正在加载视频...

视频加载失败

🚨🚨نواز کنجر کا سمدھی اسحاق ڈار جس نے سعودی شہزادے کی چھوڑی ہوئی نواز کی بیٹی اسمہ نواز سے اپنے بیٹے کی شادی کی صرف لالچ دولت عہدوں کی خاطر ۔۔۔ اسحاق ڈار وہ ہے جس نے قران پر جھوٹا حلف نامہ سپریم کورٹ میں دیا تھا ۔ اسحاق...

11,333 次观看 • 2 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وادوز (Vaduz) کا دورہ کیا تاکہ اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کی جا سکے- سوشل میڈیا پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ شادی کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس سے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں- ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کرنے اور اس پر بات چیت کے لیئے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ لیختنسٹائن کا سفر کیا- رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ بلاول کی شادی رواں سال کے آخر میں ہو سکتی ہے، جبکہ ان کی مبینہ منگیتر کا تعلق لیختنسٹائن (Liechtenstein) کے دارالحکومت وادوز سے بتایا جاتا ہے- تاہم، پیپلز پارٹی نے ان دعووں کی تردید کی ہے- کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب، جو بلاول کے ترجمان بھی ہیں، نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی منگنی یا شادی کے بارے میں خبریں "غلط اور بے بنیاد" ہیں- بلاول یا ان کے اہل خانہ کی جانب سے منگنی کی تصدیق کے لیئے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ یہ خبر ابھی تک غیر مصدقہ ہے- لیختنسٹائن مغربی یورپ میں واقع ایک چھوٹی خودمختار ریاست ہے جو سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع ہے- اس کا دارالحکومت وادوز ملک کا سیاسی اور انتظامی مرکز ہے- بلاول اس سے قبل بھی شادی کے بارے میں عوامی سطح پر بات کر چکے ہیں لیکن انہوں نے ممکنہ شریکِ حیات یا شادی کی تاریخ کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کیں- سن 2022 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے دوران، ایک صحافی نے بلاول سے ان کی شادی کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا- مسکراتے ہوئے، اس وقت کے وزیر خارجہ نے جواب دیا، "یقیناً، شادی کا ارادہ رکھتا ہوں،" لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کب شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں- بلاول نے 2016 میں بھی اس موضوع پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی ہونے والی دلہن کو سب سے پہلے ان کی بہنوں کے "دل جیتنے" ہوں گے- انہوں نے کہا تھا، "مناسب امیدوار کو سب سے پہلے میری بہنوں کے دل جیتنے ہوں گے- مجھے انہیں اعتماد میں لینا ہوگا اور کسی بھی لڑکی کے لیے میری بہنوں کے دل جیتنا بہت مشکل کام ہے۔" (رپورٹ: وقار ستی - جیو نیوز)

Amir H. Qureshi

65,422 次观看 • 22 天前

لامین یامال کی درد ناک کہانی!؟ صحافی نے لامین یامال سے پوچھا کہ صرف 18 سال کی عمر میں اسپین کی ٹیم کا دباؤ وہ کیسے سنبھالتے ہیں؟ لامین یامال نے جواب دیا: "میری والدہ نے مجھے صرف 16 سال کی عمر میں جنم دیا، وہ اصل دباؤ تھا۔ میرے والد پیٹ پالنے کے لیے سڑکوں سے چیزیں چنتے تھے، وہ دباؤ تھا۔ مجھے تو صرف فٹبال کھیلنی ہے۔" یہ جواب ان کی پوری زندگی کی کہانی بیان کرتا ہے، جس کے پیچھے ایک جذباتی ماضی چھپا ہے لامین کی پیدائش سے پہلے ان کے والدین کرایہ نہ دے سکے۔ دو پڑوسیوں، لامین اور یامال نے ان کی مدد کی۔ والد نے عہد کیا کہ بیٹے کا نام انہی محسنوں پر رکھیں گے۔ یہ نام ایک ایسے قرض کا ریکارڈ ہے جسے خاندان کبھی پیسوں سے ادا نہیں کر سکا۔ والدین کی علیحدگی کے بعد والدہ نے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں کام کر کے انہیں پالا۔ اسی نوکری کے دوران ان کی ملاقات "CF La Torreta" کلب کے کوآرڈینیٹر سے ہوئی، جنہوں نے لامین کی صلاحیت دیکھ کر فیس معاف کر دی۔ لامین نے بچپن میں والدین سے کہا تھا: "اگر میں عام نوکری کروں گا تو ہم مشکل میں رہیں گے، لیکن فٹبالر بن گیا تو آپ کو زندگی بھر فکر نہیں کرنی پڑے گی۔" انہوں نے صرف 15 سال کی عمر میں یہ وعدہ سچا کر دکھایا۔ لامین ہر گول کے بعد وہ انگلیوں سے 304 بناتے ہیں۔ یہ ان کے غریب محلے "روکافونڈا" کا پوسٹل کوڈ ہے، جہاں ان اجنبی پڑوسیوں نے ان کے خاندان کی مدد کی تھی۔آج، 19 سال کی عمر میں وہ دنیا کے سب سے بڑے فٹبال اسٹیج پر کھیل رہے ہیں۔ آج رات اگر وہ گول کرتے ہیں، تو اربوں اسکرینوں پر 304 کا اشارہ چمکے گا اور ان دو پڑوسیوں کے احسان کی گونج پوری دنیا سنے گی۔

ZEShan ⚫

37,444 次观看 • 2 个月前

یہ میری بیٹی ہے۔ الحمدللہ اس نے حال ہی میں میٹرک کا امتحان کامیابی سے پاس کیا ہے۔ یہ بہت نیک، شریف اور فرمانبردار بچی ہے۔ اس کے والد گزشتہ دو سال سے روزگار کے سلسلے میں پردیس میں ہیں، اس لیے گھر کی تمام ذمہ داریاں میرے کندھوں پر ہیں۔ میٹرک کے امتحان کے بعد اس کا زیادہ وقت موبائل اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں گزرنے لگا۔ ایک ماں ہونے کے ناطے مجھے فکر تھی کہ کہیں اس کی توجہ تعلیم سے نہ ہٹ جائے۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اسے ایسے ماحول میں رکھا جائے جہاں وہ اپنی پوری توجہ پڑھائی پر دے سکے اور اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکے۔ اسی مقصد کے لیے میں نے اسے کالج میں داخل کروانے اور ہاسٹل میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں میں نے اپنے آفس کے باس سے بات کی۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے، انہوں نے نہ صرف میری بیٹی کا کالج میں داخلہ کروانے میں مدد کی بلکہ ہاسٹل میں رہائش کا انتظام بھی کروا دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کی تعلیم، ہاسٹل اور دیگر ضروری اخراجات کی فکر نہ کروں۔ ہاسٹل میں ان کا بیٹا بھی رہتا ہے، جو ایک اچھا اور بااخلاق لڑکا ہے، اور وہ بھی میری بیٹی کا خیال رکھے گا۔ میں اپنے باس کی اس مہربانی اور تعاون کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ ایسے نیک دل انسانوں کو ہمیشہ خوش رکھے، کیونکہ آج کے دور میں دوسروں کے لیے اتنا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ میری دعا ہے کہ میری بیٹی اپنی تعلیم پر پوری توجہ دے، محنت کرے اور زندگی میں بڑی کامیابیاں حاصل کرے۔

Nadia Malik

22,630 次观看 • 2 个月前

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 次观看 • 2 个月前