Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

میری رائے میں کل سپریم کورٹ کے باہر جو کچھ ہوا مجھے لگتا ہے کہ آئی جی اسلام آباد نے پہلے سے منصوبہ بندی کی تھی۔ میں نے اپنے قبیلے کے مشورے پر سیکورٹی کا انتظام کیا ہے۔ اب میں اسلام آباد میں 18 افراد کی مکمل سیکیورٹی کے...

123,649 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

9 Yorum

Mubashir khan profil fotoğrafı
Mubashir khan2 yıl önce

💥💌

Mohsin Iqbal profil fotoğrafı
Mohsin Iqbal2 yıl önce

آج کل بندہ جائے وقوعہ سے 500 کلومیٹر دور ہوتا ہے تو اُس پر مقدمات درج ہو جاتے ہیں اور آپ نے تو پھر بھی اُسکو پکڑ کر اپنا غصہ نکالا تھا اِسلئے یہ سب متوقع تھا اور آپ کو اُکسا کر ایسا کروایا گیا۔ اب آپ اپنے دفاع میں لازم ہر آئینی راستہ اپنائیں۔

Haider Ali profil fotoğrafı
Haider Ali2 yıl önce

اللہ تعالی عمران جان صاحب کو، آپکو اور آپ جیسے تمام محب وطنوں کو اپنی حفظ و آمان میں رکھے شیر افضل بھائی 🤲🏻

Anam profil fotoğrafı
Anam2 yıl önce

یہ جو کل ہوا وہ صرف آپکو غصہ دلانے کے لئے پلان کیا گیا تھا شیر بھائی تُسی وی ہتھ ہولا رکھا کریں 😂

Tanveer Hussain profil fotoğrafı
Tanveer Hussain2 yıl önce

Sher Afzal!

Anamta Malik profil fotoğrafı
Anamta Malik2 yıl önce

شیر بھائی وہ ٹریپ تھا آپ کے لیے ائندہ خیال رکھیے، گا اللہ پاک آپ کا ہمی و ناصر ہو امین

Najma Irshad profil fotoğrafı
Najma Irshad2 yıl önce

Yes sir it's good decision,it's not a Islamic republic of Pakistan,it's a banana republic

Dr Rubban Amjad profil fotoğrafı
Dr Rubban Amjad2 yıl önce

That’s a good decision we want your safety first before I request for this decision But Alhamdulillah

Moona️ Awan🎀 profil fotoğrafı
Moona️ Awan🎀2 yıl önce

I was saying exactly the same bosss. Pls be careful🥲🥲🥲

Benzer Videolar

ڈان اخبار کی آج کی ایک خبر کے مطابق اسلام آباد کلب کا سرکار کی 51 کنال اراضی پر قبضہ ہے۔ کلب نے پارکنگ کے لیے بھی سی ڈے اے کی زمین اور مری روڈ کے رائٹ آف وے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ مجموعی طور پر کلب 54 کنال زمین پر تجاوز کر چکا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد کے ایک اور ایلیٹ کلب گن اینڈ کنٹری کلب لیز کے بغیر سرکار کی 256 کنال زمین پر چل رہا ہے۔ دوسری طرف حالیہ دنوں میں وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کے عقب میں پہلے مسلم کالونی کے خلاف آپریشن کیا گیا۔ مسلم کالونی جس میں آباد لوگوں کے آباؤ اجداد نے اپنے ہاتھوں سے دارالحکومت اسلام آباد تعمیر کیا۔ اس کے بعد ایچ نائن میں رمشا کالونی کے خلاف آپریشن کیا گیا جسے 2012 میں یہاں آباد کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رمشا کالونی کو اس وقت کی حکومت نے خود ہی ایچ نائن میں خالی جگہ پر آباد کیا تھا۔ اب سی ڈی اے نے بری امام کے ساتھ ملحقہ نور پور شاہاں میں دہائیوں سے آباد مقامی افراد کے گھروں کو مسمار کردیا ہے۔ اگر یہ سب کچی آبادیاں اور اس کے مکین “غیرقانونی” ہیں تو پھر اسلام آباد کلب کی جانب سے تجاوزات کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جب تک سی ڈی اے اسلام آباد کلب کی جانب سے تجاوزات کے خلاف آپریشن کر کے 54 کنال واگزار نہیں کرواتا، اس کے کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن کا بھی کوئی جواز نہیں۔ فی الحال ایسا لگتا ہے کہ اشرافیہ کے کلبس پر ہاتھ ڈالتے ہوئے سی ڈی اے کے پر جلتے ہیں۔

Ghazi Amir Gujjar

28,889 görüntüleme • 4 ay önce

آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کا لائسنسنگ میں جدت لانے کے لیے بڑا اقدام۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس کے لائسنسنگ پراسیس کو مکمل پیپر لیس کردیا گیا۔ آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے پیپر لیس لائسنسنگ کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔ آئی جی اسلام آباد نے تمام پیپرلیس کاونٹرز کا جائزہ لیا اور اس نظام کے متعلق احکامات جاری کئے۔ یہ اقدام شہریوں کی سہولت اور قیمتی وقت کے ضیاع کو بچانے کے لئے اٹھایا گیا۔ اب میڈیکل سے لے کر لائسنسنگ کی وصولی تک مکمل نظام پیپر لیس ہوچکا ہے۔ آئی جی اسلام آباد چیف ٹریفک آفیسر اور ان کی ٹیم نے قلیل وقت میں اس پراجیکٹ کو مکمل کیا جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ آئی جی اسلام آباد لائسنسنگ فیس کے نظام کو بھی جلد ڈیجیٹلائز کردیا جائے گا۔ آئی جی اسلام آباد اب شہری صرف اپنے شناختی کارڈ ساتھ لے کر آئیں اور اسلام آباد ٹریفک پولیس کا لائسنس حاصل کریں۔ آئی جی اسلام آباد #WeRIslamabadPolice #Islamabad #ITP #ICTP

Islamabad Police

10,992 görüntüleme • 4 ay önce

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 görüntüleme • 2 yıl önce

اسلام آباد کے پوش سیکٹر کے رہائشی فلیٹ میں فحاشی کا اڈا، خاتون تیسرے فلور کی کھڑکی سے کود کر زخمی ہوگئی، متاثرہ خاتون کا ویڈیو بیان میں سنسنی خیز انکشافات، اسلام آباد کے تھانہ شالیمار کی حدود سیکٹر ای الیون ٹو کی رہائشی بلڈنگ کے تیسرے فلور سے خاتون نے چھلانگ لگا دی۔ جسے شدید زخمی حالت میں مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمی خاتون نصیبہ قیصر نے اپنے ویڈیو بیان میں انکشاف کیا ہے کہ اس کا تعلق اسلام گڑھ میرپور آزاد کشمیر سے ہے۔ خاتون کے مطابق دو روز قبل سرائے عالمگیر سے مجھے شکیلہ نامی خاتون نے مری سیر وتفریح کے بہانے اسلام آباد پہنچایا اور یہاں سیکٹر ای الیون ٹو میں واقع رہائشی بلڈنگ کے تیسرے فلور میں لاکر قید کر دیا جہاں شکیلہ کا بھائی ذیشان عرف شانی بھی موجود تھا۔ شکیلہ نے مجھے بتایاکہ اسے بارہ لاکھ روپے میں شانی کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا ہے۔ خاتون کے مطابق عصمت فروشی کے اس اڈے پر اور بھی لڑکیاں موجود تھیں۔ شکیلہ اور اس کا بھائی شانی مجھ سے غلط کام کروانا چاہتے تھے۔ میرے انکار پر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ میں نے کھڑکی سے چھلانگ لگانے سے پہلے شور شرابہ کرکے ایک راہگیر کی مدد سے پولیس بلوالی۔ لیکن پولیس فلیٹ کے کمرے تک آکر اندر داخل نہ ہوئی اور دروازہ کھٹکھٹاتی رہی، دروازہ نہ کھلنے پر پولیس واپس لوٹ گئی۔ پولیس بلوانے کی پاداش میں مجھے بری طرح زدوکوب بھی کیا گیا۔ پھر موقع پاتے ہی میں فلیٹ کی کھڑکی سے کود گئی۔ نصیبہ نامی خاتون کا مزید کہنا ہے کہ جس فلیٹ میں مجھے رکھا گیا وہاں مساج سنٹر کھلا ہوا ہے اور غلط کاری بھی ہوتی تھی۔ شکیلہ اور ذیشان عرف شانی سمیت دیگر اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں۔ خاتون نے اپنی فیملی کے بارے میں پوچھنے پر بتایاکہ میرے والدین انگلینڈ میں رہتے ہیں۔ میرے پہلے خاوند سے ایک چار سالہ بیٹی ہے جو والد کے پاس ہی ہوتی ہے۔ اپنے خاوند کے بارے میں خاتون کا کہنا تھاکہ وہ دبئی میں رہتا ہے۔ کھڑکی سے کودنے کے باعث خاتون کا پاؤں فریکچر ہوگیا ہے اور ریڑھ کی ہڈی بھی ٹوٹ چکی ہے۔
2:38

Sensitive content

اسلام آباد کے پوش سیکٹر کے رہائشی فلیٹ میں فحاشی کا اڈا، خاتون تیسرے فلور کی کھڑکی سے کود کر زخمی ہوگئی، متاثرہ خاتون کا ویڈیو بیان میں سنسنی خیز انکشافات، اسلام آباد کے تھانہ شالیمار کی حدود سیکٹر ای الیون ٹو کی رہائشی بلڈنگ کے تیسرے فلور سے خاتون نے چھلانگ لگا دی۔ جسے شدید زخمی حالت میں مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمی خاتون نصیبہ قیصر نے اپنے ویڈیو بیان میں انکشاف کیا ہے کہ اس کا تعلق اسلام گڑھ میرپور آزاد کشمیر سے ہے۔ خاتون کے مطابق دو روز قبل سرائے عالمگیر سے مجھے شکیلہ نامی خاتون نے مری سیر وتفریح کے بہانے اسلام آباد پہنچایا اور یہاں سیکٹر ای الیون ٹو میں واقع رہائشی بلڈنگ کے تیسرے فلور میں لاکر قید کر دیا جہاں شکیلہ کا بھائی ذیشان عرف شانی بھی موجود تھا۔ شکیلہ نے مجھے بتایاکہ اسے بارہ لاکھ روپے میں شانی کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا ہے۔ خاتون کے مطابق عصمت فروشی کے اس اڈے پر اور بھی لڑکیاں موجود تھیں۔ شکیلہ اور اس کا بھائی شانی مجھ سے غلط کام کروانا چاہتے تھے۔ میرے انکار پر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ میں نے کھڑکی سے چھلانگ لگانے سے پہلے شور شرابہ کرکے ایک راہگیر کی مدد سے پولیس بلوالی۔ لیکن پولیس فلیٹ کے کمرے تک آکر اندر داخل نہ ہوئی اور دروازہ کھٹکھٹاتی رہی، دروازہ نہ کھلنے پر پولیس واپس لوٹ گئی۔ پولیس بلوانے کی پاداش میں مجھے بری طرح زدوکوب بھی کیا گیا۔ پھر موقع پاتے ہی میں فلیٹ کی کھڑکی سے کود گئی۔ نصیبہ نامی خاتون کا مزید کہنا ہے کہ جس فلیٹ میں مجھے رکھا گیا وہاں مساج سنٹر کھلا ہوا ہے اور غلط کاری بھی ہوتی تھی۔ شکیلہ اور ذیشان عرف شانی سمیت دیگر اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں۔ خاتون نے اپنی فیملی کے بارے میں پوچھنے پر بتایاکہ میرے والدین انگلینڈ میں رہتے ہیں۔ میرے پہلے خاوند سے ایک چار سالہ بیٹی ہے جو والد کے پاس ہی ہوتی ہے۔ اپنے خاوند کے بارے میں خاتون کا کہنا تھاکہ وہ دبئی میں رہتا ہے۔ کھڑکی سے کودنے کے باعث خاتون کا پاؤں فریکچر ہوگیا ہے اور ریڑھ کی ہڈی بھی ٹوٹ چکی ہے۔

RahilaMujahid

399,493 görüntüleme • 2 yıl önce