Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

نوجوان نے مشرف کے سامنے کھڑے ہو کر اسے امریکہ کا ٹاؤٹ کہا اسے امریکہ کا غلام کہا اسے پاکستان کی تباہی کا ذمے دار کہا مگر مشرف جیسا بھی تھا اس ے یہ نہیں کیا کہ اس نوجوان کو اٹھاؤ یا انکی خواتین کو اٹھاؤ۔۔۔! لیکن جوسلوک جنرل...

46,434 просмотров • 2 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

تیسری جماعت کے طالب علم، جو میناب کے پرائمری اسکول پر امریکی فضائی حملے میں شہید ہوا، کی والدہ نے کہا: ’’میں نے اس کے لیے رات کا کھانا تیار کیا اور جب وہ کھا رہا تھا تو اس نے کہا: ’امی، آپ کے بنائے ہوئے کھانے کا ذائقہ جنت جیسا ہے۔‘ میں نے کہا: ’بیٹے، یہ کیوں کہہ رہے ہو؟ تم نے پہلے کبھی ایسا نہیں کہا۔‘ تقریباً آدھی رات کے قریب اس نے اپنے اردگرد تکیے لگائے اور اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس نے کہا: ’بھائی، کھیلیں۔ میں ایران ہوں اور تم امریکہ۔ بندوقوں اور ٹینکوں کے ساتھ کھیلیں۔‘ وہ دونوں کھیلنے لگے۔ اس نے کہا: ’دیکھو، ایران جیت گیا؟ بھائی، ایران جیت گیا۔ میں ایران تھا اور جیت گیا۔‘ میرا بیٹا کہہ رہا تھا کہ ایران فاتح ہوا۔ یہ سب کچھ اس رات اسے کسی اندرونی جذبے سے ملا تھا۔ اس نے یہ سب اپنے شہادت سے ایک رات پہلے کیا۔ اس رات اس نے نماز بھی پڑھی اور قرآن بھی پڑھا۔ صبح میں اس نے کہا: ’امی، میری تصویر لے لو۔‘ یہ بچہ ایک فرشتہ تھا۔ وہ کہا کرتا تھا: ’میرا نام میکائیل ہے۔ میکائیل کا مطلب ہے خدا کا فرشتہ۔ اگر کسی کی کوئی خواہش ہو تو مجھے بتاؤ تاکہ میں پوری کر سکوں۔‘ خدا نے بھی اسے پسند کیا اور اپنے پاس بلا لیا۔ یہ بالکل سچ ہے، جیسا میں نے بیان کیا۔ یہ بے رحم امریکہ ہی تھا جس نے اس اسکول پر میزائل داغا، جہاں کچھ مشتبہ نہیں تھا۔ میں نے خود میناب میں چار سال گزارے ہیں۔ وہ صرف ہمارے بچوں کو مارنا چاہتے تھے۔

Mehwish Qamas Khan

32,682 просмотров • 6 месяцев назад

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں... جب متحدہ مجلسِ عمل نے 2002 میں وزیراعظم کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تو جنرل مشرف صاحب نے مجھے بلایا اور مجھے کہا کہ آپ دستبردار ہو جائیں، آپ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ تو میں نے کہا کہ میں کیوں نہیں لڑوں گا؟ کیا میرا آئین رکاوٹ ہے؟ کیا کوئی قانون رکاوٹ ہے؟ کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں؟ انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا، صاف الفاظ میں کہ آپ کو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کر رہے۔ آپ بتائیں! جب میرے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یہ ہو کہ کوئی شخص پاکستان کے عوام کا نمائندہ ہزار بار بننے کے قابل ہو، لیکن اگر وہ امریکہ اور یورپ کے لیے قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ اور پھر جب میں نے کہا کہ کیا اسی کا نام آزادی ہے؟ تو مجھے کہنے لگا کہ مولانا آپ بار بار کہتے ہیں ہم غلام ہیں، ہم غلام ہیں، ہم آزاد نہیں ہیں، تو آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں نا کہ ہم غلام ہیں اور غلامی حقیقت ہے۔ نعرے مت لگاؤ ذرا صبر کرو، بات تو سن لو میری۔ جب مجھے کہا گیا کہ آپ اس کو تسلیم کر لیں کہ ہم غلام ہیں، تو میں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم غلام ہیں۔ لیکن اب آگے دو راستے ہیں: پہلا راستہ اس غلامی کو قبول کر لینا اور ان قوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لینا۔ یہ آپ کے آباؤ اجداد کا درس ہے جو آپ کو پڑھایا گیا ہے۔ دوسرا راستہ ان قوتوں کے خلاف، اس غلامی کے خلاف آزادی کا علم بلند کرنا اور آزادی کے لیے میدان میں اترنا ہے۔ یہ میرے آباؤ اجداد اور اسلاف کا درس ہے جو مجھے پڑھایا گیا ہے۔ تجھے اپنے آباؤ اجداد اور اسلاف کا راستہ مبارک، مجھے اپنے اکابر اور اسلاف کا راستہ مبارک۔ میں اس غلامی کے خلاف لڑوں گا اور آخری دم تک لڑوں گا۔ #عوام_مولانا_کے_سنگ #حق_کی_آواز_جمعیت #نکے_دا_پروپیگنڈا #شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ #ذخائر_کے_چور

Ihsan Ullah Khan 🇵🇰

29,040 просмотров • 2 месяцев назад

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کاججز اور یونیورسٹیوں میں جا کر لیکچر دینے کے نتائج ! ملک کے مایوس نوجوان 😣 اس ملک میں جن لوگوں نے لاکھوں کی نہیں کروڑوں کی نہیں اربوں کھربوں کی کرپشن کی وہ لوگ ایسی زندگی گذارتے ہیں کہ دیکھ کے رشک آئے جنھیں عبرت کا نشان بنانا تھا انھیں سر کا تاج بنا کر رکھا ہے۔اور جسے سر کا تاج بنا کر رکھنا چاہئیے تھا اسے قید کر رکھا ہے ۔ اسی لیے اب اس ملک کا نوجوان سوچتا ہے کہ اسے یہاں کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے بہتر ملک چھوڑ دے ۔ یہی وجہ تھی کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا تھاکہ مجھے اس قوم کے لیے کام کرنے کا پچھتاوا ہے ۔شاید یہی پچھتاوا عمران خان کو بھی ہو کہ جس ملک کے لاکھوں کروڑوں لوگوں کے لیے فری کینسر ہسپتال بنائے ، یونیورسٹیز بنائیں وہ ملک میری ایک آنکھ کا علاج نہیں ہو سکتا۔سیاسی اختلاف کو ایک سائیڈ پر رکھیں آپ سوچیں ایک شخص جس نے پچاس پچپن سال ایک قوم کی خدمت کی ، اس نے اس ملک کے لیے کیا نہیں کیا وہ انسان اپنی آنکھ کا علاج نہیں کروا سکتا۔

Rodium-A

15,135 просмотров • 7 месяцев назад

بلیوں کو کھلونا سمجھ کر گھر نہ لائے۔ (میں نے 4 اگست کو لاہور میں لارنس روڈ پر ایک بلا سڑک سے ریسکیو کیا تھا۔ تقریباً 26 دن تک اس کی کئی پوسٹیں لگانے کے بعد بالآخر ایک مہربان خاتون نے اسے دو روز قبل اتوار کو ایڈاپٹ کر لیا۔ اگلے روز جب میں دفتر سے گھر پہنچا تو فلیٹس کی بیسمنٹ میں ایک بچے کو ایک چھوٹی سی پرشین کیٹ کے ساتھ کھیلتے دیکھا۔ میں نے پوچھا، ’’یہ کہاں سے لائے ہو؟‘‘ اس نے بتایا کہ اوپر کسی نے اسے دو دن کے لیے دی ہے۔ میں نے کہا کہ تمہارے پاس نیچے اسے رکھنے کی مناسب جگہ بھی نہیں ہے، نہ تمہیں معلوم ہے کہ اسے کیا کھلانا ہے اور نہ اس کی دیکھ بھال کا کوئی تجربہ ہے۔ بچے کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ نیچے چوکیدار کا تقریباً چھ سالہ بچہ تھا۔ میں نے فوراً اس سے بلی لی اور اسے اوپر گھر لے آیا۔ وہ لٹر باکس میں گئی اور اسے لوز موشن ہوئے۔ میں نے اس کے مالک کو فون کیا تو اس نے کہا، ’’میں کل آ جاؤں گا۔‘‘ میں نے سوچا کہ اس دوران اس حالت میں یہ بلی کیسے رہ سکتی تھی، خاص طور پر جب وہ ایک پرشین کیٹ ہے۔ اس کا رویہ مجھے انتہائی غیر ذمہ دار لگا۔ خیر، میں اسے فوراً ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ وہ بہت زیادہ ڈی ہائیڈریٹڈ تھی۔ اسے تین چار انجیکشن لگے۔ اگلے دن بھی اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا کیونکہ اسے مسلسل لوز موشن ہو رہے تھے۔ آج تیسرے دن اچانک وہ بالکل نڈھال ہو گئی، اور اب اسے صبح اور شام ڈرِپ لگ رہی ہے۔ میں نے مالک کو دوبارہ فون کیا اور اسے اس کی حالت کا بتایا تو اس نے کہا میں یہ بلی نہیں رکھ سکتا اپ نے رکھنی ہے تو رکھ لیں۔ کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ بلیوں کو کھلونا سمجھ کر لے آتے ہیں اور پھر یا تو سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں یا بغیر یہ دیکھے کسی کے حوالے کر دیتے ہیں کہ وہ شخص اس معصوم جانور کو سنبھال بھی سکتا ہے یا نہیں۔ میرے نزدیک یہ انتہائی ظالمانہ اور سفاک عمل ہے۔ میں نے ایک بلے کو تقریباً ایک ماہ تک ریسکیو کیا، اس کا علاج کروایا اور پھر اسے ایک اچھے گھر میں ایڈاپٹ کروایا۔ اگلے ہی دن یہ ننھی سی بلی میرے سامنے آ گئی۔ اب سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کروں۔ بس دعا کریں کہ یہ معصوم بچی صحت مند ہو جائے۔ اس کی عمر تقریباً چار پانچ ماہ ہے، بہت چھوٹی سی اور معصوم ہے۔ ان شاء اللہ جب یہ بالکل صحت مند ہو جائے گی تو میں اس کے لیے بھی ایک اچھا اور ذمہ دار گھر تلاش کروں گا جہاں اسے محبت اور اچھی دیکھ بھال مل سکے۔ اللہ اس ننھی جان کو صحت دے۔ آمین۔ ❤️) Copied from Facebook

Mehwish Qamas Khan

24,621 просмотров • 22 дней назад

میرے پاس طلاق کا ایک کیس آیا ۔۔ شوہر نے کہا کہ آج سے پچیس سال پہلے میرا اپنے ایک عزیز کے ساتھ جھگڑا ہوا،جس میں اس نے مُجھے میری بیوی کے سامنے سکھ کہا ۔۔ بات آئی گئ ہو گئ ہماری صلح ہو گئ ۔ مگر میری بیوی جب بھی جہاں بھی اس واقعے کا ذکر ہوتا ہے تو کہتی ہے کہ اس نے آپ کو کہا تھا " سکھ " یہانتک کہ حج پہ جاتے ہوئے جہاز میں اور منی عرفات میں بھی بہت سارے لوگوں کے سامنے اونچی آواز میں کہا کہ آپ اس کے لئے یہاں سے تحفہ کیسے لے جا سکتے ہیں جس نے آپ کو بولا تھا " سکھ" یہانتک کہ شادی بیاہ کی تقریب میں بھی عورتوں کے سامنے اس گالی کو دھرا دیتی ہے ۔ اس بندے نے مُجھے ایک بار کہا تھا اور میری بیوی اس بات کو بلا مبالغہ ہزاروں دفعہ دہرا چکی ہے،، اب میں تنگ آ گیا ہوں، میرے کان پک گئے ہیں اس کے منہ سے یہ گالی سن سن کر ۔۔ بیوی بھی اس کے ساتھ آئی ہوئی تھی، سامنے بیٹھی تھی، میں نے اس سے کہا کہ یہ بندہ سچ کہہ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں تو یہ زندگی بھر اس کو یاد کراتی رہونگی شاید اسے غیرت آ جائے،، اس وقت میں نے سمجھا بجھا کر واپس کر دیا کچھ ہی عرصے بعد ایک شادی میں ہی مجمعے کے سامنے اسی بات پر اس عورت کو طلاق دے دی اس بندے نے ۔۔ عالی مقام امام حسین علیہ السلام کے ساتھ خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی عورتوں سے بدسلوکی ہوئی یا نہیں ہوئی یہ خدا جانتا ہے مگر جس طرح ہر سال جس طرح ان مظالم اور خواتین کے حالات کو مجمعوں میں بیان کیا جاتا ہے، یہ ہر گز ہر گز قابلِ قبول نہیں ہے، کسی کی بہو بیٹیوں کے پھٹے ہوئے کپڑوں اور جسم کے ننگے حصوں کی تفصیلات ثواب سمجھ کر بیان کرنا دوستی نہیں دشمنی ہے، ثواب نہیں عذاب ہے،، اس میں حرم نبوی کی خواتین کی عزت نہیں بےعزتی ہے ۔ شیعہ علماء خاص طور پر پنجابی علماء سے گزارش ہے کہ خدا را اس پر بات کریں ۔۔ قاری حنیف ڈار

نواب عادل رندھاوا✍🏻

14,165 просмотров • 3 месяцев назад