正在加载视频...

视频加载失败

میرا جمہوری سسٹم پر اتنا believe نہیں رہا لگتا ہے کہ مغرب کا دیا ہوا یہ concept پوری دنیا میں اب فیل ہو رہا ہے ۔ capitalism بھی 8 ارب کی آبادی کے 90 فیصد سے زیادہ لوگوں کو غربت یا struggling stage سے نکلنے نہیں دے رہا ۔...

49,929 次观看 • 2 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

آج پنجابی بھی بول رہا ہے کہ افغانی ہمارے بھائی ہیں وہ کہتے ہیں کہ ظلم ہو رہا ہے جس طریقے سے افغانوں کو نکالا جا رہا ہے، فوج پھر ہمیں ڈالری جنگ کی طرف بھیج رہی ہے، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کا جوان تو سمجھتا ہے لیکن آج عمران خان کی وجہ سے پنجاب کا نوجوان بھی یہ بات کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ اگر فوج افغانستان کے ساتھ لڑے گی تو وہ ظلم کرے گی اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں پاکستانی عوام کبھی بھی پاکستانی فوج کا ساتھ نہیں دے گی اگر وہ ڈالر کے لیے افغانستان کے خلاف لڑے گی، عوام کو پتا ہے کہ یہ ڈالری جنگ لڑی جائے گی یہ کسی اور کی جنگ ہم پر مسلط کریں گے، آج نوجوان اور عوام میں شعور آ چکا ہے یہ عمران خان کا دیا ہوا شعور ہے شعور کا جو جن بوتل سے باہر آ چکا ہے آپ اس کو واپس بوتل میں نہیں ڈال سکتے، دیکھیں یہ سری لنکا کی طرح ہے یہ جس طرح پوری دنیا میں ہو رہا ہے ابھی آپ نے دیکھا نیپال میں ہوا ہے، یہ وقت پاکستان میں بھی آئے گا آج غربت اتنی بڑھ چکی ہے پاکستان کے اندر آج روزگار نہیں رہا ہے، آپ دیکھیں گے کہ عمران خان جو باتیں کہہ رہا ہے یہ سب باتیں درست ثابت ہوں گی۔ #FascismUnderAsimLaw

Qasim Khan Suri

26,408 次观看 • 10 个月前

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 次观看 • 7 个月前

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 次观看 • 8 个月前

پاکستان ہر سال ایک نیوزی لینڈ، یا ایک ناروے،یا ایک فن لینڈ،یا ایک آئرلینڈ،یا ایک ڈنمارک، یا ایک سنگاپور اپنے اندر شامل کر رہا ہے۔ پاکستان کی ہر سال 65 لاکھ آبادی بڑھ رہی ہے،دنیا میں 24 ترقی یافتہ ممالک ہیں جن میں سے ہر ایک کی کل آبادی 65 لاکھ سے کم ہے۔ اب اگر پاکستان سے 10 لاکھ لوگ سالانہ باہر بھی جاتے رہیں تو پاکستان پر اس کا برا نہیں بلکہ بہت اچھا اثر پڑ رہا ہوتا ہے۔ چھوٹی سی زمین پر آباد اگر اتنا بڑا آبادی کا حامل ملک اگر 10 لاکھ لوگ بھی پاکستان سے باہر بھیجتا جائے تو سمجھیں کہ پاکستان اپنی"ہیومن ریسورس"ایکسپورٹ کر رہا ہے۔ پاکستان کی ترسیلات زر ملکی مجموعی برآمدات سے زیادہ ہیں اگر 10 لاکھ لوگ سالانہ ملک سے باہر جاتے ہیں تو سالانہ 4 سے 5 ارب ڈالرز مزید زرمبادلہ پاکستان بھجوانے کا باعث بنتے ہیں۔ اور پاکستان سے باہر رہ کر وہ پاکستان کے"سٹرٹیجک مفادات"کا تحفظ کرنے کا بھی باعث بنتے ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی گلوبل ورلڈ میں بڑھتی ہے،سٹیک ہولڈنگ بڑھتی ہے۔ یہ برین ڈرین نہیں کہا جا سکتا کیونکہ آپ کے پاس پھر بھی سالانہ 55 لاکھ لوگ ملکی آبادی میں ایڈ ہوتے جا رہے ہیں۔ ملکی معیشت اگر بہت ہی اچھی بھی ہو جائے تو بھی پاکستان کی زمین اتنی ہی رہے گی۔ کینیڈا کا رقبہ پاکستان سے 10 گنا سے زیادہ ہے اور آبادی صرف 4 کروڑ ہے۔ وسائل کے حساب سے دنیا میں آبادی کا توازن ہونا ایک بہتر عمل ہے۔یہ توازن جن بھی وجوہات سے بن رہا ہے اس کو بننے دینا چاہیے۔ اس پر غیر ضروری شور مچا کر حکومتوں کو انڈرپریشر تو کیا جا سکتا ہے۔مگر معروضی حالات کے مطابق یہ عمل ہوتے رہنا چاہیے۔ سوائے اس کے کہ آبادی بڑھنے کی شرح منفی میں لے جائی جائے۔ اور اس آبادی بڑھنے کے موضوع پر کوئی اینکر،دانشور مذہبی عقائد کی وجہ سے یا مختلف وجوہات کی وجہ سے بولنے کو تیار نہیں۔ لہذا اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے دوران بھی جو جا رہا ہے،اس کی حوصلہ افزائی کریں۔جو آ رہا ہے اسے آنے دیں۔بس یہ کریں کہ جو جا رہے ہیں ان کو اچھی تعلیم دیکر یا ہنرمند بنا کر بھیجیں۔ دنیا گلوبل ہو چکی ہے،سب کو اپنی اپنی دوڑ لگانے دیں، جو جاتے ہیں وہ جب چاہیں واپس بھی آ سکتے ہیں۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

20,820 次观看 • 7 个月前

نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئی تحصیلیں بنانا اور نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں۔ بھارت میں بھی نئے صوبے بنے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک کی انتظامی ساخت کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے۔ نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں، لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے یا نہیں۔ لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے، جبکہ وہ اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری آشیرباد پر ہوا ہے، یا میری اجازت سے ہوا ہے؟ یا وفاقی کابینہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے؟ یا اگر کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے۔ کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں، میں ایک سال سے زیادہ عرصہ چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا۔ مگر ہمارے سر پر یہ تھوپ دیا گیا کہ تم تو انضمام کے مخالف ہو۔ ہم نے کہا، نہیں، ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ فاٹا کے عوام اور ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، لہٰذا اس میں کئی آپشنز ہو سکتے ہیں۔ ذرا وہاں کے عوام سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ صوبے میں انضمام چاہتے ہیں، ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں، یا اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان سے نہیں پوچھا گیا۔ آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ وہاں کے عوام کی زندگی اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہ خود نہیں سمجھ رہے کہ ہم اب فاٹا ہیں یا صوبے کا حصہ ہیں۔ وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، باقی نظام تو دور کی بات ہے۔ یہ کوئی کیک تو نہیں کہ آپ آرام سے چھری لے کر جس طرح چاہیں اسے کاٹ دیں۔ صوبہ بنانے کی بات کے لیے کیا ملک تیار ہے؟ آپ مجھے بتائیں، اگر چار یا پانچ بھائیوں کا مشترکہ مکان ہو اور اس کے بعض حصوں میں آگ لگ جائے، تو اس وقت وہ آگ بجھائیں گے یا کہیں گے کہ آئیے بھائی، پہلے اس کی تقسیم کر لیتے ہیں؟ ہر چیز کے لیے ایک مناسب ماحول بنانا پڑتا ہے۔ سوائے اس کے کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات ہیں، جو بدامنی ہے، جس نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، ان سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے آپ ہم سب کو ایک نئی بحث میں لگا دیتے ہیں۔ روز نئے ایشو اٹھاتے ہیں، پھر اس پر بحث ہوتی ہے۔ یہ صوبوں والی بحث پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہے۔ ہم اصولی طور پر صوبوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر قومیتوں کی بنیاد پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اور اگر محض انتظامی بنیادوں پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اس پر ہر صوبے کے عوام کا ردِعمل آئے گا۔ وہ کہیں گے کہ یہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، مجھے اس صوبے میں شامل کرو یا نہ شامل کرو۔ یہ سارے معاملات ابھی باقی ہیں۔ ایک مشکل مسئلے میں اتنی آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال دیا گیا ہے کہ شاید یہ ان کے بس میں نہ ہو، بلکہ اس سے مشکلات اور پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو جائے۔ یہی میرے خدشات ہیں۔ ہر چیز مشاورت سے ہونی چاہیے تھی۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ یہاں مختلف قومیتیں رہتی ہیں، ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔ آپ اس شناخت کو نظرانداز کریں گے یا اسے سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے؟ یہ سارے معاملات غور و فکر کی ضرورت ہیں۔ میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے، یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اب کیا کرنا ہے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل آج بھی ہے اور کل بھی تھا، وہ ہے ملک کا آئین۔ آئین کے مطابق ملک کو چلاؤ، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، اور اللہ کے دین اور اس کے احکامات کے مطابق قانون سازی بھی شروع ہو جائے گی۔اور عوام میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی کہ اصل میں ہماری مرضی کی حکومتیں ہونی چاہئیں، ہم پر جبراً کوئی حکومتی مسلط نہ کی جائے۔ لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں، جیسے واقعی یہ عوام کی حکومتیں ہوں، جبکہ یہ بھی انہی کی حکومتیں ہوتی ہیں اور ان کی لگام بھی انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عوام پریشان ہیں، عوام کی کوئی حکومت نہیں ہے۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ انہوں نے یہ باتیں کس حیثیت میں کی ہیں؟ وہ کابینہ کے رکن ہیں۔ اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ مستعفی ہو جائے، یا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آ جائیں۔ نہیں، نوکری بھی اسی تنخواہ پہ کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں، تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں۔ 'چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے مجھ کو اکثر، ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے۔' امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

42,957 次观看 • 13 天前

آپریشن ہیروف 2 کے دوران بی ایل اے سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ نہیں کرسکی تو ریلوے بریج کو اڑا دیا ۔ لیکن یہ ریلوے بریج بلوچ عوام کیلئے تھا ۔ اور اب یہ دوبارہ بنایا جائے گا تو اس پر بلوچ عوام کا ہی پیسہ لگے گا ۔ وہی پیسہ جو تعلیم صحت پر لگنا چاہیے ۔ بی ایل اے کے حملوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو ٹھیک کرنے میں لگ رہا ہے اس میں نقصان تو بلوچ عوام کا ہورہا ہے ۔ کشمیر کیساتھ چین اور پاکستان کی سرحدیں لگتی ہیں کشمیر کی عوام انڈیا کیساتھ رہنا بھی نہیں چاہتے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود آج تک کشمیر آزاد نہیں ہوسکا بلوچستان میں آدھا علاقہ پشتونوں کے پاس ہے ۔ آدھا بلوچوں کے پاس ہے ۔ بلوچ عوام میں بھی صرف چند فیصد لوگ پاکستان سے علیحدہ ملک بنانا چاہتے ہیں واضح اکثریت پاکستان کیساتھ خوش ہے ایسے میں کس طرح بلوچستان کو پاکستان سے توڑنے کا خواب دیکھا جاسکتا ہے یہ کون لوگ ہیں جو اپنی ہی قوم کے دشمن ہیں جو اپنی ہی قوم کا نقصان کررہے ہیں یہ مزاحمت نہیں خودکشی ہے اور یہ لوگ خود بھی مررہے ہیں اور بلوچ قوم کو بھی مار رہے ہیں

Dr Zahra Baloch

20,115 次观看 • 6 个月前

27 ستمبر جلسے کا عنوان ہے "ریلیز عمران خان"، اس جلسے کا مقصد خیبر پختونخوا میں آپریشن کو بند کرانا ہے۔عمران خان چاہیں تو کل ہی رہا ہو سکتے ہیں، عمران خان دو تین چیزیں مان لیں تو کل ہی رہا ہو سکتے ہیں۔عمران خان آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔عمران خان صوبوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔عمران خان کہتے ہیں کہ جس صوبے یا علاقے میں قدرتی وسائل ہوں، سب سے پہلا حق اس پر اسی علاقے کا ہے۔ہمارا جلسہ حقوق کے لیے ہے، جو ہر پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے ہے۔عمران خان کی رہائی کا مقصد ملک میں رائج ہائبرڈ نظام سے بغاوت ہے۔ہم سب نکلیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں اس ملک میں ہائبرڈ نظام قبول نہیں، اس ملک میں جو ناجائز آپریشن ہو رہے ہیں ہمیں منظور نہیں۔خاص طور پر تیراہ کاجو واقعہ ہوا ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ہم اپنے خیبر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور جلسے میں بھی اس کا اظہارِ یکجہتی کریں گے۔27 ستمبر کو پشاور میں جو جلسہ ہو رہا ہے یہ آپ سب عوام کا جلسہ ہے۔تمام پاکستانیوں بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام سے کہتا ہوں کہ اپنے حقوق کے لیے نکلیں۔

Asad Qaiser

21,229 次观看 • 10 个月前

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 次观看 • 2 年前

آخری بادشاہ ہم ہیں 👇 اس ملک/قوم کی قسمت اس ایک کلپ میں دیکھیں۔ سب سمجھ آ جائے گا کہ انسانی تاریخ میں اقتدار کے لیے ترک اور مغل حکمران اپنے سگے بھائیوں تک کے گلے کیوں کاٹ دیتے تھے۔ شاہد خاقان عباسی اس ملک کا وزیراعظم تھا۔ شہباز شریف وزیراعظم بن بیٹھے اور انہیں دوبارہ وزیراعظم نہیں بنایا گیا تو وہ پی آئی اے کی یورپ پرواز شروع ہونے پر افسردہ اور غم زدہ ہے۔ سابق وزیراعظم شریفوں سے ناراضی کابدلہ ملک اور قوم سے لے رہا ہے۔ دوسرا سابق وزیراعظم عمران خان جیل میں ہے۔ ان سے مجھے پوری ہمدردی ہے لیکن وہ بھی اپنے اوورسیز حامیوں کو کہہ رہا ہے اس ملک میں ڈالر نہ بھیجیں تاکہ پورا ملک تباہ ہو۔ڈیفالٹ کرے۔ اس ملک میں خانہ جنگی ہو کیونکہ وہ جیل میں ہے۔ وہ بھی جنرل عاصم منیر سے پرانی لڑائی کا بدلہ اس ملک اور قوم کو تباہ کر کے لینا چاہتا ہے۔ یہ ہے اس ملک اور قوم اس کے سابق سیاستدان جو دوسری دفعہ وزیراعظم نہیں بنے تو ان کی بلا سے ریاست ملک عوام بچے یا تباہ ہو۔ ان کی جوتی کو بھی پرواہ نہیں۔ یہ ہوتی ہے نرگیست، اپنی ذات سے اندھا رومانس، محبت اور خود سے عاشقی۔ ان نرگیست کے مارے لوگوں کے لیے اپنی ذات اور اس سے جڑے ذاتی مفادات اہم ہیں، ان کے لیے وزیراعظم بننا اہم ہے ملک اور عوام نہیں۔ ان سے زیادہ داد اس عوام کو دیں یا ان فوجی جرنیلوں کو جنہوں نے ان لوگوں کو پاکستان کا بادشاہ بنایا۔ یہ سب تا عمر وزیراعظم بننے آئے تھے، نہیں بنے تو اب سب کچھ تباہ ہو جائے انہیں پرواہ نہیں۔ یہ وزیراعظم بننے کے لیے ہی پیدا ہوئے تھے۔ اس سے کم عہدے پر یہ راضی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے عوام پر حکمران لگ کر زندہ رہنا ہے اس سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔ ان کی سوچ ہے اگر میں بادشاہ ہوں تو ملک اور ریاست بھی ہے، پھر سب ٹھیک ہے، سب اچھا ہے۔ اگر میں وزیراعظم نہیں رہا تو بھلا میری بلا سب کچھ ڈوب جائے۔ تباہ ہو جائے۔ آخری بادشاہ ہم ہیں۔ #RaufKlasra

Rauf Klasra

78,515 次观看 • 1 年前

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,367 次观看 • 4 个月前

🛑 🟡 سازش الرٹ 🟡🛑 ان موصوف سے ملئیے ۔ 👇 یہ ہیں سابقہ پادری جناب عبدالوارث گل ، جو عیسائیت چھوڑ کر (بظاہر) اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ اور بلاسفیمی بزنس گروپ کے نمائندہ خاص کے طور پر سامنے آئے ہیں اور فیملیز کو دھوکہ دے کر مناظرہ کروانے کے چکر میں ملوث پائے گئے ہیں 👈 اب زیر نظر ویڈیو دیکھیں اور شعلہ انگیز بیان سنیں ۔ ایسا بیان تو کوئی مسلمان لیڈر بھی نہیں دیتا ۔ کہ اجی اگر ان کو ضمانتوں پر رہا کیا گیا تو میرے جیسے لوگ جیل کے باہر پہنچیں گے اور انہیں نہیں چھوڑیں گے ( قتل کی دھمکیاں دے رہا) مطلب پھر عدالتیں اور ادارے بند کردیں یہ والا کھیل کھیلنے کا زیادہ شوق ہے وہ بھی دوسروں کو مشورہ دے رہا کہ میرے جیسے جذباتی لوگ انہیں نہیں چھوڑیں گے ۔ اس میں " میرے جیسے " پر غور کریں یہ ایک نفسیاتی حربہ ہوتا ہے جس میں آپ نے کچھ نہیں کرنا ہوتا اور صرف دوسروں کو اشتعال دلانا ہوتا ہے کہ " میرے جیسے جذباتی " لوگ یہ کام کریں گے مطلب اس نے خود نہیں کرنا ۔ اس کے جیسا کوئی دوسرا جذباتی آکر کرے گا 👈 یہ ہوتے ہیں وہ لوگ جو جہاد اور مختلف جذباتی نعروں کا استعمال کرکے لوگوں کے بچے مرواتے ہیں برین واش کرکے خودکش بمبار تیار کرتے ہیں اور ان کے اپنے بچے بیرون ممالک میں اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں ۔ 👈ساتھ ہی ایک حوالہ بطور خاص اکثر یہ شخص لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کے لئے خاص طور پر استعمال کرتا ہے کہ اجی دودھ تو میں نے عیسائی ماں کا پیا ہے ( وہ بھی کوکھ سے ) مگر ٹھیکیدار میں اسلام کا بن گیا ہوں ۔ یہ جملہ بول کامفیڈینس سے بول کر اپنی بات کو منوایا جاتا ہے دیگر جگہوں پر بھی اس ٹیکنیک کا استعمال کیا گیا ہے (جاری ہے 👇)

Voice of the Victims of Blasphemy Business Group

11,986 次观看 • 1 年前

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 次观看 • 8 个月前