正在加载视频...

视频加载失败

ایک بندے کا باپ فوت ہوگیا ،سب نے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے ، اس نے پوچھا کیا کررہے ہو ؟؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے والد ہے لیے دعائے مغفرت کررہے ہیں ، اس نے جواب دیا ،جس بیغرت باپ کو میں نے دیکھا ہے ،اس کے جو...

103,509 次观看 • 8 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

کیا عاصم منیر نے جب وہ گوجرانوالہ کور کمانڈر تھے ماسٹر ٹائیلز والوں سے 90 کروڑ کا بھتہ مانگا تھا ؟ اینکر نے یہ سوال جنرل امجد شعیب سے پوچھا کیونکہ جنرل امجد شعیب کے ماسٹر ٹائیلز والوں سے بڑے قریبی مراسم تھے جس کا اینکر اس انٹرویو میں زکر بھی کر رہا ہے امجد شعیب نے جواب دیا میں نے ماسٹر ٹائیلز والوں سے نہیں پوچھا لیکن میں نے اس سلسلے میں عاصم منیر سے پوچھا تھا اور اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے ماسٹر ٹائیلز سے نوے کروڑ کا بھتہ مانگا ہے یہ کیسے ممکن ہے جنرل امجد شعیب اپنے قریبی دوستوں سے یہ سوال نہ پوچھے کہ آپ سے کسی نے بھتہ مانگا ہے اور اس شخص سے پوچھے جس پر الزام لگا ہے، وہ تو یقیناً انکار کرے گا اس سے یہ تاثر لیا جا سکتا ہے کہ امجد شعیب نے اپنے قریبی دوستوں ماسٹر ٹائیلز والوں سے ضرور پوچھا ہوگا لیکن اس کا جواب وہ ملا ہو گا جو وہ TV پر نہیں بتا سکتے اگر ماسٹر ٹائیلز والوں نے اس سے انکار کیا ہوتا تو جنرل امجد شعیب اس انٹرویو میں اس کا زکر ضرور کرتے

Waqar khan

70,879 次观看 • 6 个月前

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,333 次观看 • 5 个月前

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,918 次观看 • 1 个月前

اقرار الحسن سے عوام نے جو سوالات پوچھے ہیں ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ پہلا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ جب آپ چھٹی جماعت میں تھے تو آپ کے والد نے دوسری شادی کی اور پھر جرمنی چلے گئے۔ آپ نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم وہ کہاں رہتے ہیں کیا کرتے ہیں یا انہوں نے کتنی شادیاں کی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف دوسری شادی کی وجہ سے کوئی ملک چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لیتا ہے؟ ملک چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی وہ آپ نے آج تک نہیں بتائی۔ دوسرا سوال آپ کے والد اسماعیل شاہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کے الزامات ہیں اور اس کی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔ آپ کے والد پر 295C کی دفعات بھی درج ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹے الزامات تھے تو آپ کے والد نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا اور پاکستان چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح کیوں دی؟ تیسرا سوال آپ کی کمپنی Perfectum Pakistan کا واحد بیرون ملک دفتر جرمنی کے فرینکفرٹ میں ہے جہاں آپ کے والد مقیم ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کاروباری تعلق بھی ہے؟ اگر آپ کو اپنے والد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تو پھر جرمنی میں دفتر کیوں؟ چوتھا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آپ نے اہم معاملات پر والد سے رابطہ کیا اور ان سے مشورہ لیا۔ جب آپ انہیں نہیں جانتے اور ان سے کوئی تعلق نہیں تو پھر مشورہ کس بات پر لیا گیا؟ یہ تضاد کیسے؟ پانچواں سوال آپ کہتے ہیں آپ کو فخر ہے مگر برسوں میں ایک بار بھی والد سے ملاقات کا کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جس باپ پر فخر ہو اس کے ساتھ ایک تصویر ایک مشترکہ ویڈیو بھی نہیں؟ یہ کیسا فخر ہے جو چھپ کر ہو؟ چھٹا سوال آپ کے والد کا تعلق اہل تشیع مکتب فکر سے ہے اور وہ ایک مذہبی مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی ان کی سوچ اور عقائد سے الگ ہیں تو آپ نے کبھی عوامی سطح پر اپنے والد کے ان مبینہ بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ ساتواں سوال آپ نے پاسپورٹ شناختی کارڈ اور اسناد دکھا کر والد کا نام ثابت کیا مگر کسی نے آپ کی والدیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ عوام آپ کے والد کے مبینہ کارناموں کے بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے جو زبان زد عام ہیں منقول

Aamir Gujjar

29,052 次观看 • 3 个月前

یہ پچھلے سال کی اس کی ویڈیو ہے تب یہ ٹک ٹاکر کافی زیادہ وائرل ہو رہا تھا اور یہ لائیو میچ کھیلا کرتا تھا ٹک ٹاک پہ لوگوں کے ساتھ اور اس کی ویڈیو کافی وائرل ہوتی تھی اور یہ خود کو عمران خان سے بڑا لیڈر سمجھنے لگا ایک دن اس کے ساتھ ہم باتیں کر رہے تھے تو اس نے عمران خان کے اوپر وہ باتیں کی جو میں سوچ نہیں سکتی تھی مدہ بہت لمبا تھا لیکن اس کی زبانی خود سنیں کہ یہ عمران خان کو کیا کہہ رہا ہے مطلب اس کو عمران خان سے زیادہ پتہ ہے۔۔ میں نے دوبارہ اس بندے کو کبھی اہمیت نہیں دی پھر یہ کافی چالاک بھی تھا اس نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا جس میں اس نے مجھے بھی ایڈ کیا اور اس نے ہم سب کو کہا اب میری ٹیم ہیں ٹیم الادین میں نے کہا ہم کسی کی ٹیم نہیں ہم صرف عمران خان کی ٹیم ہے ہم عمران خان کی بات کیا کریں گے اور اس پر میرے ساتھ سب لوگوں نے اتفاق کیا لیکن اس نے نہ کیا اور پھر بہت سارے لوگ وہ واٹس ایپ گروپ چھوڑ کے چلے گئے جس میں میں بھی شامل تھی اور میں نے اس کو ہمیشہ دیکھا یہ کرتا کیا ہے اس نے بہت جھوٹ بولے اس کو ہر وہ کام کرنے اور ہر ایک وہ چیز بولنے کی اجازت تھی جو ہر نئے انے والے بندے کو ہوتی ہے جس کو ہیرو بنایا جاتا ہے پھر اس کو پتہ چلا کہ ٹویٹر بھی کوئی چیز ہوتی ہے پھر یہ پچھلے سال ٹویٹر پہ پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے کوئی شخص جب اتنا وائرل ہو جاتا ہے تو اپ خود سمجھیں کہ اس کے پیچھے کیا ہوتا ہے اور ہماری قوم ٹھہری معصوم جس کے فالور زیادہ ہوئے نہیں بس اسی کے ساتھ تصویریں لینے نکل پڑے وہ پتلو ہو یا وہ پھر کوئی جنت مرزا ا یا کوئی ڈکی بھائی ہو یا کوئی اور شروع میں یہ بھی ٹوٹے دل اور عاشقی والی ویڈیو ہی بناتا تھا۔۔جو کے اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس نے بہت سارے ایسے لوگوں کو سپورٹ کی جس کو نہیں کرنا چاہیے تھا اس کو سمجھ اگئی تھی کہ ٹک ٹاک کا الگوریدم وہی چیزیں اٹھاتا ہے جو ٹاپ ٹرینڈنگ ہو اسے ان چیزوں سے کبھی مقصد نہیں ہوا تھا کہ کیا ضروری ہے کیا اہم اور پھر اہستہ اہستہ اس کو ہمارے ہی پی ٹی ائی افیشلز کے کچھ لوگوں نے انٹروڈکشن دیا اس کو عزت دی پھر اچانک سے اس کے ابو کو اٹھا لیا گیا جو کہ مجھے سچ نہیں لگتا کیونکہ پھر اگلے ہی دن یہ ائی ایس ائی کو للکار رہا تھا اور پھر ان کا ابو چھوٹ بھی گیا جو کہ اچھی بات ہوئی اس کے بعد یہ پی ٹی ائی افیشل میں بیٹھے ہوئے چند لوگوں کی مدد سے زیادہ ہی وائرل ہوگیا۔۔ اب اس نے یہ جتنے بھی پروگرام کیے ہیں اس نے بہت سنگین جرم کیا عمران خان کی تصویر نہ لگا کر پی ٹی ائی کے جھنڈے نہ لہرا کر اب یہ اس مدے پر پہنچ چکا ہے کہ یہ اپنی کوئی ہیومن رائٹس کے ارگنائز شن بنا رہا ہے یہ سب کرنے کے لیے اس نے عمران خان کا نام استعمال کیا اس نے پی ٹی ائی کے لوگوں کے جذبات سے کھیلا اور یہ تمام اس کے فالورز جو اس کو ملے ہیں وہ عمران خان کے نام پر ملے ہیں لیکن اس کا ایجنڈا کچھ زیادہ ہی بڑا ہے یاد رہے یہ اس کے الفاظ اس وقت کے ہیں جب خان صاحب جیل میں تھے یہ اس وقت بھی لوگوں کو یہ کہتا تھا کہ ہمیں عمران خان پر ٹرسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا جو ہم نے کیا

Sara Mir

33,141 次观看 • 9 个月前

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 次观看 • 1 个月前

رات 12 بجے کے قریب جب میں ترامڑی چوک میں واقع کوئٹہ آرم باغ کیفے میں چائے پینے کے بعد بل ادا کرنے کے لیے کاؤنٹر پر گیا تو ہوٹل کے مالک امداد خان نے ایک ایسی کہانی سنائی جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا انہوں نے سامنے ایک ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، “یہ بچہ گزشتہ چار سے پانچ گھنٹوں سے یہاں بیٹھا ہے۔ اس کا باپ کھانا کھانے کے بعد 640 روپے کا بل ادا نہ کر سکا۔ اس نے اپنی گھڑی اتار کر مجھے دی اور کہا کہ میرے پاس اس وقت پیسے نہیں، آپ گھڑی رکھ لیں امداد خان نے بتایا کہ انہوں نے گھڑی لینے سے انکار کیا تو اس شخص نے کہا، “میرا بیٹا یہیں بیٹھا ہے، میں صرف پانچ منٹ میں پیسے لے کر آتا ہوں، پھر بل بھی ادا کر دوں گا اور اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے جاؤں گا مگر وہ پانچ منٹ گھنٹوں میں بدل گئے میں بچے کے پاس گیا اور پوچھا، “بیٹا، آپ کہاں سے ہو؟ آپ کا نام کیا ہے؟ وہ خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں خوف اور بے یقینی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ شاید وہ اجنبی لوگوں سے بات کرنے سے گھبرا رہا تھا یا پھر اپنے باپ کے انتظار میں گم تھا کچھ دیر بعد میں نے اس سے صرف ایک سوال کیا، “بیٹا، کھانا کھایا ہے؟ اس نے خاموشی سے ہاں میں سر ہلا دیا آہستہ آہستہ جب وہ کچھ مانوس ہوا تو میں نے دوبارہ اس سے گھر کے بارے میں پوچھا۔ اس بار اس نے اپنے گھر کا پتا بتا دیا پھر میں، امداد خان، ان کے چند دوست اور ان کے بچے، اس معصوم کو اس کے بتائے ہوئے پتے پر چھوڑنے نکل پڑے وہاں پہنچ کر پڑوسیوں سے معلوم ہوا کہ بچے کے والدین الگ الگ رہتے ہیں۔ اس کا والد وقاص خان، جو پیشے کے لحاظ سے پینٹر ہے، ایک گھر کے کرائے کے کچن میں رہائش پذیر ہے اور بچہ بھی اسی کے ساتھ رہتا ہے جب ہم وہاں پہنچے تو وقاص خان گھر پر موجود نہیں تھا۔ کافی انتظار اور تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔ آخرکار بچے کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے تھانہ شہزاد ٹاؤن کی پولیس کے سب انسپکٹر انور کے حوالے کر دیا گیا تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے اور اس کے والد تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکے یہ واقعہ صرف 640 روپے کے ایک بل کی کہانی نہیں، بلکہ اس معاشرے کی تلخ حقیقت ہے جہاں غربت انسان کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جن کا تصور بھی تکلیف دہ ہے۔ ایک معصوم بچہ گھنٹوں اپنے باپ کے انتظار میں خاموش بیٹھا رہا، اور شاید اسے یقین تھا کہ اس کا باپ ضرور واپس آئے گا افسوس اس بات کا ہے کہ اسی ملک میں ایک طرف اشرافیہ اربوں روپے کے نئے جہاز خریدنے میں مصروف ہے، جبکہ دوسری طرف اسی ملک کے عام لوگ ایک وقت کا کھانا کھانے کے لیے بھی شدید مجبوری کا شکار ہیں۔ جب ریاست کی ترجیحات بدل جائیں تو ایسے ہی دردناک مناظر جنم لیتے ہیں!! صحافی مشرف ضیاف ستی کی تحریر 💔

ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀)

39,722 次观看 • 1 个月前