Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

نور ہی نور سے مکھڑے پہ وہ نوری آنکھیں اس کے انجیل سے چہرے پہ زبوری آنکھیں چھوڑ آیا ہوں کسی آنکھ میں بینائی کو اور بچا لایا ہوں چہرے پہ ادھوری آنکھیں اسے پہلو میں بیٹھا کر اسے تکنے کا نشہ کس قدر ہو گئی چہرے پر ضروری...

12,538 Aufrufe • vor 8 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

#JusticeForIqra سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکلیٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری گرفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہے

Shehr Bano Official

39,229 Aufrufe • vor 1 Jahr

گوگل کے ذریعے آپ اپنے گمشدہ یا چوری ہونے والے موبائل کو ڈھونڈ سکتے ہیں۔ صرف یہی نہیں اگر آپ نے مطلوبہ موبائل میں پاسورڈ نہیں لگایا تھا اور موبائل کہیں گم ہو گیا ۔ اب آپ کو ڈر ہے کہ کہیں اس کا کوئی اس میں سے ڈیٹا نہ نکال لے تو آپ گوگل کی مدد سے اس موبائل کو لاک لگا سکتے ہیں چاہے وہ آپ کے پاس نہیں ہے۔ اس سہولت سے کو استعمال کرنے کے لیے آپ نے پہ جائیں اپنا جی میل اکاؤنٹ لگائیں جو اس موبائل میں لگا ہے ۔ یہاں آپ اپنے موبائل کی لوکیشن دیکھ سکتے ہیں اس علاوہ اپنے موبائل کی بیٹری 🔋 بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ موبائل کہیں رکھ کر بھول گئے ہیں اور موبائل پہ Silent لگا ہے تو آپ "Play Sound" پہ کلک کریں آپ کے موبائل کی رنگ بجے گی۔ دوسرا اس میں Secure Device " کا فیچر ملتا ہے اس پر جا کر آپ اپنے موبائل کو لاک لگا سکتے ہیں ۔ اور اس سے آپ اس موبائل میں کوئی میسج وغیرہ بھی بھیج سکتے ہیں کنٹیکٹ ڈیٹیلز وغیرہ ۔ اگر موبائل ملنے کے چانسز ختم ہو جائیں تو اس صورت میں "Factory Reset Device" کا فیچر بھی ملتا ہے اس سے آپ اس موبائل کو مکمل ری سیٹ کرسکتے ہیں اس میں موجود ہر چیز ڈیلیٹ ہو جائے گی۔ معلومات اچھی لگیں تو اسے ریٹویٹ کرکے دوسروں سے شیئر کیجئے ۔ مذید ایسی معلومات کے لیے فالو کیجئے ۔ جزاک اللّہ خیرا 🥀 #Google

𝗕𝗶𝗹𝗮𝗹 𝗛𝘂𝘀𝘀𝗮𝗶𝗻

668,691 Aufrufe • vor 2 Jahren

ابھی ابھی آغا شیخ سرور سے بات ہوئی، وہ کوریج میں مصروف تھا اور لوگوں کی کوریج کرنے کے لیے قافلے کی مرکزی گاڑیوں سے الگ ہو کر ایک موٹر سائیکل سوار سے لفٹ لے کر لوگوں کے درمیان کوریج کر رہا تھا، ویڈیوز بنا رہا تھا، اپنی کمنٹری کر رہا تھا کہ اچانک ایک ڈالہ اس بائیک کے آگے آیا اور ڈالے میں سوار لوگ اترے اور وہاں سے امین اللہ نام کا شخص اترا اور پھر انہوں نے آغا شیخ سرور کو مارنا شروع کر دیا۔ آغا شیخ سرور کو مارتے ہوئے وہ یہ بھی کہہ رہا تھا اپنے گارڈز سے کہ اس کو گولی مار دو۔ آغا شیخ سرور نے بتایا کہ اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور جبڑے ڈسلوکیٹ ہوئے ہیں زبان پہ کٹ لگے ہیں اور وہ بری طرح سے زخمی ہے۔ صرف آغا شیخ سرور کو نہیں زعیم لغاری اور ان کے ساتھ ساتھ شاکر اعوان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ کہتے ہیں اگر مینا خان آفریدی بیچ میں آ کر نہ بچاتے تو مجھے گولی ماری جا سکتی تھی۔ آغا شیخ سرور نے یہ بھی کہا کہ اس کو کارکنوں نے بھی بہت سپورٹ کیا اور مارنے والوں سے بچانے میں مدد کی۔ میں نے پوچھا کہ یہ امین اللہ نام کا شخص کیوں تشدد کروا رہا تھا، کیوں آپ کی جان کے پیچھے پڑ گیا؟ تو اس نے کہا مجھے کسی نے یہ بتایا کہ امین اللہ ہی ٹی آئی حیدر آباد کا کوئی عہدیدار ہے اور اسے اس بات پر غصہ تھا کہ لیاری کی کوریج کے موقع پر آغا شیخ سرور نے جب ایک جگہ کوریج کی تو امین اللہ کے کسی مخالف کو کوریج ملی تھی اور امین اللہ کو اس بات کا شدید رنج تھا۔ اب یہ تینوں صحافی اس کوریج کا بائیکاٹ کرنے ارادہ رکھتے ہیں

Tariq Mateen

72,391 Aufrufe • vor 1 Monat

بیشک عزت و ذلت اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے ! زیر نظر یہ دو تصاویر رہائی کے سال بعد مجھے جیل کے اندر کام کرنے والے محکمہ جیل خانہ جات کے میرے اک ہمدرد بھائی نے جو خان صاحب سے بے حد پیار کرتاہے نے نام نہ بتانے کے شرط پہ بھیجیں کہ جب آپ کو گرفتار کرکے لائے تو آپ کے علم میں لائے بغیر یہ تصاویر ”کسی“ نے بنا کر ”اُوپر“ کسی کو بھجوائی تاکہ ”ان“ کی انا کو تسکین پہنچ سکے۔ میں اس بھائی کا نام اور متعلقہ جیل کا نام اسکی خود کی حفاظت کی خاطر آج بھی لینے سے گریز کرونگا اور صیغئہ راز میں رکھنے کو ترجیح دونگا ۔ لیکن یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسا کر کے آپ نہ میرا حوصلہ توڑ سکے اور نہ ہی میرے لیڈر Imran Khan اورمیری جماعت PTI سے میری کمٹمنٹ و وابستگی کوتوڑ سکے۔ اسیری کے زمانے میں ہمیشہ میں اپنا وکیل کا کالا کورٹ زیب تن رکھتا تھا اور کوشش کرتا تھا کہ جیل کے اندر اور جیل کے باہر گرفتاریوں کے وقت اور عدالتوں میں پیشیوں کے وقت کبھی بھی میرے چہرے پہ ان کو پریشانی نظر نہ آئے۔ کیونکہ یہی وہ چاہتے تھے۔ میرے چہرے کی مسکراہٹ چھیننا چاہتے تھے۔ (زیر نظر جہلم جیل کی گرفتاری کی ویڈیو موجود ہے) میرا پیغام ان کو ہمیشہ یہی ہوتا تھا کہ آپ میرے ہاتھوں میں ہتھکڑی تو پہنا سکتے ہیں لیکن آپ میرے چہرے کی مسکراہٹ نہیں چھین سکتے کیونکہ میرا رب آپ سے بہت بڑا ہے۔ آپ کے پاس اقتدار کی طاقت ہے اور میرے پاس میرے ایمان کی طاقت۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میرا سر نہ ملے گا لیکن میری آنکھوں میں تمہیں ڈر نہ ملے گا زندگی کا اک تکلیف دہ دن اپنے ہی آبائی شہر مردان کی آبائی بار مردان بار جہاں میرے دادا پیر محمد خان صاحب نے بھی 1947 میں آزادی کے بعد سے وکالت کی اور میں نے بھی وہیں سے اپنی وکالت کی ابتداء کی وہاں وکیل کے یونیفارم میں دو مرتبہ ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال کر لایا گیا اور عدالت کے اندر بھی ہتھکڑی نہ کھولی گئی۔ (زیر نظر ویڈیو موجود ہے) لیکن یہ شاید بھول گئے تھے کہ عزت و ذلت ان زمینی خداؤں کے ظالم ہاتھوں میں نہیں بلکہ میرے رب کے ہاتھوں میں ہے۔ میں شکر گزار ہوں اللّٰہ تعالیٰ کا اور مجھے فخر ہے اپنے مردان کے عوام پہ جنہوں نے دوبارہ منتخب کر کے عزت کیساتھ تیسری بار واپس ایوان میں بھیجا۔ بیشک عزت و ذلت زمینی خداؤں کے نہیں میرے رب کے ہاتھ میں ہے۔ یہ سلسہ آج بھی جاری ہے جس طرح ہمارے کارکنان کےساتھ کیا جارہا ہے لیکن کوئی ایک کارکن بتا دیں جو باوجود اس طرح کی فسطائیت کے راہ حق سے ہٹایا جا سکا ہو۔ جتنی جلد طاقت عوام کے اصل نمائندوں کے حوالہ کریں گے اور قوم کے لیڈر عمران خان کی رہائی کریں گے تاکہ وہ اپنی قوم کی قیادت کر سکے اتنا ہی جلد یہ ملک واپس ترقی کی راہ پہ گامزن ہوگا۔ نصر من اللّٰہ و فتح قریب پاکستان زندہ باد 🇵🇰 تا قیامت پائیندہ باد

Ali Muhammad Khan

794,542 Aufrufe • vor 1 Jahr

پاکستانی شوبز اداکار صفیحہ جبار کو تو جانتے ہونگے جو پہلے اداکارہ تھی اچھی شکل صورت تھی اچھی ایکٹنگ کرتی تھی ۔۔ پھر اچانک سے بال غائب ہو گئے پورے کپڑے چھوٹے ہو گئے میں نے اس پر پوسٹ کی تھی کہ یہ لڑکی مجھے سائیکو ٹائپ لگتی ہے ۔۔ انہوں نے اپنے اک کلپ میں بتایا کہ وہ ڈپریشن میں چلی گئی تھی اتنا شدید ڈپریشن تھا کہ میں تیس تیس گولیاں لے رہی تھی انٹی ڈپریشن کی ۔۔ مجھے نہی پتہ تھا میں کیا کرہی ہوں ۔۔ میں نے نماز پڑھی تہجد پڑھی میں ٹھیک نہی ہوی ۔۔ بقول انکے میں یہ اس لیے بتارہی ہوں کہ لوگ ہمیں کہتے تم تو شوبز کے لوگ دین سے دور ہوتے ہو اس لیے تمھیں ڈپریشن ہوتا ہے ۔۔ شاید محترمہ یہ نہی جانتی عبادت کا مقصد فوری جذباتی سکون کی گارنٹی نہیں ہوتا بلکہ اللہ سے تعلق مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ ڈپریشن ایک نفسیاتی اور بعض اوقات کیمیائی کیفیت ہے جو دماغ کے اندر ہارمونز اور سوچ کے پیٹرن سے جڑی ہوتی ہے۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا ہے کہ اللہ کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں مگر اطمینان کا مطلب یہ نہیں کہ تکلیف بالکل ختم ہو جائے گی۔ بہت سے انبیاء اور نیک لوگ بھی شدید غم اور اذیت سے گزرے حالانکہ ان کا اللہ سے تعلق سب سے مضبوط تھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی مثال لے لیں جو اپنے بیٹے کی جدائی میں اتنا روئے کہ آنکھیں سفید ہو گئیں حالانکہ وہ نبی تھے اور ہر وقت اللہ کو یاد کرتے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عبادت غم کو فورا ختم کرنے کا نسخہ نہیں بلکہ اسے برداشت کرنے اور اللہ سے جڑے رہیں ۔

Saleem Speaks

109,209 Aufrufe • vor 7 Tagen