Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

نصیب اللہ بادینی سمیت تمام لاپتہ افراد کوبازیاب کیا جائے #ReleaseNaseebUllahBadini بلوچستان میں لاپتہ افراد کامعاملہ انتہائی سنگین ہوچکاہے، نصیب اللہ بادینی سمیت سینکڑوں بلوچ نوجوان اور دیگر قوموں کے لاپتہ افرادبرسوں سے لاپتہ ہیں، بلوچ نوجوان نصیب اللہ بادینی کودس سال پہلے گرفتارکیا گیا تھا، وہ آج تک...

11,363 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

10 Yorum

MQM profil fotoğrafı
MQM1 yıl önce

لاپتہ بلوچوں کے لئے آواز اٹھانے پر وائس فور بلوچ مسنگ پرسنز @VBMP5 کے وائس چیئرمین ماما قدیر @QadeerMama اور بلوچ وائس فور جسٹس @BalochV4Justice کا ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین سے اظہار تشکر #ReleaseNaseebUllahBadini #EndEnforcedDisappearances

Matloob zaidi profil fotoğrafı
Matloob zaidi1 yıl önce

پاکستان میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں فوجی ادارے جو عوام کی حفاظت کیلئے ہوتے ہیں وہ ہی جب اپنے ملک کے لوگوں کو لاپتہ کریں تو لوگ انصاف کیلئے کہاں جائیں جیتے جاگتے انسانوں کوجبری لاپتہ کرنا انتہائی سنگین جرم ہے. #ReleaseNaseebUllahBadini

shakiluddin profil fotoğrafı
shakiluddin1 yıl önce

قائد محترم الطاف حسین بھائی مظلومو ں کے ساتھی زندہ باد ❤️

اردو ہے میرا نام !!!!! profil fotoğrafı
اردو ہے میرا نام !!!!!1 yıl önce

ہر ظلم کے خلاف الطاف الطاف @BalochV4Justice @naseeb81087

Syed Kashif Zaidi profil fotoğrafı
Syed Kashif Zaidi1 yıl önce

نصیب اللہ بادینی سمیت تمام لاپتہ افراد کوبازیاب کیا جائے #ReleaseNaseebUllahBadini

Dαní (Official) profil fotoğrafı
Dαní (Official)1 yıl önce

مظلوموں کا ساتھی ہے الطاف حسین جئے الطاف حسین سدا جئے آمین

Meri Awaz Suno profil fotoğrafı
Meri Awaz Suno1 yıl önce

مظلوموں کا ساتھی ہے الطاف حسین👊🫶 #ReleaseNaseebUllahBadini

Majeed Rajput profil fotoğrafı
Majeed Rajput1 yıl önce

میرا قائد میرا فخر،جسطرح ہر مظلوم قومیت کے لیے آواز بنتے ہیں ،یہی خوبی انہیں دوسرے سیاستدانوں سے ممتاز اور ہمارے لیے فخر کا باعث ہے، بلاشبہ @AltafHussain_90 بھائ اس قحط کے موسم میں ایک مدبر کی صورت ہیں جو بلا تفریق اور بلاخوف آواز حق بلند کرتے ہیں۔ جیے مرشد اہطاف حسین سدا جیے

Syed Ayaz Ahmed profil fotoğrafı
Syed Ayaz Ahmed1 yıl önce

آداب قائد محترم آپ ہر مظلوم قومیتوں کی آواز کی آواز ہیں اور پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی آپ ہی ہیں ۔ جئیے الطاف حسین بھائی سدا جئیے

مُجاھِد حُسینِی قَافلےِ کا ⚔️✊ profil fotoğrafı
مُجاھِد حُسینِی قَافلےِ کا ⚔️✊1 yıl önce

آداب پیر صاحب مھاجروں سمیت تمام قوموں کے لاپتہ مظلوموں کو فلفور بازیاب کیا جائے ظلم و ستم کے اس سلسلے کو بند کیاجائے اپنے حقوق کی جدوجہد کرنا تمام قوموں کا آئینی و قانونی حق ہے انہیں طاقت کےذریعے دبانے سے گریز کیا جائے اسی میں ملک کی بقاء و سلامتی ہے #ReleaseNaseebullahBadeni

Benzer Videolar

میں ،بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کےخلاف بلوچ ماؤں، بہنوں،بزرگوں اورمعصوم بچوں کے دھرنے کی بھرپور حمایت کرتا ہوں ،لانگ مارچ کے شرکاء کو ہراساں کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اورمطالبہ کرتا ہوں کہ بلوچوں سمیت سندھیوں، پختونوں ،مہاجروں اوردیگر مظلوم قوموں کے جبری لاپتہ کیے گئے افراد کوفی الفور بازیاب کیاجائےاور پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کاسلسلہ بند کیاجائے۔ میں مظلوم بلوچوں سے کہتا ہوں کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے ہماری سیاسی وسماجی سرگرمیوں پر جبری پابندیاں عائد کررکھی ہیں ورنہ MQM کےنمائندے جبری گمشدگیوں کےخلاف احتجاج اوردھرنے میں لازمی شریک ہوتےاور بلوچوں سمیت تمام مظلوموں کے شانہ بشانہ جبری گمشدگیوں کےخلاف تحریک میں عملی شرکت کرتے۔ میں بلوچوں سمیت تمام مظلوموں کویقین دلاتا ہوں کہ میں ان کے دکھ اورکرب کواچھی طرح سمجھ سکتاہوں کہ اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی سےکسی فردکے والدین،بہن بھائی اور بیوی بچےکس ذہنی کرب واذیت میں مبتلا ہیں۔ میری تمام تر ہمدردیاں اورحمایت مظلوم بلوچوں سمیت تمام لاپتہ افرادکےاہل خانہ کےساتھ ہیں۔ میں ایک مرتبہ پھر ارباب اختیار،ارباب اقتداراورسپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب سے پُرزورمطالبہ کرتا ہوں کہ انسانیت کےنام پر تمام لاپتہ افرادکوفوری بازیاب کرایا جائے،لاپتہ افراد کے اہل خانہ کوانصاف فراہم کیاجائے اوربلوچوں سمیت تمام مظلوموں کے ماورائے عدالت قتل کاسلسلہ فی الفور بند کیاجائے۔ #MarchAgainstBalochGenocide

Altaf Hussain

54,154 görüntüleme • 2 yıl önce

بلوچ قوم! جیسے کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ دشمن بڑی “بہادری” سے بلوچ نسل کشی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ “بہادری” سے رات کے اندھیرے میں اور دن کی روشنی میں ہمارے نوجوانوں کو جبری طور پر گمشدہ کر رہا ہے۔ آج وہ چھوٹے بچوں کو بھی جبری طور پر گمشدہ کر رہا ہے، اور خواتین کو بھی جبری طور پر لاپتہ کر رہا ہے۔ اس سب کی وجہ ہماری خاموشی ہے۔جب دشمن یہ دیکھتا ہے کہ ہم خوف کا شکار ہو چکے ہیں، تو وہ اور زیادہ بہادر بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری مدد کے لیے کوئی اور نہیں آئے گا۔اپنی نسلوں کی حفاظت اور اپنے لوگوں کو بچانے کا ہمارے سوا کوئی آسرا نہیں۔ہمیں خود آگے آنا ہوگا، اور اپنے لوگوں کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ ہم تمام لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ جب ان کے عزیز جبری طور پر لاپتہ کیے جائیں تو وہ خاموش نہ رہیں۔ وہ آگے آئیں، اور ظلم کے خلاف بولیں۔اور ہم پورے بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان متاثرہ خاندانوں کا ساتھ دیں۔ کل بیسیمہ میں ماہ جبین بلوچ کی رہائی کے لیے ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ہم بیسیمہ کے عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس ریلی میں بھرپور شرکت کریں۔اور ہم اپنے بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کو تنہا نہ چھوڑیں۔ یہ ظلم صرف ایک گھر تک محدود نہیں،، یہ ظلم ہم سب کو ختم کر دے گی لیکن خاموشی کا جو داغ ہم پر لگ جائے گا، وہ ہماری آنے والی نسلیں بھی نہیں مٹا سکیں گی۔ آگے آئیں… اور اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں! #ReleaseMahjabeenAndYounusBaloch #StopBalochGenocide

Baloch Yakjehti Committee

39,758 görüntüleme • 1 yıl önce

لاپتہ شخص نے مچ حملے میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا، عبدالودود کا نام اس کی بہن، ڈاکٹر مہرنگ اور بی وائی سی نے لاپتہ شخص کے طور پر تیار کیا۔ اس کی بہن گل زیدی بلوچ، جو اسلام آباد میں BYC مارچ میں مہرنگ کے ساتھ احتجاج کر رہی تھی، اپنے بھائی کی بازیابی کا مطالبہ کر رہی تھی۔ حیرت انگیز طور پر، اس کے بھائی ودود نے #Mach حملے میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا یہ بات قابل ذکر ہے کہ تاریخی طور پر، بہت سے لاپتہ افراد سیکورٹی فورسز پر حملوں اور دہشتگردی میں ملوث پائے گئے ہیں، جن کی مثال بعد میں عبدالودود ستاکزئی نے دی۔ یہ صورتحال ایک بار پھر لاپتہ افراد کے نام نہاد ڈرامے کو بے نقاب کرتی ہے۔ مزید برآں، ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ گل زادی بلوچ کا مبینہ طور پر بی ایل اے دہشتگرد تنظیم سے تعلق ہے۔ منسلک ویڈیو اور تصاویر جہاں اس کی بہن اس کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہی ہے جبکہ حقیقت میں وہ B-L-A کا حصہ تھی۔ #Balochistan #Bolan #بلوچستان #بولان #مچھ

عمران خان

16,463 görüntüleme • 2 yıl önce

آج ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کو سولہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر دین محمد بلوچ ایک معالج، ایک باشعور انسان، اور ایک متحرک بلوچ سیاسی رہنما ہے۔ ان کی جبری گمشدگی کے خلاف ان کی بیٹی، سمی دین، گزشتہ سولہ برسوں سے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ میرے نزدیک ان سولہ برسوں میں صرف ڈاکٹر دین محمد ہی لاپتہ نہیں رہے، بلکہ انصاف بھی لاپتہ رہا۔ یہاں عدلیہ خاموش رہی، سچ کی آواز دبا دی گئی، حق چھین لیا گیا، اور انصاف کے تمام تقاضے مسلسل پامال ہوتے رہے۔ آپ سمی دین کو محض ایک فرد یا ایک بیٹی سمجھتے ہوں گے، لیکن میرے نزدیک ان کی جدوجہد پورے ریاستی نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ: کیا سمی دین نے ان سولہ سالوں میں پاکستان کے کسی ادارے سے انصاف نہیں مانگا؟ انہوں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، عدالتوں سے لے کر تحقیقاتی کمیشنز، پارلیمانی کمیٹیوں سے لے کر دیگر تمام اداروں تک لیکن ہر جگہ سے صرف جھوٹ، تاخیر اور مایوسی ملی۔ ان سولہ برسوں میں جتنی حکومتیں آئیں، وہ سب انصاف مہیا کرنے میں ناکام رہیں۔ جتنی عدالتیں اور جتنے بینچ بنے، سب نے ان کی فریاد کو نظرانداز کیا۔ سمی کی جدوجہد صرف انفرادی نہیں، بلکہ ایک اجتماعی علامت ہے—ہر اس بلوچ خاتون کی کہانی جو انصاف کی تلاش میں ریاستی در و دیوار سے ٹکرا رہی ہے۔ یہ کہانی ہم سب کی کہانی ہے، اور یہ درد ہم سب کا مشترکہ درد ہے۔ ذرا ان بلوچ بیٹیوں کے بارے میں سوچیے جو بولنے کی طاقت نہیں رکھتیں، جن کے پاس کوئی سہارا نہیں، جو آگے بڑھنے سے قاصر ہیں۔ سمی کی جدوجہد نے ان تمام خاموش کہانیوں کو منظرِ عام پر لا کھڑا کیا ہے۔ اور اس دوران خود سمی کو بارہا ہراساں کیا گیا، گرفتار کیا گیا، جیلوں میں ڈالا گیا، اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن میں سمجھتی ہوں وہ سمی نہیں تھی جو تشدد کا نشانہ بنی، وہ سچ اور حق کا بیانیہ تھا جسے توڑنے کی ہر کوشش کی گئی۔ آج جب ہم جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، تو ہمارے ساتھیوں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی بلوچ، بیبرگ بلوچ، بیبو بلوچ ،گلزادی بلوچ اور دیگر ساتھیوں کو جیل کیا گیا ہے، انہیں دھمکایا جارہا ہے ڈرایا جارہا ہیں، میں بھی آج لواحقین کے ساتھ کھڑی ہوں تو میرے والد کو بھی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تاکہ ہم خاموش رہے تاکہ اس مسئلے سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ اس جدوجہد میں تمام متاثرین کا ساتھ دیں، کیونکہ یہ صرف سمی دین کی لڑائی نہیں، یہ ہم سب کی لڑائی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ: •ڈاکٹر دین محمد بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے •بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار رہنماؤں کو رہا کیا جائے •اور میرے والد کو فی الفور بازیاب کیا جائے #ReleaseDrDeenMohammad

Sabiha Baloch

16,244 görüntüleme • 1 yıl önce

پانچ روز قبل جب ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں نے جیل میں بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا، تو بلوچستان کے مختلف دانشوروں اور لکھاریوں نے ہمیں پیغامات بھیجے کہ ہم یہ پیغامات ڈاکٹر مہرنگ تک پہنچائیں اور ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کریں۔ قوم کو خدشہ تھا کہ ریاست، جس طرح ہمارے مظاہروں کو نظرانداز کرتی آئی ہے، اسی طرح اس بھوک ہڑتال کو بھی نظر انداز کرے گی۔ اور چونکہ ریاست یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ بی وائی سی (BYC) کو ختم کرنا ہے، تو خدشہ تھا کہ وہ بھوک ہڑتال کے بہانے کسی بھی جانی نقصان کو روکنے سے گریز کرے گی، جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔ یہ نقصان ہمارے لیے ناقابلِ تلافی ہوتا۔ اسی بنیاد پر ہم نے ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور اپنے دیگر ساتھیوں تک پیغام پہنچایا کہ قوم کے خدشات درست ہیں؛ جیل میں ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے، اور خاص طور پر ایک ماہ کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد ان کی صحت اس قابل نہیں رہی کہ وہ مزید بھوک ہڑتال جاری رکھ سکیں۔ تاہم، ہمارے ساتھیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔ مگر جب یہ خبر عام ہوئی کہ ان کی طبیعت خطرناک حد تک بگڑ چکی ہے، تو جیل کے سامنے لاپتہ افراد کے اہل خانہ جمع ہونے لگے۔ ہمارے لیے اس سے بڑی کوئی درخواست نہیں ہو سکتی تھی۔ لاپتہ افراد کے خاندان اس تحریک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہی کا درد اس تحریک کی بنیاد بنا ہے۔ ان کے آنسو ہمارے لیے سب سے زیادہ قابلِ احترام ہیں — ایسے آنسو جن سے نہ بی وائی سی انکار کر سکتی ہے اور نہ ہی پوری قوم۔ شاید باقی لوگوں کے لیے لاپتہ افراد کے اہل خانہ عام انسان ہوں، مگر بی وی سی کے لیے وہ عظمت کی علامت ہیں۔ ان کی درخواست کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اسی لیے تنظیم نے فیصلہ کیا کہ اب ہمارے ساتھیوں کو بھوک ہڑتال ختم کر دینی چاہیے۔ وکلاء یہ پیغام اور تنظیم کا فیصلہ لے کر ڈاکٹر مہرنگ کے پاس پہنچے اور ہمارے ساتھیوں کی بھوک ہڑتال ختم کروائی گئی۔ ہم ان تمام افراد کے مشکور ہیں جنہوں نے اپنے پیغامات کے ذریعے ہماری زندگیوں کی فکر کی۔ ہم ایسے ہی لوگوں پر یقین رکھتے ہیں، اور اپنی جدوجہد میں چٹان کی طرح مضبوط کھڑے رہیں گے اور اس جدوجہد کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔ شکریہ۔ #StopBalochGenocide #ReleaseBYCLeaders

Baloch Yakjehti Committee

13,447 görüntüleme • 1 yıl önce

آپ ان لاشوں کی حالت دیکھیں، ان کی شکلیں دیکھیں؛ کیا یہ دہشت گردوں کی ہیں؟ یا ان نہتے معصوم بچوں کی جنہیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا؟ ان میں 11-12 سال کے کمسن بچے بھی شامل ہیں۔ ریاست اور انکے کٹھ پُتلی وزیرِ اعلیٰ کو مضحکہ خیز بیانات سے پہلے زمینی حقائق کا جائزہ لینا چاہیے۔ بلوچستان میں جو بھی حق کی بات کرتا ہے، اسے یا تو دہشت گرد، 'را' کا ایجنٹ یا مسلح تنظیموں کا سہولت کار قرار دے دیا جاتا ہے۔ ریاست کا یہ پروپیگنڈا پرانا ہے، مگر اب بلوچ قوم گواہ ہے کہ اصل دہشت گرد، قاتل اور مجرم کون ہے؛ اس کا فیصلہ وقت اور بلوچ عوام کریں گے۔ ریاستی جبر کا یہ سلسلہ صرف اغوا تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک منظم انسانیت سوز نسل کُشی کا عمل ہے جس میں نوجوانوں کو سالوں تک زندانوں کے تاریک اذیت گاہوں میں بدترین ٹارچر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک طرف جب مائیں اپنے پیاروں کی راہ تکتے آنسو بہاتے آنکھوں کے ساتھ سڑکوں پر بیٹھی ہوتی ہیں، تو دوسری طرف ریاست یہ جھوٹا بیانیہ تراشتی ہے کہ مذکورہ نوجوان پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، حالانکہ وہ انہی کے زندانوں میں اذیتیں سہہ رہے ہوتے ہیں۔ ظلم کی انتہا تب ہوتی ہے جب انہی بے گناہ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل کر دیا جاتا ہے ۔ حالانکہ ان مقتولوں کے زرد چہرے اور بے رونق آنکھیں چیخ چیخ کر بتاتی ہیں کہ انہوں نے عرصوں سے سورج کی روشنی نہیں دیکھی تھی۔ ان کے جسموں پر موجود ٹارچر کے ناقابلِ تردید نشانات اس ریاستی بربریت کا نوحہ پڑھتے ہوئے عیاں کرتی ہیں کہ یہ لوگ ان بد بخت ماؤں کے لاپتہ کیئے گئے جگر گوشے ہیں جن کا وہ کئی سالوں سے راہ تک رہی ہوتی ہیں مگر افسوس کہ بکاؤ میڈیا یک طرفہ ریاستی جھوٹ پھیلا کر حقیقت سے منہ موڑ لیتا ہے۔ لیکن ہم بھی بطور قوم یہ عزم کرتے ہیں کہ اپنے قوم کے فرزندوں کے یوں دردناک قتل پر خاموش نہیں رہیں گے ، انھیں بے موت مرنے نہیں دیں گے ۔ ہم دنیا کے کان میں چیخ چیخ کر اسے حقائق سے آشنا کریں گے ۔ اس اجتماعی سزا سمیت بلوچ نسل کشی کے تمام حربوں کو بے نقاب کریں گے ۔ گلزادی بلوچ #ReleaseBYCLeaders #StopBalochGenocide

Baloch Yakjehti Committee

10,827 görüntüleme • 7 ay önce

ماورائے عدالت قتل۔۔۔ شہید حمدان کی بہن “یہ تصویر جو آپ میرے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں، یہ میرے بھائی شہید حمدان کی ہے، جسے 29 دسمبر 2025 کو گھر سے لاپتہ کیا گیا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد اس پر جھوٹے الزامات لگا کر میڈیا میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد میرے بھائی کو تین مرتبہ عدالت میں بھی پیش کیا گیا، لیکن وہ ہر بار کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اسی ناکامی کو چھپانے کے لیے، اگلی پیشی کی تاریخ سے ایک دن پہلے، میرے بھائی حمدان اور دیگر تین بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے ماورائے عدالت قتل کیا گیا، اور پھر اسے مقابلے کا نام دیا گیا۔ اگر یہ مقابلہ تھا تو اس میں صرف بلوچ نوجوان ہی کیوں مارے گئے؟ آپ کے اہلکاروں کا ایک بندہ تک کیوں نہیں مرا؟ اور پھر اسی طرح، بنا ثبوت اور ناانصافی پر مبنی فیصلے کے تحت ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کی دیگر ساتھیوں کو آپ کی عدالت نے عمر قید سنائی ہے۔ میرا یہ ویڈیو بنانے کا مقصد یہ ہے کہ سرفراز بگٹی صاحب کہتے ہیں کہ اہلکار شبیر بلوچ کے لواحقین کے ساتھ انصاف ہوا ہے۔ اگر ایک واقعے پر مکمل طور پر ردِعمل آ سکتا ہے، اگر لوگوں کو سزائیں سنائی جا سکتی ہیں، تو پھر ہمارے بھائی حمدان بلوچ کے معاملے میں خاموشی کیوں ہے؟ کیوں ہمارے بھائی کے کیس کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے؟ اگر آپ کی عدالت بے گناہ لوگوں کو عمر قید کی سزا سنا سکتی ہے، تو اُن سی ٹی ڈی اہلکاروں کی کیا سزا ہونی چاہیے جنہوں نے بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے انہیں ماورائے عدالت قتل کیا؟ اگر بقولِ آپ کے شبیر کے لواحقین کو انصاف ملا ہے، تو حمدان بلوچ کے لواحقین کا انصاف کہاں ہے؟ اگر آپ انصاف کی بات کر رہے ہیں، تو ہمارے لیے آپ لوگوں کے منہ اور عدالتوں کے دروازے کیوں بند ہو جاتے ہیں؟ ہم بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہمارے اہلِ خانہ کو انصاف دیا جائے اور ان سی ٹی ڈی اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اگر ان کو سزا نہیں دی گئی تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے خطرہ ہے۔ اسی لیے ہمارے خاندان کو انصاف دیا جائے۔”

Baloch Yakjehti Committee

13,732 görüntüleme • 2 ay önce

اگر مقصد واقعی بلوچ حقوق ہیں تو راستہ تعلیم، شعور، سیاست اور ترقی ہونا چاہیے نہ کہ کم عمر بچیوں کو مختلف حربوں سے ورغلا کر، دھمکا کر بارود اور شدت پسندی کی طرف دھکیلنا۔ بلوچ نوجوانوں کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے بندوق نہیں۔ بلوچ بیٹیوں کو یونیورسٹیوں میں ہونا چاہیے پہاڑوں کے عسکری کیمپوں میں نہیں۔ کیونکہ جو اسپانسرڈ عناصر بلوچ نسل کو جنگ کی آگ میں جھونک رہے ہیں وہ بلوچ قوم کے مستقبل اور تشخص کو تباہ کر رہے ہیں۔ آج سامنے آنے والی ویڈیو نے ایک تلخ حقیقت واضح کر دی۔ شہناز بلوچ یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ بلوچ قوم شعوری طور پر ایک مخصوص عسکری جدوجہد کا فیصلہ کر چکی ہے مگر دوسری طرف ان کے کیمپ میں جن چہروں کو تربیت دی جا رہی ہے ان میں تمام تر لڑکیاں کم عمر اور نابالغ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی ایک شعوری سیاسی فیصلہ ہے تو پھر معصوم بچیوں کو ورغلا کر ان کے ذریعے جنگ اور خودکش تربیت کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟ کیا معصوم ذہنوں کو جنگی نفسیات دینا انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف نہیں؟ بلوچ اور اسلامی روایت میں خواتین کے احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے مگر آج آزادی کے نام پر بلوچ بیٹیوں کو پہاڑوں پر عسکری تربیت دینا بلوچ ننگ، ثقافت اور تشخص کے سراسر خلاف ہے۔ یہی عناصر روز ریاستی اداروں پر بلوچوں کو اٹھانے کے الزامات لگاتے ہیں مگر جب درجنوں خواتین اور نابالغ لڑکیاں عسکری کیمپوں میں موجود ہوں تو ایک منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہ خود چاہتے ہیں کہ ریاستی ادارے کل ان کے خاندان والوں سے تحقیقات کریں ۔تاکہ یہی عناصر دوبارہ لاپتہ بلوچ” کا بیانیہ بنائیں ؟ خواتین کی اس حد تک بے حرمتی اور نسل کشی ہر بلوچ خاتون کی راہ میں منفی اثرات اور مشکلات چھوڑتی ہیں۔

Meena Majeed Baloch, MPA

38,639 görüntüleme • 4 ay önce

بلوچستان میں جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے کو کبھی جھوٹ اور من گھڑت قرار دیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ لاپتہ نہیں بلکہ پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، اور کبھی اس مسئلے کے وجود ہی سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک ہفتے کے اندر اندر انہی حکومتی نمائندوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر مختلف اور متضاد بیانات دئے گئے ہیں۔ دس دن قبل وزیراعلیٰ نے بیان دیا کہ 2 فروری کے بعد کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان بذاتِ خود اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ بلوچستان میں برسوں سے جبری گمشدگیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس، ایک ہفتہ قبل وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ سراسر فراڈ ہے اور اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ جبکہ پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وفاقی حکومت جبری طور پر لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔ کل آصمہ جہانگیر کانفرنس میں رانا ثناء اللہ نے نہ صرف اس سنگین مسئلے کو مرغی اور انڈے جیسی غیر سنجیدہ مثال سے جوڑ کر کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کی بلکہ یہ بھی واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک بلوچستان میں دہشتگردی ہے، جبری گمشدگیاں ہوتی رہیں گی۔ یہ بیان خود اس بات کا اعتراف ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ یہ بات ایک اس بیٹی کے سامنے کہی گئی جس کے والد گزشتہ سترہ برسوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں اور وہ انکی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہیں اور اسی بیٹی کے ساتھ اور دیگر گمشدہ افراد کے لواحقین سے ستمبر 2022 میں رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ نے کوئٹہ ریڈ زون میں دھرنے کے دوران ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں لواحقین کے دکھ درد کو سمجھنے کا دعویٰ کیا گیا، ایک کمیشن بھی قائم کیا گیا اور واضح الفاظ میں وعدہ کرکے یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ جبری گمشدگیاں نہیں ہوں گی، جس شخص پر بھی الزام ہے اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور قانون کے مطابق شفاف ٹرائل کیا جائے گا۔ مگر کل میرے سامنے یہ کہا گیا کہ اگر کسی کو اٹھایا جائے گا تو اسے قانون کے مطابق ڈیل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے، خود ایک وفاقی وزیر اس کی نفی کر رہا ہے۔ بطور ایک ایسی بیٹی جس کا والد جبری طور پر لاپتہ ہے، کیا میں یہ امید بھی نہ رکھوں کہ ہمارے پیاروں کو آئین اور قانون کے مطابق ٹریٹ کیا جائے گا؟ جب ایک وزیر خود آئین کی عملداری پر سوال اٹھا دے تو عام شہری انصاف کی امید کس سے رکھے؟ اور آج انہی وعدوں کی نفی خود حکومتی بیانات سے ہو رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر ریاست اور ریاست سرگردان ہے حکومتی نمائندے خود شدید تضاد اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کبھی اس مسئلے کو مکمل طور پر جھٹلایا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردی کے نام پر اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر یہ جبری گمشدگیاں ریاست کے ماتھے پر سیاہ دھبہ بن چکی ہیں اور جب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا ہے اس پر بات ہوتی رہے گی، حکومتی نمائندے اس مسئلے کو جیسے چاہیں جھٹلائیں یا جائز قرار دیں اس مسئلے کو حل کئے بغیر بری الزمہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ Rana Sana Ullah Khan Azam Nazeer Tarar

Sammi Deen Baloch

31,666 görüntüleme • 7 ay önce

بلوچستان ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جمہوریت، آئین اور قانون کی بالا دستی کے لیے آواز اٹھا رہی تھیں، بلوچستان میں جو ظلم اور زیادتیاں ہوتی ہیں لوگوں کو جبری لاپتہ کر دیا جاتا ہے اس کے خلاف پُرامن جمہوری جدو جہد کر رہی تھیں ان کو بھی جیل میں بند کیا ہوا ہے، یہ خواتین سے بھی ڈرتے ہیں خواتین نے ان چار سالوں میں پاکستان کے لیے، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور حقیقی آزادی کے لیے بڑا کردار ادا کیا ہے اور آج تک جبر اور ظلم کے سامنے ڈٹی ہوئی ہیں عاصم منیر کی فرعونیت اور یزیدیت کو نہیں مان رہیں اور حسینیت کا پرچم بلند کر کے جیلوں میں بند ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد، صنم جاوید، عالیہ حمزہ، ایمان مزاری، ماہرنگ بلوچ وہ خواتین ہیں جنہوں نے یزید وقت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا، یہ خواتین نہیں مان رہی ہیں اور وہ کہہ رہی ہیں کہ ہم حق اور سچ کے راستے پر چلیں گی چاہے ہمیں جیلوں میں ہی بند کر دیا جائے۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

12,266 görüntüleme • 3 ay önce

ہمیشہ کی طرح تحریک انصاف کا ایک اور فراڈ بے نقاب ہو چُکا ہے 👇🏻 پی ٹی آئی کی جانب سے لاپتہ افراد کے بارے میں جھوٹ پہ جھوٹ بولے گئے ۔ کسی نے کوئی تعداد بتائی ، کسی نے کوئی ۔ اِن جھوٹے دعوؤں میں پانچ سو سے ہزار تک لاپتہ افراد کا ذکر کیا گیا ۔ آخرکار پی ٹی آئی نے 34 افراد کی فہرست جاری کی ۔ اِن افراد کی مکمل انکوائری کروائی گئی ۔ پتا یہ چلا کہ ان میں سے چار افراد کو گرفتار کر کے رہا کر دیا گیا ۔ وہ ابھی اپنے گھروں میں موجود ہیں ۔ جنکے نام یہ ہیں ۔ 1) عبدلباسط ولد شعیب ۔ 2) ہاشم ولد عارف ، 3) حسن ولد شعیب ، 4) ذیشان ولد نوید خان ۔ اِنکی ویڈیوز اِس ٹویٹ کے ساتھ لگائی جا رہی ہیں ۔ اور تین افراد جنکے نام 1) اویس مروت ولد عطاء اللہ ، 2) ہدایت ولد امن جان . 3) خلیل اللہ ولد خانم اللہ اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر زیر حراست ہیں ۔ باقی ستائیس افراد کا ریکارڈ کہیں پر موجود ہیں نہیں ہے اور نا اُنکے نام نادرہ کے ریکارڈ پر ہیں ۔ اِسکا مطلب انہوں نے فرضی جعلی ناموں کی فہرست بنا دی ۔ جعل سازی کرنے میں اِن لوگوں کی مہارت ہے ۔ پر جھوٹ زیادہ دیر تک چُھپتا نہیں وہ سامنے آ ہی جاتا ہے ۔

Attaullah Tarar

51,486 görüntüleme • 1 yıl önce

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 görüntüleme • 3 ay önce