Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ویڈیو میں سڑک پر لگائے جانے والے کیل دیکھیں، اس کا کیا مطلب ہے؟ خیبر پختونخوا کا بارڈر جہاں سے شروع ہوتا ہے وہاں پر کیل لگائے گئے ہیں۔ تو اس کا مطلب خیبر پختونخوا کے عوام یہ سمجھیں کہ خیبر پختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی سازش...

99,944 просмотров • 1 день назад •via X (Twitter)

Комментарии: 14

Фото профиля Štørmtröópęr Şcöōtiñ
Štørmtröópęr Şcöōtiñ1 день назад

ٹھوک دو بھئی کیل اور پار نکلو 🔨😂

Фото профиля Jalil Khan
Jalil Khan1 день назад

جو نیلے پیلے کرپٹ اور مجرم ترین اپنے پورے پروفائل میں خود کو ملک کا مالک سمجھتے ہوئے بس توڑنے، سب سے کاٹنے پے ہی لگے ہوں۔۔۔اور ان ناکام ترین نے کیا کرنا ہے۔ پچھلے سال بھی، اس سے پچھلے سال بھی پی ٹی آئی کے ساتھ، میری ذاتی زندگی میں میرے ساتھ یہ ہی انداز رکھے ہوئے ہیں۔۔

Фото профиля Rajpoot 🇵🇸❤️🇵🇰
Rajpoot 🇵🇸❤️🇵🇰1 день назад

Sasti acting na kiya kar bgert. Tera leader kehta tha ye mulak dushman hien jab tlp nikli thi

Фото профиля Nujat Khan
Nujat Khan1 день назад

27th September, Is a Zehni Mareez funeral,

Фото профиля Faisal Cheema
Faisal Cheema1 день назад

اب عمران لنگڑے کتے کے علاج اور اسکی نظر بند بہنوں کا کیا کرنا ہے؟؟؟؟

Фото профиля Bilal Rajpoot
Bilal Rajpoot1 день назад

Batein krny se kuch nahi hota

Фото профиля HABIB_ANWAR
HABIB_ANWAR1 день назад

آپ جیسے حکمرانوں نے ہمیں واپس غاروں کے زمانے میں پہنچانا ہے، دنیا سے کاٹ کر رکھنا ہے

Фото профиля UMAR.K
UMAR.K1 день назад

نواز شریف کا لوہے کا کاروبار ہے ڈبل فائدہ لے رہا عوام سے

Фото профиля Qasim Hussain
Qasim Hussain1 день назад

Sohail Bhai Phli bar acha faisal hwa h date late kr k qsm se Bhoot acha kia ap ny waqi ap test match khel rhy ho we r proud of you

Фото профиля Irfan Khan
Irfan Khan1 день назад

Good🤩👍

Фото профиля عوام ریاست ہے🇵🇰
عوام ریاست ہے🇵🇰1 день назад

یہ بیانیہ مدافعانہ نہیں بلکہ جارحانہ ہونا چاہیے۔پینڈو دانش

Фото профиля Sana.
Sana.1 день назад

Now he sounds like @ImranKhanPTI follower More and more power to you

Фото профиля Munawar Rajputᵀᵉᵃᵐ ᴵᵐʳᵃⁿ
Munawar Rajputᵀᵉᵃᵐ ᴵᵐʳᵃⁿ1 день назад

فیصلہ واضح ہے، ارادہ مضبوط ہے، منزل سامنے ہے — 27 ستمبر کا مارچ ضرور ہوگا۔ #خان_کا_حکم_ہے_مارچ_ضرور_ہوگا

Фото профиля S K
S K1 день назад

Cheif Minister KPK should immediately issue a written order to police as well as commissioners to get the roads at kpk border opened within 24 hours in the light of Islamabad high court orders.

Похожие видео

پاکستان تحریکِ انصاف کے پارلیمانی لیڈر، جس کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے، اس کو میڈیا پر بند کر دیا گیا، خیبر پختونخوا کے انفارمیشن منسٹر کو میڈیا پر بند کر دیا گیا، آج ابھی مجھے اطلاع ملی ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو کوریج دینے سے آپ لوگوں کو روک دیا گیا ہے، اس بات کا ہم کیا مطلب سمجھیں؟ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یہاں پر جتنے بھی ہمارے لوگ آئے ہیں، لیکن ابھی جو پیغام ہمیں ملا ہے، تو وہ یہ ہے کہ آپ لوگ ہماری یہ پریس کانفرنس نہیں چلائیں گے۔جو سازش چل رہی ہے، یہ بہت خطرناک ہے، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ خیبر پختونخوا کے منسٹرز کو اغوا کیا جا رہا ہے، سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈوں کے ذریعے کبھی گولی چلائی جاتی ہے، کبھی اغوا کیا جا رہا ہے، تو یہ ساری چیزیں جو ہیں، اس ملک کو دوسری طرف لے کر جا رہی ہیں اور اس پر غور کرنا چاہیے۔ ہمارا لانگ مارچ ان شاء اللہ تعالیٰ ہر صورت ہوگا۔ ہمارا لانگ مارچ پرامن ہے، چاہے یہ سڑکوں پر کیلیں ٹھوکیں، چاہے سڑکوں پر کنٹینرز رکھیں، یا چاہے گولی چلائیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اس دفعہ نکلیں گے تو اس کرپٹ نظام کا، ان جعلی حکمرانوں کا once for all بندوبست کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ وزیراعلی سہیل خان آفریدی

PTI

49,366 просмотров • 1 день назад

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز میں دھماکے, دہشت گرد حملے پر اہم ویڈیو پیغام آج کوہاٹ میں جو دہشت گردوں کا حملہ ہوا، خودکش حملہ ہوا، جس میں ہمارے پولیس جوان شہید ہوئے ہیں، عام عوام شہید ہوئے ہیں، تو اس دہشت گردی کے حملے کی صوبائی حکومت شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اپنے شہداء کے درجات کی بلندی کی دعا کرتی ہے۔ ہم پورے پاکستان کو، اور خاص کر وہ لوگ جو خیبرپختونخوا کی عوام کو دہشت گرد بولتے ہیں، ان کو آج ایک دفعہ پھر پیغام دیتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کی عوام نے پاکستان کے لیے 80 ہزار جانوں سے زیادہ نذرانہ پیش کیا ہے، تبھی پاکستان میں امن آیا تھا۔ ہم دہشت گردی کے خلاف لڑنے والا فرنٹ لائن صوبہ ہیں۔ ہماری عوام مسلسل قربانی دے رہی ہے۔ تو اس قربانی کی قدر کی جائے۔ یہاں پر ہمارے لوگ قربانی دے رہے ہیں، تو اس وجہ سے باقی صوبوں میں اور اسلام آباد میں امن ہے۔ ہم فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں دہشت گردی کے خلاف، تو اسی لیے باقی پاکستان میں امن ہے۔ تو اسی لیے اس قربانی کی قدر کرنی چاہیے۔ ان کا ایک ایک حرف ہمارے زخموں کو تازہ کرتا ہے، ہماری شہداء کی بے حرمتی کرتا ہے۔ ہماری قربانی کو براہِ راست سمجھنا، میرا خیال ہے، بیوقوفوں والا کام ہوتا ہے۔ جس طرح ایک سب سے بڑے صوبے کے جعلی وزیراعلیٰ کی یہ اسٹیٹمنٹ آتی ہے کہ مجھے انڈیا سے کوئی خطرہ نہیں ہے، باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے۔ تو یہ صوبے محب وطن پاکستانی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے لیے قربانی دی تھی، دے رہے ہیں اور ان شاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ دیں گے، کیونکہ یہ ہمارا پاکستان ہے۔ ہم کسی بھی سازش اور کسی بندے کی طرف سے بھی اس سازش کو ہمیشہ ناکام بنائیں گے، جو ہمارے عوام کے درمیان تفریق پیدا کرے گا، تعصب پیدا کرے گا، نفرتیں پیدا کرے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ پاکستان زندہ باد رہے گا، قائم و دائم رہے گا، اور ہماری یہ قربانیاں پاکستان کے لیے ہمیشہ رہیں گی۔

PTI

129,944 просмотров • 8 дней назад

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 просмотров • 8 месяцев назад

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 просмотров • 9 месяцев назад

"پرسوں خیبر پختونخوا کے چیف منسٹر تشریف لائے، جس دن ان کا انتخاب ہوا تھا، اسی دن میں نے انہیں فون کیا اور کہا تھا کہ وفاق آپ کے ساتھ پوری طرح تعاون کرے گا، چاہے آپ کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔ وہ بعد کی بات ہے، پہلے پاکستان ہے۔ میں نے کہا آپ پاکستان کے ایک انتہائی اہم اور خوبصورت صوبے کے وزیرِاعلیٰ ہیں، جہاں کے لوگ عظیم پاکستانی، دلیر اور بہادر ہیں، اور انہوں نے پاکستان کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اسی حوالے سے 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں ہم نے خیبر پختونخوا کے لیے ایک اضافی فیصد رکھا تھا تاکہ دہشت گردی سے متعلق معاملات، چاہے وہ فرانزک لیب ہو، سی ٹی ڈی ڈیپارٹمنٹ ہو یا سیف سٹی، پولیس کی ٹریننگ اور دیگر امور ہوں، بہتر طریقے سے نمٹائے جا سکیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ ہم نے ان سالوں کے دوران تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے ہیں، جبکہ این ایف سی کے تحت جو کچھ ہوا وہ سب آپ کے سامنے ہے۔ اس کے باوجود ابھی تک وہاں سیف سٹی مکمل طور پر نہیں بن سکا، جس پر انہوں نے بتایا کہ اب یہ منصوبہ تکمیل کے قریب ہے۔ جس میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کچھ ادائیگیوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اس پر میں نے فوری طور پر جناب احسن اقبال صاحب، فنانس ایڈوائزر اور سیکرٹری فنانس کو ذمہ داری دی کہ وہ ان سے میٹنگ کریں اور جہاں جہاں ادائیگی میں تاخیر ہے، اسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔ ہم خیبر پختونخوا کے لیے پوری طرح کھڑے ہیں، اور آپ سمجھیں کہ جس طرح باقی صوبے ہمیں عزیز ہیں، اسی طرح خیبر پختونخوا بھی ہمیں اتنا ہی عزیز ہے۔ ان سے ایک اچھی نشست ہوئی ہے اور امید ہے کہ معاملات اب آگے بڑھیں گے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے ہم نے ایک واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہندوستان کے خلاف میچ نہیں کھیلیں گے، کیونکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کھیل کا میدان سیاست کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ کھیل کے میدان میں سیاست بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ ہم نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے اور اس حوالے سے ہمیں بنگلہ دیش کے ساتھ پوری طرح کھڑا ہونا چاہیے۔یہ ایک مناسب اور درست فیصلہ ہے۔" ~وزیراعظم محمد شہباز شریف کا وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب

Government of Pakistan

39,962 просмотров • 7 месяцев назад

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 просмотров • 1 месяц назад

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 просмотров • 2 лет назад

بریکنگ نیوز 🚨غیرت مند، حلالی ماں کا حلالی بیٹا، جسٹس انوارالحق پنوں چھا گیا۔ شہباز گل نے اپنے ویلاگ میں مکمل کلپ چلا دی۔ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کچھ پلے نہ چھوڑا، پچھلے اگلے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ آج تک آپ نے اپنی پوری زندگی میں کسی جج کی ایسی دبنگ، باکمال، حق پر مبنی گفتگو نہیں سنی ہوگی۔ ایک ایک الفاظ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ شروع سے لے کر اینڈ تک سننا، مس مت کرنا 🔥🔥 ہم جھوٹے ہیں، ہم دغاباز ہیں، ہماری ویلیو سسٹم اپنی زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں جا چکا ہے۔ اس لیے اس سے کسی قسم کی توقع فوری طور پر کئی نئے صوبے بنا لیں، لوکل گورنمنٹ لے آئیں، کوئی چانس بہتری کا نہیں ہے۔ مجھے ان دو تین ٹرمز سے بڑی حیرت ہوتی ہے، فلاں حکمران خاندان ڈیموکریسی میں بھی کبھی یہ تصور ہوتا ہے کہ جی فلاں حکمران خاندان، فلاں مقتدرہ۔ کیا ڈیموکریسی میں بھی کسی اسٹیبلشمنٹ کو مقتدرہ کہا جاتا ہے؟ تو جب تک یہ لوگ اپنے اپنے آربٹ (مدار) میں نہیں جاتے، اور یہ اب نہیں جائیں گے، اس لیے کہ اس ملک کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں، ان کی خواہشات بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ ان کو کاکروچ ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انہوں نے انڈیا والوں نے تو خود کو کاک روچ سے آئڈینٹیفائی کیا، ایک سمبولیکلی (علامتی طور پر) کیا کہ ہماری حیثیت یہ ہے، مگر انہوں نے ایک ڈیموکریٹک سسٹم کے اندر ڈیمونسٹریشن کرنے کے بعد اپنی ایک بات کو منوایا۔ یہاں تو آزادی سے سوچنے کی اجازت نہیں ہے۔ حالانکہ آپ کسی سے شیئر نہیں کر رہے، آپ کو سوچنے کی اجازت نہیں ہے، آپ کو کسی سے شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جس ملک میں آزادی سے سوچنے کی اجازت نہ ہو، جس ملک میں آزادی سے بات کرنے کی اجازت نہ ہو، وہ ملک کسی قیمت پر ترقی نہیں کر سکتا۔ یہ آفاقی اصول ہیں۔ آپ دنیا بھر کے جو ملک ہیں، جس جس ملک نے ترقی کی ہے، اگر انہوں نے کسی اصول پر، ادارے قائم کر کے ترقی کی ہے، تو ہمیں بھی اسی پر جانا پڑے گا۔ ہمارا کوئی علیحدہ سے خطہ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کسی کے کہنے پر یہ اسمبلیاں 15 دنوں میں، 5 دنوں میں اتنی بڑی امینڈمنٹس (ترامیم) ہوتی ہیں، کیا وزیر قانون کو بھی نہیں پتہ ہونا چاہیے کہ کیا امینڈمنٹ انٹروڈیوس ہو رہی ہے؟ کیا پاکستان کی عدلیہ جو ہے، اس کو اس حد تک سبجوگیٹ (ماتحت) ہونا چاہیے تھا؟ کیا پنجاب کے اندر ہر روز ہاف فرائی اور فل فرائی کی جو ٹرم چل رہی ہے، وہ ہزاروں لوگ قتل ہو گئے، یہ گڈ گورننس ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے اس ملک کے ساتھ؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح سے آپ بہت دیر وقت گزار لیں گے؟ ان کو سیکنڈ کون کر رہا ہے؟ اور اس کے بعد ایک ٹی وی پروگرام جو کل میں نے دیکھا، وہ ایک منصور علی خان کوئی جرنلسٹ ہیں، جس انداز میں انہوں نے بات کی ہے، فائلیں تیار ہو چکی ہیں، فلاں جو مسلم لیگ ن ہے اس کی جو لیڈرشپ ہے اس کو یہ کیا جائے گا۔ کیا ہو رہا ہے؟ یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ یہ آپ کا اختیار ہے؟ یہ آپ کے کہنے پر صوبے بننے چاہئیں؟ یہ اس ملک کے جن کی زمین ہے، جن کا آسمان ہے، جن کی فضا ہے، یہ ان کے لیے، ان کے کہنے پر بننے چاہئیں۔ اس ملک کو تنخواہ دار طبقے نے لوٹا ہے۔ خود کو مالک سمجھ کر خواہ ججز ہوں، خواہ بیوروکریٹس ہوں، خواہ فوجی ہوں، انہوں نے تباہ کیا ہے اور ابھی تک کر رہے ہیں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

14,184 просмотров • 1 месяц назад

"ان سب لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو خیبر پختونخوا سے پرامن احتجاج کے لیے اسلام آباد گئے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی بربریت، آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور راستے میں رکاوٹیں برداشت کیں، اور اس کے باوجود آگے بڑھتے رہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کے لوگ آج کہاں کھڑے ہیں، اور وہ کیوں عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ کیوں آج قانون، آئین، اپنے بنیادی حقوق، اور ایک آزاد عدلیہ کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اس میں خاص کریڈٹ علی امین خان گنڈاپور کو جاتا ہے جنہوں نے اس احتجاج کی قیادت کی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ علی امین خان گنڈاپور اس کے بعد چیف منسٹر ہاؤس گئے، اور کچھ خبریں آئیں کہ چیف منسٹر ہاؤس کا گھیراؤ رینجرز نے کیا۔ پھر یہ بھی اطلاع آئی کہ وفاقی حکومت نے علی امین خان گنڈاپور کو گرفتار کر لیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ابھی تک غائب ہیں۔ یہ بات ہر آزاد سوچ رکھنے والا شخص سوچے گا کہ یا تو علی امین خان گنڈاپور کو یرغمال بنایا گیا ہے یا وہ کسی قسم کے دباؤ میں ہیں۔ ان کا فوری طور پر سامنے آنا ضروری ہے، کیونکہ وہ صرف علی امین خان نہیں، خیبر پختونخوا کے چیف منسٹر ہیں، اور خیبر پختونخوا پاکستان کے چار فیڈریٹنگ یونٹس میں سے ایک ہے۔ یہ پہلے ہی ایک جرم ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کی حدود میں ایک حملہ کیا اور وہاں کے چیف ایگزیکٹیو کو گرفتار کیا، باوجود اس کے کہ ان کے پاس ضمانت تھی۔ یہ ایک سیاسی چال تھی تاکہ عوام کا احتجاج، جو صرف عمران خان ختم کر سکتے ہیں، کسی طرح ختم ہو جائے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک چال ہے، کیونکہ خیبر پختونخوا ایک حساس علاقہ ہے، اور یہاں امن و امان کی صورتحال بھی نازک ہے۔۔۔۔ ہم اس وقت کسی نئے احتجاج یا مزاحمت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔" Taimur Saleem Khan Jhagra

PTI

57,490 просмотров • 2 лет назад

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 просмотров • 2 месяцев назад

خیبر پختونخوا میں شادی کی ایک تقریب پر ڈرون حملہ ہوا ہے، اور یہ اُس وقت ہوا جب ہمارے صوبے میں ایک بڑے قومی امن جرگے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام سمیت صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت، سول سوسائٹی، قبائلی مشران اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے تمام افراد نے مل بیٹھ کر 15 نکاتی اعلامیہ جاری کیا۔میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا خیبر پختونخوا کے عوام اس ملک کے باشندے نہیں ہیں. اگر وہ اس ملک کے باشندے ہیں اور وہ ایک قومی جرگہ سے متفقہ اعلامیہ جاری کرتے ہیں تو وفاقی حکومت اس کو کوئی اہمیت کیوں نہیں دیتی.میں یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کے نمائندے وہاں موجود تھے، تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے بیٹھے تھے۔ یہ خیبر پختونخوا کے عوام کی توہین ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام اس کا حساب لیں گے۔ ہمیں کسی صورت ڈرون حملے قبول نہیں، اور نہ ہی ہمیں Collateral Damage قابلِ قبول ہے۔

Asad Qaiser

73,272 просмотров • 10 месяцев назад

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 просмотров • 3 месяцев назад

آپ نے جن افغانوں کو یہ کہہ کر کریڈٹ لیتے رہے کہ ہم نے ان کی اتنے سال مہمان نوازی کی اور پھر جس ذلالت اور انسانیت سے گرے ہوئے انداز میں آپ نے ان کو نکالا اور پھر اب آپ حملہ آور ہوئے اور کس کے کہنے پر حملہ آور ہوئے جس طرح زبیر بھائی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جو ایران کے معصوم 136 بچوں کے خون کا قاتل ہے وہ سکول پر بمباری کر رہا تھا اور اس وقت بھی سکول پر بمباری ہو رہی تھی میناب میں جہاں پر کلاس روم میں بچے بیٹھے ہوئے تھے اس ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھی آپ کو افغانستان کی جنگ میں کہہ رہا ہے کہ پاکستان ایز ڈوئنگ اے گریٹ جاب کس کو آپ الو بنا رہے ہیں ہم یہ 25 کروڑ عوام کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ہیں آپ کو بتانا پڑے گا کہ آپ یہی جو آج کابل کے اوپر لوگ بیٹھے ہیں کل آپ کہہ رہے تھے کہ غلامی کی زنجیریں آزاد ہو گئی ہیں پوری قوم کو پتہ ہے آج ایسا کیا ہو گیا کہ آپ بمباریاں کر رہے ہیں سویلینز کو مار رہے ہیں ادھر بھی کیجولٹیز ہو رہی ہیں ہم تو نہیں چاہتے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان امن کی داعی ہے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ہمیشہ امن کا ایجنڈا لے کر چلتی ہے اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ اگر آپ اس مسئلے میں سیریس ہیں تو ہم آپ کو فیسلیٹیٹ کر سکتے ہیں کیوں کہ اس میں سب سے بڑی سٹیک ہولڈر خیبر پختونخواہ کی حکومت ہے وہاں کے قبائلی عوام ہیں آپ نے کس سے پوچھا ہے کیا خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس معاملے میں آن بورڈ لیا گیا ہے یقیناً ہرگز نہیں مجھے پتہ ہے تو کس طرح یہ معاملہ لے کر جا رہے ہیں دوسری بات ایران کے حوالے سے ابھی تک پاکستان کی خارجہ پالیسی اور پاکستان کی ریاستی بیانیہ ایران کے حوالے سے بالکل بھی کلیئر نہیں ہے کہ ہم اس جنگ میں کس طرف کھڑے ہیں خالی بیانوں سے کام نہیں چلتا میں آج یہاں سے کہہ رہا ہوں کہ حکومت جوائنٹ سیشن بلائے جس کا ہم نے مطالبہ کیا ہے اس جوائنٹ سیشن میں قرارداد لے کر آئیں مذمت کریں جو اسماعیل ہنیہ صاحب کو شہید کیا گیا جو رہبرِ معظم تھے جن کا ہمارے دلوں میں ان کے لیے بہت احترام ہے مذمت کریں ان 136 بچوں کی جن کو امریکیوں نے مارا ہے اسرائیلیوں نے صیہونیوں نے مارا ہے 170 سے اوپر ہیں پہلے جب وہ تو 136 رپورٹ ہوئے تھے تو ہم اس میں ساتھ دیں گے آپ تگڑے ہو جائیں۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

24,171 просмотров • 6 месяцев назад

اب نئی بحث چھڑ گئی کہ ہم نئے صوبے بنائیں گے۔ میں نے کہا، کوئی عقل بھی ہے تمہارے اندر، کم بختو! سوچو تو سہی، ایک گھر ہے، اس کے ایک حصے میں آگ لگی ہوئی ہے، دوسرے حصے میں آگ لگی ہوئی ہے۔ کیا اس ماحول میں بھائی بیٹھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آئیے، ذرا مکان جو ہے، اس کو تقسیم کر لیں؟ ان شعلوں کے اندر آپ صوبوں کی بات کر رہے ہیں؟صوبے بنتے رہتے ہیں، دنیا میں بھی بنتے ہیں، انڈیا میں بھی بنتے ہیں، لیکن نہ ماحول اس وقت موجود ہے، نہ تیاری ہے۔ بس ایک ادارہ اور ایک ادارے کے سربراہ کی خواہش ہے اور وہ جبراً قوم پر مسلط کر رہا ہے۔ تو ہم نے اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ فاٹا انضمام پر ہم چیخ رہے تھے کہ وقت نہیں ہے، ابھی تم تیار نہیں ہو، ماحول نہیں ہے۔ آپ نے کہا، نہیں، بن کے رہے گا۔ تو مجھے تو اس وقت بھی پتا ہے کہ اس کے پیچھے امریکہ تھا۔ تو میں کیسے نہیں کہوں گا کہ آج صوبوں کی تقسیم اور ملک کے اندر یہ افراتفری، اس کے لیے بیرونی دباؤ نہیں ہوگا؟ اور تم خود اتنے تگڑے ہو کہ ملک کے اندر یہ رسک لے رہے ہو اور صوبوں کو کیوں توڑا جا رہا ہے!اس لیے نہیں کہ اصولی طور پر یونٹ بنتے ہیں اور پوری دنیا میں ہو رہے ہیں اور انڈیا میں بھی ہو رہا ہے، اس لیے کہ اٹھارویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ آئینی طور پر طے ہوا کہ محصولات میں صوبوں کے حصے میں اضافہ کیا جا سکے گا اور کمی نہیں کی جا سکے گی۔ اور اس وقت شاید انچاس فیصد محصولات کا صوبوں کے لیے تھا، بڑھتے بڑھتے شاید چھپن، ستاون فیصد تک ہو گیا ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کے لیے وہ صوبوں کو توڑنا چاہتے ہیں، تاکہ ازسرِنو ہم نیا این ایف سی ایوارڈ کریں گے۔ اور دوسرا یہ کہ جو صوبوں کے اندر معدنی ذخائر ہیں، ان پر صوبوں کے عوام کا حق ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت وہ صوبوں کی ملکیت ہے۔ ان معدنی ذخائر کے لیے وہ ہمارے قبائل کو، ہمارے صوبوں کے عوام کو، عام آدمی کو مالک تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں۔ ان دو مقاصد کے لیے صوبوں کو تقسیم کرنا بڑا ناگزیر ہو گیا ہے، بڑا ناگزیر ہو گیا ہے۔ تو ہم نہ ہی ایسی چیز کی حمایت کر سکتے اور نہ ہی آپ کی بس میں ہے کہ آپ جبراً قوم کے اوپر فیصلے مسلط کریں گے اور ہم اس کو مانتے رہیں گے۔ یہ کیسے ہوگا؟ بلوچستان میں آپ کی گرفت نہیں ہے۔ ہنہ اوڑک اور اس کے پہاڑ یہ چھاؤنی کے بالکل اوپر ہے اور وہاں لوگ چڑھ گئے اور لوگوں کو شہید کیا۔ زیارت میں یہی ہوا۔ آج جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ عمومی کا جو اجلاس کراچی میں ہو رہا تھا، بلوچستان کی جماعت کی درخواست پر پشاور میں لایا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم کراچی نہیں پہنچ سکتے، ہمارے راستے نہیں ہیں اس قابل۔ کبھی ہم نے، آج سے، کسی جماعت نے اس حوالے سے کوئی عذر نہیں پیش کیا۔ میں خود پورے بلوچستان میں پھرا ہوں، ایک گاڑی کے اندر پھرتا رہا ہوں، مکران تک گیا ہوں، تربت تک گیا ہوں، پنجگور تک گیا ہوں، پسنی تک گیا ہوں، گوادر تک گیا ہوں۔ آج وہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی، کوئٹہ شاہراہ غیر محفوظ ہے، ہمارے ہاں کی شاہراہوں پر گھنٹوں گھنٹوں کے ناکے لگے ہوتے ہیں۔ ہم کیا زندگی گزار رہے ہیں؟ ہمیں ٹھنڈی زمین تو دو، ہمیں امن تو دو۔ تو صوبوں کے حوالے سے بھی ہم ان کو خیرخواہانہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اس وقت صوبوں کو توڑنا، اس کو نئے صوبوں میں تبدیل کرنا، اور پھر لوگوں کو لالچ دیتے ہیں، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی۔ جیسے ہم حکومت کے بھوکے ہیں! تو ان مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں۔ بلوچ علاقوں میں خون ریزی ہو رہی ہے، جنگ ہے، پشتون علاقوں میں جنگ ہے، خیبر پختونخوا میں جنگ ہے۔ کشمیر میں، راولاکوٹ میں، تین مہینے ہو گئے ہیں لوگ بیٹھے ہیں، یہ ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا مقاصد ہیں؟ رفتہ رفتہ اس میں ان عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خودمختار کشمیر کی بات کرتے ہیں۔ جذبات میں تبدیلی آ رہی ہے۔ کیا مقصد ہے؟ کیا اس ملک کو توڑنا ہے؟ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,972 просмотров • 1 месяц назад

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,165 просмотров • 3 месяцев назад