Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

”میں نے آج سب کو پیغام دیا ہے کہ صرف 2 ہاتھوں اور 2 پاؤں سے بالکل نہتے آتا ہے۔ کوئی بھی بندہ جس کے ہاتھ میں انتشار پھیلانے والی کوئی بھی چیز ہو اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کرنا ہے کیونکہ وہ ہم میں سے نہیں ن...

96,442 Aufrufe • vor 7 Tagen •via X (Twitter)

7 Kommentare

Profilbild von Rabiqa
Rabiqavor 7 Tagen

@RafiKha01 کیا ادرے گارنٿی دئنگے کہ وہ گولی نہیں چلائیں گے مرنا صرف نہتی عوام کو ہی ہے

Profilbild von Rajpoot 🇵🇸❤️🇵🇰
Rajpoot 🇵🇸❤️🇵🇰vor 7 Tagen

😂 sir q awam ka waqat zaya karwana ha aaky. Apny province py mehnat karien

Profilbild von رانا دلشاد
رانا دلشادvor 7 Tagen

فل کیمروں کے ساتھ اور لائیو جانا اس بار۔۔۔۔ہر چیز کو ریکارڈ کا حصہ بنانا

Profilbild von Arslan Khalid
Arslan Khalidvor 7 Tagen

Bat yei khtm hogai uno ne 5 10 hi marny ha bat khtm

Profilbild von Babar Khan
Babar Khanvor 7 Tagen

Maar khanay Ka show hai? You think police will be waiting with flowers? This march is done...don't bother

Profilbild von Perspective!
Perspective!vor 6 Tagen

Loud & clear message!!!

Profilbild von Tayyab
Tayyabvor 6 Tagen

😂😂😂 گانڈو ڈر گئے

Ähnliche Videos

عمران خان نے جس کو ذمہ داری دی ہے ہم سب کا فرض ہے کہ اس پر عمل کریں جو ذمہ دار عمران خان نے بنائے جو پالیسی ہے اس پر ہم نے عمل کرنا ہے پارٹی کے مشران اور وزیراعلی سہیل آفریدی کے احکامات میں لفظ بہ لفظ دہرا رہا ہوں یہ پارٹی کی طرف سے احکامات ہیں ممبران اسمبلی اور تنظیم کو یہ احکامات دئے گئے ہیں پرامن احتجاج اور پرامن آئینی تحریک آگے بڑھائیں گے پہلے 27 کی تاریخ تھی ہم تیار تھے اب 4 تاریخ ہے ہم تیار ہیں اسلام آباد جانا ہے تو یہ ان کا فیصلہ ہوگا جو حکم ہوگا ہم عمل کرینگے وزیراعلی صاحب نے واضح کہا ہے کہ ڈنڈا لانے والا بندہ ہم میں سے نہیں سمجھ گئے سب؟ ڈنڈا کوئی نہیں لائے گا ابتک کا یہ حکم ہے آگے احکامات کے مطابق سب ہوگا کوئی بندہ پتھرائو نہیں کریگا یہ حکم ہے کوئی بندہ تصادم کریگا قانون ہاتھ میں لے گا وہ ہم میں سے نہیں جو بندہ راستہ بند کرے وہ بھی ہم میں نہیں جو بندہ غلیل لائیگا وہ بھی ہم میں نہیں جو تصادم یا لڑائی جھگڑا کرے اسے پکڑیں روکیں اور ماریں یہ حکم ہے سابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی لانگ مارچ روانگی سے قبل کارکنوں کو ہدایات

Shakir Mehmood Awan

109,828 Aufrufe • vor 2 Tagen

"ہم نے نفرتوں کو ہوا دی۔ ان نفرتوں کے نتیجے میں، جن سیاسی رہنماؤں سے یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ عوام کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں، انہیں یا تو پھانسی دے دی جاتی ہے، جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، یا دیگر سزاؤں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آج یہ تمہید اس لیے باندھنی پڑی کہ ہم وہ لوگ ہیں جو اپنے بدترین سیاسی مخالفین کی ماؤں اور بہنوں کا بھی مکمل احترام کرتے ہیں۔ میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے انتہائی ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں—جس میں تمام جماعتیں بشمول پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول ترین پارٹی، عمران خان اور علامہ صاحب بھی شامل ہیں—کہ ہم اپنے کارکنان اور ذمہ داران کو واضح ہدایت کرتے ہیں کہ جو شخص بھی ہمارے کسی مخالف کی ماں، بہن یا بیٹی کے خلاف کوئی نازیبا بات لکھے گا، ہم اس سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کریں گے۔ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ گالی گلوچ کی سیاست نے اس ملک کو بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، اور ہم دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی اسی مثبت رویے کی توقع رکھتے ہیں۔ آئیں، مل کر پاکستان کو چلائیں اور اسے بچائیں۔ پاکستان کو بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ طاقت کا سرچشمہ صرف پارلیمنٹ ہو، عدلیہ اپنے دائرہ کار میں مکمل آزاد ہو، اور صحافت پر کوئی پابندی نہ ہو (پیکا جیسے قوانین کا خاتمہ ہو)۔ جہاں تک افواجِ پاکستان کا تعلق ہے، اللہ انہیں دنیا کی بہترین فوج بنائے، لیکن انہیں بھی آئین کے دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تبھی یہ ملک ترقی کرے گا اور پھلے پھولے گا۔" قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Siddique Jan

51,654 Aufrufe • vor 1 Monat

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 Aufrufe • vor 2 Monaten