Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

واہ چاچو ایکبار پھر دل جیت لیا👇 وزیراعظم کا بورڈ آف پیس اجلاس سے تاریخی خطاب، "آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے قیام کے لئے ناگزیر ہے۔ اب وقت آ گیا ھے کہ فلسطینیوں پر ہوئے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔ ایسا اصولی اور جراتمندانہ...

57,244 görüntüleme • 6 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

گلوبل صمود فلوٹیلا 2.0 پر صیہونی اسرائیل نے حملہ کر کے فلوٹیلا مسافرین کو یرغمال بنا لیا ہے جس میں پاکستان کے سابق سینیٹر اور پاک فلسطین فورم کے سرپرست مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں!!! اب اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ پاکستانی عوام جہاں کہیں بھی ہے حکومت پر اور اداروں پر دباؤ ڈالے اور یہ یقینی بنائے کہ حکومت اور ادارے اسرائیل کی طرف سے پاکستانی شہری کے خلاف کی گئی فسطائیت کا جواب دے، بلکہ اس کے رد عمل میں اقدام کریں جس میں سینیٹر صاحب کی بازیابی اور سفارتی اور ہر ممکن میدان میں ناجائز اسرائیلی ریاست کو رسوا کرنا ہے!!! یاد رہے کہ پاکستان ابھی بھی اس پیس بورڈ کا حصہ ہے جس کے ہوتے ہوئے اسرائیل کی طرف سے کھلے عام فلسطینیوں پر ظلم جاری رہا اور روزانہ کہ بنیاد پر فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔ اب اسی پیس بورڈ کے ہوتے ہوئے اسرائیل عالمی واٹرز کی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرکے فلوٹیلا پر حملہ کرچکا ہے!!! اٹھیں اور کم از کم اپنے مسلمان پاکستانی کے لیے آواز اٹھائیں اور اپنا کردار ادا کریں! #ReleaseSenatorMushtaq #ReleaseGSFActivists

Pak - Palestine Forum

13,925 görüntüleme • 4 ay önce

عالمی سیاست زبردست کروٹ لے رہی ہے ’’ریاستِ فلسطین‘‘ کا خواب اب حقیقت بننے جا رہا ہے؟! صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 21 نکاتی پلان نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ آج کا on my radar vlog اس پیش رفت کی تفصیلات آپ کو سمجھائے گا کہ کسطرح صدر ٹرمپ کے تشکیل کردہ امنصوبے کے تحت پانچ سالہ عبوری سیٹ اَپ “غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی” قائم ہوگی، جس کی قیادت سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کریں گے۔ مقصد یہ ہے کہ غزہ کی جنگ اور انسانی المیے کو ختم کرکے آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جائے۔اقوام متحدہ کے اجلاس میں کئی مغربی ملک فلسطین کو تسلیم کرچکے ہیں، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسی ریاستوں کا شامل ہونا ایک بڑی تبدیلی ہے۔ فرانس کے صدر نے اعلان کیا کہ ’’غزہ میں امن اب قریب ہے۔‘‘ دنیا دیکھ رہی ہے کہ اسرائیل سفارتی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے جبکہ فلسطینی ریاست کے امکانات روشن ہو رہے ہیں۔ یہ لمحہ صرف فلسطین کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا امتحان ہے اس انتہائی دلچسپ معلوماتی On My Radar vlog کا مکمل version۔ دیکھنے کے لئے اس YouTube link کلک کریں

Kamran Khan

26,359 görüntüleme • 11 ay önce

دنیا اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں بین الاقوامی قوانین کھلم کھلا پامال ہو رہے ہیں۔ غزہ ایک کھلی جیل بن چکا تھا، جہاں فلسطینی عوام پر ظلم، نسل کشی اور تباہی مسلط کی گئی، اور ان کی مزاحمت ایک جائز حق ہے۔ اسرائیلی قیادت، بالخصوص نیتن یاہو، عالمی قوانین کو تسلیم نہیں کرتی اور خطے کے مختلف ممالک پر مسلسل جارحیت کرتی رہی ہے۔ امن کے نام پر پیش کیا جانے والا نیا “پیس بورڈ” درحقیقت فلسطینیوں کو غیر مسلح کرنے اور ان کے حقِ آزادی کو سلب کرنے کی کوشش ہے۔ اس بورڈ میں فلسطینی عوام کی کوئی نمائندگی موجود نہیں، جبکہ اس کی قیادت متنازع عالمی شخصیات کے ہاتھ میں دی جا رہی ہے۔ پاکستان نے پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر اس عمل میں شمولیت اختیار کر کے اپنی ساکھ اور قومی وقار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کو کمزور کرنے اور اسلامی اصولِ “نفیِ سبیل” کے بھی منافی ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے، اس فیصلے پر تفصیلی بحث کی جائے، اور اس نام نہاد پیس بورڈ کے خلاف قرارداد منظور کی جائے۔ یہ مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پاکستان، اس کے عوام، دینِ اسلام، غیرت اور قومی حمیت کا معاملہ ہے۔ (پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب)

Senator Allama Raja Nasir

11,343 görüntüleme • 7 ay önce

جمعیت علماء اسلام تسلسل کے ساتھ فلسطینیوں کے موقف کو درست سمجھتی ہے،آج بھی اپنے اس موقف کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں،فلسطینی مجاہدین کا اسرائیل پر حملہ تاریخی کامیابی اور تاریخی معرکہ ہے کہ اپنے علاقوں کو اسرائیل کے غاصبانہ قبضے سے چھڑایا ہے، دنیا سمجھ رہی تھی کہ مسئلہ فلسطین مردہ بن چکا ہے، اس حملے نے اسرائیل کے دفاعی نظام اور ان کے گھمنڈ کو زمین بوس کردیا ہے،یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اسرائیل کوئی بڑی قوت نہیں بلکہ اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، فلسطینی بھائیوں سے اپیل ہے کہ انسانی حقوق کا احترام کریں،بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کو تکلیف نہ پہنچائیں اور ثابت کریں کہ اسلام اور مسلمان کیسے انسانی حقوق کا تحفظ کرتا ہے، اقوام متحدہ اپنا فرض پورا کرے اور 1967 کی قراردادوں پر عملد رآمد کرواتے ہوئے بیت المقدس کو مسلمانوں کے حوالے کرے، اسکے علاؤہ او آئی سی کا فوری اور بھرپور اجلاس طلب کیا جائے،جہاں مشرق وسطی میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کی منصوبہ بندی کی جائے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطین کوتسلیم کئے بغیر اور انکا ملک ان کے حوالے کئے بغیر مشرق وسطی میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔۔ اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر جے یو آئی اہل فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے آئندہ جمعے کو ملک بھر میں ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں مظاہروں کا اعلان کرتی ہے،پوری قوم مظاہروں میں شریک ہوکر امت کے جسد واحد ہونے کا ثبوت پیش کریں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

248,594 görüntüleme • 2 yıl önce

الحمداللہ بات یہاں تک آ گئی ھے کہ چاچو کے لئے چناؤ کرنا مشکل ہو رہا کہ کس عالمی رہنماء کو مدعو کیا جائے اور کس کو موخر کیا جائے👇 الحمدللہ اب ہم مشکلات سے نکل چکے ہیں استحکام حاصل ہو چکا ہے تمام کوششیں ترقی کی جانب ہیں. پاکستان جسے تین برس پہلے تک عالمی برادری میں سفارتی طور پر تنہا سمجھا جا رہا تھا اب ہم عالمی برادری کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ چل رہے ہیں۔الحمدللہ اب تو وزیراعظم پاکستان کے لیے یہ چناؤ بھی مشکل ہوتا ہے کہ کس معزز مہمان کو دعوت دی جائے اور کس کو موخر کیا جائے۔ ہم پہلے اقوام متحدہ میں ایک ووٹ سے کامیاب ہوئے تھے لیکن اب ہم پانچ کے مقابلے میں 182 ووٹ سے کامیاب ہوئے یہ سب عالمی برادری کا ہمارے اوپر اعتماد کا ثبوت ہے وزیراعظم کی زیر قیادت ہم ہر جگہ نہایت فعال طور پر شریک ہیں اور اپنے حصے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ہم اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مربوط ہیں ہم عالمی سطح پر سرگرم ہیں اور اصولوں کے مطابق عمل کر رہے ہیں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ڈیووس میں پاکستان پویلین میں تقریب سے خطاب #Davos2026

چوہدری شاہد محمود

13,971 görüntüleme • 7 ay önce

ڈوب کے مر جانا چاہیے کہ انڈونیشیا کا صدر کہتا ہے کہ ہم اپنی بورڈ آف پیس کی ممبرشپ کو سسپینڈ کر رہے ہیں، لیکن پاکستان ابھی تک اس بورڈ آف پیس میں بیٹھا ہوا ہے، کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟ ​کیونکہ وہی بورڈ آف پیس تو ہم لا رہے ہیں ایران کے اوپر، وہی بورڈ آف پیس تو ایرانیوں کا، ہمارے مسلمان بھائیوں کا خون بہا رہے ہیں، لیکن ہم ادھر بے شرمی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، شہباز شریف صاحب پتا نہیں کس کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ​اس طرح مزید نہیں چلے گا، اپنی فارن پالیسی، اور میں آپ کو یہ بھی بتاؤں کہ جب ایران کے اندر یہ سب کچھ ہو رہا تھا اور پارلیمنٹ میں اس پہ ڈیبیٹ ہو رہی تھی تو پچاس بندے پارلیمنٹ کے اندر نہیں بیٹھے ہوئے تھے، پچاس بندے، اقبال آفریدی نے کل کورم پوائنٹ آؤٹ کیا، بندہ ہی نہیں تھا کوئی، لیکن مزے کی بات یہ ہے زبیر بھائی کہ اس سے ایک دن پہلے یہی ہاؤس ایک میسٹیریس (mysterious) طریقے سے ممبران آ جاتے ہیں۔ ​ہاؤس کے ایجنڈے کے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، پھر ایک ممبر حکومت کا کھڑا ہو جاتا ہے، وہ کہتا ہے یہ ہم نیب ترمیمی بل لے کے آ رہے ہیں، اور پھر سارے اس کو دو منٹ میں اس طرح وہ پاس ہو جاتا ہے، اور وہ نیب کے چیئرمین کا آخری دن تھا ایز اے ٹینیور (tenure) اس کو مزید ایکسٹینشن (extension)، پورے ملک کو انہوں نے ایکسٹینشنز پہ ڈالا ہوا ہے، پورے ملک کو، اس ملک میں کون ہے جس کو ایکسٹینشن نہیں ملی ہوئی؟ ​ہر ایک ملک میں، میں کہتا ہوں یہ حکومت، یہ ریاست، عمران خان کی میڈیکل رپورٹ سے لے کر افغانستان سے لے کر ایران کے ساتھ، ہر ایک چیز کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

15,765 görüntüleme • 6 ay önce

باجوڑ امن کے لئے نکلنے والوں کو سلام۔ میرے پاکستانیو آپ کو اندازہ نہیں کہ مارٹر گولو، گن شیپ ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کے سائے میں امن کی آواز اٹھانا کتنا مشکل ہے۔ بندوق کی نالی کے سامنے عدم تشدد کا نعرہ بلند کرنے کے لیے کتنی جرات درکار ہوتی ہے۔ امن کے لئے متحد کرنے والے بغیر اشتہار اور بینر پوسٹر کے مہم کیسے چلاتے ہیں۔ جب “ریاست” ہی امن کے بجائے جنگ کا فیصلہ کر چکی ہو تو پھر جنگ روکنا اور اپنے گھر بچانا کتنا مشکل ٹاسک ہے۔ اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ امن کا ساتھ دو اور جو ساتھی یہ مشکل ترین کام کر رہے ہیں ان کی آواز بنو۔ اگر یہ کامیاب ہو گئے تو ان کی کوشش آپ کے گھروں کو بھی اس آگ سے بچا لے گی جس کی تپش نے ہمارے گھر راکھ کیے تھے تو جھلسے آپ کے آنگن بھی تھے۔ دوسرا اہم معاملہ کہ امن تحریک اور جرگوں کی امن کے لیے لاکھوں کی تعداد میں مارچز دیکھ کر اب اپنے مقاصد کے لئے ان ہی ناموں (جرگہ وغیرہ) کو قانون سازی اور میڈیا بیانیہ کے لئے استعمال کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔ ہم نے زمانہ طالب علمی میں آپریشن اور ڈالری جنگ کے خلاف آواز اٹھائی اور امن کا نعرہ بلند کیا تو فوج نے امن کے نام پر امن کمیٹیز بنا دیں جن کی حقیقت پختونخواہ کا ہر شہری جانتا ہے۔ حال ہی میں ہم نے جرگے کر کے امن تحریک سے نئی جنگ کا منصوبہ مالاکنڈ میں ناکام بنایا اور اسی طرز پر اب ہر ضلع میں امن کے قیام کے لئے جرگے کر کے امن مارچز کیے تو آئی ایس آئی اور فوج اب وفاق کی طرف سے قانون سازی سے لے کر آپریشن کے لیے راہ ہموار کرنے اور ہمارے جنازوں تک کے لیے جرگہ کا نام استعمال کرنے لگی ہے۔ نام نہیں طریقہ کار بدلو۔ پالیسی بدلو۔ یہ کھیل بند کر دو۔ ہمارا قومی جرگہ وہی ہے جو امن کا پرچم تھامے اس ڈالری جنگ کے خلاف نکل رہا ہے۔ اس کے علاوہ سابقہ فاٹا کے لیے نئی قانون سازی میں جرگہ کا عنوان دے کر یا کسی شہری پر گولی چلانے کے بعد سیف ہاوس میں پانچ افراد سے مل کر میڈیا کو جرگے کے ٹکرز جاری کرکے آپ اس کو ہماری قوم کا فیصلہ نہیں کہہ سکتے۔ امن تحریک، قومی جرگے کا بیانیہ واضح دو ٹوک اور لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں بیچ چوک گونج رہا ہے کہ آپریشن نا منظور، ڈالری جنگ نا منظور، وسائل پر قبضہ نامنظور، نیا تجربہ نا منظور۔ یہ بھی قوم نوٹ فرما لے کہ امن اور جرگے کے نام پر مختلف آوازوں کو فوج کی طرف سے ہدایات مل گئی ہے لہذا تمام ساتھی آنکھ اور کان کھلے رکھیں، اپنی تحریک کو تمام سیاسی و نظریاتی وابستگیوں سے بالاتر رکھنا ہے۔ امن کی آوازوں کو دھمکیوں اور ٹارگٹ کلنگ کے بعد اب تقسیم کی کوشش بھی تیز ہے سو متحد رہیں تقسیم کی صورت یہ اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوں گے۔ اسلام آباد مارچ کے حوالے سے تین اضلاع کے قومی جرگوں کا فیصلہ آگیا ہے باقی جرگوں کے فیصلے کے بعد حتمی اعلان کیا جائے گا، اسلام آباد مارچ بھی امن کے پرچم کے سائے تلے ہوگا اور سیاست سے بالاتر ہوگا۔ تیسری بات صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا ہے میں تمام اراکین اسمبلی کو یاد دلاتا چلوں کہ جب دہشت گردی کی اس نئی جنگ کو ہم پر تھوپنے کا آغاز ہوا تو پی ٹی آئی نمائندوں کو نشانہ بنانا بھی اس کا حصہ تھا جس کا آغاز ملک لیاقت علی پر قاتلانہ حملے سے ہوا جس میں وہ شدید زخمی اور ان کے خاندان کے افراد شہید ہوئے۔ ہم نے مشکل ترین حالات میں تحریک چلائی، اس وقت بہت سارے اراکین کو دھمکیاں مل چکی تھیں خوف کے بادل منڈلا رہے تھے لیکن میں نے خود کو بے گھر کیا اور آج آپ سمیت الحمد اللہ لاکھوں لوگ اپنے گھر میں محفوظ ہیں۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جن علاقوں میں آج امن ہے یہ آپ کے پاس امانت ہے اور اس کی حفاظت آپ کی زمہ داری اور جہاں یہ آگ پھیل چکی اس آگ کو بجھانا اور قوم کا ساتھ دینا آپ کا فرض ہے۔ آپریشن، ڈرون حملے اور ڈالری جنگ کے خلاف اقدام اٹھانا آپ کی ذمہ داری ہے کیونکہ عمران خان کا موقف واضح ہے اور ان کے نام پر آپ کو ووٹ ملا۔ اس لیے واضح طور پر بتا دوں کہ امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں، قوم پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔

Murad Saeed

163,027 görüntüleme • 1 yıl önce

پاکستانی اشرافیہ کے بچوں کا پروٹوکول اور ڈالہ کلچر ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے معاشرے میں عام لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر رہی ھے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کر رہی ھے۔ ایسے شاہانہ پروٹوکول طبقاتی تقسیم کو ننگا کرتے ہیں۔ جب عام آدمی کا بچہ سکول جاتے ہوئے ٹریفک میں پھنس جاتا ہے، یا بیمار ہو کر سرکاری ہسپتال کے باہر گھنٹوں انتظار کرتا ہے، تو اسی وقت اشرافیہ کے بچے سرکاری گاڑیوں کے جھنڈوں، مسلح محافظوں اور پولیس کی سرخیاں بچھا کر سڑکوں پر بادشاہوں کی طرح گھوم رھے ہوتے ہی۔ یہ پروٹوکول صرف حفاظت کا نام نہیں، بلکہ ایک نمائشی طاقت اور مراعات کا کھیل ہے۔ بچوں کی تعلیم اور علاج کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مفت سہولیات، سرکاری وسائل پر بیرون ملک دورے اور شاپنگ، ٹریفک روک کر راستہ صاف کرانا، جبکہ عام شہری کی ایمبولینس کو بھی راستے میں کھڑا کر دیا جاتا ھے، یہ سب کس کے پیسوں سے؟؟ اسی غریب، مزدور اور متوسط طبقے کے ٹیکس سے، جس کے بچوں کو ایسا پروٹوکول تو دور کوئی بنیادی سہولیات بھی نہیں ملتی، اشرافیہ کے بچوں کو یہ حق دے دیا گیا ھے کہ پورا نظام ان کی سہولت کے لیے رک جائے۔۔ یہ مراعات نہیں، ظلم ہے۔ یہ طبقاتی تفریق ہے جو معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سوال کریں۔ کیا ایک بچے کی جان دوسرے بچے سے زیادہ قیمتی ہے صرف اس لیے کہ اس کے والد کی کرسی اونچی ہے؟ یا وہ بہت پیسے والا ھے؟ یا پھر اسکے والد کے بہت تعلقات ہیں؟ آئین پاکستان کے مطابق امیر غریب سب برابر ہیں۔ تو پھر یہ سب کیوں؟ خدارا یہ پروٹوکول ختم کریں، مراعات ختم کریں اور وسائل کو عام عوام تک پہنچائیں جہاں سے یہ آئے ہیں۔ #طبقاتی_انصاف #پروٹوکول_ختم_کرو

چوہدری شاہد محمود

17,651 görüntüleme • 7 ay önce

دھرتی ماں کا انتقام۔۔۔!!! " کسی نہتے قیدی کی بدعا عرش تک یقینا ضرور پہنچی ھوگی جو استقامت اور صبر و عجز کا پہاڑ ھے جو راہ حسینیت کا مجاھد ھے جو اتنا عظیم بن چکا ھے کہ عظمت بھی گھبرا اٹھی۔۔۔یہ ریاست اسکے صبر و استقامت کا بوجھ اب شاید نہ اٹھا سکے ۔۔ اب 80 سالہ قائم عالیشان محل میں دراڑیں ڈلنے جارھی ھیں ۔۔۔زمین بوس ھونے کیلیے تیار یہ عالیشان محل دھڑام سے ضرور گریگا جسکے گرنے کی اوازیں دور دور تک جائیگی اس محل کے مکینوں پر خوف طاری شروع ھوچکا دھشت سے گھگیاں بندھ چکی ھیں نہ جانے کیا ھوجایے کی بلا انکے سر پر سوار ھے۔۔اب انکی باری ھے عوام اپنی باری گزار چکی ۔۔اسکی چکی بہت باریک پیستی ھے چکی کے چلنے کی اواز اب بہروں کو بھی آنا شروع ھے ۔زمین اور ریاست کا مالک فقط رب العالمین ھے کوئی بندہ بشر نہیں ۔یہ سب کچھ اسی کی ملکیت ھے ۔۔زمین پر عزت اسی کیطرف سے ھوتی ھے فنا بھی وھی کرتا ھے ۔یہ صرف ڈھیل دی جاتی ھے ملکیت نہیں ۔۔البتہ مائی زمین۔۔ نصیب والوں کو چند گز ضرور دے دیتی ھے۔۔۔ورنہ فقط دانت ھی مل پاتے ھیں ۔۔۔جو عبرت پکڑ لے تو پکڑ لے ورنہ عبرت ھی غائب ھوجاتی ھے۔۔۔۔اور لگتا یہی ھیکہ وہ غائب ھوچکی ھے ۔۔اب کرداروں کے غائب ھونے کا وقت شروع ھوا چاھتا ھے ۔۔۔زمین نجس اور ناپاک وجودوں کو تہس نہس کردیتی ھے اور زمین یہی کرنے جارھی ھے اسے حکم مل چکا ھے زمین کے خزانوں کی کنجیوں کے مالک اور علم کے شہر ْﷺ کی دعا سے بننے والی ریاست کیلیے علم کے دروازے ابو تراب نے یعنی مٹی کے باپ مولا علی عل نے یہ فرمایا تھا کہ کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ھے مگر ظلم کی نہیں ۔

ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀)

13,307 görüntüleme • 9 gün önce

مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے،قائد اعظم نے اقوام متحدہ کی تجویز کو مسترد کرکے امریکی صدر کو خط لکھا تھا کہ فلسطین کو دو ریاستی تصور کے ساتھ قبول نہیں کرسکتے لیکن نگران وزیر اعظم نے جو دو ریاستی تصور پیش کیا وہ قائد اعظم کے موقف کی نفی ہے،اگر امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کی حمایت میں کھلم کھلا بیان دے سکتا ہے تو کیا ہم فلسطین کی حمایت کا حق نہیں رکھتے،امریکہ اور برطانیہ براہ راست فلسطین میں اپنی فوجیں لے کر آگئے ہیں، یہ لوگ حماس کے مجاہدین کے ساتھ جنگ نہیں کر رہے بلکہ براہ راست بلا تفریق غزہ شہر پر حملے کئے جا رہے ہیں،ہسپتالوں اور سکولوں پر حملے کر رہے ہیں،اسرائیل جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے، وہ جنگی مجرم ہے، اسرائیل اور ان کے آقاؤں کے جمہوری دعوے جھوٹے اور مکاری کے لئے ہیں، دوسری جانب مسلم اُمّہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑے جس طرح مغربی دنیا اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم نے او آئی سی کے سربراہی اجلاس کا مطالبہ کیا جس کے جواب میں سعودی عرب نے اجلاس طلب کیا ہم ان کے شکر گذار ہیں،لیکن اجلاس میں حماس کے نمائندوں کو بھی دعوت دی جائے ان کے بغیر یہ اجلاس نا مکمل ہے، اسلامی برادر ممالک فلسطین کے ساتھ عسکری تعاون کریں اور یہ فیصلہ بھی او آئی سی اپنے اجلاس میں کرے، جے یو آئی کا اوّل روز سے موقف فلسطینیوں کی حمایت کا رہا ہے،ہمارا موقف الیکشن کے بعد یہی ہوگا جو اب ہے, فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور فلسطینیوں کا رہے گا اس لئے قضیہ فلسطین پر فلسطینیوں سے براہ راست بات چیت کی جائے۔ جے یو آئی نے پشاور،کوئٹہ اور کراچی میں بڑے جلسے کئے،جس پر انڈیا کی میڈیا کو بڑی تکلیف ہوئی کہ جیسے ہم نے ان پر حملہ کیا ہے،انڈین میڈیا پھر گاندھی کی جدوجھد آزادی کے بارے میں کاوشوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں،ہم جو حق اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں وہ فلسطینیوں اور افغانوں کے لئے بھی جائز سمجھتے ہے،تحریکوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ مسجد اقصی ہمارا قبلہ اوّل ہے سب مسلمانوں پر اس کا حق ہے،اگر اسلامی دنیا بابری مسجد پر متحد ہوسکتی ہے تو مسجد اقصی پر کیوں متحد نہیں ہوسکتی؟

Maulana Fazl-ur-Rehman

165,991 görüntüleme • 2 yıl önce