Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

میں ایک بار پھر واضع کرنا چاھتا ہوں کہ AI creator شرارتی اس اکاونٹ سے میرا کوئی تعلق نہیں یہ میں مکہ کھڑے ہو کر بھی کہا تھا جب شیر افضل مروت نے مجھ پہ الزام لگایا تھا ۔ میں کہہ رہا ہوں میرا بس شادا شرارتی یہی ایک...

63,739 просмотров • 8 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

خان صاحب، اب تو لگتا ہے کہ سارا نظام ہی کچھ ایسی صورت اختیار کر گیا ہے کہ کوئی امید نظر نہیں آتی۔ کیوں نہ آپ اب ڈیل ہی کر لیں؟ کوئی معاملہ طے کریں، ایک دفعہ رہا ہو جائیں، اس اذیت اور مصیبت سے نجات حاصل کریں، پھر جب باہر آئیں گے تو دیکھ لینا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ تو صحافی کہتے ہیں کہ جب میں نے خان صاحب سے یہ بات کہی تو خان صاحب نے کچھ دیر میری طرف دیکھا، پھر بولے کہ حضرت یوسفؑ جب قید میں تھے تو انہوں نے اپنے ایک ساتھی سے صرف اتنا کہا تھا کہ بادشاہ کے سامنے میرا ذکر کرنا۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفؑ کی رہائی کو چھ سال مؤخر کر دیا تھا۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ جو خدا حضرت یوسفؑ کا تھا، وہی خدا میرا ہے، اور جس خدا کو معلوم تھا کہ حضرت یوسفؑ ناحق قید میں تھے، اس خدا کو یہ بھی معلوم ہے کہ عمران خان بھی ناحق قید میں ہے۔ اور جس طرح حضرت یوسفؑ کے لیے صرف ان کا اللہ کافی تھا، اسی طرح میرے لیے بھی میرا اللہ ہی کافی ہے۔ اس لیے میں اپنی رہائی کے لیے کسی سے کوئی بات یا کوئی ڈیل ہرگز نہیں کروں گا۔ #اللہ_پر_ایمان #اللہ_ہی_کافی

PTI Punjab

76,594 просмотров • 8 месяцев назад

بھروسا تم نے توڑا تھا مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اس پہ۔ عدم اعتماد کی فضا تم نے پیدا کی۔ میرے مخالفین ساری زندگی کبھی ملا ملٹری الائنس کہتے تھے، کبھی کہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہے۔ کیوں؟ میری سیاست اعتدال کی ہے۔ میں مذہبی طبقے سے تعلق رکھتا ہوں، اور اس کو اشتعال دلانے کے لیے پوری دنیا وسائل استعمال کر رہی ہے۔ اس ماحول میں رہ کر جب میں اپنے ماحول کو اعتدال کی راہ دکھاؤں گا تو یقیناً کچھ نرمیاں اس کے اندر آئیں گی۔ کوئی اس کو کہتا ہے: تم مفاد پرست ہو، موقع پرست ہو، تم نے فلاں جگہ یہ کیا، وہ کیا۔ نہیں! ہم نے حالات کے مطابق پالیسی اختیار کی، اور ہم کبھی حکومتوں کی خواہش پر نہیں چلے۔ میں اگر 1988ء میں اسمبلی میں آیا، تب بھی اپوزیشن میں تھا۔ مجھے 1990ء میں ہرایا گیا۔ 1993ء میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ 1997ء میں اسمبلی میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ تم نے میرے خلاف اس وقت بھی گندا پروپیگنڈا کیا، غلیظ ترین پروپیگنڈا کیا۔ کبھی کہا: ڈیزل پرمٹ خریدا ہے۔ پھر ڈیزل پرمٹ اگر میں نے لیا ہے تو دستاویز ہوگی نا؟ پرمٹ کے معنی ہی دستاویز ہیں۔ 2003ء، 2004ء میں آپ نے میرے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا۔ آج 2026ء ہے۔ کہیں کوئی اس کا ریکارڈ، کوئی دستاویز، کوئی ثبوت تمہیں آج تک ملا؟ کہتے تھے: پلازے لے لیے ہیں، فیکٹریاں بنا لی ہیں، دبئی میں ہوٹل بنا لیے ہیں۔ اسی ہزار کی لسی پی لی ہے، دو دن ہوٹل میں ٹھہرا ہوں تو کہتے ہیں: اسی ہزار کی لسی پی لی ہے۔ شرم بھی نہیں آتی اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے۔ اور پھر ایک وقت آیا جب اسٹیبلشمنٹ کی ایک اہم شخصیت نے مجھے پیغام بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے انکار کر دیا۔ پھر نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم درمیان میں آئے اور مجھے کہا: "آپ کو بات کر لینی چاہیے۔" میں نے اپنی جماعت سے مشورہ کیا۔ انہوں نے بھی مجھے کہا: "ہاں، ہمیں مل لینا چاہیے تاکہ پتا تو چلے کہ ہم کس غار سے ڈسے جا رہے ہیں۔" ان ملاقاتوں میں جب میں نے اپنی شکایات ان کے سامنے رکھیں، اور میں نے ان کو چیلنج کیا کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اللہ تمہیں سن رہا ہے، میں بھی بیٹھا ہوں، تم بھی بیٹھے ہو۔ اگر میرے ہاتھ سے یا میرے ماحول کے اندر کوئی ایسے غلط کام ہوئے ہوں، کوئی ایسے غلط مفادات میں نے حاصل کیے ہوں، تو اللہ کے لیے کم از کم مجھے واضح طور پر بتا دو کہ فضل الرحمٰن، آپ کے اندر یہ نقص ہے۔ اس اعلیٰ ترین افسر نے سر جھکایا، پھر سر اٹھایا، پھر کہا: "مولانا! کوئی ایسی بات نہیں ہے، قطعاً کوئی ایسی بات نہیں ہے۔" تو میں نے کہا: "پھر میری کردار کشی کیوں کی؟ کیوں میرے بارے میں یہ غلط باتیں کیں؟" انہوں نے کہا: "میں متعلقہ حلقوں (Concerned Quarters) کو ہدایت دے دوں گا، ان شاء اللہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ تو میں نے کہا: آپ نے تو کہہ دیا کہ ہم نے جو بولا، جھوٹ بولا، غلط بولا، اور آئندہ ہدایت دے دوں گا کہ ایسا نہیں ہوگا، لیکن میرا دعویٰ تو اپنی جگہ برقرار ہے کہ تم نے الیکشن میں دھاندلی کرائی ہے، اور حکمران جو بھی بنے گا، دھاندلی سے بنے گا۔سو آج میرا سوال یہ ہے کہ دھاندلی سے بنی ہوئی حکومت ہمیں قبول نہیں قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,884 просмотров • 1 месяц назад

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 просмотров • 1 месяц назад

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,433 просмотров • 5 месяцев назад