Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

واؤ چین کمال کردیا 👌 چین نے ایک نیا ہائیڈروجن سے چلنے والا ڈرون متعارف کرا دیا ہے، اور اس کی اہمیت صرف ایک ڈرون تک محدود نہیں، بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کی سمت بدلنے کا اشارہ ہے۔ یہ ڈرون مسلسل 2 سے 3 گھنٹے تک فضا میں رہ...

55,514 просмотров • 5 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

ترکی نے دنیا کی ڈرون ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کردیا ترکی کا نیا عنقا 3 ڈرون کا کامیاب تجربہ عنقا 3 ڈرون نے 2 چھوٹے سپر فاسٹ ڈرون پروں کی نیچے اٹھا رکھے ہیں جن کا نام سپر شمشک ہے یہ دونوں ڈرون دراصل عنقا 3 کے مددگار ہیں جن کا کام دشمن کی صفوں میں عنقا 3 سے قبل گھس کر تباہی مچانا یا عنقا 3 کے لیے راستہ صاف کرانا یا عنقا 3 کو مدد فراہم کرنا ہے یعنی عنقا 3 ایک ڈرون مدرشپ ہے جو اپنے ساتھ چھوٹے ڈرون کی فوج لے جاسکتا ہے اور خود دشمن کے علاقے سے دور رہ کر دشمن پر اپنے فوجی ڈرون سپر شمشک کے ذریعے حملے کرواتا ہے دنیا تیزی سے ڈرون سوارم ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے یعنی ایک ایسا ڈرون جو اپنے ساتھ ڈرون کی فوج غول لے کر جاسکے عنقا 3 40 ہزار فٹ کی بلندی پر 12 گھنٹے اڑ سکتا ہے یہ اپنے ساتھ 1600 کلو گرام وزن یا میزائل لے جاسکتا ہے سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ عنقا 3 سٹلیتھ ٹیکنالوجی کا حامل ہے یعنی دشمن کا ریڈار اسے نہیں دیکھ سکتا دوسری خاص بات یہ ہے کہ یہ ترکی کے جنگی جہاز کآن کے ساتھ مل کر لڑسکتا ہے یعنی کاآن جہاز کا پائلٹ عنقا 3 کو بطور لائل ونگ مین کے طور پر ہدایات دے سکتا ہے یعنی جنگی فضائی ٹیکنالوجی کا وہ انقلاب ہے جس نے دنیا میں ترکی کی دھوم مچادی ہے ۔ (تحریر : غلام نبی مدنی)

Ghulam Nabi Madni

41,497 просмотров • 8 дней назад

یہ ہے 21ویں صدی میں دنیا پر حکمرانی کے جدید طریقوں کی کہانی ۰۰۰ خاموش، مگر انتہائی مؤثر! اب توپوں اور ٹینکوں سے نہیں بلکہ بندرگاہوں سے حکمرانی ہو رہی ہے؟چین خاموشی سے وہ کام کر رہا ہے جو ماضی میں سلطنتیں جنگوں سے کیا کرتی تھیں۔ آج چین دنیا کے 140 سے زائد ممالک کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے، لیکن اس کی اصل طاقت اس کی 129 بندرگاہوں پر مشتمل Global Network میں چھپی ہے۔ چین دنیا میں کم از کم 17 بندرگاہوں پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے، درجنوں میں شراکت دار ہے اور کئی بندرگاہیں طویل المدتی لیز پر لے چکا ہے۔یہ بندر گاہوں کی سلطنت چین نے Belt and Road Initiative BRIکے تحت قائم کی ہیں جو ویسٹ افریقہ سے لے کر یورپ، لاطینی امریکہ اور جنوبی ایشیا تک پھیلی ہوئی ہے۔ ان بندرگاہوں کے ذریعے چین لاجسٹکس کے اخراجات کم، تجارت تیز اور اپنا انحصار ختم کر چکا ہے۔اس سمری میں ہم خاص طور پر گوادر پورٹ کا بھی جائزہ لیتے ہیں، جہاں آمدن کا بڑا حصہ چینی کمپنی کے پاس ہے۔ مغربی دنیا اسے محض تجارت نہیں بلکہ اسٹریٹجک اور ممکنہ عسکری طاقت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

Kamran Khan

23,519 просмотров • 6 месяцев назад

ترکی کا وہ طاقتور جنگی ڈرون عنقا 3 جو امریکا کے طاقتور جنگی جہاز F-35 کو مات دینے والا ہے عنقا 3 بغیر پائلٹ ڈرون ہے جو 10 گھنٹے تک فضا میں رہ سکتا ہے جب کہ F-35 محض 2 گھنٹے رہ سکتا ہے ، بار بار ریفولنگ کی ضرورت پڑتی ہے عنقا 3 ریڈار پر نظر نہیں آتا ۔ امریکا کا F-16 جہاز اسے نہیں دیکھ سکتا جب کہ یہ عنقا 200 کلومیٹر سے ایف 16 کو دیکھ کر ایئر ٹو ایئر گوک دوگان میزائل سے تباہ کرسکتا ہے عنقا 3 امریکی جہاز F-35 کو 40 کلومیٹر فاصلے سے دیکھ سکتا ہے اور امریکی جہاز F-35 صرف 60 کلومیٹر کے فاصلے سے دیکھ سکتا ہے لیکن عنقا 3 سوارم یعنی جھنڈ بنا کر 10 سے زائد ڈرون اکٹھے مل کر F-35 کو گراسکتے ہیں عنقا 3 منی B-2 بمبار جہاز ہے جو محض 15 ملین سے 25 ملین ڈالر کے درمیان ہوسکتا ہے جب کہ امریکی F-35 جہاز 100 ملین ڈالر سے زائد ہے ایران نے امریکی F-35 جہاز کو نشانہ بنایا جس کے بعد امریکی پائلٹس کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں جب کہ عنقا3 میں کوئی پائلٹ نہیں ہوتا دلچسپ بات ہے کہ یہ دشمن کے خطرناک علاقے میں گھس کر خود کار طریقے سے AI مدد سے ہدف کو تلاش کرکے مار سکتا ہے یہ 1200 کلومیٹر سے زائد تک سفر کرسکتا ہے 1700 کلوگرام تک پے لوڈ اٹھا سکتا ہے اپنے ساتھ دیگر کیمیکاز ڈرون کیری کرسکتا ہے جن کو بوقت ضرورت لانچ کرسکتا ہے ! ترکی ڈرون ٹیکنالوجی میں یقینا بادشاہ بنتا جارہا ہے! #غلام_نبی_مدنی

Ghulam Nabi Madni

20,810 просмотров • 3 месяцев назад

آج ایران جل رہا ہے بموں سے نہیں، ڈالر کی ایرانی ریال کے مقابلے میں آسمان چھوتی قیمت سے۔ وہ ایرانی economy جسے دہائیوں کی امریکی Sanctions نہ توڑ سکیں، آج کرنسی کے انہدام نے زمین بوس کر دیا ہے۔ ایک ڈالر ساڑھے تیرہ لاکھ ایرانی ریال تک جا پہنچا ہے، مہنگائی 50 فیصد سے اوپر ہے، اور عوام کا صبر جواب دے چکا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایران بھر میں سڑکیں بھر گئی ہیں۔ یہ احتجاج کسی سیاسی جماعت کا نہیں، یہ ایک کرنسی سے جنم لینے والی بغاوت ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ، تاجر، عام شہری اور Gen-Z ایک ساتھ سسٹم کے خلاف کھڑے ہیں۔ بازار بند ہیں، گرینڈ بازار خاموش ہے، اور ریاستی رعب ٹوٹتا نظر آ رہا ہے۔ مطالبات اب صرف مہنگائی تک محدود نہیں رہے بلکہ حکمرانی کی جوازیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ایران ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں معیشت، سیاست اور سماج تینوں بیک وقت بحران میں ہیں۔اس گہرے سیاسی اور معاشی بحران کی مکمل تصویر دیکھنے کیلئے On My Radar کا مکمل وی لاگ یوٹیوب پر ضرور دیکھیں۔

Kamran Khan

64,596 просмотров • 7 месяцев назад

سُپر اسٹور کے سیلز مین اور بلی کی روزانہ کی ملاقات نے سب کو حیران کر دیا ترکی میں پیش آنے والا ایک دل کو چھو لینے والا واقعہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ کہانی ایک دکان کے مالک فرحات حیات اور ایک آوارہ بلی کے درمیان غیر معمولی تعلق کی ہے، جو وقت کے ساتھ محبت، مانوسیت اور وفاداری کی ایک مثال بن گیا۔ ہر صبح ایک بلی مستقل طور پر اسی دکان پر آتی ہے۔ وہ کسی خوف یا جھجھک کے بغیر سیدھا کاؤنٹر کے قریب پہنچتی ہے، جیسے وہ اس جگہ کو اپنا گھر سمجھتی ہو۔ دکان کے مالک فرحات حیات بھی اسے پہچانتے ہیں اور اس کے ساتھ اسی اپنائیت سے پیش آتے ہیں جیسے کوئی پرانا شناسا ہو۔ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ بلی کاؤنٹر کے قریب آ کر ان سے لپٹتی ہے، گلے لگ جاتی ہے، ان کے گرد گھومتی ہے اور بعض اوقات ان کی گود یا قریب بیٹھ کر سکون محسوس کرتی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ بلی عرصہ دراز سے اسی علاقے میں رہ رہی ہے اور وقت کے ساتھ دکان کے مالک نے نہ صرف اسے کھانا دینا شروع کیا بلکہ اس کے لیے ایک طرح کی مستقل شفقت اور دیکھ بھال کا ماحول بھی پیدا کیا۔ یہی تعلق رفتہ رفتہ ایک عادت نہیں بلکہ ایک جذباتی رشتے میں بدل گیا، جہاں بلی روزانہ کی بنیاد پر اپنی موجودگی درج کراتی ہے۔ یہ منظر جب سوشل میڈیا پر آیا تو دیکھنے والوں نے اسے بے حد پسند کیا۔ لوگوں نے اس میں جانوروں کی فطری وفاداری، احساس اور محبت کو سراہا۔ بہت سے صارفین نے کہا کہ جانور انسانوں کی طرح حساب کتاب نہیں کرتے، وہ صرف احسان کو محسوس کرتے ہیں اور اس کا جواب اپنی معصومیت سے دیتے ہیں۔ یہ ایک طرف انسان اور جانور کے درمیان فطری تعلق کی خوبصورت جھلک ہے تو دوسری طرف ایک تلخ سماجی حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ بعض اوقات انسان ہی وہ مخلوق ہے جو احسان کو بھلا دیتا ہے، جبکہ بے زبان جانور بھی اپنی حد تک وفاداری اور وابستگی کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔ شاید احساس اور وفاداری صرف زبان کی محتاج نہیں، بلکہ یہ دل کی وہ زبان ہے جو کبھی کبھی انسانوں سے زیادہ جانور بہتر انداز میں بول لیتے ہیں۔ #AajNews #Turkey #Viral #Heartwarming #HumanInterest #SocialMedia #Trending #WorldNews #Inspiration

Aaj TV Urdu

25,293 просмотров • 3 месяцев назад