Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

میں نے اپنا “ رافیلوا “ سیدھا کیا آپکی بھابھی نے خوشبو لگائی ہوئی تھی اور میں نے گولی کھائی ہوئی تھی رافیلوا کو کبھی پہلے گئیر میں مت اڑائیں کیونکہ اس سے رافیل لمبی اڑان بھرنے سے قاصر رہتا ہے خالد بٹ اور مصطفی چوہدری کی یہ گفتگو...

43,571 görüntüleme • 8 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,244 görüntüleme • 4 ay önce

یہ طیّب تارڑ ہے۔۔۔ یہ سپیس میں بیٹھ کر خان صاحب کے وفاداروں کو گالیاں دیتا رہتا ہے اس نے میری والدہ اور مجھے بھی گالیاں دی تھیں اس نے بہت لوگوں کو گالیاں دی ہیں میری 6-5 ٹویٹس تھی جو میں نے کشمیر کے معاملے میں کی تھی جب کشمیر کے معاملے کی سمجھ آئی تھی تو میں نے اللہ سے معافی مانگی تھی میری چند ٹویٹس سب سامنے آئی تھی میں نے فجر کے وقت وضو کی حالت میں ویڈیو جاری کی تھی اور پوری ڈیٹیل میں بتایا تھا کہ کیوں میں نے یہ ٹویٹس کی تھی میری ویڈیو ابھی تک میرے اکاؤنٹ پر لگی ہوئی ہے کل سے شمس خٹک اور اس کا پورا گروپ دوبارہ سے میری پُرانی ٹویٹس کو لگا رہے ہیں جب میری ٹویٹس کو لگایا گیا تھا تو شمس خٹک نے ایک سپیس میں میری سائڈ لی تھی اب یہ ایسے ٹویٹس کر رہا جیسے اس کو معلوم ہی نہیں تھا طیّب کی 200 سے زائد ٹویٹس خان صاحب اور ان کی فیملی کے خلاف ہیں جو میں اس ٹویٹ میں شیئر کر رہا ہوں طیّب نے آج تک ان ٹویٹس پر کسی سے معافی نہیں مانگی ہے شمس خٹک اکثر HOST ہو سپیس میں تو یہ طیّب کو اسپیشل بولنے کا موقع دیتا ہے جس میں یہ کھل کر لوگوں کے اوپر کیچڑ اچھالتا ہے شمس خٹک ہو یا silent wolf نامی آئی ڈی طیب تارڑ کو سپیشل پروٹوکول ملتا ہے جس میں طیب تارڑ ہر ایک خان کے وفادار کو مشکوک بناتا ہے اور ہر ایک کے بارے میں غلط باتیں کرتا رہتا ہے یہ لوگ ہر اس بندے کے خلاف باتیں کرتے ہیں جو خان صاحب کی رہائی کے لیے کچھ کرتے ہیں۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں اپ یہ ویڈیو دیکھیں اور بتائیں میری پانچ چھ ٹویٹس زیادہ خطرناک تھی یا اس بندے کی ٹویٹس تھی؟ میں نے تو معافی مانگ لی ہے ویڈیو بھی اپلوڈ کر دی لیکن یہ بندے ابھی تک بولتا ہے کہ یہ میری ٹویٹس ہیں ہی نہیں اور اس بندے نے ابھی تک کسی سے معافی نہیں مانگی تو منافق کون ہے اپ بتائیں سچا بندہ تو وہ ہوتا ہے جو اپنی غلطی کو تسلیم کرے اور معافی مانگے لیکن اس نے تو کبھی معافی مانگی ہی نہیں تو بتائیں منافقت کون کر رہا ہے؟

Haider Saeed

20,436 görüntüleme • 1 yıl önce