Video wird geladen...
Video konnte nicht geladen werden
نماز وقت کی پابندی کے ساتھ فرض ہے
18,770 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)
11 Kommentare

کسی بھی مسلمان کے لیے بغیر عذر نماز چھوڑنا یا قضا کردینا جائز نہیں ہے، لہٰذا بغیر عذر کے نماز قضا کرنے کی صورت میں اسے چاہیے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے اس جرم عظیم پر توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کے لیے پکا عزم کرے کہ اب کوئی بھی نماز جان بوجھ کر قضا نہیں کرے گا، توبہ کرنے کے بعد گزشتہ فوت شدہ نماز کی قضا پڑھنا بھی لازم ہے، صرف توبہ کرلینے سے فوت شدہ نماز ذمے سے معاف نہیں ہوگی۔ اسی طرح جس شخص کی کسی عذر (بیماری یا میدانِ جہاد میں مشغولیت وغیرہ) کی وجہ سے نماز قضا ہوجائے اس پر بھی لازم ہے کہ وہ ان نمازوں کی قضا کرے۔ رسول اللہ ﷺ سے نمازوں کی قضا قولًا اور عملًا دونوں طرح ثابت ہے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز کو بھول جائے تو جب اس کو یاد آئے فوراً پڑھ لے، اس کا سوائے اس کے کوئی کفارہ نہیں۔ اور بعض روایات میں ہے: جو شخص نماز بھول جائے یا اس وقت سوجائے، تو جب اس کو یاد آئے فورًا پڑھ لے۔ اور بعض روایات میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس مسئلے کے بارے میں پوچھا کہ کوئی شخص نماز کے وقت سوجائے تو کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نیند آجانے میں (آدمی کی) کوتاہی نہیں ہے، کوتاہی تو بیداری کی حالت میں ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص نماز بھول جائے یا نماز کے وقت اس کی آنکھ لگ جائے تو اسے پڑھ لے جب اُسے یاد آئے۔ نیز دو مرتبہ عملی طور پر نمازوں کی قضا بھی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے، اور دونوں ہی واقعے انتہائی مشہور ہیں، ایک "لیلۃ التعریس" کے واقعے سے مشہور ہے، اور دوسرا موقع "غزوۂ خندق" ہے، اور غزوۂ خندق کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کا کفارِ مکہ کو بددعا دیتے ہوئے یہ ارشادِ مبارک بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ "اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے، جیسے انہوں نے ہمیں "صلاۃ الوسطیٰ" (عصر) کی نماز ادا کرنے سے مشغول رکھا، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔ اور پھر عشاء کے وقت میں ظہر، عصر اور مغرب کی نماز قضا کے طور پر ادا فرمائی، اور عشاء بھی معمول کے وقت سے مؤخر ہوگئی تھی۔ بہرحال نماز رہ جانے کی صورت میں رسول اللہ ﷺ کا قضا کا حکم دینا اور لیلۃ التعریس والے واقعے میں فجر کی نماز باجماعت اہتمام سے پڑھنا اور غزوۂ خندق میں کفار کے سخت حملے کی وجہ سے تین نمازیں قضا ہونے کے باوجود انہیں اہتمام سے ادا فرمانا اور کفارِ مکہ کو بددعا دینا یہ سب قضا نماز کے پڑھنے کے وجوب کی دلیلیں ہیں۔ سنن أبى داود (1/

Since first Ramadan I was searching the answer of this Qaza Namaz “ and this video comes 💕💓

💕

Chasing Time out now

اللہ پاک مولانا کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے

❤️

💕

✌️
غور طلب باتیں

🌷

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قضا پڑی ہےاس مردود🐖کو پتہ نہیں
