 个月前

پاکستان ہر سال ایک نیوزی لینڈ، یا ایک ناروے،یا ایک فن لینڈ،یا ایک آئرلینڈ،یا ایک ڈنمارک، یا ایک سنگاپور اپنے اندر شامل کر رہا ہے۔ پاکستان کی ہر سال 65 لاکھ آبادی بڑھ رہی ہے،دنیا میں 24 ترقی یافتہ ممالک ہیں جن میں سے ہر ایک کی کل آبادی 65 لاکھ سے کم ہے۔ اب اگر پاکستان سے 10 لاکھ لوگ سالانہ باہر بھی جاتے رہیں تو پاکستان پر اس کا برا نہیں بلکہ بہت اچھا اثر پڑ رہا ہوتا ہے۔ چھوٹی سی زمین پر آباد اگر اتنا بڑا آبادی کا حامل ملک اگر 10 لاکھ لوگ بھی پاکستان سے باہر بھیجتا جائے تو سمجھیں کہ پاکستان اپنی"ہیومن ریسورس"ایکسپورٹ کر رہا ہے۔ پاکستان کی ترسیلات زر ملکی مجموعی برآمدات سے زیادہ ہیں اگر 10 لاکھ لوگ سالانہ ملک سے باہر جاتے ہیں تو سالانہ 4 سے 5 ارب ڈالرز مزید زرمبادلہ پاکستان بھجوانے کا باعث بنتے ہیں۔ اور پاکستان سے باہر رہ کر وہ پاکستان کے"سٹرٹیجک مفادات"کا تحفظ کرنے کا بھی باعث بنتے ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی گلوبل ورلڈ میں بڑھتی ہے،سٹیک ہولڈنگ بڑھتی ہے۔ یہ برین ڈرین نہیں کہا جا سکتا کیونکہ آپ کے پاس پھر بھی سالانہ 55 لاکھ لوگ ملکی آبادی میں ایڈ ہوتے جا رہے ہیں۔ ملکی معیشت اگر بہت ہی اچھی بھی ہو جائے تو بھی پاکستان کی زمین اتنی ہی رہے گی۔ کینیڈا کا رقبہ پاکستان سے 10 گنا سے زیادہ ہے اور آبادی صرف 4 کروڑ ہے۔ وسائل کے حساب سے دنیا میں آبادی کا توازن ہونا ایک بہتر عمل ہے۔یہ توازن جن بھی وجوہات سے بن رہا ہے اس کو بننے دینا چاہیے۔ اس پر غیر ضروری شور مچا کر حکومتوں کو انڈرپریشر تو کیا جا سکتا ہے۔مگر معروضی حالات کے مطابق یہ عمل ہوتے رہنا چاہیے۔ سوائے اس کے کہ آبادی بڑھنے کی شرح منفی میں لے جائی جائے۔ اور اس آبادی بڑھنے کے موضوع پر کوئی اینکر،دانشور مذہبی عقائد کی وجہ سے یا مختلف وجوہات کی وجہ سے بولنے کو تیار نہیں۔ لہذا اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے دوران بھی جو جا رہا ہے،اس کی حوصلہ افزائی کریں۔جو آ رہا ہے اسے آنے دیں۔بس یہ کریں کہ جو جا رہے ہیں ان کو اچھی تعلیم دیکر یا ہنرمند بنا کر بھیجیں۔ دنیا گلوبل ہو چکی ہے،سب کو اپنی اپنی دوڑ لگانے دیں، جو جاتے ہیں وہ جب چاہیں واپس بھی آ سکتے ہیں۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

20,820 次观看 • 9 个月前

آپریشن ہیروف 2 کے دوران بی ایل اے سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ نہیں کرسکی تو ریلوے بریج کو اڑا دیا ۔ لیکن یہ ریلوے بریج بلوچ عوام کیلئے تھا ۔ اور اب یہ دوبارہ بنایا جائے گا تو اس پر بلوچ عوام کا ہی پیسہ لگے گا ۔ وہی پیسہ جو تعلیم صحت پر لگنا چاہیے ۔ بی ایل اے کے حملوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو ٹھیک کرنے میں لگ رہا ہے اس میں نقصان تو بلوچ عوام کا ہورہا ہے ۔ کشمیر کیساتھ چین اور پاکستان کی سرحدیں لگتی ہیں کشمیر کی عوام انڈیا کیساتھ رہنا بھی نہیں چاہتے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود آج تک کشمیر آزاد نہیں ہوسکا بلوچستان میں آدھا علاقہ پشتونوں کے پاس ہے ۔ آدھا بلوچوں کے پاس ہے ۔ بلوچ عوام میں بھی صرف چند فیصد لوگ پاکستان سے علیحدہ ملک بنانا چاہتے ہیں واضح اکثریت پاکستان کیساتھ خوش ہے ایسے میں کس طرح بلوچستان کو پاکستان سے توڑنے کا خواب دیکھا جاسکتا ہے یہ کون لوگ ہیں جو اپنی ہی قوم کے دشمن ہیں جو اپنی ہی قوم کا نقصان کررہے ہیں یہ مزاحمت نہیں خودکشی ہے اور یہ لوگ خود بھی مررہے ہیں اور بلوچ قوم کو بھی مار رہے ہیں

Dr Zahra Baloch

20,115 次观看 • 7 个月前

ہم پولیٹیکل لوگ ہیں، ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، چاہے وہ ادارے ہوں یا سیاسی لوگ، سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ مجھے کوئی شرم نہیں کہ میں اپنے اداروں کے ساتھ بیٹھوں اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کروں کہ اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ مضبوط ادارے مضبوط پاکستان کی علامت ہیں، لیکن مضبوط اداروں کے پیچھے عوام کا اعتماد بھی ہونا چاہیے۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق بھی مضبوط ہو۔ عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے عوام میں اداروں کے حوالے سے ناراضی پیدا ہو رہی ہے، اور ہمیں اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے بات کرنی چاہیے۔ 80 فیصد عوام عمران خان صاحب کے ساتھ جڑے ہیں اور عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگ اداروں سے ناراض ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، تو مجھے تو خوشی ہے کہ یہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہو۔ اس سے پہلے بھی ہم ملے ہیں۔ جب بھی میاں صاحب نے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی، ہم نے بالکل ویلکم کیا، لیکن دوسرے دن ہمارے وارنٹ نکل جاتے تھے اور ہمیں مزید ایف آئی آرز میں ڈال دیا جاتا تھا۔ حکومت صرف باتوں سے نہیں، اپنے عمل سے ثابت کرے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ ہمارے پاس ووٹ کا مینڈیٹ عمران خان کا ہے، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان صاحب کے مشورے کے بغیر ہم کوئی بات کریں۔ جب ووٹ اُن کا ہے، پہچان اُن کی وجہ سے ہے، مجھے ووٹ اُن کا ملا ہے اور مجھے اُن کی وجہ سے پیار ملتا ہے، تو میں کس طرح یہ بات کر سکتا ہوں؟ حکومت کو ہمارا اختیار دیکھنا ہے تو ہماری ملاقات عمران خان سے کروا دیں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ ہمارے پاس بات کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ بالکل، ہم پولیٹیکل لوگ ہیں۔ ہم خان سے بات کر سکتے ہیں، انہیں موجودہ زمینی حقائق سے آگاہ کر سکتے ہیں اور گائیڈ کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں جو جمہوری کلچر ہے، یہ اُن لوگوں سے پوچھیں جو پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں۔ یہ جو غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ خان صاحب بات نہیں سنتے، خان صاحب سنتے ہیں۔ آپ مسلم لیگ میں کسی سے پوچھ لیں، کیا کسی میں ہمت ہے کہ میاں صاحب کے سامنے اُن سے اختلاف کرے؟ میٹنگ میں میری اور خان صاحب کی لڑائی بھی ہوتی تھی۔ ہم انہیں کہتے تھے کہ آپ غلط ہیں، اس طرح نہیں، اس طرح ہونا چاہیے۔ یہ والا کلچر آپ کو کسی اور پارٹی میں نہیں ملتا۔ میں محسن نقوی صاحب کو وزیراعظمِ پاکستان سے بھی زیادہ مضبوط سمجھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس حکومت میں اگر کسی بندے سے بات ہو سکتی ہے اور جو اپنی بات منوا سکتا ہے، تو وہ نقوی صاحب ہیں۔

Junaid Akbar

18,399 次观看 • 12 天前

آخری بادشاہ ہم ہیں 👇 اس ملک/قوم کی قسمت اس ایک کلپ میں دیکھیں۔ سب سمجھ آ جائے گا کہ انسانی تاریخ میں اقتدار کے لیے ترک اور مغل حکمران اپنے سگے بھائیوں تک کے گلے کیوں کاٹ دیتے تھے۔ شاہد خاقان عباسی اس ملک کا وزیراعظم تھا۔ شہباز شریف وزیراعظم بن بیٹھے اور انہیں دوبارہ وزیراعظم نہیں بنایا گیا تو وہ پی آئی اے کی یورپ پرواز شروع ہونے پر افسردہ اور غم زدہ ہے۔ سابق وزیراعظم شریفوں سے ناراضی کابدلہ ملک اور قوم سے لے رہا ہے۔ دوسرا سابق وزیراعظم عمران خان جیل میں ہے۔ ان سے مجھے پوری ہمدردی ہے لیکن وہ بھی اپنے اوورسیز حامیوں کو کہہ رہا ہے اس ملک میں ڈالر نہ بھیجیں تاکہ پورا ملک تباہ ہو۔ڈیفالٹ کرے۔ اس ملک میں خانہ جنگی ہو کیونکہ وہ جیل میں ہے۔ وہ بھی جنرل عاصم منیر سے پرانی لڑائی کا بدلہ اس ملک اور قوم کو تباہ کر کے لینا چاہتا ہے۔ یہ ہے اس ملک اور قوم اس کے سابق سیاستدان جو دوسری دفعہ وزیراعظم نہیں بنے تو ان کی بلا سے ریاست ملک عوام بچے یا تباہ ہو۔ ان کی جوتی کو بھی پرواہ نہیں۔ یہ ہوتی ہے نرگیست، اپنی ذات سے اندھا رومانس، محبت اور خود سے عاشقی۔ ان نرگیست کے مارے لوگوں کے لیے اپنی ذات اور اس سے جڑے ذاتی مفادات اہم ہیں، ان کے لیے وزیراعظم بننا اہم ہے ملک اور عوام نہیں۔ ان سے زیادہ داد اس عوام کو دیں یا ان فوجی جرنیلوں کو جنہوں نے ان لوگوں کو پاکستان کا بادشاہ بنایا۔ یہ سب تا عمر وزیراعظم بننے آئے تھے، نہیں بنے تو اب سب کچھ تباہ ہو جائے انہیں پرواہ نہیں۔ یہ وزیراعظم بننے کے لیے ہی پیدا ہوئے تھے۔ اس سے کم عہدے پر یہ راضی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے عوام پر حکمران لگ کر زندہ رہنا ہے اس سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔ ان کی سوچ ہے اگر میں بادشاہ ہوں تو ملک اور ریاست بھی ہے، پھر سب ٹھیک ہے، سب اچھا ہے۔ اگر میں وزیراعظم نہیں رہا تو بھلا میری بلا سب کچھ ڈوب جائے۔ تباہ ہو جائے۔ آخری بادشاہ ہم ہیں۔ #RaufKlasra

Rauf Klasra

78,515 次观看 • 1 年前

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 次观看 • 6 个月前

27 ستمبر جلسے کا عنوان ہے "ریلیز عمران خان"، اس جلسے کا مقصد خیبر پختونخوا میں آپریشن کو بند کرانا ہے۔عمران خان چاہیں تو کل ہی رہا ہو سکتے ہیں، عمران خان دو تین چیزیں مان لیں تو کل ہی رہا ہو سکتے ہیں۔عمران خان آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔عمران خان صوبوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔عمران خان کہتے ہیں کہ جس صوبے یا علاقے میں قدرتی وسائل ہوں، سب سے پہلا حق اس پر اسی علاقے کا ہے۔ہمارا جلسہ حقوق کے لیے ہے، جو ہر پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے ہے۔عمران خان کی رہائی کا مقصد ملک میں رائج ہائبرڈ نظام سے بغاوت ہے۔ہم سب نکلیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں اس ملک میں ہائبرڈ نظام قبول نہیں، اس ملک میں جو ناجائز آپریشن ہو رہے ہیں ہمیں منظور نہیں۔خاص طور پر تیراہ کاجو واقعہ ہوا ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ہم اپنے خیبر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور جلسے میں بھی اس کا اظہارِ یکجہتی کریں گے۔27 ستمبر کو پشاور میں جو جلسہ ہو رہا ہے یہ آپ سب عوام کا جلسہ ہے۔تمام پاکستانیوں بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام سے کہتا ہوں کہ اپنے حقوق کے لیے نکلیں۔

Asad Qaiser

21,231 次观看 • 1 年前

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,926 次观看 • 26 天前

بریکنگ نیوز 🚨ڈاکٹر شہباز گل کی قوم سے بڑی اپیل، طاقتور لوگوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا کہے دیا۔ قوم کو مکمل ترکیب بھی بتادی 🔥🔥 اب ایک ہی طریقہ رہ گیا ہے کہ ان سب کا boycott کریں۔ یہ میں آپ کو کال دے رہا ہوں۔ پاکستانی عوام کے پاس آج سے حل یہ ہے کہ جب آپ کی بہنوں کو بھی نہیں چھوڑا جاتا۔ عمران خان قوم کے لیے قیمت دے رہا ہے۔ بڑا آسان ہے اس کے لیے بھی نواز شریف بننا۔ وہ آپ سب کے لیے جیل کے اندر ڈٹ کے جیل کاٹ رہا ہے اور آج اس کے دشمن بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ ڈٹ کے جیل کاٹ رہا ہے۔ تو پھر میں آپ سے یہ اپیل کرتا ہوں یہاں سے پرزور کہ آج سے، آج اکیس ستمبر سے آپ ہر قسم کی فوجی products کا boycott کریں۔ چاہے آپ CSD سے چیزیں خریدتے ہیں یا آپ ان کے چاول خریدتے ہیں یا آٹا خریدتے ہیں یا ان کا سیریل خریدتے ہیں یا آپ ان کی insurance یا آپ عسکری بینک یا آپ کوئی بھی ان کی یونیورسٹیاں، ان کے کالج، ان کے سکول، جو بھی ان کی products آپ استعمال کرتے ہیں۔ یا آپ انہیں اپنی شادیوں میں بلاتے ہیں یا آپ انہیں اپنی غمی پہ بلاتے ہیں یا خوشی پہ بلاتے ہیں یا یہ آپ کو بلاتے ہیں اور آپ جاتے ہیں، آپ ان کے شادی ہالوں کے اندر شادیاں کرتے ہیں، جو بھی آپ کا ان کے ساتھ کاروبارِ زندگی ہے اس کو آج سے معطل کریں، اس کا boycott کریں۔ ان کا social boycott کریں۔ عسکری بینک ہے تو وہاں سے اپنے پیسے نکلوائیں۔ ان کی کوئی insurance ہے تو وہاں سے insurance cancel کروا کے دوسری جگہ insurance کروائیں۔ ان کے عسکری بینک کے، ان کے جتنے بھی products یہ آپ کو بیچتے ہیں جو اصل میں ان کی life line ہے جس کے اوپر سے یہ پیسہ اکٹھا کر کے آپ پر یہ سارا ظلم کرتے ہیں، اس کو بند کریں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ اپنے بچے شاید باہر نکل کے نہیں مروا سکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ خود لاٹھی گولی نہیں کھا سکتے، آپ میں سے بہت سارے لوگ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بنگلہ دیش کی طرح، سری لنکا کی طرح، نیپال کی طرح ہمارے لوگ ابھی وہاں نہیں پہنچے کہ باہر نکلیں۔ تو پھر آپ سے میں صرف جو گزارش کر رہا ہوں وہ اتنی کر رہا ہوں کہ آپ یہ تو کر سکتے ہیں نا۔ میں جتنے بھی پاکستان تحریک انصاف کے social میڈیا کے volunteers ہیں میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ میری اس کال کے clip کاٹیں اور اس کو پھیلائیں کیونکہ جب یہ ہمارے گھروں کو نہیں چھوڑیں گے، گھر کی عورتوں کو نہیں چھوڑیں گے، کسی جگہ پر یہ نہیں رک رہے تو پھر ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ ہم ان کا social boycott اب کریں۔ تو ان کی شادیوں میں جانا بند کریں، ان کی ہر ایسی جگہ پر جہاں سے انہیں تکلیف ہو سکتی ہے وہاں ان کا social boycott کریں، نہ انہیں اپنے گھروں پر بلائیں نہ ان کی طرف جائیں، ان کی سالگرہ، منگنی، شادی، جو بھی ان کی خوشی غمی ہے اس کا مکمل طور پر boycott کریں۔ جہاں پر ستائیس ستمبر کی بھرپور ہم نے تیاری کرنی ہے ساتھ ساتھ اس boycott کو بھرپور طریقے سے implement کریں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

14,212 次观看 • 13 天前

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 次观看 • 2 年前