正在加载视频...

视频加载失败

نوجوان پریس کلب کے باہر ڈٹ گئے لا تعداد گرفتاریوں کے باوجود نوجوان سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند اس وقت مریم نواز کی گنڈا فورس کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں نوجوانوں کا کہنا تھا کہ آج اس حکومت نے پنجاب کی تمام فورس صرف اس لیے پریس کلب...

25,081 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

یہ ویڈیو مردار قدرت کرد کے خودکش حملے سے پہلے کے لمحات کی ہے ایسے لمحات جن میں اس کے چہرے پر خوف، بے بسی اور ٹوٹے ہوئے انسان کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ یہ منظر کسی ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ اس تلخ حقیقت کی گواہی ہے کہ کس طرح بلوچستان کے نوجوانوں کو ذہنی دباؤ، نفسیاتی تشدد اور بلیک میلنگ کے ذریعے زبردستی موت کے راستے پر دھکیلا جاتا ہے۔ یہ دہشت گرد تنظیم BLA کا پرانا اور مسلسل ہتھکنڈہ ہے: ہمدردی، مظلومیت اور نام نہاد نعروں کی آڑ میں معصوم بلوچ نوجوانوں کو اپنے شیطانی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ان نوجوانوں کے خواب، ان کے گھرانے اور ان کی زندگیاں سب کچھ اس سفاک کھیل کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ BYC اور اختر مینگل جیسے گروہ اس انسانیت سوز جرم پر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں یہ خاموشی محض لاتعلقی نہیں، بلکہ عملی طور پر اس ظلم میں شریک ہونے کے مترادف ہے بلوچ نوجوان بندوق نہیں، مستقبل چاہتے ہیں؛ انہیں استعمال نہیں، تحفظ چاہیے۔ اب وقت ہے کہ اس بربریت کے خلاف سچ پوری قوت سے بولا جائے۔ #Balochistan #Quetta #بلوچستان

Mahnoor Haider

11,665 次观看 • 7 个月前

"ان سب لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو خیبر پختونخوا سے پرامن احتجاج کے لیے اسلام آباد گئے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی بربریت، آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور راستے میں رکاوٹیں برداشت کیں، اور اس کے باوجود آگے بڑھتے رہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کے لوگ آج کہاں کھڑے ہیں، اور وہ کیوں عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ کیوں آج قانون، آئین، اپنے بنیادی حقوق، اور ایک آزاد عدلیہ کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اس میں خاص کریڈٹ علی امین خان گنڈاپور کو جاتا ہے جنہوں نے اس احتجاج کی قیادت کی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ علی امین خان گنڈاپور اس کے بعد چیف منسٹر ہاؤس گئے، اور کچھ خبریں آئیں کہ چیف منسٹر ہاؤس کا گھیراؤ رینجرز نے کیا۔ پھر یہ بھی اطلاع آئی کہ وفاقی حکومت نے علی امین خان گنڈاپور کو گرفتار کر لیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ابھی تک غائب ہیں۔ یہ بات ہر آزاد سوچ رکھنے والا شخص سوچے گا کہ یا تو علی امین خان گنڈاپور کو یرغمال بنایا گیا ہے یا وہ کسی قسم کے دباؤ میں ہیں۔ ان کا فوری طور پر سامنے آنا ضروری ہے، کیونکہ وہ صرف علی امین خان نہیں، خیبر پختونخوا کے چیف منسٹر ہیں، اور خیبر پختونخوا پاکستان کے چار فیڈریٹنگ یونٹس میں سے ایک ہے۔ یہ پہلے ہی ایک جرم ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کی حدود میں ایک حملہ کیا اور وہاں کے چیف ایگزیکٹیو کو گرفتار کیا، باوجود اس کے کہ ان کے پاس ضمانت تھی۔ یہ ایک سیاسی چال تھی تاکہ عوام کا احتجاج، جو صرف عمران خان ختم کر سکتے ہیں، کسی طرح ختم ہو جائے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک چال ہے، کیونکہ خیبر پختونخوا ایک حساس علاقہ ہے، اور یہاں امن و امان کی صورتحال بھی نازک ہے۔۔۔۔ ہم اس وقت کسی نئے احتجاج یا مزاحمت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔" Taimur Saleem Khan Jhagra

PTI

57,490 次观看 • 1 年前

مریم صفدر کے کمپلین سیل میں انصاف کی امید لے کر جانے والے ایک باپ کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ دراصل ظلم کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں شکایت کرنا جرم بن چکا ہو، وہاں ایک معصوم بچے کی جان بھی محفوظ نہیں رہتی۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے نظام کی سفاکی اور بے حسی کا کھلا ثبوت ہے۔ ایک ڈاکٹر، جسے مسیحا ہونا چاہیے تھا، اگر انسانیت سے اس قدر گر جائے کہ ایک بچے کو تجربہ گاہ کا سامان بنا دے، تو پھر یہ صرف ایک فرد کا قصور نہیں رہتا بلکہ پورا نظام مجرم بن جاتا ہے۔ یہ وہی نظام ہے جس میں طاقتور کے لیے قانون ایک کھلونا اور کمزور کے لیے پھانسی کا پھندا بن چکا ہے۔ یہ ملک اب انصاف کا نہیں بلکہ طاقت اور بے رحمی کا اکھاڑا بن چکا ہے، جہاں حکمرانوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت اور ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔ ادارے، جو عوام کی حفاظت کے لیے تھے، اب ظلم کے سہولت کار بن گئے ہیں۔ انسانیت، اخلاق اور انصاف جیسے الفاظ صرف کتابوں میں رہ گئے ہیں۔ فارم 47 کی حکومت نے اس ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں مظلوم کی چیخ بھی دب جاتی ہے اور ظالم مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ عوام کی تکلیف ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی، کیونکہ اقتدار کی ہوس نے ان کی آنکھوں پر اندھے پن کی چادر ڈال دی ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا غصہ اور مایوسی فطری ہے۔ لوگ ایک ایسی قیادت چاہتے ہیں جو ان کے درد کو سمجھے، انصاف بحال کرے، اور اس ظلم کے نظام کو توڑے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی رہائی اور واپسی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، کیونکہ عوام کو ایک ایسے رہنما کی تلاش ہے جو کم از کم ان کی آواز سن سکے۔ یہ کہانی صرف ایک واقعے کا ردعمل نہیں بلکہ ایک پورے نظام کے خلاف فردِ جرم ہے ایک ایسا نظام جو اگر نہ بدلا گیا تو مزید کتنی زندگیاں اس کی بھینٹ چڑھیں گی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ #نااہل_حکمراں_عوام_پریشان

PTI North Punjab

17,320 次观看 • 3 个月前

حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟ یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔ یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔ وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔ اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔ 18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔ جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔ انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔ اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔ سلمان اکرم راجہ

PTI

138,270 次观看 • 23 天前