Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

نور ولی محسود اور ملا ہیبت اللہ قندھار میں موجود ہی نہیں تھے ملا ہیبت اللہ دریا کے اس پار کسی علاقہ میں روپوش ہیں جبکہ بعض ذرائع بتا رہیں ہیں چند دن پہلے نور ولی محسود کو صوبہ فاریاب میں دیکھا گیا جہاں پہ بھارت کے لوگوں کو...

103,498 просмотров • 5 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

کسی بھی ملک میں دہشت گردی ہو پاکستان ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف کھڑا رہا ہے جو واقعہ پیش افسوسناک ہے بھارت کے اپنے شہری پوچھ رہے سری نگر میں تعینات 7 لاکھ فوج کی موجودگی میں یہ حملہ کیسے ہو گیا؟ وہ پوچھ رہے ہیں جو پہلے حملے ہوئے ان کی رپورٹیں کہاں ہیں؟ بھارتی شہری اپنی ہی حکومت پر سوالات اٹھارہے ہیں یہ ایک فالس فلیگ ہے اور ہمیشہ کی طرح ایک بزدلی کا مظاہرہ ہے یہ بزدلی کا مظاہرہ بھارت ہمیشہ کرتا ہے اور کر رہا ہے اس کا الزام وہ پاکستان پہ ڈال رہا ہے میں نے سنا ہے کوئی گیدڑ بھپکیاں بھی دی جا رہی ہیں میں تو صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ ہماری چائے ہے بہت اچھی لیکن ہم ہر دفعہ چائے نہیں پلایا کرتے ایک آدھی دفعہ کوئی مہمان آئے تو اس کو چائے پلا دیتے ہیں لیکن اس کے بعد اگر مہمان زیادہ ہوں تو اس کا جواب پاکستان کی فوج کو پاکستان اور عوام کو بہت اچھے سے دینا آتا ہے اس قسم کے فالس فلیگ کو بنیاد بنا کر اگر بھارت کسی بھی قسم کی کسی ایڈونچر کا سوچ رہا ہے میں ان کو خبردار کرنا چاہتی ہوں پہلے بھی الحمدللہ پاکستان نے بھارت کو ہر دفعہ دھول چٹائی ہے پچھلی دفعہ ہم نے چائے پلا کے بھیجا تھا اس دفعہ ہم سے شاید اتنی مروت نہ ہوگی

Azma Zahid Bokhari

36,184 просмотров • 1 год назад

مشن نور کی حقیقت پہلی بات کے اسلام میں آذان صرف مخصوص وقت میں میخصوص نماز سے پہلے جائز ہے اس کے علاوہ آذان دینا گناہ لیکن آئیں آپریشن نور کا ایک اور پوسٹ مارٹم کرتے ہیں🚨 حکیم نور الدین قادیانیت میں ایک اہم کیریکٹر ہے۔ قادیانیت میں آنے سے پہلے یہ دیوبند کے جہید عالموں سے سبق پڑھتا رہا لیکن ہمیشہ بھٹکا رہا۔ اس کے بعد یہ سولہ سال کشمیر کے سکھ مہارجہ رنبیر سنگھ کا شاہی طبیب رہا۔ جب مرزے کا فتنہ نمودار ہوا تو یہ اس کا ہو لیا اور 1889 میں مرزے مرتد کا پہلا خلیفہ بنا۔ قادیانی اس کو بہت مانتے ہیں اسلیے اس کے نام پر ان کا نور فاؤنڈیشن ہے، ربوہ، فرینکفرٹ، انگلینڈ، امریکہ اور افریکہ میں قادیانیوں کی عبادت گاہوں کا نام بھی اسی مرتد کے نام پر “نور مسجد” ہے۔ تو مشن نور کا نام بھی اسی سے لیا گیا‼️ اب تاریخ پر آئیں 20 ستمبر🚨 جب 1948 میں قادیانیوں کو حکومت پاکستان نے ربوہ میں جگہ الاٹ کی تو اس کا سنگ بنیاد بھی 20 ستمبر کو رکھا گیا۔ 🚨🚨مطلب یہ کہ مشن نور کا نام اور تاریخ دونوں قادیانیوں کے لیے مقدس ہیں۔ اب کوئی شق رہہ گیا فتنہ الیہودو انتشار کے پیچھے را، گولڈسمت کے علاوہ قادیانی بھی ہیں۔ فیصلہ آپ کا ہے کہ ان کا ساتھ دے کر شریعت اور نبی کریم ﷺ دونوں سے غداری کرنی ہے یا ان کا مکمل بائیکاٹ کرنا ہے

علمائے دیوبند میڈیا ™️

85,884 просмотров • 11 месяцев назад