Video yükleniyor...
Video Yüklenemedi
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز میں دھماکے, دہشت گرد حملے پر اہم ویڈیو پیغام آج کوہاٹ میں جو دہشت گردوں کا حملہ ہوا، خودکش حملہ ہوا، جس میں ہمارے پولیس جوان شہید ہوئے ہیں، عام عوام شہید ہوئے ہیں، تو اس دہشت گردی... show more
129,944 görüntüleme • 8 gün önce •via X (Twitter)
31 Yorum

لعنتی، تو نے ایک دفعہ بھی TTP کے خنزیروں کا نام نہیں لیا۔ جس سؤر نے خودکش حملہ کیا، وہ گل بہادر خارجی نے بھیجا تھا نام کیوں نہیں لیتے؟؟؟؟

یہ وہ خنزیر جماعت ہے جو 14 سال سے پختونوں پہ مسلط ہے اور جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے اس کی زمہ داری لینے کی بجائے یا کوئی ایکشن لینے کی بجائے یہ کتے سوشل میڈیا پہ بھونکنے آ جاتے ہیں۔ پرسوں تک لاہور کی گلیوں میں پاگل کتے کی طرح پھرنے والا یہ منشیات فروش دلہ کوہاٹ کیوں نہیں پہنچا؟

Children Specialist ڈاکٹر اسرائیل خان اورکزئی، جن کا تعلق میرے گاؤں گوئین، قوم فیروز خیل سے تھا، وہ بھی اس بم دھماکے میں شہید ہو گئے ہیں۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ اللہ تعالیٰ شہید کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔ لیکن انشاللہ 27 ستمبر کو انکی ساری دہشتگردی نکال دی جائے گی۔ #ستمبر27_فاشزم_کے_خلاف_نکلو

یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔

سہیل آفریدی کا وار: کوہاٹ میں خون بہا، تم پنجاب میں KP پر بھونک رہے ہو؟ سیکیورٹی تمہارے ابا کے پاس، بارڈر تمہارے پاس، پھر بھی طعنہ ہمیں؟ 80ہزار جنازے ہم نے اٹھائے ہیں۔ ہم مرتے ہیں تو اسلام آباد سوتا ہے۔ ہم پاکستان ہیں، تم صرف پنجاب کے جعلی حکمران ہو۔

میرے بھائی جو ڈرون حملے شہید ہوئے ان پر بھی بات کریں جب عمران خان نے کہا تھا جو بھی ڈرون حملہ کرے اس پر ایف آئی آر درج کراؤ کبھی کی ہے درج صرف باتوں سے نہیں عمل سے بھی ظاہر کریں شکریہ اور مائنڈ بھی نہیں کرنا

27 ستمبر ایک موقع ہے کہ ہم اپنے جمہوری حقوق، انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی آواز پُرامن اور ذمہ دار انداز میں بلند کریں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے، اس لیے اپنے مؤقف کو دلیل، شعور اور اتحاد کے ساتھ سامنے لائیں۔ #ستمبر27_فاشزم_کے_خلاف_نکلو

سہیل آفریدی نے جعلی وزیراعلیٰ کو آئینہ دکھا دیا۔ کہا بھارت سے نہیں 3 صوبوں سے خطرہ؟ شرم کرو۔ کوہاٹ میں ہمارے بچے مر رہے ہیں تاکہ لاہور میں تمہارے جلسے ہوں۔ ہم 80ہزار لاشیں دے چکے، تم صرف طعنے دیتے ہو۔ ہم فرنٹ لائن ہیں، تم فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ڈرامے باز ہو۔

اِنہیں کوئی بتائے، لوگ میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مسجد میں جمعہ پڑھتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔ اگر KPK پولیس اور صوبائی حکومت کی سیکیورٹی میں ناکامی تھی تو اس کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ مگر یہاں ترجیح “عشقِ عمران میں مرنا” اور عوام کو دہشت گردی میں مرنے دینا بن چکی ہے۔

اس دھاگے کے پیچھے ن لیگ کا ہاتھ ہے وہ ہمیشہ اسے کرتے ہے

Disappointed message I didn't expect this Why they will give sacrifice?

میں نے کہا تھا، یہ طالبان کا نام نہیں لینگے۔۔یہ عمران کی طرح بزدل ہیں۔

جب ناانصافی قانون بن جائے، تو احتجاج کرنا فرض بن جاتا ہے۔ ستمبر 27 کو اس فرض کی ادائیگی کے لیے بغیر کسی خوف کے باہر نکلو! #ستمبر27_فاشزم_کے_خلاف_نکلو

@OfficialShehr Pakistan zindabad Modi yar murdabad

فاشسٹ نظام کا خاتمہ کسی کے وعدوں سے نہیں، بلکہ تمہارے قدموں کی حرکت سے ممکن ہوگا۔ ستمبر 27 کو گلی گلی، شہر شہر صرف ایک ہی آواز ہونی چاہیے: آزادی! #ستمبر27_فاشزم_کے_خلاف_نکلو

فاشزم انسانوں کی بیداری سے مرتا ہے۔ ستمبر 27 کا دن فاشزم کی موت اور عوامی خودمختاری کی فتح کا دن ثابت ہوگا۔ باہر نکلو! #ستمبر27_فاشزم_کے_خلاف_نکلو

آپ مذمت نہیں کریں گے۔ آپ کو عملی اقدامات کرنے ہیں۔ اگر ممکن ہو تو صوبائی اسمبلی سے ایک قانون پاس کرلیں کہ صوبے میں دو وزیر اعلی ہوں۔ ایک وہ جو پورے ملک میں خان صاحب کی رہائی کیلئےاسٹریٹ مومنٹ میں مصروف ہو اور دوسرا صوبے میں موجود ہوکر صوبے کو چلانے میں مصروف ہو۔

جبر کے سائے میں جینے سے بہتر ہے کہ انسان اپنے حقوق کے لیے لڑتے ہوئے اپنی پہچان بنائے۔ ستمبر 27 کو فاشزم کے خلاف بیباک آواز بن جاؤ! #ستمبر27_فاشزم_کے_خلاف_نکلو

لگتا ہے نامعلوم افراد ایکٹو ہو گئے ہیں ، اور آنے والے دن کے پی کے عوام کے لیے بھاری بنائے جائیں گے ، 27 ستمبر احتجاج کا بہت پریشر ہے ، اس سے پہلے کے پی میں شدید افراتفری پھیلا کر مذموم مقاصد پورے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔۔۔!!

ظالم کی ڈوری ہمیشہ خاموش عوام کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اگر تم خاموشی توڑ دو تو ظالم کا وجود خود بخود مٹ جائے گا۔ ستمبر 27 کو اپنی خاموشی توڑو! #ستمبر27_فاشزم_کے_خلاف_نکلو

Ye Beghairat buss condemn hi Ker Sakta ha,

خیبرپختونخوا کی عوام اور پولیس نے پاکستان کے امن کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، مگر افسوس کہ حکمران ان قربانیوں کی قدر کرنے کے بجائے نفرت اور تعصب کی سیاست کو ہوا دیتے ہیں۔ شہداء کی قربانیوں کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر عزت دینی چاہیے۔ پاکستان کسی ایک صوبے کا نہیں، ہر پاکستانی کا ہے۔ قوم کو تقسیم نہیں انصاف اور اتحاد چاہیے۔

کیا تم اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بنیادی حقوق چھینتے دیکھ کر بھی چپ رہو گے؟ اگر تمہاری غیرت ابھی زندہ ہے، تو ستمبر 27 کو میدان میں آؤ! #ستمبر27_فاشزم_کے_خلاف_نکلو

Someone tell this chutiya that there is time for saying this kind of stuff. This is a pathetic statement. Someone tell this idiot that he is CM not in opposition in kpk.

#ستمبر27_فاشزم_کے_خلاف_نکلو Imran Khan is one and only leader

ستمبر 27 کا دن ہر اس شخص کو جگانے کا دن ہے جو ابھی تک بے حسی کی نیند سو رہا ہے۔ اٹھو، اپنے ضمیر کی چیخ سنو اور حقوق کی جنگ کا حصہ بنو! #ستمبر27_فاشزم_کے_خلاف_نکلو

اپنے خوف پر قابو پانا ہی واقعی شجاعت ہے۔ ستمبر 27 کو خوف کی ہر دیوار کو گرا کر ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے سڑکوں پر آئیں! #ستمبر27_فاشزم_کے_خلاف_نکلو

Just ye bataye k hamre govt hai es waja se damaka howa kon te awr kis k eshate pir kia awr es k baad konsee liaha amal pesh karengey app toh seedh Punjab k CM pir bat krte rahe wo toh jhali hai app toh asli hai na app k hath mai kp ka control hai waha pir nahi hoti yaha pr hoti

ستمبر 27 کا دن تاریخ میں اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ اس قوم نے خودداری کا راستہ چنا یا بزدلی کا۔ اپنے اور ملک کے مستقبل کے لیے حق کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ! #ستمبر27_فاشزم_کے_خلاف_نکلو

کسی رنڈی ماں کے بچے
Benzer Videolar
Sensitive content
آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
Maulana Fazl-ur-Rehman
23,616 görüntüleme • 5 gün önce
