Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

میرا یہ پیغام کوئی محترمہ جسٹس مسرت ہلالی صاحبہ تک پہنچا دے اور باور کروا دے کہ یہ فیک ID نہیں۔ جسٹس صاحبہ، ایک فوجی قیدی کے خاندان کے فرد ہونے کے ناطے میں نے مہینوں آئینی بینچ کی کارروائی کو بغور سنا اور دیکھا ہے۔ مجھے یہ کہنے...

98,411 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

10 Kommentare

Profilbild von مہرین سعید
مہرین سعیدvor 1 Jahr

وہ گھر جا کر یہی کام کرتی ہیں تبھی تو ان کو سوشل میڈیا پہ ہر پوسٹوں کا پتہ ہوتا ہے کہ کیا بات چل رہی ہے

Profilbild von Faiza Murad
Faiza Muradvor 1 Jahr

ایسا ہی لگتا ہے۔

Profilbild von __namjiniee
__namjinieevor 1 Jahr

100% درست کہا آپ نے۔ اللہ اس نالائق عورت کو ہدایت دے ۔اگر ہدایت اس کے نصیب میں نہیں تو اسے نشان عبرت بنائے آمین

Profilbild von Mithu مِٹھو
Mithu مِٹھوvor 1 Jahr

ججنی جی۔۔ اب آرام محسوس ہو رہا ہے😉😏 کاش کاش میرے وطن پر یہ وقت نہ آتا کہ چند گندے انڈوں کی وجہ سے پورے پورے ادارے ہی غلاظت کا ڈھیر لگنے لگے ہیں!

Profilbild von Mobeen Hameed
Mobeen Hameedvor 1 Jahr

This is the 'fake id' she is talking about except that it isn't.

Profilbild von kiran
kiranvor 1 Jahr

Well said 👍👏👏👏👏

Profilbild von Amber Majid__amo
Amber Majid__amovor 1 Jahr

سپریم کورٹ میں کس لیول کے ذہنی مریض مسلط کئے گئے ہیں یہ سمجھ چکے ہیں۔ یہ بدذات ٹولہ اپنے گناہوں کا پوٹلا لیئے قوم کے پیسوں پر عیاشیاں کررہاہے ہے،

Profilbild von Khaliq Ur Rehman
Khaliq Ur Rehmanvor 1 Jahr

انصاف کے قاتل نہ منظور ۔

Profilbild von d•
d•vor 1 Jahr

یہ نالائق عورت جج بننا دور عدالتوں کے قریب آنے کے بھی قابل نہیں

Profilbild von Pakistan
Pakistanvor 1 Jahr

Ye mussrat harami hai

Ähnliche Videos

جناب مشال یوسف زئی صاحبہ اس معاملے پر میں نے بھی آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا آپ اس معاملے سے متعلق تمام تر باتیں غلط بیانی کے ساتھ پھیلا رہی ہیں ایسا کوئی خط کوٹ لکھپت جیل سے نہیں آیا البتہ یہ ضرور کہا گیا کہ ہمارے لیے جو بھی آواز اٹھائے گا ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں یہ سارا معاملہ آپ کے چند ایسے نام نہاد صحافیوں کی وجہ سے پھیلایا اور گھڑا جا رہا ہے جنہوں نے چند ٹکوں کے عوض اپنی آبرو اور صحافتی دیانت فروخت کر دی ہے یہ لوگ جیل میں مقید اسیران کی تمام تر جدوجہد اور قربانیوں کو خاک میں ملانے پر تلے ہوئے ہیں سب سے پہلے آپ ایک بیان دیتی ہیں اور اس بیان میں کہتی ہیں کہ مجھے جیل کے اسیران خصوصاً خواتین کے حق میں آواز اٹھانے سے روکا جا رہا ہے پھر جب یہ بات کوٹ لکھپت جیل میں ڈاکٹر یاسمین راشد عالیہ حمزہ صنم جاوید اور فلک جاوید تک پہنچتی ہے تو وہ واضح طور پر کہتی ہیں کہ آپ کو کوئی کیوں روک رہا ہے آپ کھل کر ہمارے لیے آواز اٹھائیں جب یہ بات آپ تک پہنچتی ہے تو آپ اسی معاملے کو مسخ کرکے لوگوں کو گمراہ کرتی ہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ آپ کو جیل سے کوئی خط موصول ہوا ہے اگر واقعی ایسا کوئی خط یا تحریری پیغام آپ کو موصول ہوا ہے تو اسے منظر عام پر لے آئیں تاکہ حقیقت سب کے سامنے آشکار ہو سکے صنم جاوید خان صاحبہ کے اہل خانہ نے آپ کی تمام تر باتوں اور ان صحافیوں کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے جو چند ٹکوں کے عوض جیل میں مقید اسیران کی قربانیوں کو مٹی میں ملانے پر تلے ہوئے ہیں کبھی بھی جیل کے اسیران کی جانب سے کسی سیاسی کمیٹی کی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی یہ کہا گیا کہ آپ کو کسی کمیٹی میں شامل کیا جائے یہ صنم جاوید خان صاحبہ کے والد کا بیان ہے اگر آپ کہیں تو باقی اسیران کے اہل خانہ کے بیانات بھی میں آپ کو بھیج دیتا ہوں تاکہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے

Agha Sheikh Sarwar

41,790 Aufrufe • vor 20 Tagen

السلام علیکم یہ کوئی سیاسی بیان نہیں ہے۔ یہ کسی ملک، ادارے، حکومت یا مذہب کے خلاف نہیں ہے۔ یہ صرف میرے والد کی زندگی کی بات ہے — ان کی صحت، اور یہ کہ انہیں عزت کے ساتھ علاج کا حق دیا جائے۔ کیا آپ کا ضمیر ابھی زندہ ہے؟ میرے والد، شبیر احمد شاہ، نے اپنی زندگی کے 38 سال جیل میں گزارے۔ نہ کوئی سزا سنائی گئی، نہ کوئی انصاف ملا۔ آج وہ شدید بیمار ہیں۔ کئی سرجریاں تجویز ہو چکی ہیں۔ لیکن نہ مناسب علاج دستیاب ہے، نہ میڈیکل رپورٹس تک رسائی، اور پچھلے دو سال سے ایک کال بھی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی — جو ہر قیدی کا بنیادی حق ہے۔ ہم، ان کے اہلِ خانہ، ان سے مکمل طور پر دور رکھے گئے ہیں۔ میں نے اپنے والد کو خاموش دیواروں، لوہے کی سلاخوں، اور بند مائیکروفونز کے پیچھے بے بسی سے تڑپتے دیکھا ہے۔ ہم انہیں چھو بھی نہیں سکتے۔ مجھے پہلے غلط سمجھا گیا۔ ایک بیٹی کی حیثیت سے بولنا کسی اور انداز میں لیا گیا۔ اس غلط فہمی کا گہرا اثر میری والدہ اور بڑی بہن پر بھی پڑا۔ لیکن کب تک کوئی خاموش رہ سکتا ہے جب اُس کا باپ اس حال میں ہو؟ یہ ایک بیٹی کی فریاد ہے — ہمدردی کے لیے، انصاف کے لیے، اور انسانیت کے بنیادی اصولوں کے لیے۔ اگر آپ کا دل ابھی بھی دھڑکتا ہے — تو میری بات سنیں۔ اگر انصاف کا کوئی مطلب باقی ہے — تو وہ اب بولے، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔ کیونکہ اگر اس بار بھی خاموشی جیت گئی، تو یاد رکھیں: آپ کو بتایا گیا تھا۔ آپ جانتے تھے۔ اور آپ نے پھر بھی آنکھیں چرا لیں۔ #FreeShabirShah #ShabirShah Office of Chief Minister, J&K Amnesty International United Nations PMO India Office of LG J&K गृहमंत्री कार्यालय, HMO India

Sehar Shabir Shah

21,762 Aufrufe • vor 1 Jahr

فواد صاحب آپ نے کہا کہ آپ گوجرانولہ کے 52 بے گناہ اسیران سمیت تمام سیاسی قیدیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اگر واقعی آپ کا دعویٰ درست ہے تو کبھی آپ ، محمود مولوی صاحب، عمران اسماعیل صاحب اور دیگر جا کر گوجرانولہ کے بے گناہ اسیران سے ملیں، ان کی فیملیز سے ملیں تو آپ کو پتا چلے کہ ان پر کیا ظلم کیے گئے اور کیا ستم ڈھائے جارہے ہیں، کبھی جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس یحییٰ خان سے بھی ملیں اور ان کو بتائیں کہ جن بے گناہوں کا کیس میں نام تک نہیں ہونا چاہیے تھا پہلے انہیں جھوٹی سزائیں ہوئیں، پھر ان کی وہ ضمانت کی درخواستیں جو ایک ڈیڑھ ماہ میں سنی جانی چاہئیں تھی، ان کے 3 برس سے فیصلے نہیں ہو سکے ، ان کی وہ اپیل جو ایک سال میں سپریم کورٹ تک پہنچ کر ڈیسائڈ ہو جاتی ، وہ ہائی کورٹ میں ابھی تک ابتدائی سماعت کے مراحل میں بھی داخل نہیں ہوئی، اگر آپ ان بے گناہوں کے ساتھ ہیں تو اس کیس کی ٹائم لائن کے کر پریس کانفرنس کیجئے تاکہ آپ کو اور آپ کے سننے والوں کو پتا چلے کہ اس کیس میں جبر کی کتنی بھیانک تاریخ رقم ہوئی ہے ، چلیں پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم اور تنظیم تو کمپرومائزڈ ہے ،کبھی آپ لوگ ہی ایک لسٹ اور بھی بنا لیں کہ پچھلے تین برسوں میں کس بے گناہ قیدی کا بھائی یا کس قیدی کی ماں ،کسی کا والد تو کس کس کی بہن اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کو جنازے تک میں شرکت نہیں کرنے دی گئی اس نوجوان پر کیا گزری ہو گی کہ جو نا حق قید ہے اور اس دوران اس کی ماں اس کی جدائی کا صدمہ نہ سہہ پائی اور پاکستان کی عدالتوں سے مایوس ہو کر اللہ کی عدالت میں پیش ہو گئی ، اور بیٹا اپنی ماں کو نہ تو قبر میں اتار سکا اور نہ اس کا آخری دیدار کر سکا Ch Fawad Hussain

Siddique Jan

79,757 Aufrufe • vor 1 Monat

سیٹھی صاحب کی کوئی چڑیا نہیں بلکہ یہ خود اسٹیبلشمنٹ کی ایک چڑیا ہیں جو ججوں کے گھروں کی کھڑکی میں بیٹھ کر انہیں اسٹیبلشمنٹ کا پیغام پہنچاتے رہتے ہیں۔ اس ویڈیو کلپ میں سیٹھی صاحب ایسا ہی ایک پیغام اُن آٹھ ججوں کو دے رہے ہیں جو ۸ فروری کے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کی تاریخی اور گھناؤنی دھاندلی اور غلطی کا ازالہ کر کے پاکستان کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے ایسے بھونپوؤں کو اتنی جرات تو ہوتی نہیں کہ آج تک اسٹیبلشمنٹ کی سیاست سے ملک کی تباہی کا اعتراف کر سکیں اور آئیندہ کے لئیے یہ سلسلہ بند کرنے کی بات کریں مگر آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنے والے ججوں کو سیاسی قرار دے رہے ہیں۔ ہماری تاریخ بھی ایسے گھٹیا تجزناکاروں سے بھری پڑی جن کے باعث یہ ملک ایک بار پہلے بھی ٹوٹ چکا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت عدالتی فیصلوں پر عمل نہ کرے تو کچھ نہیں ہو سکتا مگر پھر ایسے غیر آئینی فعل کے جواز کے لئیے عدالتی فیصلوں کو سیاسی فیصلے قرار دینا اور یہ نہ بتانا کہ حکومت کا ایسا ردّ عمل ملک اور قوم سے غداری ہو گا دانشوارانہ بدیانتی نہیں تو اور کیا ہے۔ نجم سیٹھی صاحب کی تجزنا کاری ایسے ہی ہے کہ بس اناڑی بالروں سے فل ٹاس کروا کر نیٹ میں چھکے مارتے رہتے ہیں، ہمیں نہیں تو کبھی اپنے چینل کے ہی کسی سینئیر کورٹ رپورٹر کو انٹرویو دے دیں تو لگ پتہ جائیگا۔ ایسی تجزناکاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والا اسٹیبلشمنٹ کاایک ڈاکیا اب ساشے پیک میں بھی دستیاب ہے۔

Matiullah Jan

275,338 Aufrufe • vor 2 Jahren

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,439 Aufrufe • vor 3 Monaten

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 Aufrufe • vor 2 Jahren