正在加载视频...

视频加载失败

🚨 " میں چالا رہی تھی مگر میری سننے والا کوئی نہ تھا وہاں" 2004 میں بھارتی فوج کی جانب سے 16 سالہ اس لڑکی کو مجاہدین کے لیے سہولت کاری کرنے کے جھوٹے الزام میں اغواء کیا گیا، پہلے اس پر بدترین تشدد کیا اور پھر اسکی عصمت...

43,483 次观看 • 2 年前 •via X (Twitter)

8 条评论

Mohd Riaz 的头像
Mohd Riaz2 年前

ظلم میں ناپاک فوج اور ہندوستانی فوج ایک جیسے ہیں کیونکہ ایک بالدار کے غلام ہیں،بلوچستان اور خیبر والے مسجد میں اگر ناپاک فوج کے کتوں کے مظالم اگر دیکھے تو ہندوستانی افوج ہزار بار بہتر تصور کرونگیں،آج کی خبر ہے کہ بلوچستان میں ایک عورت کو فوج نے اغواکرلی ہے۔

Samia Mirza Taurus 的头像
Samia Mirza Taurus2 年前

بے شک کشمیر پاکستان کا شہہ رگ ہے ، لیکن اگر خدانہ خواستہ کشمیر پاکستانیوں کے ہتھے چڑھ گیا تو پاکستانی قوم ریپ شدہ لڑکیوں اور خواتین کو جینے نہیں دیتی ۔ پاکستان میں 10 سال کی بچی بھی ریپ ہو جائے تو اسے غیرت مند باپ اور بھائی مار مار کر دھکے دے کر گھر سے نکال دیتے ہیں ۔

Muhib Noor Baloch 的头像
Muhib Noor Baloch2 年前

😢😢😢

Gökborü 的头像
Gökborü2 年前

اچھا جو نا پاک فوج بنگالیوں کی عورتوں سے کیا. اور اب پاکستان میں ھو رہا ہے

shahzad 的头像
shahzad2 年前

Indian military koi military nahi, wo extremist org se be badtar hain. Jo military rape ko hathyar ke tour pe istamal kery insaan kehlany kabil nahi. Ye Indian military ka hufia hathyaar hai.

taimoor 🇵🇰 的头像
taimoor 🇵🇰2 年前

او ہو آسم منیر کی بیٹی چد گئ

Mirza 的头像
Mirza2 年前

پاکستان کے جرنیل ڈالروں کے بجاری اپنی عوام کو اسلام امن اور سکون نہیں دے سکتے ہم کشمیریوں کو کیا دیں گے ، انڈیا کشمیر کا دشمن ہے اور پاکستانی جرنیل بھی کم نہیں

Ali Hasnain 的头像
Ali Hasnain2 年前

@KashmirUrdu میری پیاری بہن میں ہوں آپکی بات سننے کے لیے مجھ سے بات کرے کیا مدد کی ضرورت ھے میں ہوں نہ رب پاک کا بندہ

相关视频

اور اب ان کو زندہ جلانے والے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے خلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے۔۔ اب آپ بتائیں ان کے ساتھ کیا کیا جائے؟ اب وہ شیعہ کارڈ کھیل رہے ہیں ہمارے سپہ سالار کو گالیاں دے رہے ہیں صرف اس لیے کہ اس نے یہ کہا ہے کہ ان دونوں کا خون معاف نہیں ہوگا۔۔ یہ ہمارے سپہ سالار پر اس لیے حملے کر رہے ہیں کہ فوج نے مطالبہ کیا ہے کہ جن لوگوں نے سکردو میں فوج کی تنصیبات پر حملے کیے آرمی پبلک سکول کو جلایا اور دو سپاہیوں کو زندہ جلا کر شہید کیا ان کو فوج کے حوالے کیا جائے۔۔ سارا جھگڑا اسی بات کا ہے ‌‌ مگر یہ حرام زادے یہ بات نہیں بتائیں گے۔ اور اب بھی صرف ایران چلے جانے والی بات کو پکڑ کر طوفان برپا کر رہے ہیں۔ ایران جانے والی بات پورے سیاق و سباق کے ساتھ کی گئی تھی۔۔ اگر آپ پاکستان کو آگ لگاتے ہیں پاکستان کو تباہ کرتے ہیں ہمارے سپاہیوں کو شہید کرتے ہیں فوج پر حملے کرتے ہیں اور پاکستان کے قانون کا احترام نہیں کرتے تو پھر آپ ایران چلے جائیں۔۔ اور انہوں نے پہلے والی ساری بات گول کر دی اور صرف ایران چلے جانے والی بات کو پکڑ کر ماتم کر رہے ہیں۔ دھمکی دے رہے ہیں فوج میں بغاوت کرانے کی بات کر رہے ہیں شام جیسی خانہ جنگی کرانا چاہتے ہیں۔۔ ان بے غیرتوں کو کوئی کہے کہ اس وقت اگر ایران کی کوئی مدد کر رہا ہے تو یہی ہمارے سپہ سالار اور یہی ہماری فوج کر رہی ہے۔۔۔ اور یہ ہمارے سپہ سالار پر حملے کر رہے ہیں تاکہ ایران کی آخری امید بھی ختم ہو جائے۔ اب ایران نے مظاہروں کے دوران پولیس اور پاسداران انقلاب (ایرانی فوج) پر حملے کرنے والے 3 مزید لوگوں کو پھانسی دے دی۔ پاکستان میں فوجیوں کو زندہ جلانے شہید کرنے والوں کے خلاف سخت بات بھی نہ کی جائے! 😡 یہ ناسمجھ چھوٹے بچے تو نہیں ہیں کہ کہیں کہ جاہل لوگوں نے ایسی بات کر دی۔۔۔‌ یہ خوارج کی ذہنیت، یہ حرام زدگی ان میں کہاں سے آئی؟ کیا یہ پاکستانی ہیں؟ کیا یہ مسلمان ہیں؟ ایسے وقت جب تمام مسلمان ملک تباہ کیے جا رہے ہیں یہ پاکستان میں خانہ جنگی کروانا چاہتے ہیں شام کی طرح؟ یہ کس کی خدمت کر رہے ہیں کس کی تنخواہ پر ہیں؟ ان میں اور خوارج جہنم کے کتوں میں پھر کیا فرق ہے؟

⚡️Faisal🤺

14,844 次观看 • 5 个月前

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,053 次观看 • 1 个月前

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 次观看 • 29 天前

بھارتی صحافی نے دو روز پہلے بھی سوال اٹھایا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اور ائیر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے انٹرنیشنل میڈیا کو بریفنگ میں مکمل ثبوت دکھائے ،ریڈار سگنیچر دکھائے اور بتایا کہ ہم نے بھارت کے پانچ جہاز گرائے ہیں(یاد رہے تب تک پانچ ہی گرائے تھے،چھٹا آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص نہیں ہوا تھا) بھارتی صحافی نے اپنی فوج،حکومت اور ائیر فورس سے کہا تھا کہ آپ خاموش کیوں ہیں؟آپ پاکستان کے اس دعویٰ کا جواب کیوں نہیں دے رہے؟؟؟؟ بھارتی صحافی نے اعتراف کیا کہ ان کی حکومت اور فوج کی جانب سے تردید نہ کرنے سے پوری دنیا میں پاکستان کا بیانیہ مانا جارہا ہے کہ ہم نے بھارت کے جہاز گرائے ہیں خیر اب تو کل بھارتی ائیر فورس کے ترجمان نے اعتراف کر لیا ہے کہ ان کے جہاز گرے ہیں لیکن وہ نقصان جنگ کا حصہ تھا بھارتی صحافی نے یہاں تک کہا کہ بھارت میں اس طرح کے سوالات اس لیے نہیں اٹھائے جارہے کہ کہیں سوال اٹھانے والے صحافی قتل ہی نہ کر دیے جائیں، بھارتی صحافی نے اپنے وی لاگ میں ٹیلی گراف کی خبر بھی دکھائی جس میں بھارتی جہاز گرنے کی خبر دی گئی تھی۔ بھارتی صحافی نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی جانب سے رافیل گرانے کی وجہ سے رافیل بنانے والی کمپنی کے شئیرز گرے ہیں اور پاکستان نے جو جہاز اور میزائل استعمال کیے،ان کے شئیرز بڑھے ہیں، بھارتی صحافی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بھارت نے 2019 میں اپنے ملک میں جھوٹا دعویٰ کیا اور منجن بیچا کہ انہوں نے پاکستان کا ایف سولہ جہاز گرایا ہے لیکن عالمی سطح پر کوئی ثبوت نہیں دکھا سکے تھے، بھارتی صحافی نے کہا کہ شاید اس بار بھی مودی سرکار کا یہی پلان ہے کہ جھوٹا بیانیہ بناو اور ووٹ بڑھاو لیکن اس بار یہ جھوٹ نہیں بک رہا اور نہ بکے گا۔۔۔۔۔کیونکہ دنیا بدل چکی ہے اور معلومات تک رسائی بہت آسان ہو چکی ہے۔ #ceasefire #IndiaPakistanWar2025 #OperationBunyanulMarsoos

Siddique Jan

100,475 次观看 • 1 年前

یہ ویڈیو لکی مروت کے گاؤں نصرخیل کی ہے، جہاں آج ایک اسکول میں فوج کیمپ لگانے کے لیے آئی تھی۔ اس پر گاؤں کی امن کمیٹی کے لوگ نکل آئے اور انہوں نے فوج کو اسکول سے نکال دیا۔ امن کمیٹی کے لوگ اس ویڈیو میں نعرے لگا رہے ہیں کہ جب یہاں دہشت گرد موجود تھے، تب تم لوگ نہیں آ رہے تھے۔ پھر ہم نے خود امن کمیٹی بنائی، ان کا مقابلہ کیا اور اپنے علاقے سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ کیا۔ اب یہاں فوج کی کوئی ضرورت نہیں، اور نہ ہی یہاں فوج کو آنے کی اجازت ہوگی۔ جو لوگ غیرت مند ہوتے ہیں، جو کسی کے ٹاؤٹ یا سہولت کار نہیں ہوتے، جو اپنے وطن، اپنی مٹی اور اپنی سرزمین سے محبت کرتے ہیں، وہ اس طرح معلوم اور نامعلوم، دونوں قسم کے دہشت گردوں سے اپنی مٹی اور اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہیں۔ نہ وہ وزیرستان والوں کی طرح فوج سے نفرت کی وجہ سے دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتے ہیں، نہ اپنے علاقے میں معلوم و نامعلوم دہشت گردوں کو گھسنے دیتے ہیں؛ بلکہ اپنی حریت اور آزادی کے لیے اگر ہتھیار اٹھانے کی ضرورت پڑے تو اسے سنت سمجھ کر اٹھاتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں۔ اسی لیے وہ کسی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر نہیں ہوتے اور نہ ہی متاثرین بن کر زندگی گزارتے ہیں، بلکہ اپنے علاقے میں امن اور خوشحالی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ جب آپ اپنے علاقے میں دہشت گردوں کو گھسنے نہیں دیں گے اور ان کی سہولت کاری نہیں کریں گے، تو پھر آپ کو یہ حق بھی پہنچتا ہے کہ وہاں فوج کو بھی گھسنے نہ دیں۔ یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ آپ دہشت گردوں کے سامنے خاموش رہیں یا پھر ان کی سہولت کاری کریں، اور جب فوج آپ پر بمباری کرے، آپ کو بے گھر کر دے، تو آپ مظلومیت کا رونا بھی روتے رہیں۔

Pakistan Walli

131,620 次观看 • 1 个月前

لاہور ڈکلیریشن کے 25 سال: مختصر تاریخ میاں صاحب کے بارے میں ایک ٹویٹ کی جس میں واجپائی کے دورہ لاہور کو پاکستانی تاریخ کا سب سے اہم واقعہ و سفارتی کامیابی قرار دیا۔ آج اتفاقا اسکو 25 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ دورہ کتنا اہم تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ تاریخ میں پہلی بار انڈیا کا وزیراعظم مینار پاکستان گیا اور پاکستان کا وجود تسلیم کیا، اور یہ سب کسی اور نے نہیں BJP کے وزیراعظم نے کیا۔ اسی طرح اس نے مسئلہ کشمیر بھی بغیر پاکستانی کشمیر پر حق جتائے تسلیم کیا۔ دوسری طرف جنرل مشرف کو اس تاریخی ڈویلپمنٹ سے اتنی تکلیف تھی کہ دنیا بھر میں رائج سفارتی پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے واجپائی کو اپنے ملٹری یونیفارم میں ملا تاکہ حکومت کو ہزیمت اٹھانی پڑے۔ نہ صرف یہ بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر جماعت اسلامی نے پورے ملک خصوصاً لاہور میں کرائے کے غنڈے کا کردار ادا کیا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد ان تمام مذاکرات کو سبوتژ کرنے کے لیے کارگل کا واقعہ کیا گیا اور اسی کی اڑ میں وزیراعظم پاکستان کا اقتدار لپیٹ دیا گیا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ یہی مشرف واجپائی سے مذاکرات کے لیے منتیں کرتا رہا اور کشمیر کے اوپر اس سے بھی کہیں زیادہ لچک دکھائی جو اسے صرف چند سال پہلے ایک منتخب وزیراعظم کی طرف سے برداشت نہ تھی۔ اور اس کے تقریبا 20 سال بعد اسی BJP کے ایک اور وزیراعظم نے جب کشمیر کا معاملہ، انڈیا میں ضم کرنے کے بعد، تقریبا ختم ہی کر دیا تو ہم سوائے آدھا گھنٹہ کھڑے ہونے کے کچھ بھی نہ کر سکے۔

Fraz

78,799 次观看 • 2 年前