Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

میرا کام سوال کرنا تھا لڑنا نہیں دو سوال ہی ہوئے تھے کہ جواد احمد اپنے ماضی کے سیاسی طرز عمل کا اور سوشل میڈیا پر مخصوص بیانے کا دفاع نہ کر سکے اور بد تمیزی پر اتر آئے۔ پلیٹ فارم اوپن ہےجواد احمد جب چاہیں سوال وجوب کی...

67,678 views • 6 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

اقرار الحسن سے عوام نے جو سوالات پوچھے ہیں ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ پہلا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ جب آپ چھٹی جماعت میں تھے تو آپ کے والد نے دوسری شادی کی اور پھر جرمنی چلے گئے۔ آپ نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم وہ کہاں رہتے ہیں کیا کرتے ہیں یا انہوں نے کتنی شادیاں کی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف دوسری شادی کی وجہ سے کوئی ملک چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لیتا ہے؟ ملک چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی وہ آپ نے آج تک نہیں بتائی۔ دوسرا سوال آپ کے والد اسماعیل شاہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کے الزامات ہیں اور اس کی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔ آپ کے والد پر 295C کی دفعات بھی درج ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹے الزامات تھے تو آپ کے والد نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا اور پاکستان چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح کیوں دی؟ تیسرا سوال آپ کی کمپنی Perfectum Pakistan کا واحد بیرون ملک دفتر جرمنی کے فرینکفرٹ میں ہے جہاں آپ کے والد مقیم ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کاروباری تعلق بھی ہے؟ اگر آپ کو اپنے والد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تو پھر جرمنی میں دفتر کیوں؟ چوتھا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آپ نے اہم معاملات پر والد سے رابطہ کیا اور ان سے مشورہ لیا۔ جب آپ انہیں نہیں جانتے اور ان سے کوئی تعلق نہیں تو پھر مشورہ کس بات پر لیا گیا؟ یہ تضاد کیسے؟ پانچواں سوال آپ کہتے ہیں آپ کو فخر ہے مگر برسوں میں ایک بار بھی والد سے ملاقات کا کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جس باپ پر فخر ہو اس کے ساتھ ایک تصویر ایک مشترکہ ویڈیو بھی نہیں؟ یہ کیسا فخر ہے جو چھپ کر ہو؟ چھٹا سوال آپ کے والد کا تعلق اہل تشیع مکتب فکر سے ہے اور وہ ایک مذہبی مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی ان کی سوچ اور عقائد سے الگ ہیں تو آپ نے کبھی عوامی سطح پر اپنے والد کے ان مبینہ بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ ساتواں سوال آپ نے پاسپورٹ شناختی کارڈ اور اسناد دکھا کر والد کا نام ثابت کیا مگر کسی نے آپ کی والدیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ عوام آپ کے والد کے مبینہ کارناموں کے بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے جو زبان زد عام ہیں منقول

Aamir Gujjar

29,105 views • 4 months ago

"گفتار کا غازی " (ان کو اس ملک کا وزیر اعظم بننا ہے لیکن اس سے پہلے ان کو نارمل انسان بننے کے مرحلے سے گزرنا پڑیگا) مجھے جواد احمد کا یہ طرز گفتگو اور لہجہ دیکھ کر حیرت نہی ہوئی بلکہ مجھے تعجب ان لوگوں پر ہوا ہے جو نئی جنریشن سے مخاطب ہونے کیلئے ایسے لوگوں کو دعوت دیتے ہیں جن کو نہ یہ پتا ہے کہ اختلاف راےکو کیسے ہینڈل کرنا ہے ' نہ یہ پتا ہے کہ کسی بچے کے سوال کا جواب کیسے دینا ہے - "او تو بیٹھ جا !" "کتنے ٹک ٹاک دیکھے آج؟ " " اس کا موبائل چیک کرو " " تمہیں مسٹر چپس سے کیا پرابلم ہے - آگیا سوال کرنے" "او - تم جھوٹ بول رہی ہو - میں پولیٹکس کرتا ہوں ' مجھے پتا ہے ان کو کیسے ڈیل کرنا ہے " یہ لب و لہجہ ہے ایک پارٹی کے سربراہ کا جس کا نام ہے برابری پارٹی - "برابری " تو وہی گئی تیل لینے جب آپ کسی کے سوال پر اس قدر ججمنٹل ہوگیے کہ اس کا موبائل چیک کرنے کے درپے ہوگیے - مسٹر چپس کے ناول سے مجھے خود کوئی پرابلم نہی - ایک اچھی رومینٹک کہانی ہے جس میں مسٹر چپس کی اپنی بیوی سے محبت دکھائی گئی ہے لیکن بچے کی راے سے اگر آپ کو اختلاف بھی ہے اور اس کا سوال آپ کو ناگوار بھی گزرا ہے تو اس کا جوبہ دینے کا بھی کوئی تمیز کوئی طریقہ ہوتا ہے - ایسے لوگوں کو آپ سٹیج پر مائیک دے کر بس نئی نسل کو بدظن کرسکتے ہیں ' آگاہ اور آنلاٹین (enlighten ) بالکل نہی - یعنی ساتھ بیٹھے باقی مہمان اور اینکر بھی سمجھا رہے ہیں کہ "جواد بھائی ! اس طرح نہ کریں - بچے کا سوال ہے ' آپ اس کی ذات کو جج نہ کریں' ان کی راۓ ہے ' اس کا احترام کریں ---- پر تمیز ' شائستگی ' گفتار ' انداز' احترام راے اور اختلاف راے کیا ہوتا ہے ' ان صاحب کو یہ باتیں چھو کر بھی نہیں گزریں - سوچیں جب یہ بچے سے کہ رہے تھے کہ آج تم نے کتنی ریلیں دیکھیں ؟ تو جواب میں وہ بھی کہ دیتا کہ " آپ نے آج اپنی دوائی کھائی کے نہیں " تو یہاں لوگ کہتے کہ ذات پر بات کر دی - مجھے جواد احمد سے زیادہ برابری پارٹی کے ان تین چار اکاونٹس پر ترس آتا ہے جن کو جواد کا اب یہ لہجہ اور انداز بھی ڈیفنڈ کرنا پڑے گا - یہ بہت سخت ڈیوٹی ہے - اختلاف مجھے اقرار الحسن Iqrar ul Hassan Syed کی بھی بہت سی باتوں ہوتا ہے پر کم از کم یہ ماننا چاہیے کہ ان کا لب و لہجہ تمیز اور شائستگی والا ہوتا ہے اور بندہ گفتگو کو دلیل سے جاری رکھ سکتا ہے - پر ان صاحب سے بات کرنا ایسے ہی ہے جیسے آپ نے دھویں میں پھونکیں ماریں اور ہر پھونک کے ساتھ دھواں آپ کی سانس میں گھستا چلا جائے یا کیچڑ پر پتھر پھینکیں اور اس کے چھینٹیں آپ کے ہی کپڑوں کو مکدر کردیں - ویسے تو ان کو اس ملک کا وزیر اعظم بننا ہے لیکن وہاں تک پہنچنے کیلئے ان کو پہلے انسان بننے کے مرحلے سے گزرنا پڑیگا - "گفتار کے ایسے ہی کسی غازی " کے لب و لہجے سے عاجز ہو کر کسی شاعر نے یہ کہا تھا ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے (اب اس ٹویٹ کے جواب میں ان کا لب و لہجہ دیکھیے گا جو میری اوپر کی گئی ہر بات پر خود مہر ثبت کردیگا ) قلم کی جسارت وقاص نواز --------------------------------------------------- Jawad Ahmad

Dr Waqas Nawaz

139,634 views • 14 days ago

آج طیب بلوچ کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ نہایت قابلِ مذمت ہے اور ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے سب سے پہلے میں دل کی گہرائیوں سے اس عمل کی مذمت کرتا ہوں کہ کسی بھی صحافی کو خواہ اس کا رویّہ کچھ بھی ہو جسمانی طور پر نقصان نہیں پہنچانا چاہیے اب ذرا سوچیے اور غور کیجیے کہ معاملہ کیا تھا جب ہم نے طیب بلوچ کو دیکھا اس وقت دن کے گیارہ بج رہے تھے وہ خاصے فاصلے پر کھڑے رہے، شاید اپنے ماضی کے بیانات اور رویوں کے باعث عوام سے براہِ راست سامنا کرنے سے گریزاں تھے اس کے باوجود وہ بار بار عوام سے فون پر رابطہ کرتے رہے جیسا کہ تصاویر اور ہماری ویڈیوز سے بھی واضح ہے کہ وہاں پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن موجود تھے لیکن انہوں نے انہیں ہاتھ تک نہیں لگایا بعد ازاں پریس کانفرنس شروع ہونی تھی، جس میں کچھ تاخیر ہوئی کیونکہ علیمہ آپا وہاں کچھ دیر بعد پہنچیں ان کے ہمراہ موجود ساتھی بار بار کہہ رہے تھے کہ آپا کو فوراً پریس کانفرنس کا آغاز کرنا چاہیے، لیکن میڈیا نمائندگان اصرار کر رہے تھے کہ تھوڑا توقف کیا جائے۔ بالآخر علیمہ آپا نے "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" پڑھ کر کانفرنس کا آغاز کیا۔ اسی لمحے طیب بلوچ سامنے آئے اور انہوں نے پہلا سوال رکھا۔ ان کا سوال یہ تھا کہ "آپ کے کارکن اور آپ خود بعض صحافیوں کے خلاف پراپیگنڈا کر رہے ہیں، یہ کیسا رویّہ ہے؟" اس پر نعیم پنجوتہ خاصے برہم ہوئے اور تلخ کلمات استعمال کیے۔ اگرچہ علیمہ آپا اور دیگر ساتھیوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی، مگر ماحول کشیدہ ہوتا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد طیب بلوچ نے دوسرا سوال کیا: "آپ کس طرح سے صحافیوں کے خلاف منظم مہم چلا سکتی ہیں، آپ کی حیثیت ہی کیا ہے اوقات کیا ہے اپ کی؟" جیسے ہی لفظ "حیثیت" استعمال ہوا، تو نعیم پنجوتہ نے پھر بدزبانی کی اور دیگر افراد نے بھی اس کی تائید میں سخت جملے کہے۔ میں نے خود بھی طیب بلوچ کے رویّے کو غیر موزوں قرار دیا، لیکن حالات تیزی سے بگڑ گئے۔ اس موقع پر طیب بلوچ مشتعل ہو گئے اور کارکنوں کو للکارنے لگے کہ "میں تم سب کے خلاف ایف آئی آر درج کرواؤں گا"۔ نتیجتاً کارکنوں نے ان پر تشدد کیا۔ ہم صحافیوں نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی اور صلح صفائی کروائی، مگر اس دوران ہمیں بھی کچھ دھکے اور مکے سہنے پڑے۔ طیب بلوچ بار بار کہتے رہے: "مجھے جانے دیں، مجھے مارنے دیں"، اور ان کا رویّہ خاصہ غیر متوازن دکھائی دیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر میڈیا نمائندگان نے علیمہ آپا کی پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ ہم نے علیمہ آپا سے کہا کہ چاہے پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا آپ کی بات نہ سنے، لیکن ڈیجیٹل میڈیا آپ کی آواز ضرور پہنچائے گا۔ چنانچہ ہم نے پریس کانفرنس ریکارڈ کی، اگرچہ الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان ہمیں روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ آج علیمہ آپا کے ساتھ جو رویّہ اپنایا گیا، وہ نہایت نامناسب اور افسوسناک تھا۔ یوں لگتا تھا کہ میڈیا پہلے سے طے کر کے آیا تھا کہ پریس کانفرنس کو ناکام بنانا ہے۔ آخر میں میرا سوال یہ ہے کہ اگر آج طیب بلوچ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو "پراپیگنڈا" کہا جا رہا ہے، تو پھر میرا مقدمہ کہاں گیا؟ مینارِ پاکستان پر مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا، فائرنگ کی گئی۔ کیا آج تک ان قاتلوں کا سراغ ملا؟ کیا ان کا احتساب ہوا؟ جب ان سنگین جرائم کا حساب نہیں لیا گیا تو آپ بتائیے کہ باقی معاملات میں کس طرح انصاف ممکن ہے؟

Agha Sheikh Sarwar

115,003 views • 1 year ago