正在加载视频...

视频加载失败

اسلام آباد کا آخری مئیر سی ڈی اے کا ایک ٹھیکدار تھا جس کی واحد کوالیفیکشن یہ تھی اس نے چند طاقتور لوگوں کو ایف الیون اور مری میں گھر بنا کر دیے تھے۔ نواز شریف صاحب کے تیسرے دور حکومت میں ایک ٹھیکدار پیسوں/تعلقات کی طاقت پر شہر...

27,699 次观看 • 3 天前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

ایک دور میں پنجاب میں مشہور تھا کہ بیوروکریٹس وزیراعلی شہباز شریف صاحب سے ڈرتے اور دبکتے تھے۔ افسر شہباز شریف کے ساتھ پوسٹنگ لینے سے گھبراتے تھے۔ اور پھر فلک نے حیران کن نظارہ دیکھا۔ وہی بات کہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی آج وہی ماضی کا دبنگ وزیراعلی اب وزیراعظم شہباز شریف صاحب ایک بیس گریڈ کے بیوروکریٹ سے دب گئے ہیں۔ گردش ہے زمانے کی۔ ایک چالیس سال سے سیاستدان جو تین چار دفعہ پنجاب کا خود ساختہ دبنگ وزیراعلی رہا ہو اور تقریبا چار سال سے مسلسل دوسری دفعہ وزیراعظم شہباز شریف پر ایک بیس گریڈ کا بابو چیرمین سی ڈی اے رندھاوا صاحب بھاری پڑ جائے وہاں اکیلا رپورٹر کیا توپ چلا سکتا ہے؟ وجہ پڑھ لیں۔ طارق عزیز کو اسلام آباد میں بہترین سیاسی رپورٹر مانا جاتا ہے اور اوپر تک تعلقات ہیں۔ کل رات گئے الیزم/سینٹورس کے سامنے سی ڈی اے کی نالائقیوں اور شہر کی بربادی پر بات ہونے لگی تو کہنے لگے رئوف صاحب آپ ٹائم ضائع کررہے ہیں۔ چیرمین سی ڈی اے رندھاوا وزیراعظم شہباز شریف تک کو خاطر میں نہیں لاتے۔ طارق کہنے لگا جہاں وزیراعظم تک کے پر جلتے ہیں وہاں آپ اس شہر کے جنگل، درخت اور سبزہ کب تک بچا سکتے ہیں یا شہر کے لیے لڑ سکتے ہیں۔۔؟ ساتھ میں ایک اور قابل اور ایکسلوسو اسٹوریز کے ماہر صحافی سہیل اقبال بھٹی بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا اسلام آباد کی صفائی کا انتظام اگر مریم نواز صاحبہ کی صاف ستھرا ٹیم کو دیا جائے تو وہ شہر کو صاف ستھرا رکھ سکیں گے۔ سی ڈی اے چیرمین کی ترجیح نہ جنگل ہیں نہ درخت نہ سبزہ نہ صفائی۔وہ تین چار ارب روپے سے کم پراجیکٹ میں ہاتھ نہیں ڈالتے۔ وہ اپنی انرجی شہر کو صاف ستھرا رکھنے پر ضائع نہیں کرتے۔ وہ بڑے کاموں کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور شہر کو اچھا اور صاف ستھرا رکھنا انہیں بڑا کام نہیں لگتا۔ ویسے کیا دوبئی، استنبول، بارسلونہ، پرتگال، برلن، ناروے، اوسلو، پیرس بھی اتنے گندے ہیں جتنا یہ شہر رندھاوا صاحب نے بنا دیا ہے۔۔کیا یہ کسی ملک کا دارلخلافہ ایسا ہے ؟ Capital Development Authority - CDA, Islamabad Muhammad Ali Randhawa Shehbaz Sharif Mohsin Naqvi SenatorSherryRehman Palwasha Khan Dr. Tariq Fazal Ch. Dr. Musadik Malik Prime Minister's Office Ministry of Finance, Government of Pakistan Ahsan Iqbal Sohail Iqbal Bhatti Tariq Aziz Maryam Nawaz Sharif Government of Punjab Azma Zahid Bokhari Attaullah Tarar Khawaja M. Asif

Rauf Klasra

133,028 次观看 • 8 个月前

آپ اسلام آباد کو اپنی آنکھوں کے سامنے بگڑتے دیکھ رہے ہیں۔ جو کام کبھی دیگر شہروں میں ہوتا تھا وہ اب یہاں شروع ہے۔ یہ جناح ایونیو ہے جہاں اب فٹ پاتھ پارکنگ بنتا جارہا ہے۔ سی ڈی اے ہو یا اسلام آباد ٹریفک پولیس ان کی ترجیح شہر کی خوبصورتی یا ٹریفک/پارکنگ ایشوز پر سختی کرنی نہیں رہ گئی۔ سی ڈی اے بابوز ویسے ہی پانچ دس ارب روپے کم پراجیکٹ سے کم میں ہاتھ نہیں ڈالتے۔ میں حیران ہوتا ہوں کیا سی ڈی اے کے دس بارہ ہزار ملازمین یا ضعلی انتظامیہ کے سینکڑوں ملازم:بابوز/افسران کو شہر کی بگڑتی صورت حال نظر نہیں آتی۔ کیا وہ شہر میں کبھی نہیں نکلے؟ سب شہروں کو دھیرے دھیرے بگاڑنے کے بعد اب اس طرح اپنے فرائض کو پورا کرنے میں ناکامی کے اب انہوں نے اسلام آباد کو بھی برباد کرنے کی ٹھان لی ہے۔ ہمارے بابوز ہوں یا پولیس یہ کام کیوں نہیں کرتے؟ اگر مین روڈ کے فٹ پاتھ پر پارکنگ بن گئی ہے تو اندازہ کر لیں باقی شہر میں یہ افسران اپنے کام میں کتنے سنجیدہ ہیں۔ یہ سب اعلی عہدے سفارشوں پر لیتے پیں لیکن ان عہدوں کے ساتھ جڑی بھاری ذمہ داریاں نہیں لیتے۔ انہیں یقین ہے اعلی عہدے کارگردگی نہیں خوشامد اور سفارش پر ملتے پیں لہذا یہ سب مست ہیں۔ ہوسکتا ہے یہ سب آپ کو بڑی معمولی بات لگے گی لیکن یہ معمولی باتوں کو نظر انداز کر کے ہی آپ نے اپنے شہر برباد کیے ہیں۔ یہی نتیجہ اب یہاں اسلام آباد میں بھی نکل رہا ہے۔ Shehbaz Sharif Mohsin Naqvi Sohail Raja Khurram Nawaz Palwasha Khan Sardar Ayaz Sadiq Capital Development Authority - CDA, Islamabad Islamabad Police Junaid Akbar Ahsan Iqbal Attaullah Tarar

Rauf Klasra

65,630 次观看 • 1 个月前

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنانے کیلئے ایک اور اہم سنگ میل عبور چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے پاکستان کے پہلے مکمل کیش لیس کیے جانے والےہفتہ وار بازار H-9 کاافتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں ممبر فنانس، چیف آفیسر ایم سی آئی، سی ای او زندگی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ سمیت کثیر تعداد میں صارفین اور تاجروں کی شرکت اسلام آباد کے سیکٹر H-9 میں قائم ہفتہ وار بازار میں باقاعدہ طور پر مکمل کیش لیس نظام کو نافذ العمل کردیا گیا چیئرمین سی ڈی اے کا سیکٹر H-9 ہفتہ وار بازار میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کا تفصیلی جائزہ چیئرمین سی ڈی اے نے ممبر فنانس اور چیف آفیسر ایم سی آئی کے ہمراہ سیکٹر H-9 بازار میں موجود اسٹالز سے کیش لیس طریقے کار کے مطابق ادائیگی بھی کی صارفین/ شہریوں کو ڈیجیٹل طریقہ کار کے مطابق ادائیگیوں پر خصوصی رعایات بھی فراہم کی جا رہی ہیں، بریفنگ کیش لیس نظام کو شہر کے تمام کمرشل مراکز اور شاپنگ سینٹرز، سمیت ہسپتالوں، ہوٹلوں، ریستورانوں اور اسلام آباد ائیرپورٹ پر بھی متعارف کروایا جارہا ہے، بریفنگ چیئرمین سی ڈی اے نے زندگی کے سی ای او نعمان، ایم سی آئی، مرکزی و کمرشل بنکس کے نمائندگان سمیت اسلام آباد انتظامیہ کے اقدامات کو سراہا وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر داخلہ کے وژن کے مطابق شہریوں اور صارفین کی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس احسن قدم کا آغاز کردیا گیا ہے، چیئرمین سی ڈی اے ان اقدامات کا مقصد اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنانا ہے، محمد علی رندھاوا کیش لیس نظام نہ صرف ای-گورننس کے ماڈل کو اپنائے گا بلکہ عوام کو آسان، محفوظ، تیز اور شفاف ترین ادائیگیوں کی سہولیات بھی فراہم کرے گا، چیئرمین سی ڈی اے اس نظام سے شہریوں/ صارفین کو لین دین میں نہ صرف آسانی ہونگی بلکہ دارالحکومت اسلام آباد میں کیش لیس معیشت کو بھی فروغ ملے گا، محمد علی رندھاوا اس جدید نظام کی کامیابی کیلئے بینکوں کو صارفین اور تاجروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور رعایت بھی دینا ہوگی، چیئرمین سی ڈی اے تمام اسٹال ہولڈرز کے لائسنسز اور نرخ نامے ڈیجیٹل بورڈز پر نمایاں طور پر آویزاں کئے جائیں، چیئرمین سی ڈی اے کی بازار انتظامیہ کو ہدایت چیئرمین سی ڈی اے نے کیش لیس نظام کے حوالے سے بھرپور عوامی آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی چیئرمین سی ڈی اے نے H-9 بازار میں خریداری کی عرض سے آئے ہوئے صارفین کو کیش لیس لین دین کے افادیت کے حوالے سے بھی آگاہ کیا کیش لیس نظام اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سے لین دین کا بنیادی مقصد شہریوں اور تاجروں دونوں کو یکساں فوائد پہنچانا ہے، محمد علی رندھاوا ان اقدامات کا مقصد شہریوں کو کیش لیس و ڈیجیٹل نظام کے ذریعہ ہر قسم کے مالی لین دین کو محفوظ بنانا سمیت فراڈ و دھوکہ دہی سے بچانا ہے، چیئرمین سی ڈی اے سیکٹر H-9 ہفتہ وار بازار میں کامیابی کیساتھ کیش لیس نظام کو نافذ العمل کرنا تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے، محمد علی رندھاوا اسلام آباد کو بین الاقوامی شہر بنانے کے مقاصد کے حصول کیلئے یہ اقدامات انتہائی ضروری ہے، چیئرمین سی ڈی اے آئیے!! ہم سب ملکر اس تاریخی اقدام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں اور اسلام آباد کو مکمل کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنائیں، محمد علی رندھاوا

Capital Development Authority - CDA, Islamabad

22,136 次观看 • 9 个月前

ڈان اخبار کی آج کی ایک خبر کے مطابق اسلام آباد کلب کا سرکار کی 51 کنال اراضی پر قبضہ ہے۔ کلب نے پارکنگ کے لیے بھی سی ڈے اے کی زمین اور مری روڈ کے رائٹ آف وے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ مجموعی طور پر کلب 54 کنال زمین پر تجاوز کر چکا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد کے ایک اور ایلیٹ کلب گن اینڈ کنٹری کلب لیز کے بغیر سرکار کی 256 کنال زمین پر چل رہا ہے۔ دوسری طرف حالیہ دنوں میں وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کے عقب میں پہلے مسلم کالونی کے خلاف آپریشن کیا گیا۔ مسلم کالونی جس میں آباد لوگوں کے آباؤ اجداد نے اپنے ہاتھوں سے دارالحکومت اسلام آباد تعمیر کیا۔ اس کے بعد ایچ نائن میں رمشا کالونی کے خلاف آپریشن کیا گیا جسے 2012 میں یہاں آباد کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رمشا کالونی کو اس وقت کی حکومت نے خود ہی ایچ نائن میں خالی جگہ پر آباد کیا تھا۔ اب سی ڈی اے نے بری امام کے ساتھ ملحقہ نور پور شاہاں میں دہائیوں سے آباد مقامی افراد کے گھروں کو مسمار کردیا ہے۔ اگر یہ سب کچی آبادیاں اور اس کے مکین “غیرقانونی” ہیں تو پھر اسلام آباد کلب کی جانب سے تجاوزات کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جب تک سی ڈی اے اسلام آباد کلب کی جانب سے تجاوزات کے خلاف آپریشن کر کے 54 کنال واگزار نہیں کرواتا، اس کے کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن کا بھی کوئی جواز نہیں۔ فی الحال ایسا لگتا ہے کہ اشرافیہ کے کلبس پر ہاتھ ڈالتے ہوئے سی ڈی اے کے پر جلتے ہیں۔

Ghazi Amir Gujjar

28,889 次观看 • 4 个月前

ہمارے دوست وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب کا یہ اعتراف کتنا خوفناک ہے اس کا اندازہ شاید کسی کو امریکہ ایران چکر میں نہیں ہوا۔ وہ سی ڈی اے کے وزیر انچارج ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ مجھے بھی اس ادارے میں کام ہو تو دس لاکھ روپے (رشوت) دینی پڑے گی۔ نقوی صاحب دو سال سے اس ادارے کے سربراہ ہیں جس کے بارے کہہ رہے ہیں وہاں کرپشن کا ریٹ دس لاکھ ہے۔ وہ ادارہ جس میں وزیراعظم تک کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے آپ وزیروں کو تو چھوڑ ہی دیں۔ نقوی صاحب دو سال سے اس سونے کی کان جیسے ادارے کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ وہ اپنے لاڈلے کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا کو لائے اور اسلام آباد کا پہلے چیف کمشنر اور پھر سونے کی کان سی ڈی اے کا چیرمین لگا دیا اور وہ چیرمین خود کو نقوی صاحب کے علاوہ کسی کو جواب دہ نہیں سمجھتا تھا بلکہ اکثر قائمہ اجلاسوں میں ان کی رعونت اور تکبر کو سب نوٹ کرتے تھے۔ پچھلے سال جولائی میں سترہ ارب تو دسمبر میں چوبیس ارب کے پلاٹ بیچے گئے۔ مطلب چھ ماہ میں سی ڈی اے کے پاس چالیس ارب تھا۔ ہزاروں درخت کاٹے گئے، جنگل تباہ کیے گئے، غیرضروری اور ناقص فلائی اوور اور سڑکیں بنائ گئیں جو پہلی بارش پر ٹھس ہوئیں۔ ماحول تباہ کیا۔ پورے شہر کو ایک گریڈ بیس کے افسر نے تہس نہس کر دیا اور ابھی چند دن پہلے رندھاوا صاحب اور نقوی صاحب چین گئے اور وہاں سے فرمایا کہ اسلام آباد شنگھائی بنے گا۔ شنگھائی خاک بنتا الٹا آج وزیر صاحب فرما رہے ہیں وہ ان دو سالوں میں جب رندھاوا نقوی جوڑی اس ادارے کو چلا رہی تھی وہ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔ یہ نتیجہ نکلا ہے ایک گریڈ بیس کے افسر کو خوفناک اختیارات دینے کا۔ یہ دراصل رندھاوا صاحب کے خلاف چارج شیٹ ہے کیونکہ دو سال سے وہ سفید سیاہ کے مالک تھے۔ نقوی صاحب کو اپنی اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سی ڈی اے کی وزارت کا چارج چھوڑ دینا چاہئے۔ ان دو سالوں کا آڈٹ ہونا چاہیے کہ چالیس ارب کہاں خرچ ہوا۔ لاہور کا لاڈلا کنٹریکٹر کون تھا جسے سب اربوں کے کنٹریکٹ نصیب ہوئے۔ رندھاوا صاحب تو اپنے ساتھ درجن بھر ڈی ایم جی افسران ڈیپوٹیشن پر لائے تھے ان کی یہ کارگردگی تھی کہ ریٹ دس لاکھ روپے چل رہا ہے؟ افسوس اس بات کا ہے کہ جس گریڈ بیس کے افسر کے دور میں رشوت کا ریٹ دس لاکھ تک جا پہنچا ہے اسے نقوی صاحب نے ڈی جی پاسپورٹ لگا دیا ہے۔ دو سال بعد نقوی صاحب ہمیں پاسپورٹ آفس کا ریٹ بتا رہے ہوں گے کہ کام کرانا ہے تو دس لاکھ ریٹ ہے؟ اگر سی ڈی اے کا ریٹ آج دس لاکھ ہے تو رندھاوا صاحب کیسے کلئرنس لے کر ایک اور سونے کی کان کے مالک بنا دیے گئے ہیں۔ ؟ ان کے خلاف کیا کاروائی ہوئی جن کے دور میں بقول ریٹ دس لاکھ تک پہنچ گیا ہے؟ نقوی صاحب یہ آپ کی ناکامی ہے اور آپ کو اس کی ذمہ داری لینی چاہئے۔ مان لیں یہ آپ کے بس کا کام نہیں ہے۔ جب رندھاوا صاحب پورا شہر اجاڑ رہے تھے آپ ان کے محافظ بن کر کھڑے تھے حالانکہ جب وزیراعلی تھے تو بڑا آپ کی کارگردگی کا شور سنا تھا۔ پنجاب بارہ کروڑ کا صوبہ اور اسلام آباد پچیس لاکھ لیکن یہاں آپ ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں اور اب بتا رہے ہیں جس ادارے کو آپ نے دو سال ہیڈ کیا اس کا ریٹ دس لاکھ ہے۔ نقوی صاحب کے دس لاکھ ریٹ انکشاف سے اب آپ سب کو خواجہ آصف کی بات سمجھ آرہی ہے کہ پاکستان بیوروکریٹس بیرون ملک شہریت اور پرتگال میں دھڑا دھڑ جائیدادیں کیسے خرید رہے ہیں۔۔ 😎 Shehbaz Sharif Maryam Nawaz Sharif Mohsin Naqvi Capital Development Authority - CDA, Islamabad Sohail Muhammad Ali Randhawa Ahsan Iqbal Dr. Musadik Malik Junaid Akbar Barrister Gohar Khan Khawaja M. Asif Khawaja Saad Rafique Palwasha Khan Shazia Atta Marri SenatorSherryRehman Raja Khurram Nawaz Nabil Gabol Syed Agha Rafiullah Sher Afzal Khan Marwat Dr. Tariq Fazal Ch. Syed Naveed Qamar Hina Rabbani Khar Sana Ullah Khan Mastikhel

Rauf Klasra

89,361 次观看 • 4 个月前