Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

نوٹیفکیشن میں تاخیر کا معاملہ! ّ"۔۔اۤرمی ایکٹ میں ترمیم ہوگئی مگر ابھی تک ائیرفورس، نیوی کے ایکٹ میں ترمیم نہیں ہوئی۔ ان میں بھی ترامیم کرنا پڑیں گی۔ اب شاید وہ ترامیم کرنے جا رہے ہیں تاکہ وہاں نہ کوئی چیلنج ہوجائے کہ انکی تو ترامیم بھی نہیں ہوئیں...

102,735 görüntüleme • 9 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

بریکنگ نیوز 🚨خان کا سچا کھلاڑی چھا گیا، شہباز گل صاحب نے اعلٰی ظرفی کی مثال قائم کردی۔ شفیع جان کو معاف کرتے ہوئے ساتھ ہی بڑا اعلان کردیا۔ کوئی بھی اب تنقید نہ کرے شفیع جان پر 🔥🔥 ایک دو دن پہلے شفیع جان صاحب جو مجھ سے چھوٹے بھی ہیں، ہماری پارٹی کے بھی ہیں۔ چلیں جو بھی انہوں نے کہا ان کی مہربانی۔ میں سب سے یہ بھی ریکویسٹ کروں گا کہ اب شفیع جان پر مزید تنقید کرنا بند کر دیجئے۔ جو بھی ہے ہماری پارٹی سے ہے۔ چھوٹا ہے ہم سے، ظاہر ہے وہ وہاں پر جن کے ہاتھوں میں جکڑے ہوئے ہیں، میرا خیال ہے ان کے ہاتھوں اتنے مجبور ہیں کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کے گریبان پر بھی ہاتھ ڈال لیا۔ میرے خیال میں یہ سہیل آفریدی کی اور شفیع جان کی شاید، میں حسنِ ظن رکھتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ شاید ان کا اپنا فیصلہ نہ ہو، انہیں شاید یہ بھی کہا گیا ہو یا مجبور کیا گیا ہو یہ کرنے کے لیے۔ یا وہ اتنے رَیٹل ہو گئے، رَیٹل کا مطلب یہ کہ یہ جو پریشر آیا، پہلے بھی پریشر میں ہیں، پھر ۲۷ پر علیمہ خان صاحبہ نے بھی سوال اٹھا دیا کہ ۱۳ اگست کیوں نہیں، میں نے بھی اٹھا دیا باقی لوگوں نے بھی۔ ہم نے جو سوالات اٹھائے اس میں شاید ان کو پتہ تھا اور یہ بھی ان کی مہربانی کہ انہوں نے علیمہ خانم صاحبہ پر حملہ نہیں کیا، وہ ہم سب کے لیے بڑی عزت کی جگہ پہ ہیں، انہوں نے اس کام کے لیے مجھے چنا تو میں ان کا شکر گزار ہوں کہ کم از کم انہوں نے علیمہ خانم صاحبہ کو بخشا اور میرا انہوں نے انتخاب کیا کہ انہوں نے مجھ پر تنقید کرنی ہے، لیکن اب جو بھی ہوا، شاید وہ پریشر میں ہوا، دل سے ہوا، بددلی سے ہوا، جیسے بھی ہوا۔ لیٹس گیٹ اوور اٹ (Let's get over it)۔ اب ان پر مزید، آپ سے میری التماس ہے کہ مزید شفیع جان پر کسی قسم کی تنقید مت کیجئے۔ میں بھی کوشش کروں گا کہ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن، یہ جو ۲۷ تاریخ کا انہوں نے دن چنا ہے، اس پر میں ذاتی حیثیت میں کوئی تنقید نہ کروں۔ ہاں اگر کوئی ڈیولپمنٹ (development) ہوتی ہے، اہم ایشو ہوتا ہے، کسی کا بیان ہے، کسی کا ایکسپریشن (expression) ہے، وہ تو آپ کے سامنے رکھوں گا، لیکن کوشش کروں گا کہ وہ جو کچھ لوگ ہماری پارٹی میں یہ کہتے ہیں کہ یہ وقت اکٹھے ہونے کا ہے، جیسی تیسی بھی انہوں نے اب کال دے دی ہے، آپ ان کے پیچھے کھڑے ہوں اور آپ ان پر تنقید نہ کریں، میں اب ان کے، آپ یہ کہیے کہ ان کی دلجوئی کے لیے کوشش کروں گا کہ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن اس پر بات نہ کروں اور اگر ان ۱۵ سے ۲۰ دنوں میں مجھے کچھ ہوتا ہوا نظر آیا، تو پھر میں ۲۷ ستمبر تک جیسے میں نے پہلے ۵ مہینے ان کنڈیشنلی (unconditionally) سہیل آفریدی کے جو پہلے ۵ سے ۶ مہینے تھے، وہ آؤٹ آف دی وے (out of the way) جا کے انہیں سپورٹ کیا، کوئی احسان نہیں کیا، میرا کرنا بنتا تھا، ابھی بھی کوشش کروں گا۔ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن اگر تو وہ کچھ نہ کچھ کرتے ہیں ان ۱۵ سے ۲۰ دنوں میں، تو میں وہ بھی سپورٹ کروں اور پھر ۲۷ تاریخ تک بھی بھرپور سپورٹ کروں اور دیکھوں کہ کیا کرتے ہیں۔ لیکن اگر اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن تک ہم نے وہی کام دیکھا جو عمران خان رہائی فورس کے وقت تھا، رمضان سے پہلے جو ایک اعلان کیا گیا، پورا رمضان گزرا، چھوٹی عید، پھر سارا درمیان کا وقت، پھر بڑی عید، پھر محرم، سب کچھ گزر گیا لیکن رہائی فورس میں کچھ ہوتا ہوا ہمیں نظر نہیں آیا۔ اگر اگلے ۱۵ دن میں وہی سب کچھ ہوا اور کوئی ایکٹیویٹی (activity) نظر نہ آئی، تو پھر مجھے دوبارہ سے تنقید کرنی پڑے گی، میری چوائس (choice) نہیں ہوگی، میری مجبوری ہوگی، مجھے لگے گا کہ یہ بددیانتی ہے عمران خان کے ساتھ، ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ، بشریٰ بی بی کے ساتھ، جتنی سخت جیل وہ قیدِ تنہائی میں کاٹ رہے ہیں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

12,770 görüntüleme • 21 gün önce

"عمران خان صاحب کی دو بہنیں گرفتار ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ دونوں وہاں نہتی موجود تھیں، دونوں الگ الگ طرف اکیلی اکیلی کھڑی تھیں۔ ان کے ساتھ کوئی کارکن بھی نہیں تھا کہ دفعہ 144 کا نفاذ ہو جاتا اور ان کو وہاں سے گرفتار کیا گیا۔ ان کے پاس سے کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی، نہ کوئی مائیکروفون ملا جس پر وہ بول رہی تھیں، لیکن اب پولیس کہہ رہی ہے کہ وہ بھی برآمد کرنا ہے۔ پھر کہہ رہے ہیں کہ دھماکہ خیز مواد ان "دہشت گردوں" سے برآمد کرنا ہے۔ ان کا ریمانڈ پر ریمانڈ دیا جا رہا ہے۔ دونوں خواتین کی عمر ستر سال سے زیادہ ہے۔ یہ ہے پاکستان میں نظامِ انصاف، اور جج ریمانڈ پر ریمانڈ دیتے چلے جا رہے ہیں۔ پورا پاکستان جانتا ہے کہ ان کا بھائی سابق وزیراعظم ہے، سب جانتے ہیں کہ وہ گھریلو خواتین ہیں، ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، وہ صرف اپنے بھائی کے لیے باہر نکلتی ہیں، احتجاج کرنے یا جیل میں ملنے کے لیے۔ انہوں نے تو یہ بھی کہا کہ ہمیں اندر رکھ لیں بے شک، لیکن ہمارے بھائی کو چھوڑ دیں۔" Imran Riaz Khan #UndeclaredMartialLaw

PTI

50,034 görüntüleme • 1 yıl önce

بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل اپنے موقف پر، اپنے کیے گئے انکشاف پر ڈٹ گئے، اور ساتھ ہی ایک اور بڑا تہلکہ خیز انکشاف کرکے سہیل آفریدی کو چیلنج کردیا 🔥🔥 کل کے جو آپ کے انٹرویوز آئے اُس میں آپ نے Deny کیا اُس خبر کو جو ہم نے دی تھی۔ خبر یہ تھی کہ آپ کی ایک بہت ہی اہم شخصیت کے ساتھ ملاقات ہوئی اور ہم نے کورکمانڈر کا نام لیا تھا۔ پہلے ہم نے جس دن خبر دی بتایا کہ دو سے چار بجے، اُسی دن ہمارے سورس نے کنفرم کیا کہ ٹائمنگ غلط تھی چار بجے کے بعد اور یہ بھی بتایا کہ وہ سنئیر ترین پولیس افسران کے ساتھ ملاقات میں تھے، آئی جی کے گھر کے قریب۔ کتنی گاڑیوں پر گئے، کون کون انکے ساتھ تھا کورکمانڈر کے، کیسے وہ چیف منسٹر ہاؤس تک پہنچے۔ وہ تمام چیزیں ہمارے علم میں ہیں، ہم ان Details میں نہیں جارہے۔ اور ہمارے Source نے بتایا کہ ملاقات چار ساڑھے چار بجے کے بعد ہوئی، اگلے ہی ویلاگ میں ہم نے وہ اپڈیٹ کیا۔ آپ نے کہا کہ وہ ملاقات نہیں ہوئی۔ میری پوری ذمہ داری کے ساتھ انفارمیشن شئیر کرتا ہوں، اگر خبر غلط ہو تو میں پہلے ہی کہے دیتا ہوں، یہ سنی سنائی ہے، ہم اسکے اوپر پہرہ نہیں دے سکتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے بہت قریبی شخصیت وہ اس کے سورس ہیں اور وہ ڈرتے بھی نہیں ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ آپ بتا دیں، میں پکڑا بھی گیا تو خیر ہے، لیکن یہ آفریدی صاحب کو پتہ ہونا چاہیے کہ سب کو پتہ ہے۔ اچھا اب کیا آپ پہلی مرتبہ کورکمانڈر سے ملے ہیں، کئی مرتبہ پہلے بھی ملے ہیں۔ اب آپ اس ملاقات کو Deny کر رہے ہیں۔ میں کہے رہا ہوں ایک ملاقات نہیں، آپ کی بہت ساری ملاقاتیں ہوئیں اور پہلے بھی ہوتی رہیں اور آئندہ بھی ہونگی اور ہمارے بہت ساری ملاقاتیں علم میں بھی ہیں اور ہم نے کبھی یہاں سے رپورٹ نہیں کیا کیونکہ وہ Importants نہیں ہیں۔ آپ چیف منسٹر کے عہدے پر ہیں کئی وجوہات کی بناہ پر آپ کو ان سے ملنا پڑ سکتا ہے۔ اب کیونکہ یہ جلسے سے ایک دن پہلے معاملہ تھا اور پھر 27 تاریخ کے اوپر ہماری Reservations ہیں۔ کورکمیٹی کے اندر یہ ڈسکس نہیں ہوا، پولیٹیکل کمیٹی کے اندر یہ ڈسکس نہیں ہوا۔ بہت سے سنئیر لوگوں سے میں نے پوچھا، انہوں نے کہا کہ ہمارے علم میں نہیں ہے کہ Date کیسے دی گئی ہے۔ اُسی پر میں نے بھی سوالات اُٹھائے، مراد سعید صاحب نے بھی اُٹھائے اور علیمہ خانم صاحبہ نے بھی اُٹھائے۔ اب آپ نے کہا کہ ملاقات نہیں ہوئی، میں ابھی بھی پوری ذمہ داری سے اور ایمانداری سے اپنی خبر کے اوپر کھڑا ہوں کہ ملاقات ہوئی۔ بلکہ آپ کو ایک اور Interesting بات بتا دوں۔ کل تین آپ کے انٹرویو چلے، تین ڈیفرنٹ چینل پر۔ حالانکہ پورے سال کے اندر کبھی آپ کا کوئی بھی ایسا انٹرویو چلنے کی اجازت نہیں تھی۔ میرے فون کے اندر میسج ہے کبھی اچھے دن آئیں گے تو یہ کیمرے میں ریکارڈ کر لیجیے تاکہ ثبوت رہے کہ جن تین لوگوں نے کل آپ کا انٹرویو لیا، انٹرویو کے فوراً بعد اُنہی کی ٹیم میں سے مجھے یہ میسج بھیجا گیا۔ وہ بہت ہی معتبر شخصیت جنہوں نے میسج بھیجا کہ آپ کو پتہ ہے آپ کے چیف منسٹر نے آپ کی خبر کو جھٹلا دیا ہے کہ اُنکی ملاقات نہیں ہوئی، میں نے آگے سے کہا مجھے پتہ ہے اور ان کا جھٹلانا ہی بنتا ہے، یہی انکی پوزیشن ٹھیک ہے۔ میں بار بار تو چیزیں Rep نہیں کروں گا، میں نے جو کہنا تھا کہے دیا۔ تو اُس شخصیت نے آگے سے کہا کہ میری بھی یہی خبر ہے کہ اُنکی ملاقات ہوئی ہے۔ یہ میں بالکل خدا کو گواہ بناکر آپ کو بات کہتا ہوں اور یہ انہوں نے کہا اور کبھی آپ کو دیکھا بھی دیں گے اُنکی اجازت سے ویسے نہیں۔ ان سے اجازت لے کے اور وہ اجازت دے بھی دیں گے کیونکہ وہ خان صاحب کے خیرخواہ ہیں اور وہ چاہیں گے کہ آپ کو بھی پتہ چلے کہ میرے پاس یہ خبر تھی۔ اور انہوں نے ایک جملہ بولا کہ ایسی ملاقاتیں چھپتی تھوڑی ہیں۔ اگر مجھے ساری Details پتہ ہے، ایک ایک بات پتہ ہے اور آپ کو بھی پتہ ہے، تو CM صاحب کو بھی چھپانی نہیں چاہیے تھی۔ میں اپنی خبر پر ابھی بھی قائم ہوں کیونکہ اگر یہ خبر غلط ہوتی تو میں خود مانتا اور آپ سے معذرت کرتا کیونکہ کوئی میرا یہ کوئی IQ لیول کا ٹیسٹ تو نہیں ہے ناں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

64,969 görüntüleme • 19 gün önce