Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

وردی اتار دی مگر کردار رہ گیا ہر دل میں آپ کا کردار اور خدمات کا وقار رہ گیا احمد محی الدین ڈی پی او اپنے عہدے سے ریٹائر ہوگئیں باقی پولیس والوں کیلئے یہ ایک بہت بڑا سبق ہے

29,432 views • 1 month ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

اسپیکر پنجاب اسمبلی اور ڈی پی او قصور تنازعہ میں اہم پیش رفت پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی نے ڈی پی او قصور کے خلاف انکوائری جوڈیشل کمیٹی کو ریفر کردیا، استحقاق کمیٹی کی آج کی کارروائی کے مطابق آفتاب پھلروان نے جان بوجھ کر حقائق کو کو کمیٹی سے چھپانے کی کوشش کی ،امن وا مان کی صورتحال کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا جواب نہ دے سکے، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ضلع قصور نے اپنے پی آر او کی جانب سے اسپیکر کے خلاف چلائی جانے والی سوشل میڈیا مہم سے لاعلمی کا اظہار کیا اور اسکے خلاف کارروائی نہ کرنے کا بھی اعتراف کیا۔ استحقاق کمیٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈی پی او قصور کے غیر تسلی بخش رویے اور اسپیکر کے خلاف کئی روز سے جاری کردار کشی کی مہم میں اپنی لاتعلقی ثابت نہ کرنے سے اسپیکر اور کمیٹی کا استحقاق اور وقار مجروح ہوا ہے۔ تحریک استحقاق پیپلزپارٹی کے رکن پنجاب اسمبلی سید علی حیدر گیلانی کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ کمیٹی کے سامنے آئی جی پنجاب،آر پی او شیخوپورہ اور ڈی پی اور قصور پیش ہوئے۔

Muhammad Umair

27,626 views • 3 months ago

مجھے فیصل آباد یونیورسٹی کا ایک واقعہ یاد آیا جس میں کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کے ایچ او ڈی کی جگہ سیاسی اثرورسوخ استعمال کر کے کسی اور لگانا تھا وہ صاحب عہدہ چھوڑنے اور کسی دھمکی میں آنے تیار نہیں تھے پھر ایک سٹوڈنٹ سے ان کے خلاف ہراسمنٹ کی درخواست ڈلوا دی گئ۔ شریف آدمی تھا پہلے گھبرا گیا، اپنے تمام سوشل میڈیا بھی ڈی ایکٹیویٹ کر دیے ۔ پھر ہمت پکڑی اور فیصلہ کیا کہ میں اس ہراسمنٹ کمپلینٹ کو فیس کرونگا انہیں کمپلینٹ کے فیصلے تک معطل کر دیا گیا اور تقریبا ایک سال بعد وہ معصوم ثابت ہوے، بچی نے بھی بتایا کہ اسے استعمال کیا گیا اور یوں وہ باعزت اپنے عہدے پر بحال ہوے۔ میں نے یہ سٹوری کور لی تھی لیکن کیس میرے پاس بچی کے حوالے سے آیا تھا۔ اس کیس میں بھی ججوں صاحب کے خلاف جو ہراسمنٹ کمپلینٹس، جن کا دعوی کیا جا رہا ہے آئی ہیں تو وہ سامنے لانی چاہیں، جدون کو عہدے سے ہٹایا گیا اور میڈم اینا کو وہ عہدہ دیا گیا اس کا نوٹیفکیشن بھی سامنے آنا چاہیے۔ یونیورسٹی بنی ہراسمنٹ کمیٹی کی تفصیلات اور رہورٹس سامنے آنی چاہیں۔ اور جن طلباء کو ججوں صاحب بقول میڈیا اور ادارے کے فیور دیتے رہے اس کی تفصیل بھی پبلک کر دیں۔ جب فیکلٹی چیٹس پبلک ہو سکتی ہیں تو یہ سب پبلک ہونا بہت ضروری ہے۔

Saddia Mazhar|سعدیہ مظہر

11,665 views • 1 month ago