Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

نوجوانوں نے چھتر ہاتھ میں پکڑ لیا ہے لگتا ہے وردی والوں کواب نوجوان سیدھا کریں گے🔥 سوال کرنا ہمارا حق ہے💥 امریکہ جا کر ٹرمپ سے بات چیت ہو سکتی ہے جب اپنے لوگوں کی باری آئے تو آپ کہتے ہیں بات چیت سے معمالہ حل نہیں ہو...

65,120 görüntüleme • 9 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

احمد رضا ڈار پر آپ نے ریپ کا کیس نہیں ڈالا، اسے بچا لیا گیا ہے، اور اسے ریپ کے الزام سے بچایا گیا ہے؟ میری تمام انویسٹیگیٹو جرنلسٹس سے گزارش ہے کہ ہمارے پاس ان خواتین کے رابطہ نمبرز موجود ہیں۔ آپ ان خواتین سے بھی بات کر سکتے ہیں اور ان کے والدین سے بھی بات کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پاکستان کے اداروں پر یقین نہیں ہے، تو شاید آپ کو بیرونِ ملک موجود ان افراد کی بات پر زیادہ یقین ہو۔ آپ ان سے بھی بات کر لیں۔ہم نے ان خواتین کو ایک ایک ملزم کی تصویر دکھائی تھی، اور انہوں نے جو بیان جج کے سامنے دیا، اس میں ایک خاتون کا چار صفحات پر مشتمل بیان ہے جبکہ دوسری خاتون کا بیان تین صفحات پر مشتمل ہے۔ 164 کا بیان اور میڈیکل کسی کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب جج 164 کے تحت بیان ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے تو وہ بار بار یہ پوچھتا ہے اور سرٹیفکیٹ پر دستخط بھی کرواتا ہے کہ آپ جو بیان دے رہے ہیں، وہ بعد میں آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ Muzamal Suharwardy Lahore Police Official

Muzamal Suharwardy Team

28,871 görüntüleme • 1 ay önce

میں قوم کے سامنے اپنی بات دلائل سے پیش کرتا ہوں، تو میری بات آخر آپ قوم تک کیوں نہیں پہنچانے دیتے؟ اسمبلی بلڈنگ کے اندر چیمبرز میں ٹی وی لگے ہوتے ہیں، اور ان چیمبرز میں جو لوگ بیٹھے ہوتے ہیں، وہ جب میری تقریر سنتے تھے تو اس کو بھی بند کر دیا گیا۔ اب صرف ایوان کے اندر کے لوگ سن رہے ہیں۔ تو میں نے کہا کہ یہ تو میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ آپ ایک اِن کیمرا اجلاس تو بلائیں تاکہ ہم دیکھیں کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ ہندوستان کی سرحد بند ہے، افغانستان کی سرحد بند ہے، چین آپ کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اور جب آپ نے درخواست دی، پرسوں یا ترسوں، کہ پاکستان میں آپ کی جو ایک سو ستر ارب ڈالر کی سرمایہ کاری تھی، اور جسے ہم پورا نہیں کر سکے، اس لیے آپ مہربانی کریں اور وہ ایک سو ستر ارب ڈالر ہمیں معاف کر دیں، تو چین نے آپ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ تفتان کے علاقے، سندک میں ابتدا ہی سے چین کام کر رہا ہے۔ آج اس نے وہاں سے بستر اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تو یہ آپ کے چین کے ساتھ تعلقات ہیں۔ ایران آپ پر کتنا اعتماد کرتا ہے، لیکن خود برے حالات میں ہے،پاکستان کو محصور کردیا اپ نے یہ تمہاری پالیسیاں ہیں۔ آپ انڈیا سے لڑے، ہم نے سب سے پہلے آپ کو سپورٹ کیا۔ آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی بات کی، ہم نے اس کی بھی سپورٹ کی کہ ہم خطے میں امن کو ترجیح دیں۔ لیکن ہماری رضامندی کے باوجود آپ آ رہے ہیں، جا رہے ہیں، آ رہے ہیں، جا رہے ہیں، آ رہے ہیں، جا رہے ہیں۔ وہ گلہری کی طرح: "میری آنیاں جانیاں وے۔" اور آج بھی امریکہ ایران پر حملے کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جب امریکہ نے میرے سپہ سالار کو تھپکی دی کہ: "آپ ایک بہت اچھے آدمی ہیں، بہت اچھے آدمی ہیں۔" اس وقت تک اچھے آدمی تھے، جب ہمارے جھنڈوں کے نیچے ان کے جہازوں نے ہرمز کو عبور کیا۔ اور یہ فائدہ اٹھانے کے بعد، جب ہم گھر واپس آئے، تو ایران پر پھر دوبارہ حملے ہو رہے ہیں۔ اب آپ کچھ کارکردگی تو دکھائیے نا۔ چین ناراض، افغانستان کے ساتھ آپ کی سرحد بند، ملک محصور، اشیائے ضروریہ کی قلت ہو رہی ہے۔ اور اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے کہہ رہے ہیں، جگہ جگہ، کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,155 görüntüleme • 26 gün önce

ریٹائر جسٹس انوارلحق پنوں نے جیسے ہی یہ بات کی کہ: “اس ملک کو ججزز، بیوروکریٹس،فوجی انہوں نے تباہ کیا ہے اور وہ اس ڈگر پر پوری قوت سے چل رہے ہیں۔“ غریدہ فاروقی نے فوراً روک دیا۔ یہ ہیں اس ملک کے نام نہاد صحافی جنکا کام سچائی دیکھنا اور بتانا ہوتا ہے وہی اس چھپاتے ہیں تاکہ معاشرہ حقیقت سے بے خبر رہے۔ جس ملک میں آزادی سے سوچنے بات کرنے کی اجازت نہ ہو وہ ملک کسی قیمت پہ ترقی نہیں کر سکتا۔ حکمران خاندان، مقتدرہ جمہوریت میں یہ بتائیں نہیں ہوتیں ۔ جب تک یہ لوگ اپنے اپنے دائرے میں نہیں جاتے، کوئی چانس بہتری کا نہیں ہے۔ اس ملک کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں اور انکی خواہشات بڑھتی جا رہی ہیں ۔ نظام فیل ہو چکا ہے یہ بات کر کون رہا ہے ؟ وہ خود کس نظام کی پیداوار ہیں؟! اسمبلیوں میں آئینی ترامیم وزیرقانون کو بتائے بغیر کی جاتی ہیں پاکستان کی عدالتوں کو دبایا جاتا ہے ۔ اسمبلیوں میں ہاف فرائی اور فل فرائی کی ٹرم استعمال ہو یہ گڈ گورننس ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے اس ملک کے ساتھ ؟ کیا آپ سمجھتے ہیں اسطرح آپ بہت دیر وقت گذار لیں گے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ تمام قوتوں کو اپنے برے دنوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہے یہ ایک بھیانک سین ہے جو نظر آرہا ہے۔ ہم اپنے لوگوں کو کاکروچ ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں ۔ وہاں جمہوریت تھی تو انکی بات مان لی گئی ۔یہاں تو آزادی سے سوچنے کسی سے شئیر کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔یہ آفاقی اصول ہیں ۔ آپ دنیا بھر کے ملک دیکھ لیں جس ملک نے ترقی کی انہوں نے کسی اصول پر ترقی کی۔ ہمیں بھی اصول اپنانے پڑیں گے ۔

Rodium-A

284,750 görüntüleme • 7 gün önce

اقرار الحسن سے عوام نے جو سوالات پوچھے ہیں ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ پہلا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ جب آپ چھٹی جماعت میں تھے تو آپ کے والد نے دوسری شادی کی اور پھر جرمنی چلے گئے۔ آپ نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم وہ کہاں رہتے ہیں کیا کرتے ہیں یا انہوں نے کتنی شادیاں کی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف دوسری شادی کی وجہ سے کوئی ملک چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لیتا ہے؟ ملک چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی وہ آپ نے آج تک نہیں بتائی۔ دوسرا سوال آپ کے والد اسماعیل شاہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کے الزامات ہیں اور اس کی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔ آپ کے والد پر 295C کی دفعات بھی درج ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹے الزامات تھے تو آپ کے والد نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا اور پاکستان چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح کیوں دی؟ تیسرا سوال آپ کی کمپنی Perfectum Pakistan کا واحد بیرون ملک دفتر جرمنی کے فرینکفرٹ میں ہے جہاں آپ کے والد مقیم ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کاروباری تعلق بھی ہے؟ اگر آپ کو اپنے والد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تو پھر جرمنی میں دفتر کیوں؟ چوتھا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آپ نے اہم معاملات پر والد سے رابطہ کیا اور ان سے مشورہ لیا۔ جب آپ انہیں نہیں جانتے اور ان سے کوئی تعلق نہیں تو پھر مشورہ کس بات پر لیا گیا؟ یہ تضاد کیسے؟ پانچواں سوال آپ کہتے ہیں آپ کو فخر ہے مگر برسوں میں ایک بار بھی والد سے ملاقات کا کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جس باپ پر فخر ہو اس کے ساتھ ایک تصویر ایک مشترکہ ویڈیو بھی نہیں؟ یہ کیسا فخر ہے جو چھپ کر ہو؟ چھٹا سوال آپ کے والد کا تعلق اہل تشیع مکتب فکر سے ہے اور وہ ایک مذہبی مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی ان کی سوچ اور عقائد سے الگ ہیں تو آپ نے کبھی عوامی سطح پر اپنے والد کے ان مبینہ بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ ساتواں سوال آپ نے پاسپورٹ شناختی کارڈ اور اسناد دکھا کر والد کا نام ثابت کیا مگر کسی نے آپ کی والدیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ عوام آپ کے والد کے مبینہ کارناموں کے بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے جو زبان زد عام ہیں منقول

Aamir Gujjar

29,026 görüntüleme • 3 ay önce