Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

وائرل اندرون سندھ: سندھ یونیورسٹی جامشورو کی طلبا پوائنٹ بس ڈرائیور غریب طلبا سے پیسوں کا تقاضہ کرنے لگے، طلبا کے انکار پر پوائنٹ بس ٹول پلازا سے یونیورسٹی واپس لے گیا۔ ڈرائیور نے پیسے مانگے طلبا نے دینے سے انکار کیا تو وہ پوائنٹ بس طلبا سمیت واپس...

28,210 görüntüleme • 7 ay önce •via X (Twitter)

5 Yorum

Adil badshah profil fotoğrafı
Adil badshah7 ay önce

Interior sindh ka Sindhi karaya detay hain? Just asking

Sohail Akhter Khan profil fotoğrafı
Sohail Akhter Khan7 ay önce

Ask Bhutto for help

Joe Jay profil fotoğrafı
Joe Jay7 ay önce

These are University of sindh official buses, Official time of buses are 3 pm. Those points(buses) are absolutely free(In semester Fees included). But when buses went to bring evening shift staff and management do these type of corruption they ask student for payment.

A B Francis profil fotoğrafı
A B Francis7 ay önce

اتار لیتے جوتی اور سبق سکھا دیتے

Rumi Elia profil fotoğrafı
Rumi Elia7 ay önce

@AbroDaud2 @Rukhsnahalepoto is mahajir kallu bus wale ko jail men dalwao

Benzer Videolar

میں ،قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں پشتون طلباء پر پنجابی طلباء کےمسلح حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتاہوں۔ میں سوال کرتاہوں کہ کیا پنجاب کی حکومت اپنےایجنٹوں کے ذریعے پُرامن پختون طلباءکودہشت گردی کانشانہ بناکرپختون پنجابی فساد کراناچاہتی ہے؟ گزشتہ روز قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں تقریباً200 پنجابی طلباءکےگروپ نے پختون طلبا کےایک گروپ پرحملہ کیا، پھرجمنازیم کےسامنےموجود پختون طالب علموں پر مسلح حملہ کیاجس کے نتیجے میں متعددپختون طالب علم شدیدزخمی ہوگئے۔ پنجابی طلبا نے کیمپس میں دہشت پھیلا دی، آتشی ہتھیاروں کا استعمال کرکےمعصوم طلبا کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالااور پرامن ماحول کو خراب کیا،ہاسٹل میں پختون طلبا کے کمروں میں توڑپھوڑ کی اورآگ لگا کر یونیورسٹی کی املاک کو نقصان پہنچایا۔ میں تمام بڑے بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے سینئر اور نامی گرامی پنجابی صحافیوں، اینکر پرسنز، دانشوروں، کالم نگاروں اور یوٹیوبرز سے یہ بھی سوال کرتا ہوں کہ جب بلوچستان میں بے گناہ ومعصوم پنجابیوں کا ناجائز قتل کیا جاتا ہے تو آپ سب یک زبان ہوکراس کی مذمت کرتے ہیں لیکن جب قائداعظم یونیورسٹی میں معصوم پختون طلبا پر 200پنجابی طلبا نے حملہ کرکے نہ صرف انہیں زخمی کیاجو زیرعلاج ہیں بلکہ ہاسٹل میں موجود ان کے کمروں کوآگ بھی لگادی ۔کیا آپ اس عمل کودیکھ کریہ کہہ سکتے ہیں کہ بلوچستان میں جوبے گناہ پنجابیوں کاقتل ہوا وہ جائز تھا؟ اگر نہیں تو پھر آپ نے اب تک 200پنجابی طلبا کےاس ظالمانہ تشدد، توڑپھوڑ اور آگ لگانے کے واقعے کی مذمت کیوں نہیں ؟ اس سےقبل بھی پختون طلبا کوبلاجواز تنگ کیاجاتا رہاہےاور انہیں ہراساں کرکےتعلیمی امن سبوتاژکرنےکوشش کی جاتی رہی ہےجوکہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ میں تمام طلباء سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ صبرو تحمل کامظاہرہ کریں اور پرامن رہ کرتعلیمی ادارے کا امن خراب کرنے اور پختون پنجابی فساد کرانے کی سازش کو ناکام بنادیں۔ میں قائداعظم یونیورسٹی میں مسلح حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے پختون طلباء کی جلدومکمل صحت یابی کیلئے دعا گو ہوں۔ الطاف حسین

Altaf Hussain

18,599 görüntüleme • 1 yıl önce