Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز کا فون آیا تھا، انہوں نے اظہار یکجہتی کیا یے، علی امین گنڈاپور وزیراعلٰی گنڈاپور کی بونیر میں میڈیا سے گفتگو: متاثرہ علاقوں میں راستے بحال کرنا اولین ترجیح ہے، ایوی ایشن سے اضافی ہیلی کاپٹر مانگے ہیں ، مالی نقصانات کا ازالہ کریں...

34,276 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 görüntüleme • 1 ay önce

ایک بار پھر اڈیالہ جیل کے باہر کل رات ظلم کیا گیا لیکن کوئی نہیں پانی ہی تھا کیا ہوا لیکن جو ظلم ہماری خواتین کے ساتھ کیا گیا ان کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لیئے نہ ممکن ہے جس دلیری کے ساتھ اب سب نے ان نامردوں کا مقابلہ کیا میں سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔۔ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ جتنے بھی ہمارے ورکرز موقع پر موجود ہوتے ہیں آخری وقت تک ان سب کا دفاع کروں اور خیریت سے گھروں کو پہنچاوں یہ ہم سب مل کر روز اول سے کر رہے ہیں جب سے انہوں نے اڈیالہ کے باہر ہم پہ ظلم کرنا شروع کیا ہے۔ ہر ہفتے منگل کے دن جس طرح اڈیالہ جیل ہماری خواتین سمیت ورکرز کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے اس کے بعد میں یہ ضروری سمجھتا ہونکہ پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز، ٹکٹ ہولڈرز اور پارلیمینٹیرنز اور وکلاء کو پیغام دینا چاہتا ہونکہ کم از کم ایسی صورتحال میں میدان نہ چھوڑا کریں ہم نہیں کہتے کہ آپ ان سے لڑیں کیونکہ ہم سب نہتے لوگ ہیں ہمارا ان سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا اور نہ ہم ہم گولی کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن ہم سب مل کر مزاحمت ضرور کر سکتے ہیں جس طرح رات ظلم کیا گیا اگر ہم 100 یا 200 کی تعداد میں ہوتے تو کم از کم ہم میدان میں کھڑے ہوکر بہترین مزاحمت کر سکتے تھے اور اپنی خواتین کو باحفاظت وہاں سے نکال سکتے تھے جس طرح اس بھائی نے واٹر کینین کا راستہ روکا حلانکہ میں ان کو جانتا بھی نہیں تھا بس اڈیالہ دیکھتا ہوں اور آخری میں ان کو میں زبردستی وہاں سے گھسیٹ کر لایا ورنہ یہ ابھی بھی آنےکو تیار نہیں تھے اس ویڈیو کو لگانے کا مقصد ہرگز اپنی تشہیر کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہر رات کو کیا ہوتا ہے اسی طرح ہم بے بس ہوتے ہیں اور میری بے بسی کا اندازہ آپ اس ویڈیو سے لگا سکتے ہیں کہ ایک طرف خواتین تھی اور دوسری جانب یہ نواجون تھا سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کس طرف جایا جائے اور کس کو بچایا جائے میں کر کچھ نہیں سکتا تھا لیکن کوشش کر سکتا تھا جو میں نے کی اور سب کو گاڑیوں تک پہنچایا بتانے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ اگر ہم اگھٹے مل مزاحمت سے ان کا راستہ روکیں تو تو یہ مشکل نہیں کیونکہ انسان اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے کامیابی اللہ دیتا یے۔۔ ہم اس وقت فسطائیت کے ندترین دور سے گزر رہے ہیں اور جتنا جلدی ہوسکے ہم اپنا یہ دماغ بنا لیں کہ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے تو کامیابی ملی گی ورنہ یہ لوگ ہمیں ایسے ہی اکیلا اکیلا کر کہ ماریں گے اور اس میں ایک دن سب کی باری آئی گی اس لیئے سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہمیں ماریں گے یا جیل بھیج دیں گے اور آخری میں جان ہی رہ جاتی ہے انسان کے پاس لیکن یاد رکھیں حق اور سچ کے ساتھ دیتے ہوئے اگر آپ کی موت بھی آگئی تو اللہ کے ہاں سرخرو ہونگے۔ آخر میں یہ بتاتا چلو کہ عمران احمد خان نیازی کے خاندان کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے ان کی تضلیل ہماری تضلیل ہے میری بات اگر کسی کو بری لگی تو میں معزرت خواہ ہوں اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ 🙏

Ch Awais Younas Adv

18,446 görüntüleme • 8 ay önce

مینارِ پاکستان سے صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر اور مجید غوری کی میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے صدر فیصل میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے جلسے کی اجازت دینے پر ہم مشکور ہیں۔ پرنسپل سیکرٹری نے آگاہ کیا ہے کہ اجازت دے دی گئی ہے، اب ہمیں انتظامات مکمل کرنے کے لیے صرف ایک دن درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلسے کی اجازت دے کر مریم نواز نے جمہوری روایات کو فروغ دیا ہے۔ ہم آج 23 جولائی سے ہی مینارِ پاکستان پہنچ گئے ہیں اور تمام رات یہیں موجود رہیں گے۔ پولیس کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے اجازت مل چکی ہے۔ فیصل میر نے کہا کہ اگر ضلعی انتظامیہ گراؤنڈ سے پانی نہیں نکالتی تو پیپلز پارٹی کے کارکن خود پانی نکال کر جلسہ گاہ تیار کریں گے۔ جلسے کے لیے 100 فٹ لمبا اور 24 فٹ چوڑا اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے، جہاں گلوکار انقلابی ترانے پیش کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 25 جولائی کو رات 8 بجے جلسہ شروع ہوگا جبکہ 26 جولائی کو رات 12 بج کر ایک منٹ پر صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ کے موقع پر 24 فٹ اونچا کیک کاٹا جائے گا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے، جبکہ راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضیٰ اور قمر زمان کائرہ بھی شرکاء سے خطاب کریں گے۔ لاہور کے ہر ٹاؤن سے کارکنوں کے قافلے جلسے میں شرکت کریں گے۔ فیصل میر نے واضح کیا کہ ہم نے کوئی گیٹ نہیں توڑا، گیٹ پہلے سے کھلا ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی کے کارکن بھی اسی شہر کے شہری ہیں اور انہیں بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح اپنے جمہوری حق کے استعمال کا پورا حق حاصل ہے۔ اس موقع پر مجید غوری نے کہا کہ جیالے اسٹیج کا سامان لے آئے ہیں۔ بارش ہو یا شدید گرمی، پیپلز پارٹی کے کارکن اپنے عزم پر قائم ہیں اور ہر صورت جلسہ کامیاب بنائیں گے۔ #PPP #PakistanPeoplesParty #Lahore #MinarEPakistan #AsifAliZardari #BilawalBhuttoZardari Bilawal Bhutto Zardari Faisal Mir

PPP LAHORE Official

16,429 görüntüleme • 1 ay önce

لاہور شہر کی خواتین طالبات سے جُڑی تین خبریں خاتون وزیراعلی مریم نواز کی حکومت خاموش تماشائی پنجاب کالج کا کیمپس 10 گلبرگ جہاں کالج کے گارڈ نے زیرتعلیم طالبہ کا مبینہ ریپ کیا ، میڈیا سمیت کوئی پنجاب کالج کا نام چلانے کو تیار نہیں ، کالج انتظامیہ نے معاملہ دبایا الٹا اسٹوڈنٹس کو احتجاج کرنے پر ڈرایا جارہا لیکن کالج کی طالبات نے آج بھرپور احتجاج کیا ہے ، پولیس نے ملزم گرفتار کیا ہے تاحال وہ بھی نجی کالج کہہ رہے ساتھ میں ملزم کی تفصیلات نہیں دی جارہیں اگر بااثر پنجاب کالج نہ ہوتا تو انتظامیہ پولیس اور میڈیا کا یہی رویہ ہوتا ؟ اب تک کالج کے اندر کی فوٹیج اور سی سی ٹی وی تک چل چکی ہوتی ادارے کا نام پر مریم نواز جائیں پنجاب کالج اور ادارہ سیل کروائیں ساتھ میں بتائیں ابھی تک ایف آئی أر کیوں نہیں ہوسکی ؟ دوسری خبر جیل روڈ پر واقع لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی ہے جہاں مرد عملے پر مسلسل خواتین اسٹوڈنٹس کا ہراساں کرنے کا الزام ہے ، طالبات نے آج احتجاج کیا ہے اور نعرے بازی بھی یہ سرکاری ادارہ ہے یہاں ہی پنجاب حکومت کچھ کرلے یا عورت کارڈ صرف پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلی تک ہی چلانا ہوتا ہے ؟ تیسری خبر پنجاب یونیورسٹی سے ہے جہاں رات ہاسٹل میں طالبہ نے مبینہ خودکشی کی ہے ، بتایا جا رہا لڑکی کسی کی طرف سے بلیک میلنگ کا شکار تھی اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا ہے یہ لاہور شہر کا حال ہے جہاں تاریخ کی پہلی “ خاتون وزیراعلی “ ہیں

Umar Daraz Gondal

232,308 görüntüleme • 1 yıl önce