Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

وزیر اعظم کو خیبرپختونخواہ کا دورہ کرنا چاہیے،ان کی جماعت کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں 18 ارکان ہیں،شاید ان کو پتہ بھی نہ ہو،ان کو چاہیے ہم سے ملیں،ہمارے ووٹرز،صوبے کے عوام کی خاطر آجائیں

22,526 просмотров • 4 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

ویڈیو میں سڑک پر لگائے جانے والے کیل دیکھیں، اس کا کیا مطلب ہے؟ خیبر پختونخوا کا بارڈر جہاں سے شروع ہوتا ہے وہاں پر کیل لگائے گئے ہیں۔ تو اس کا مطلب خیبر پختونخوا کے عوام یہ سمجھیں کہ خیبر پختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی سازش ہو رہی ہے۔ جس طرح مسلسل پچھلے ایک مہینے سے یہ بیانیہ بنایا جا رہا تھا کہ ہمیں انڈیا سے خطرہ نہیں ہے، باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے۔ جس طرح مسلسل کچھ وزرا یہ بات کر رہے تھے کہ خیبر پختونخوا کے لوگ دہشت گرد ہیں، جنگلی ہیں، تو کیا یہ ہم سمجھیں، خیبر پختونخوا کی عوام یہ سمجھے کہ پاکستان کو توڑنے کی سازش پر باقاعدہ کام شروع ہو گیا ہے؟ اس ویڈیو کے باقی حصے میں آپ نے دیکھا کہ ایک صوبے کے سرکاری لوگ دوسرے صوبے میں گھس کر یہاں کے سرکاری لوگوں کے ساتھ گتھم گتھا ہو رہے ہیں، تو ہم اس کا کیا مطلب سمجھیں؟ کیا یہاں پر کسی اور صوبے کی پولیس، کسی اور صوبے کی ایڈمنسٹریشن لانچ ہونے جا رہی ہے؟ ان شاء اللہ تعالیٰ یہ ان کی چالیں ناکام ہونگی، یہ کیلیں، ان کے تابوت پر آخری کیل ثابت ہونگی، ان شاء اللہ تعالیٰ، کیونکہ پاکستان کسی صورت نہیں ٹوٹے گا اور ہم بچائیں گے پاکستان کو۔ وزیراعلی سہیل آفریدی کی خیبرپختونخوا اور پنجاب کے بارڈر پر انتظامیہ کی جانب سے جاری بدترین بندشوں کو سامنے رکھتے میڈیا سے گفتگو

PTI

102,124 просмотров • 12 дней назад

جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

30,044 просмотров • 6 месяцев назад

بازار میں کم آؤ - بال نہ کٹواؤ - عورتوں کو گھر میں بند رکھو - شیو نہ کرو - لڑکیوں کو سکول نہ بھیجو - سرخی پاؤڈر نہ لگاؤ - ہمیں پیسے دو یہ ہے فتنہ الخوارج کی سوچ - اگر آپ ان خوارجین کے خاتمے میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ نہیں ہوں گے تو ان کے خود ساختہ اسلام کی تشریح میں یہ خوارجی آپ کا مستقبل تباہ کر دیں گے بنوں کے علاقے ڈومیل میں کمانڈر نصیر عرف گیدڑ کے خوارجین نے دھمکی آمیز ویڈیوز جاری کی ہیں۔ یہ ویڈیوز لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کرنے کے مقصد سے نشر کی گئی ہیں۔ عوام کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی کسی بھی قسم کی معاونت یا تعاون دراصل خود مقامی افراد کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر خوارج کو مکمل موقع ملا تو وہ نہ صرف عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کریں گے بلکہ ان کے تحفظ اور سلامتی کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ شہری خوارج کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دیں۔

Hawk's Eye

48,457 просмотров • 7 месяцев назад