Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ویسے تو اسلام آباد ہائی کورٹ کی نئی عمارت کا بھی مکمل ہونے کا سرٹیفیکیٹ سی ڈی اے نے جاری نہیں کیا تھا جب ججز حضرات اپنے عملے سمیت یہاں شفٹ ہو گئے تھے۔ ۲ ستمبر ۲۰۲۳ کو ایم جے ٹی وی کے ایک انٹرویو میں ایک ریٹائرڈ سرکاری...

27,177 Aufrufe • vor 3 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

اسلام آباد کے شہریوں سے اپیل ہفتے کی دوپہر کا وقت تھا۔ اسلام آباد کے پُرامن ایف–11 مرکز میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔ ایک شخص — شاید آپ کی طرح — اپنی گاڑی میں قیمتی لیپ ٹاپ رکھ کر تھوڑی دیر کے لیے قریب کسی کام سے گیا تھا۔واپس آیا تو اس کی گاڑی تباہی کا منظر پیش کر رہی تھی ۔ گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا۔ اندر پڑا لیپ ٹاپ غائب تھا۔ آس پاس کے لوگ حیران اور پریشان اس منظر کو دیکھ رہے تھے ۔یہ ہمارے شہر اسلام آباکا اصل چہرہ تھا—جہاں اب چوریاں دن دیہاڑے ہونے لگی ہیں۔ سی سی ٹی وی کیمرے نے سب کچھ محفوظ کر لیا۔ ان دو افراد کے چہرے (تصویر میں دائرے کے اندر) واضح دکھائی دیتے ہیں۔ وہ آتے ہیں، شیشہ توڑتے ہیں، لیپ ٹاپ اٹھاتے ہیں، اور چند لمحوں میں غائب ہو جاتے ہیں۔ یہ صرف ایک شخص کا نقصان نہیں۔ یہ ہمارے اعتماد کا نقصان ہے۔ یہ اسلام آباد کے امن پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اگر آپ ان چہروں کو پہچانتے ہیں، یا کچھ بھی جانتے ہیں—براہِ کرم خاموش نہ رہیں۔ آپ کی ایک اطلاع کسی کا سامان، کسی کا تحفظ، اور شاید کسی کا اعتماد واپس لا سکتی ہے۔ 03219696541 (اطلاع دینے والے کا نام مکمل رازداری میں رکھا جائے گا) آپ کا ایک شیئر، ایک آواز — مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لا سکتی ہے۔ مت کہیے “مجھے کیا؟” کہیے “میرے شہر کو کیا ہو رہا ہے؟”

Sabookh Syed | Journalist

19,011 Aufrufe • vor 1 Jahr

یہ ٹویٹ اتنا زیادہ Retweet کرو تاکہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلے کس طرح جسٹس اطہر من اللہ نے قوم کے اربوں روپے ضائع کیے ہمارے دوست ثاقب بشیر Saqib Bashir اس حوالے سے اصل حقیقت آپ کو نہیں بتائے گا اطہر من اللہ نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر جس کمپنی کے پاس ہائی کورٹ بنانے کا ٹھیکہ تھا اس ٹھیکدار کو Litigation میں اتنا الجھایا اس کو اتنا تنگ کیا کہ اس ٹھیکدار نے ہائی کورٹ کا ٹھیکہ ہی واپس کیا اسلام آباد کے وکلا کے مطابق اطہر من اللہ نے یہ ٹھیکہ اپنے من پسند کمپنی کو دینے کے لیے ایسا کیا تھا اس کے بعد یہ ٹھیکہ اطہر من اللہ کے من پسند ٹھیکداروں کو دیا گیا اربوں روپے قومی خزانے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بلڈنگ کے لیے خرچ کیے گئے ہائی کورٹ بننے کے چند دن بعد ہائی کورٹ کے لفٹ میؑ لطیف کھوسہ سمیت کئی وکلا پھس گئے کل بارش میں ہائی کورٹ کی یہ حالت ہوئی پانی کورٹ روم کے اندر جمع ہوئے گرمیوں میں AC کام کرنا بند کرتا ہے خواجہ آصف صاحب کا وہ مشہور ٹویٹ بھی یاد ہوگا جب وہ پہلی بار اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے بلڈنگ میں آیا تو ہائی کورٹ کی تعمیر کرنے والے ٹھیکدار کے حوالے سے ٹویٹ بھی کیا تھا اس ٹھیکدار کو شرم و حیا بھی یاد دلائی تھی اسلام آباد کے سینئر وکلا یہ کہتے ہیں جس کمپنی کو پہلے ٹھیکہ دیا گیا تھا ریڈ زون کے 90% بڑے بلڈنگ اس کمپنی نے بہت اچھے طریقے سے تعمیر کیے تھے اس میں سپریم کورٹ اور قومی اسمبلی کی بلڈنگ سرفہرست ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کا ٹھیکہ بھی پہلے اس کمپنی کے پاس تھا اس ٹھیکدار کو اطہر من اللہ نے عدالتوں میں اتنا الجھا کہ رکھا کہ وہ کمپنی تنگ آکر ٹھیکہ ہی واپس کیا یہ سب باتیں اسلام آباد کے وکلا اطہر من اللہ کے حوالے سے کر رہے ہیں اس کی صاف شفاف تحقیقات ہونی چاہئے تاکہ اصل حقیقت سامنے آ جائے یا اطہر من اللہ صاحب کو اس حوالے سے وضاحت دینا چاہئے Hasnaat Malik Hassan Ayub Khan Matiullah Jan Abdul Qayyum Siddiqui Maryam Nawaz Khan

Khalid Hussain Taj

62,175 Aufrufe • vor 1 Jahr