Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا یونیورسٹی آف پشاور کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کا اچانک دورہ - طلبہ سے براہِ راست ملاقات! وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے یونیورسٹی آف پشاور کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کا غیر رسمی اور اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے طلبہ سے براہِ راست گفتگو کی۔ وزیراعلیٰ نے وائس...

18,048 views • 8 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر خان کی سربراہی میں پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز اور پارٹی قائدین کے وفد نے ملاقات کی۔،۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کے صوبائی حکومت کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ملاقات میں وفاق کی جانب سے ضم شدہ اضلاع میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ، این ایف سی، اے آئی پی اور کرنٹ بجٹ کے فنڈز، صوبے میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج اور بجلی کی ترسیل سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ترقیاتی برابری سے قبل ضم شدہ اضلاع پر ٹیکس نہ لگانے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر وفاق نے اس وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ضم شدہ اضلاع کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ این ایف سی، اے آئی پی اور کرنٹ بجٹ کے فنڈز ہڑپ کرنے کے بعد اب نئے ٹیکسوں کا نفاذ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے اور کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وفد نے اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا کو غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، جبکہ شدید گرمی میں کم وولٹیج نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ ان تمام معاملات کو بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا اور ضم شدہ اضلاع میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور بجلی کی ترسیل سے متعلق امور پر باضابطہ مراسلہ ارسال کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کے مسئلے کے حل کے لیے پیسکو، ٹیسکو اور ہیسکو کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام اور ضم شدہ اضلاع کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔

Asad Qaiser

12,855 views • 2 months ago

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا 44 واں اجلاس! کابینہ نے اسلامی اصولوں کے تحت صوبے میں خیبر پختونخوا جنرل تکافل کمپنی اور خیبر پختونخوا فیملی تکافل کمپنی کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ جنرل تکافل کے لیے 2 ارب روپے اور فیملی تکافل کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 1990 میں خیبر بینک کے بعد یہ صوبے میں اس نوعیت کا پہلا نیا ادارہ ہوگا۔ جنرل تکافل صحت اور دیگر رسکس کی کوریج فراہم کرے گی، جبکہ فیملی تکافل وفات کی صورت میں خاندان کی مالی کفالت کو یقینی بنائے گی۔ کابینہ نے خیبر پختونخوا سیف سٹیز منصوبے کے لیے 3,825 ملین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دے دی۔ منصوبہ پہلے مرحلے میں پشاور اور دوسرے مرحلے میں ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت اور شمالی وزیرستان تک توسیع پا چکا ہے۔ پشاور میں بعض اہداف پر 80 فیصد اور دیگر پر 50 فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے۔ دائرۂ کار میں اضافے کے باعث اضافی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ کابینہ کمیٹی نے سابقہ فاٹا میں رسالدار اور دفادار کی پوسٹوں کے انضمام سے متعلق سفارشات پیش کیں، جن کے تحت انضمام سے رہ جانے والی 16 پوسٹوں کے نامنکلیچر کی منظوری دے دی گئی ہے۔ قواعد و ضوابط کی تکمیل پر ان پوسٹوں کو پولیس میں ضم کیا جائے گا۔ سابقہ فاٹا کے طلبہ کے لیے میڈیکل اور دیگر تعلیمی اداروں میں مختص کوٹہ سسٹم سے متعلق لائحہ عمل بھی کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا، جسے جنوبی وزیرستان کے دو اضلاع میں تقسیم کے بعد میرٹ کی بنیاد پر برقرار رکھنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے اسلام آباد میں سمال انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بورڈ کے پلازہ میں نیشنل فنانس کمیشن کے لیے خیبر پختونخوا سیل قائم کرنے، خیبر پختونخوا ٹریڈ ٹیسٹنگ بورڈ کی تشکیلِ نو، اور رشکئی سی پیک اکنامک زون کے اطراف سیکیورٹی اور دیگر ترقیاتی ضروریات کے لیے 199 ملین روپے کے فنڈ کی منظوری بھی دی۔ خیبر پختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے 168 ملین روپے کی گرانٹ اور خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے بجٹ تخمینوں کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے مانسہرہ گریویٹی واٹر سپلائی اسکیم کے لیے 49 ملین روپے کی لاگت سے چار گاڑیوں کی خریداری کی بھی اجازت دی۔ اجلاس میں سال 2025 کے سیلاب کے دوران رکشوں، پیٹرول پمپوں، دکانوں، گاڑیوں، چکیوں اور فیکٹریوں کے مالکان کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے مالی معاونت کی منظوری دی گئی۔ حکومت خیبر پختونخوا کا احساس ایجوکیشن انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ، جو رواں سال 207 ملین روپے سے شروع کیا جائے گا۔ یہ پروگرام تین سالوں پر مشتمل ہوگا، جس کے تحت ہر سال 850 قابل نوجوانوں کو سکولوں میں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ کابینہ نے کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات 1,144 اسکول لیڈرز کو مزید مواقع دینے کی منظوری بھی دی ہے۔ اسی طرح مالی مشکلات کے باعث علاج سے محروم نو مریضوں کو مہنگے علاج کے اخراجات کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے پشاور کے چھ بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) کو رورل ہیلتھ سینٹرز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے لیے پروجیکٹ لاگت میں اضافے کی منظوری بھی دی۔ پانچ آؤٹ سورس کیے گئے ہسپتالوں کے لیے نئے میکانزم کے تحت معاہدے کرنے، پاک بھارت جنگ کے شہداء اور زخمیوں کے لیے خصوصی معاوضہ پیکیج، اور سابق رکن متحدہ علماء بورڈ شہید مفتی فضل رحمان کے صاحبزادے شہید نور رحمان کے لیے سولین وکٹم کمپنسیشن کے تحت ایک ملین روپے کے پیکیج کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے رولز آف بزنس میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی۔ گوجرانوالہ میں پنجاب پولیس کی حراست میں ماورائے عدالت خیبر پختونخوا کے دو شہریوں کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت، کابینہ نے اس واقعے کی انکوائری کرانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ #CMKP #KPCabinetMeeting #SohailAfridi

Government of KP

12,386 views • 8 months ago

🚨🚨🚨 عوامی سہیل آفریدی نے گزشتہ رات گئے بغیر کسی پروٹوکول کے تھانہ یونیورسٹی ٹاؤن پشاور کا اچانک دورہ کیا اور تھانے کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا!!! دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے حوالات میں موجود افراد سے ملاقات کی، ان سے ان کی گرفتاری اور زیرِ حراست ہونے کی وجوہات دریافت کیں اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں بھی استفسار کیا، وزیراعلیٰ نے اس موقع پر تھانے میں تعینات پولیس اہلکاروں سے بھی گفتگو کی اور ان کے پیشہ ورانہ امور، ڈیوٹی کے حالات اور درپیش مسائل سے آگاہی حاصل کی!!! وزیراعلیٰ نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ زیرِ حراست افراد کے ساتھ ہر صورت انسانی وقار، قانون اور آئین کے تقاضوں کے مطابق برتاؤ یقینی بنایا جائے اور ان کے تمام قانونی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے!!! انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تھانے آنے والے ہر شہری کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے، ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے اور ان کے جائز مسائل کے فوری حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں!!! وزیراعلیٰ نے کہا کہ تھانہ عوام کیلئے انصاف اور تحفظ کی پہلی دہلیز ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ہر شہری کو وہاں عزت، سہولت اور فوری رسائی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے وژن کے مطابق عوام کو باوقار، شفاف اور بلاامتیاز انصاف کی فراہمی ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے!!! وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کے تصور کے مطابق ریاست کی اصل طاقت کمزور اور بے سہارا افراد کے حقوق کے تحفظ اور انصاف کی مساوی فراہمی میں مضمر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوام دوست، جوابدہ اور خدمت پر مبنی پولیسنگ کے فروغ کیلئے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی!!!

Wasim Al Waziri

17,365 views • 1 month ago

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا صوبائی کابینہ سے اہم خطاب! وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اپنے تین روزہ پنجاب دورے کے دوران پنجاب حکومت کے رویّے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کا طرزِ عمل غیر جمہوری، قابلِ مذمت اور قومی یکجہتی کے منافی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے کابینہ اراکین پر تشدد کیا گیا، ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کے لیے مسلسل راستے بند کیے گئے، بازار زبردستی بند کروائے گئے، موٹروے کے ریسٹ ایریاز تک سیل کیے گئے اور مزارِ اقبال پر حاضری کے دوران لائٹس بند کروانا انتہائی افسوسناک ہے۔ ایسے اقدامات اخلاقی و ذہنی پستی کی عکاسی کرتے ہیں، جو موجودہ معاشی و سیاسی عدم استحکام کے تناظر میں مزید تشویش ناک ہیں۔ قومی یکجہتی کے وقت نفرت آمیز رویّے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں اور خیبر پختونخوا حکومت پنجاب حکومت کے اس رویّے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے تمام صوبائی افسران کو ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا آنے والے دیگر صوبوں کے سرکاری وفود کی روایات سے بڑھ کر خدمت کی جائے، تاکہ کوئی خود کو اجنبی محسوس نہ کرے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اے آئی پی فنڈز کی عدم ادائیگی کے باعث ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے 4758 ارب روپے وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں۔ وفاقی وزارتِ خزانہ من گھڑت پروپیگنڈا اور فسکل ریلیز کے حوالے سے میڈیا ٹرائل کی کوشش کررہی ہے۔ وزیرالعی نے مطالبہ کیا کہ تمام صوبوں کو دیے گئے فنڈز کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں کے بقایاجات کا موازنہ پیش کرنے کیلئے تمام محکموں کو باضابطہ خطوط لکھنے اور تحریری جواب لینے کی ہدایت دی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ کابینہ اجلاس میں تمام محکمے بقایاجات پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔ وزیراعلیٰ نے جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے صحت اور تعلیم کو حکومتی ترجیحات قرار دیا۔ عمران خان کے وژن کے مطابق ہیلتھ اور ایجوکیشن خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح ہیں۔ #CMKP #SohailAfridi #KPCabinetMeeting

Government of KP

21,151 views • 8 months ago

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت میراں بلاک کے شیئرز کی پارٹنر اداروں کو منتقلی کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں صوبائی وزیر ریاض خان، معاونِ خصوصی شفیع جان، ممبر قومی اسمبلی شہریار آفریدی، ممبر قومی اسمبلی شاہد خٹک، ممبران صوبائی اسمبلی اور متعلقہ حکام شریک تھے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ میران بلاک کے 49 فیصد شیئرز او جی ڈی سی ایل کو منتقل کر دیے گئے ہیں، جبکہ 51 فیصد شیئرز کے پی او جی سی ایل کے پاس رہیں گے۔ میران بلاک کنسورشیم کی قیادت او جی ڈی سی ایل کرے گا، جبکہ جی ایچ پی ایل اور پی پی ایل اس کے شراکت دار ہوں گے۔ بریفنگ کے مطابق کنسورشیم کے تحت کے پی او جی سی ایل کے 51 فیصد شیئرز کی سرمایہ کاری بھی فراہم کی جائے گی، جس کے نتیجے میں تقریباً 22 ارب روپے کی سرمایہ کاری خیبر پختونخوا میں آئی ہے۔ اس معاہدے سے صوبائی حکومت اور کے پی او جی ڈی سی ایل کو 12 ارب روپے کی نمایاں بچت ہوئی۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کی تلاش و دریافت کے نئے دور کی بنیاد رکھے گا۔ تیل و گیس کی دریافت سے مقامی روزگار، کاروبار اور صنعت کو بھرپور فروغ ملے گا۔ قدرتی وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے اور تمام فیصلے اسی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔ خیبر پختونخوا توانائی کے شعبے میں خود کفالت اور آمدنی کے نئے ذرائع کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ صوبے میں سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے امن و امان پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ توانائی کے منصوبوں پر معمول سے ہٹ کر کام جاری ہے اور صوبائی حکومت سرمایہ کاری اور صنعتی شعبے کے فروغ کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ وزیر اعلیٰ #CMKP #SohailAfridi #KPEnergy #OilAndGas #OGDCL #KPOGCL

Government of KP

136,778 views • 9 months ago

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل افریدی کا صوبائی کابینہ سے خطاب عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ناحق قید اور مسلسل آئسولیشن میں رکھا جا رہا ہے، عمران خان اور ان کی اہلیہ کو قید میں سردیوں کا سامان بھی فراہم نہیں کیا جا رہا، عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن چلانا اور بے عزتی کرنا شرمناک اقدام ہے، صوبائی حکومت اس ناروا اور غیر انسانی سلوک کی بھرپور مذمت کرتی ہے، این ایف سی اجلاس میں صوبائی حقوق کے لیے سب کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو خوش ائیند ہے، سب کمیٹی کی سربراہی صوبائی مشیر خزانہ کریں گے، واجبات کے حوالے سے سفارشات وفاق کو پیش کی جائیں گی، واضح رہے کہ صوبے کے حقوق کے لیے تمام سیاسی و قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے، وزیر اعلیٰ نے این ایچ پی اور این ایف سی بقایاجات پر محکمہ خزانہ کو ہر ہفتے وفاق کو خط ارسال کرنے کی ہدایت ضم اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے کا وعدہ کیا گیا تھا، سات سال میں صرف 168 ارب دیے گئے، 532 ارب اب بھی بقایا ہیں، تمام محکمے اپنے بقایاجات کے حوالے سے وفاق کو ہفتہ وار خط ارسال کریں تاکہ ساری چیزیں ریکارڈ پر ہوں، آج نئے تعینات شدہ سیکرٹریز بھی کابینہ اجلاس میں موجود ہیں، آپ سب گواہ ہیں کہ آپ کو نئی ذمہ داریاں کسی سفارش پر نہیں بلکہ مکمل میرٹ پر دی گئی ہیں، جس طرح میرٹ پر اپ کی تقرری کی گئیں ہیں اسی طرح اپ سے میرٹ کی بالادستی کی توقع ہے، اگر کسی کرپشن کی شکایت مجھے موصول ہوئی تو فورا اپ کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی، وزیر اعلی کا تمام محکموں کو سال 2026-27 کے ترقیاتی منصوبوں کی شفارشات فروری کے وسط تک پیش کرنے کی ہدایت, عوامی مفاد کے منصوبوں کو ترجیح دی جائےگی، تمام ترقیاتی کام عوام کی سہولت کے لیے ہوں.

Shafi Jan

42,095 views • 8 months ago

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے گڈ گورننس وژن کے تحت ترقی کا عملی سفر جاری ہے۔ عوامی خدمت، شفافیت اور بروقت منصوبہ جاتی تکمیل حکومتِ خیبر پختونخوا کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں، جن کی واضح مثال ضلع صوابی میں جاری ترقیاتی سرگرمیاں ہیں۔ اسی وژن کے تحت سیکرٹری محکمہ آبپاشی عبدالباسط نے ضلع صوابی کا دورہ کیا اور پیہور ہائی لیول کنال منصوبے پر جاری تعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کام کے معیار کو چیک کرتے ہوئے منصوبے کی بروقت تکمیل پر خصوصی زور دیا۔ دورے کے دوران سیکرٹری آبپاشی نے کھلی کچہری میں بھی شرکت کی، جہاں عوامی مسائل براہِ راست سنے گئے اور متعلقہ حکام کو فوری حل کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ادارے عوام کے لیے ہیں اور وزیراعلیٰ کی ہدایت کے مطابق عوامی مسائل کا فوری ازالہ یقینی بنایا جائے۔ یہ منصوبہ زراعت کے شعبے میں ایک نئے انقلاب کی نوید ہے، جو تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ 2015 میں شروع ہونے والا پیہور ہائی لیول کنال منصوبہ جون 2026 میں مکمل ہوگا۔ خیبر پختونخوا حکومت اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اشتراک سے 17 ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا یہ منصوبہ صوبے کی زرعی معیشت کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اس منصوبے سے 7 ہزار 930 ایکٹر اراضی سیراب ہوگی۔ تین لاٹس پر مشتمل اس منصوبے کے پہلے اور دوسرے لاٹ پر 100 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ لاٹ تھری پر 73 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ مرکزی کنال کے ذریعے صوابی کی 15 ہزار 465 ایکٹر اراضی سیراب ہوگی، جس سے 70 ہزار سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔ مزید برآں، کنال کے توسیعی منصوبے سے نوشہرہ اور صوابی کی 19 ہزار ایکٹر اراضی سیراب ہوگی، جس سے 43 ہزار افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ سیکرٹری آبپاشی نے مختلف علاقوں کا دورہ بھی کیا اور کھلی کچہری کے ذریعے عوامی مسائل سن کر ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ #CMKP #SohailAfridi

Government of KP

12,025 views • 8 months ago

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کےہمراہ مفتی محمود مرکز آمد، جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات! ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، صوبائی حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ جد و جہد پر تبادلہ خیال کیا گیا. اگلے مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ، صوبے کے شیئر سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اس موقع پر کہا کہ ⬅️ خیبرپختونخوا کو این ایف سی میں ضم اضلاع کا حصہ نہیں مل رہا، پنجاب حکومت نے خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے گندم کی فراہمی بند کر رکھی ہے، ⬅️ وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کو گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں انتہائی تشویشناک ہیں، خیبرپختونخوا 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود صوبے کو اس کے جائز حصے سے محروم رکھا جا رہا ہے، ⬅️ صوبہ صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کرتا ہے، اس کے باوجود گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں ناقابل قبول ہیں، وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کا طرز عمل آئین کے آرٹیکل 151 اور آرٹیکل 158 کی صریح خلاف ورزی ہے، وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے، ⬅️ پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سینیئر رہنما بھی ملاقات میں شریک تھے

Asad Qaiser

10,570 views • 2 months ago

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا صوبائی کابینہ سے خطاب! وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان، ان کی اہلیہ اور بہنوں کے ساتھ مسلسل غیر انسانی اور غیر جمہوری سلوک کیا جا رہا ہے۔ منگل کے روز واٹر کینن میں مبینہ طور پر زہریلے کیمیکل کے استعمال سے کارکنان اور قیادت کی طبیعت خراب ہوئی، جو کہ قابلِ مذمت ہے۔ پرامن سیاسی کارکنان اور منتخب نمائندوں پر تشدد جمہوری اقدار کے سراسر منافی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وعدہ شدہ فنڈز مالی سال 2025-26 میں تاحال ریلیز نہیں کیے گئے، جس کے باعث قبائلی اضلاع میں ترقیاتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت محدود وسائل کے باوجود قبائلی اضلاع کے عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ صوبائی حکومت منگل کے روز ہونے والے غیر انسانی اور غیر آئینی اقدامات کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور وفاق و پنجاب حکومت کو سیاسی انتقام کے بجائے ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت پر توجہ دینی چاہیے۔ جی ڈی پی گروتھ، زرعی پیداوار اور صنعتی ترقی کے اشاریے مسلسل تنزلی کا شکار ہیں، جبکہ وفاقی حکومت عوامی فلاح کے بجائے عمران خان اور پی ٹی آئی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی وزراء کو ہدایت کی کہ وہ ہر 15 دن بعد اپنے تفویض کردہ اضلاع کے فیلڈ وزٹس یقینی بنائیں، کیونکہ فیلڈ وزٹس سے عوام کا اعتماد بحال اور مؤثر چیک اینڈ بیلنس قائم ہوتا ہے۔ صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ پر آئندہ کابینہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ لی جائے گی اور چیف سیکرٹری سے اس حوالے سے پیش رفت پر جامع رپورٹ طلب کی جائے گی۔ #CMKP #SohailAfridi #KPCabinetMeeting

PTI

29,317 views • 8 months ago

وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت پیر کے روز وفاق سے جڑے صوبے کے مالی معاملات سے متعلق اہم اجلاس۔ متعلقہ حکام کی جانب سے وزیراعلی کو وفاق کے ذمے صوبے کے واجبات اور دیگر مالی امور پر تفصیلی بریفنگ۔ • وزیراعلی کی متعلقہ حکام کو یہ معاملات وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھانے کے لئے لائحہ عمل ترتیب دینے کی ہدایت، ایک مہینے کے اندر اس سلسلے میں ہوم ورک مکمل کرکے پلان آف ایکشن مرتب کیا جائے، وزیراعلی کی ہدایت۔ • وفاق سے جڑے صوبے کے مالی معاملات کا کیس مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لئے تمام متعلقہ دستاویزات تیار رکھی جائیں، صوبے کے واجبات اور آئینی حقوق کے لئے تمام دستیاب فورمز پر بھر پور آواز اٹھائی جائے گی، علی امین گنڈاپور • وفاقی حکومت کے ساتھ معاملہ موثر انداز میں اٹھانے کے لئے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں، وفاق سے شنوائی نہ ہونے کی صورت میں عدالتوں کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا، علی امین گنڈاپور • اے جی این قاضی فارمولہ کے تحت پن بجلی کے خالص منافع جات کی مد میں وفاق کے ذمے 1510 ارب روپے واجب الادا ہیں، نیشنل گرڈ کو بیچی جانے والی صوبائی حکومت کی بجلی کی مد میں چھ ارب روپے بقایا جات ہیں، بریفنگ • سابقہ قبائلی اضلاع کا صوبے کے ساتھ انتظامی انضمام ہوگیا ہے مگر مالی انضمام نہیں ہوا، سابقہ قبائلی اضلاع کے انضمام سے صوبے کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، بریفنگ • صوبے کی موجودہ آبادی کے تناسب سے این ایف سی میں صوبے کا شیئر 19.64 فیصد بنتا ہے، جبکہ صوبے کو اس وقت این ایف سی کا صرف 14.16 فیصد شیئر ملتا ہے، بریفنگ • صوبے کی موجودہ آبادی کے حساب سے صوبے کو این ایف سی میں سالانہ 262 ارب روپے ملنے چاہئیں، ضم اضلاع کے دس سالہ ترقیاتی پلان کے تحت صوبے کو 500 ارب روپے کے مقابلے میں اب تک صرف 103 ارب روپے ملے ہیں، بریفنگ

Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa

10,442 views • 2 years ago

سابق ایم این اے فہیم خان پر بدعنوانی اور سیاسی چالوں کے الزامات کراچی، [28 جنوری 2025] – سابق رکن قومی اسمبلی فہیم خان، جنہوں نے حال ہی میں الیکشن 2024 میں استحکام پاکستان پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں اپنی نامزدگی کے کاغذات جمع کرائے ہیں، بدعنوانی، سیاسی چالوں اور زمینوں پر قبضے کے سنگین الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ متعدد ذرائع کے مطابق، فہیم خان نے انتخابات سے پہلے استحکام پاکستان پارٹی (IPP) میں شمولیت کی کوشش کی۔ ان کے IPP کے عہدیداروں، بشمول محمود مولوی کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں، مبینہ طور پر ریکارڈ کی گئی ہیں اور اس کی تصدیق دیگر جماعتوں نے بھی کی ہے۔ ان کی شمولیت کا اعلان کرنے کے لیے ایک پریس کانفرنس بھی منعقد کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن جب ISI کراچی کے باس سے اپروول لی گئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ان کے لیے پی ٹی آئی میں زیادہ فائدہ مند ہیں اور انکی شمولیتی پریس کانفرنس رکوا دی گئی "میرے پاس IPP کے سندھ انفارمیشن سیکرٹری کی ایک آڈیو ریکارڈنگ ہے جو اس دعوے کی تصدیق کرتی ہے، لیکن میں اس کو عوامی سطح پر پیش نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اس میں میری آواز شامل ہے," ایک قریبی ذریعہ نے بیان دیا۔ خان کی سیاسی چالاکیوں کا سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ رپورٹس کے مطابق، انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) سے ایم این اے کی ٹکٹ کے لیے درخواست دی، جسے فریال talpur نے مسترد کر دیا، انہوں نے خان کے پچھلے رویے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ وہی شخص ہیں جنہوں نے ہم سے سینیٹ میں پیسے لئے اور پھر ہمارے خلاف آواز اٹھائی۔ خان کی شہرت مزید بدعنوانی کے الزامات سے متاثر ہوئی ہے، جن میں سینیٹ کے انتخابات کے دوران ووٹ بیچنے کا الزام بھی شامل ہے، جس کی حمایت علی موسیٰ گیلانی کی ویڈیو نے کی، جسے بعد میں "اسٹنگ آپریشن" قرار دیا گیا۔ کراچی بلدیاتی الیکشنز میں، فہیم خان پر انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ساز باز کرنے کے الزامات ہیں، خاص طور پر کورنگی کریک کے کینٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر ہارنے والے امیدواروں کو میدان میں اتارا تاکہ PPP کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ ان کے مقامی حکومت کے انتخابات میں ملوث ہونے پر بھی تنقید کی گئی ہے، جہاں یہ رپورٹیں ہیں کہ انہوں نے جن امیدواروں کی حمایت کی، وہ انتخابات کے بعد اپنی وفاداریاں تبدیل کر گئے، جس کے نتیجے میں PPP کنٹرول حاصل کر لی۔ اس کے علاوہ، خان پر حکومت کے فنڈز کے غلط استعمال کا الزام ہے، انہوں نے وفاقی حکومت سے تقریباً 130 کروڑ روپے حاصل کیے، جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے 30-40% کمیشن اپنے پاس رکھے۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کی جانب سے خان کے خلاف بدعنوانی اور بھتہ خوری کی شکایات بھی درج کی گئی ہیں، جس کے ساتھ ایک بدعنوانی کا کیس KIA پولیس اسٹیشن میں زیر التوا ہے، جو سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کی جانب سے دبایا گیا۔ ان کے حلقے کے رہائشیوں نے خان کی جانب سے پانی اور سیوریج کی پائپ لائنوں کے منصوبوں کے لیے بھتے لینے کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے، یہ دعویٰ ان کے حلقے میں ایک عام راز کی طرح معروف ہے۔ مزید برآں، خان کا زمینوں پر قبضے کی سرگرمیوں میں راجہ اظہر اور راجہ آصف کے ساتھ تعلقات ہیں، جن کے بارے میں رپورٹس ہیں کہ انہوں نے مقامی شادی ہالوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے بھتہ لینے میں تعاون کیا۔ راجہ آصف کا حالیہ پیپلز پارٹی میں شامل ہونا ایک سوالیہ نشان ہے، کیونکہ یہ ان کے جاری غیر قانونی کاموں کو مستحکم کرتا نظر آتا ہے۔ ان الزامات کے مضمرات خان کی سیاسی زندگی اور متعلقہ جماعتوں کے لیے اہم نتائج پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب ای سی پی ان کے نامزدگی کے کاغذات کا جائزہ لے رہا ہے۔ جیسے جیسے یہ صورت حال ترقی پذیر ہے، فریقین اور حلقے کے رہائشیوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کراچی میں ابھرتے ہوئے سیاسی حالات سے باخبر رہیں۔

Adil Raja

202,210 views • 1 year ago

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی پولیس لائن ٹانک آمد! وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی پولیس لائن ٹانک پہنچے، جہاں انہوں نے یادگارِ شہداء پر پھول چڑھائے، سلامی پیش کی اور دعا کی۔ اس موقع پر انہوں نے علاقائی مشران اور شہدائے پولیس کے ورثاء سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور شہداء کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔ وزیراعلیٰ نے علاقائی عمائدین اور شہدائے پولیس کے ورثاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردوں کے خلاف فرنٹ لائن پر بہادری سے لڑ رہی ہے اور پولیس کے تمام مسائل جلد حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موت حق ہے، مگر وطن اور قوم کے عظیم مقصد کے لیے شہادت پانا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ، پولیس، سیکیورٹی فورسز اور خیبر پختونخوا کے عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے ملک میں امن کے لیے بے مثال قربانیاں دیں اور پوری قوم نے ہر مشکل گھڑی میں لبیک کہا۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ جنگ ہماری نہیں تھی، ہمیں زبردستی اس میں دھکیلا گیا۔ بدقسمتی سے گزشتہ بیس برسوں سے خیبر پختونخوا مسلسل قربانیاں دے رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مل کر 80 ہزار سے زائد شہداء پاکستان اور خطے میں امن کے لیے قربان کیے۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ حکومتِ خیبر پختونخوا شہدائے پولیس کے ورثاء کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے، وہ وقت قریب ہے جب خیبر پختونخوا میں مکمل امن قائم ہوگا۔

Shafi Jan

19,429 views • 7 months ago

▪️کیا پی ٹی ایم خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کی ہمدرد ہے یا دشمن؟ ▪️کچھ اہم سوالات نقیب اللہ محسود کے کراچی میں ہونے والے قتل کے بعد 2018 میں پی ٹی ایم منظر عام پر آئی جس کا ابتدائ مقصد نقیب اللہ محسود کو انصاف دلانا تھا۔ نقیب اللہ محسود والا مقصد تو کہیں غائب ہُو گیا مگر پی ٹی ایم اُس وقت کی افغان حکومت کی مدد سے اور بہت سے ایجنڈوں کے ساتھ آہستہ آہستہ پھلنے پھولنے لگی اور آج کی تاریخ میں 2024 میں خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں نوجوانوں کو جھوٹے خوابوں کے نام پے ریاست کے خِلاف بھڑکا رہی ہے - حقیقت یہ ہے کہ 2018 سے لے کے اب تک پی ٹی ایم خیبرپختونخوا کے نوجوانوں سے صرف وعدے کرنے میں مصروف ہے اور ان کو اپنی تشدد سے بھرپور گھٹیا سیاست کا ایندھن بنا رہی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آج تک پی ٹی ایم کے لیڈرز کا لائِحَۂ عَمَل خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے لیے کتنا مفید ثابت ہوا۔۔۔!! کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز کا لائِحَۂ عَمَل خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے مستقبل کے لئے نعروں کہ علاوہ کچھ کرنے کے قابل ہے ؟ منظور پشتین پاکستان کے سیاسی نظام کو نہیں مانتے، پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے تو پھر آخر نوجوانوں کے مستقبل کے لئے کیسے کچھ کریں گے ؟؟ منظور پشتین صاحب کہتے ہیں کہ نا میں نے وزیر اعلیٰ بننا ہے نا وزیر اعظم - بقول اُن کے وہ اس نظام کے باغی ہیں - لیکن جب ان سے پوچھو کہ پھر ان نوجوانوں کےمستقبل کا کیا کرنا ہے جو اچھے کی امید لگا کے ان کے ساتھ ہیں تو جواب میں نعرہ لگاتے ہیں لر و بر یو افغان - لیکن اس نعرے سے نوجوانوں کو کیسے نوکریاں ملیں گی ؟ آج بالفرض منظور پشتین کو وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے تو پھر یہ نظام اور آئین کو تسلیم نا کرتے ہوئے کیسے نوجوانوں کو کچھ دے سکیں گے ؟ کیا لر و بر یو افغان کا ایجنڈا نوجوانوں کی ترقی کا ضامن ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ فِتنہ الخوارج کی کارروائیوں اور دھماکوں میں ہمیشہ خیبرپختونخوا کے پختونوں کا خون بہا - کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز نے خیبرپختونخوا کے معصوم عوام کے قاتل فِتنہ الخوارج کی کسی بھی لیول پے مذمت کی ہے ؟ آخر کیوں پی ٹی ایم اپنے بے جا مطالبات سے فِتنہ الخوارج کی کارروائیوں کو فائدہ پَہُنچانا چاہتی ہے اور آخر ان کے مابین اتحاد کی وجہ کیا ہے ؟ کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز نے آج تک اسمبلی میں یا کسی اہم فورم پے خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کی ترقی کے لیے کوئی آواز اٹھائی؟ کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز کے چیک پوسٹوں کے خاتمے کے مطالبے سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ ھو گیا ؟ پی ٹی ایم کے لیڈرز نے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز حاصل کرکے نوجوانوں اور عوام کی فلاح کے کیا اقتدامات کیے؟ کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز نے قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی جانب سے بنائے گئے صحت اور تعلیم کے شعبہ جات میں ڈاکٹروں اور ٹیچرز کی حاضری کو یقینی بنا کر عوام کو ریلیف مہیاء کیا گیا؟ تقریباً 5 سال اسمبلی میں رہ کر محسن داوڑ نے نوجوانوں کے لیے کونسا پراجیکٹ شروع کیا؟ *جی نہیں۔۔!!* *بدنصیبی کی بات ہے کہ ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے-* حقیقت یہ ہے کہ صرف ریاست پاکستان اور اس کے ادارے ہی خیبرپختونخوا کے نوجوانوں اور عوام کے خیر خواہ اور ان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے فکر مند ہیں- یہ بات سب کو ذہن نشین کرلینی چاہیے کے آج تک خیبرپختونخوا میں نوجوان نسل کی ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے جتنے منصوبوں کا آغاز کیا گیا وہ حکومت پاکستان اور پاک فوج کے تعاون سے پائے تکمیل تک پہنچے اور کچھ پے کام ابھی بھی جاری ہے۔ انشاءاللہ وہ بھی جلد از جلد مکمل کرلیے جائیں گے۔ *ان منصوبوں میں معیاری تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا، روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے، صحت کے اعلیٰ مراکز قائم کیے گئے، انفراسٹرکچر کی بہتری اور نوجوانوں کے لئے مختلف سکلز پروگرامز کا انعام کیا گیا۔*۔ پچھلے 20 برس میں قبائلی علاقوں میں حکومت پاکستان اور پاک فوج کے تعاون سے تقریباً 383 ارب روپے سے زیادہ کے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچے- پی ٹی ایم چند لوگوں کا گروہ ہے جو کہ آپس میں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ جس کی مثال محسن داوڑ اور منظور پشتین کی مفادات کے لیے آپس میں لڑائی کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ *محسن داوڑ نے اپنا سیاسی عہدہ حاصل کے بعد پی ٹی ایم سے آگے نکلنے کے لیے این ڈی ایم پارٹی کا قیام عمل میں لایا۔ اور یہی لوگ اب ایک دوسرے کو سیاسی مقاصد کے لیے قتل کروا رہے ہیں جس کی حالیہ مثال گیلامن وزیر کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔* مصدقہ ذرائع کے مطابق محسن داوڑ سیاسی مقاصد کی حصول کے بعد سوئٹزرلینڈ کی سیر کرتا پھرتا ہے جبکہ داوڑ، وزیر اور پشتین، تینوں اپنے اپنے لیول پے راولپنڈی میں ملاقات کے لئے سفارش کرواتے پھرتے ہیں -

Eagle Eye

12,000 views • 2 years ago