正在加载视频...

视频加载失败

پاپا کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی اور انھیں سی ایم ایچ داخل کرایا ھے ہارٹ کا مسئلہ ھے سب احباب سے دعا کی درخواست 🙏 Daughter of RH Riaz

199,838 次观看 • 3 年前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

پشاور: زخمی ہونے کے باوجود پولیس اہلکار نے بینک ڈکیتی ناکام بنا دی پشاور کے علاقے پیر بالا میں بینک ڈکیتی کی کوشش پولیس کی بروقت کارروائی سے ناکام بنا دی گئی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے۔ پولیس کے مطابق صبح تقریباً دس بجے تین مسلح ڈاکو بینک میں داخل ہوئے۔ اسی دوران ایڈیشنل ایس ایچ او بہار علی نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکوؤں کو روکنے کی کوشش کی۔ فوٹیج کے مطابق ڈاکوؤں کی فائرنگ سے بہار علی پانچ گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے، تاہم زخمی ہونے کے باوجود وہ ڈٹے رہے اور مقابلہ جاری رکھا۔ اس دوران دو دیگر پولیس اہلکاروں نے بھی ڈاکوؤں کو روکنے کے لیے فائرنگ کی۔ پولیس کے بروقت ردعمل کے باعث ڈاکو ڈکیتی کیے بغیر ہی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ ڈاکوؤں نے واردات کے دوران نائن ایم ایم اور تیس بور پستول استعمال کیے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

Tribal News Network

151,849 次观看 • 7 个月前

یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ جی عادل راجہ کے ذرائع کتنے سچے ہیں اور باوثوق ہیں صرف جھوٹ کا پلندہ ہے یہ شخص بھائی سب سے پہلے یہ تو بتائیے کہ کونسی اعلی قیادت کل سے ہسپتال عیادت کے لیے آئی یا فیملی کے پاس آئی ہو ؟ نام ضرور بتانا بھاگنا نہیں اب دوسرا یہ تھا وہ شاہانہ بند نما کمرہ جس میں صنم کو وارڈ میں علاج کے بعد شفٹ کیا گیا کبھی اس کی لائٹ بند تو کبھی پنکھا بند اور یہ ہے شاہانہ انداز میں ان کی فیملی کی ان سے پر سکون ملاقات ماں کیسے چیخ رہی ہے کسے چلارہی ہے کیوں کہ اس کی بیٹی کے دائیں ہاتھ سے شاہانہ انداز میں بہت خون بہہ رہا تھا اس واقعہ کے بعد ایم ایس صاحبہ اوپر آئی صنم کے ہاتھ پر مرہم کی اور جب باہر نکلی تو صنم کی والدہ نے درخواست کی کہ اس کو اپ وارڈ میں ہی شفٹ کردے کم از کم ادھر گرمی تو نہیں ہے لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا اور کہا یہ اپ کا لیگل مسئلہ ہے ہم اس میں نہیں پڑے گے تم جیسے لوگ چند ویوز اور ڈالروں کے عوض اگلے کی ساری تکالیف اور قربانیوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں کچھ شرم کرو اور شاباش اس غیرت مند قیادت کا نام بتانا جو کل اس شاہانہ جگہ پر آیا ہو ؟ لازمی

Saad dogar

102,646 次观看 • 4 个月前

تھانہ مکڑ وال کے علاقہ مٹھہ خٹک میں ایک اوباش نوجوان کی نو عمر خوبصورت لڑکے سے ماں کے سامنے زور زبر۔دستی جنسی تعلقات بنانے اور دوستی کرنے پر غنڈ۔ہ گر۔دی کی ویڈیو وائرل۔😭 ماں بچاری کہتی ہے رپورٹ کروائیں گے ملزم کہتا کروائیں ۔ غریب ہونا ہمیں غریب آدمی کا خوبصورت بچہ ہونا جرم بن گیا۔😢 ایس ایچ مکڑوال اور ڈی پی او سے فوری ایکشن کا مطالبہ ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ غریب کو انصاف مل سکے اوباش شخص جس کا نام عصمت اللہ خان ولد صورت خان قوم پٹھان لدوخیل سکنہ مٹھہ خٹک تھانہ مکڑوال نعمان نامی ایک غریب اور کمزور قوم موچی کو زبردستی پکڑ کر اس کی والدہ کے سامنے جنسی ہراساں کرنے اور ٹک ٹاک ویڈیو بنانے پر مجبور کر رہا ہے۔ غریب اور کمزور ہونے کی وجہ سے اس غنڈہ گردی کیخلاف تاحال تحریری درخواست دائر نہ ہو سکی ہے یہ واقعہ نہ صرف کھلی غنڈہ گردی ہے بلکہ ہمارے معاشرتی اقدار اور انسانی وقار کی خلاف ورزی ہے یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ کمزور کے ساتھ ناانصافی کا واضح ثبوت ہے۔ اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو کل یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ غریب بچے کو بچانے کے لیے آواز اٹھائ جائے جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے سب انسانوں کو بچایا
0:10

Sensitive content

تھانہ مکڑ وال کے علاقہ مٹھہ خٹک میں ایک اوباش نوجوان کی نو عمر خوبصورت لڑکے سے ماں کے سامنے زور زبر۔دستی جنسی تعلقات بنانے اور دوستی کرنے پر غنڈ۔ہ گر۔دی کی ویڈیو وائرل۔😭 ماں بچاری کہتی ہے رپورٹ کروائیں گے ملزم کہتا کروائیں ۔ غریب ہونا ہمیں غریب آدمی کا خوبصورت بچہ ہونا جرم بن گیا۔😢 ایس ایچ مکڑوال اور ڈی پی او سے فوری ایکشن کا مطالبہ ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ غریب کو انصاف مل سکے اوباش شخص جس کا نام عصمت اللہ خان ولد صورت خان قوم پٹھان لدوخیل سکنہ مٹھہ خٹک تھانہ مکڑوال نعمان نامی ایک غریب اور کمزور قوم موچی کو زبردستی پکڑ کر اس کی والدہ کے سامنے جنسی ہراساں کرنے اور ٹک ٹاک ویڈیو بنانے پر مجبور کر رہا ہے۔ غریب اور کمزور ہونے کی وجہ سے اس غنڈہ گردی کیخلاف تاحال تحریری درخواست دائر نہ ہو سکی ہے یہ واقعہ نہ صرف کھلی غنڈہ گردی ہے بلکہ ہمارے معاشرتی اقدار اور انسانی وقار کی خلاف ورزی ہے یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ کمزور کے ساتھ ناانصافی کا واضح ثبوت ہے۔ اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو کل یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ غریب بچے کو بچانے کے لیے آواز اٹھائ جائے جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے سب انسانوں کو بچایا

چوہدری قاسم

56,240 次观看 • 5 个月前

اہم ، سیالکوٹ بجوات سیکٹر میں تباہی کی تفصیلات مجھے مستند ذرائع نے سینڈ کیں ہیں پنجاب حکومت انتظامیہ فوری توجہ دے ، سیالکوٹ سے تقریباً 21 کلومیٹر شمال کی جانب علاقہ بجوات جو 84 دیہات پر مشتمل ہے جس کی آبادی تقریباً چھ 7 لاکھ ہے کل کے سیلاب میں سب سے پہلے یہ علاقہ متاثر ہوا ہے چاول کی فیصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے جو کھانے پینے کی اشیاء لوگوں نے گھروں میں رکھی ہوئی تھی جو پورا سال استعمال کرنی تھی جس میں گندم ، چاول وہ سب کچھ پانی بہا لے گیا ہے اور بہت زیادہ مال مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں سب سے اہم بات یہ کی ان سب 84 دیہات کا زمینی راستہ بھی سیالکوٹ اور دوسرے شہروں سے منقطع ہے انتظامیہ فوری طور پر بجوات سیکٹر کا واحد زمینی راستہ ، بجلی ، انٹرنیٹ بحال کرے اور امدادی کارروائیاں شروع کرے بجوات سیکٹر میں مشرق سے دریائے جموں توی اور شمال سے دریائے چناب پاکستان میں داخل ہوتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا پل بجواں ، مرہال، پنڈی پتراڑہ ، چک کھوجہ ، گدپور و دیگر جگہوں سے گزرنے والا سیلابی ریلا میں بھی کافی نقصان پہنچا چکا ہے سات سے دس فٹ جو نچلے حصے تھے وہاں 10 فٹ تک بھی پانی تھا بجوات وہ سیکٹر جس میں پاکستان میں جب انڈیا کی طرف سے پانی آتا ہے تو سب سے پہلے متاثر ہوتا ہے اور اس علاقے کا سب سے بڑا گاؤں پل بجواں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے کیونکہ یہ بلکل دریائے جموں توی کے کنارے پر ہے NDMA PAKISTAN Government of Punjab Sialkot Police

Saqib Bashir

96,196 次观看 • 1 年前

پاکستانی شوبز اداکار صفیحہ جبار کو تو جانتے ہونگے جو پہلے اداکارہ تھی اچھی شکل صورت تھی اچھی ایکٹنگ کرتی تھی ۔۔ پھر اچانک سے بال غائب ہو گئے پورے کپڑے چھوٹے ہو گئے میں نے اس پر پوسٹ کی تھی کہ یہ لڑکی مجھے سائیکو ٹائپ لگتی ہے ۔۔ انہوں نے اپنے اک کلپ میں بتایا کہ وہ ڈپریشن میں چلی گئی تھی اتنا شدید ڈپریشن تھا کہ میں تیس تیس گولیاں لے رہی تھی انٹی ڈپریشن کی ۔۔ مجھے نہی پتہ تھا میں کیا کرہی ہوں ۔۔ میں نے نماز پڑھی تہجد پڑھی میں ٹھیک نہی ہوی ۔۔ بقول انکے میں یہ اس لیے بتارہی ہوں کہ لوگ ہمیں کہتے تم تو شوبز کے لوگ دین سے دور ہوتے ہو اس لیے تمھیں ڈپریشن ہوتا ہے ۔۔ شاید محترمہ یہ نہی جانتی عبادت کا مقصد فوری جذباتی سکون کی گارنٹی نہیں ہوتا بلکہ اللہ سے تعلق مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ ڈپریشن ایک نفسیاتی اور بعض اوقات کیمیائی کیفیت ہے جو دماغ کے اندر ہارمونز اور سوچ کے پیٹرن سے جڑی ہوتی ہے۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا ہے کہ اللہ کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں مگر اطمینان کا مطلب یہ نہیں کہ تکلیف بالکل ختم ہو جائے گی۔ بہت سے انبیاء اور نیک لوگ بھی شدید غم اور اذیت سے گزرے حالانکہ ان کا اللہ سے تعلق سب سے مضبوط تھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی مثال لے لیں جو اپنے بیٹے کی جدائی میں اتنا روئے کہ آنکھیں سفید ہو گئیں حالانکہ وہ نبی تھے اور ہر وقت اللہ کو یاد کرتے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عبادت غم کو فورا ختم کرنے کا نسخہ نہیں بلکہ اسے برداشت کرنے اور اللہ سے جڑے رہیں ۔

Saleem Speaks

109,156 次观看 • 7 天前

اڈیالہ کے باہر بدترین ظلم و جبر کا منظر جاری ہے جہاں علیمہ خان ڈاکٹر عظمی اور نورین آپا کو تاحال گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کی بدترین تذلیل کی گئی ہے سب سے پہلے کارکنوں کو دوسری سمت سے پولیس بھیج کر منتشر کیا گیا اور بے دریغ لاٹھیاں برسائی گئیں اس کے باوجود کارکنوں نے گورکھپور ناکے کی جانب سے آنے والی پولیس کا بھرپور اور جرات مندانہ مقابلہ کیا اس کے بعد سادہ لباس میں ملبوس افراد نے کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کیا اور جب یہ ہتھکنڈہ بھی ناکام ہو گیا تو واٹر کینن کا استعمال کیا گیا حالانکہ وہاں کم سن بچے موجود تھے آپ نے خود دیکھا کہ ڈاکٹر عظمی کے نواسے اور نواسیاں بھی وہیں موجود تھے مگر ان معصوم بچوں تک کا کوئی لحاظ نہ رکھا گیا اور ان پر بھی زہریلا پانی برسایا گیا کئی بچے اس پانی کی زد میں آ گئے اس کے بعد تینوں بہنوں کو گرفتار کر لیا گیا ایم این اے شاہد خٹک کو بھی حراست میں لے لیا گیا اور اس وقت متعدد افراد پابند سلاسل ہیں عثمان جوڑا بھی گرفتار ہے جو چند روز قبل قید و بند کی صعوبتیں جھیل کر رہا ہوا تھا مگر ظلم و ستم کی یہ انتہا بھی ان کے لیے کافی نہ تھی جب ان کا دل نہ بھرا تو علیمہ خان نورین آپا اور ڈاکٹر عظمی پر براہ راست واٹر کینن سے حملہ کیا گیا جس پر کارکنوں نے چاروں طرف حصار بنا لیا اور عمران خان کی بہنوں کو بھیگنے سے بچایا لیکن اس تمام جبر کے باوجود بہادر علیمہ خان ان تمام ظالم قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئی

Agha Sheikh Sarwar

38,603 次观看 • 9 个月前

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت ٹیوٹا کا اہم اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں نوجوانوں کی فلاح، اسکل ڈویلپمنٹ اور روزگار کے مواقع سے متعلق اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ حکومت نوجوانوں کی ترقی پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے، لہٰذا اس کے واضح اور عملی نتائج سامنے آنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنر اور روزگار فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعلیٰ نے اسکلز ڈویلپمنٹ اینڈ ایمپلائمنٹ پروموشن پروگرام پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ کے تحت 42 ہزار نوجوانوں کو اوسطاً 73 ہزار روپے فی کس اسٹارٹ اپ گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ اب تک 5,445 نوجوانوں میں 39.7 کروڑ روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ پشاور میں 750 تربیت یافتہ نوجوانوں کو ملازمتوں کے مواقع تک رسائی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ مجموعی طور پر 25 ہزار نوجوانوں کی انٹرن شپ اور پلیسمنٹ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ احساس ہنر پروگرام کے تحت تین ارب روپے کی لاگت سے نوجوانوں کو پانچ لاکھ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ اب تک 1,211 درخواست گزاروں میں 58.5 کروڑ روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ ٹیوٹا کے تحت نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے کے لیے خصوصی پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے، جس میں فی ٹرینی 15 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جا رہا ہے۔ اب تک 88 نوجوانوں کو مختلف صنعتی یونٹس میں آن جاب ٹریننگ فراہم کی گئی ہے جبکہ 560 نوجوانوں کی 85 صنعتی یونٹس میں کامیاب پلیسمنٹ ہو چکی ہے۔ ضم اضلاع کے لیے 685 ملین روپے کی لاگت سے تیز رفتار اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 3,000 نوجوانوں کو مالی و تکنیکی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت 800 نوجوانوں کی تربیت مکمل ہو چکی ہے، جبکہ 520 نوجوانوں کی نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) اور 1,400 نوجوانوں کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں پلیسمنٹ یقینی بنائی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام پروگرامز پر ٹھوس حکمت عملی کے تحت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں۔

PTI

11,269 次观看 • 6 个月前

یومِ تکبیر کی رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے پمز ھسپتال میں دل کے امراض کی ایمرجنسی وارڈ میں ایک قریبی عزیز کی عیادت کے لئیے اپنے دوست صحافیوں کے ساتھ جانے کا اتفاق ہواا، ہم وارڈ سے تقریباً200 گز دور سڑک پر چہل قدمی کر رہے تھے کہ اچانک ہی فضا سڑک پر رگڑ کھاتے لوہے کے سٹریچر کے کمزور اور ٹوٹے پہیوں کی آواز سے گونجنا شروع ہو گئی، ہم سب نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو ایک خاتون سٹریچر کے اگلے دائیں سائڈ کے ٹوٹے پہئیے والے کونے کو ہاتھوں سے ہوا میں رکھنے کی کوشش کر رہی تھی اور ساتھ میں دو مرد حضرات سٹریچر پر پڑے ایک تقریباً سولہ سترہ سال کے بچے کو جلدی میں کھینچ رہے تھے، بظاہر انہیں پمز کی تقریباً مزید تین سو گز دور حادثاتی ایمرجنسی سے گاڑی یا ایمبولنس کی بجائے ٹوٹے سٹریچر پر ہی لواحقین کے حوالے کر کہ ایک سمت میں دھکیل دیا گیا تھا، پھولتی سانسوں کیساتھ پریشان خاتون (جو بظاہر ماں لگ رہی تھی) نے پوچھا یہ دل کا وارڈ کہاں ہے، میں تو اس صورت حال سے پریشانی کے عالم میں کبھی اُس ماں اور سٹریچر پر پڑے اُسکے بچے کو دیکھتا اور کبھی اُن لوگوں کے ہی پیچھےاُس طویل اندھیری سڑک کو جس پر وہ یہ ٹوٹا ہوا سٹریچر کھینچ کر لا رہے تھے، ایسے میںُ ہمارے ایک ساتھی صحافی افضل باجوہ نے ٹوٹے پہئیے والے سٹریچر کے کونے کو سنبھال لیا- بظاہر پمز کی حادثاتی ایمرجنسی میں کوئی ایسا ڈاکٹر نہ تھا جو اُس بچے کو ٹوٹے سٹریچر اور پریشان حال ماں باپ کو سڑک پر دھکیلنے سے پہلے کم سے کم ابتدائی طبی امداد دے سکتا اور پھر ھسپتال کے پچھواڑے میں قائم دل کی ایمرجنسی میں بذریعہ ایمبولنس بھیج دیتا، جہاں دل کی ایک دھڑکن اور ایک سیکنڈ کے فرق سے زندگی اور موت کا سفر طے ہوتا ہے وہاں ایک بچے کو ٹوٹے سٹریچر پر ڈال لر یوں سڑک پر دھکیل دینا کونسی انسانیت ہے؟ ایٹمی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالخلافہ کے سب سے بڑے ھسپتال کی دل کی ایمرجنسی ھسپتال کے مرکزی داخلی دروازے پر نہیں بلکہ اسکے پچھواڑے میں ہے جہاں پہنچتے پہنچتے سٹریچر کے پہئیے جواب دے جاتے ہیں اور مائیں راستہ پوچھتی رہ جاتی ہیں، کیا وجہ ہے کہ باہر سے آنے والے دل کے مریضوں کا دل کی ایمرجنسی کے قریب الگ داخلی راستہ نہیں؟ عام لوگ دل کے مریضوں کو مرکزی داخلی راستے پر قائم حادثاتی ایمرجنسی میں ہی لے کر جاتے ہیں تو کیا وہاں پر ہارٹ اٹیک کا شکار مریضوں کو فوری اور ابتدائی ہنگامی امداد نہیں ملنی چاہئیے؟ کیا حادثاتی ایمرجنسی میں آنے والے دل کے مریضوں کے لئیے کوئی خصوصی راہنمائی والا عملہ یا شٹل سروس ایمبولنس نہیں ہونی چاہئیے جو ہارٹ اٹیک کا شکار مریضوں کو حادثاتی ایمرجنسی سے فوری طور پر دل کی ایمرجنسی میں منتقل کر دے؟ منسلک ویڈیو صورت حال کی ایک جھلک ہے۔ سٹریچر اور اُس پر پڑا بچہ آخر ایمرجنسی پہنچ تو گیا مگر کتنے نقصان کے بعد؟ یہ تو ڈاکٹر ہی بتا سکتے ہیں۔

Matiullah Jan

255,843 次观看 • 2 年前

آٹسٹک عیلیہا نور الامین مینگل بنام نور الامین مینگل۔۔۔ اگر اس ملک میں آٹسٹک بچی کو بھی عدالتی نظام سے انصاف نہیں مل رہا تو سوچیں کہ عام انسانوں کے ساتھ یہ نظام کیا سلوک کرتا ہوگا۔ فیملی عدالت نے میری آٹسٹک بیٹی کا ماہانہ خرچہ 75 ہزار روپے مقرر کیا حالانکہ ہم نے قانون کے مطابق تمام ٹھوس شواہد، حقائق، قانون، آٹسٹک مریضہ کے علاج معالجہ و دیگر ضروریات، اور ریکارڈ عدالت میں پیش کیا، چلڈرن ہسپتال کی اسسٹنٹ پروفیسر بطور عدالتی گواہ آکر شہادت دے کر گئی اور میری بیٹی کی علاج معالجہ، تعلیم اور دیگر ضروریات کے مئوقف کی تائید کی جس کے بعد ہم نے استدعا کی کہ دعوی کی استدعا کے مطابق ساڑھے 3 لاکھ خرچہ اور سالانہ 20 فیصد اضافہ دیا جائے کیونکہ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ بچی کا والد نورالامین مینگل گریڈ 21 کا بیوروکریٹ ہے اور اس کے آمدن کے ذرائع ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ساڑھے 3 لاکھ سے بھی زیادہ خرچہ ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے لیکن فیملی عدالت نے صرف 75 ہزار خرچہ مقرر کیا۔ ظاہر ہے کہ ایک بااثر بیوروکریٹ کیخلاف فیصلہ دینے کیلئے سول جج کو ایمانداری اور خدا خوفی بھی چاہیئے ہوتی ہے جو کہ فیصلے کے مطابق نظر نہیں آتی۔ (اسکی وجوہات پھر کبھی لکھوں گی)۔ خیر ہم اپیل میں گئے تو وہاں بھی وہی سلوک ہوا۔ اب ہم لاہور ہائیکورٹ میں اپنا مقدمہ الگ لڑے رہے ہیں اور مدعا علیہ کے لاہور ہائیکورٹ جیسے ادارے میں اثر و رسوخ کیخلاف الگ لڑ رہے ہیں۔ خیر فیملی جج اور اپیل جج کے فیصلوں کے باوجود مینگل صاحب نے اپنی 7 سالہ artistic بیٹی عیلیہا نور مینگل کا پورے سال میں سے صرف دو ماہ کا خرچہ دیا ہے اور باقی خرچہ دینے میں حیلے بہانے اور تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔ مردوں کے معاشرے پر مشتمل عدالتی نظام کی بے حسی کی بدولت سکول کی فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ایلیا نور مینگل کا اسکول چھوٹ گیا ہے اور تھراپیز بھی ریگولر نہیں ہو پا رہیں جس کی وجہ سے میری بیٹی کا آٹزم دوبارہ بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔ نور الامین مینگل اپنے باقی تین بیٹوں اور ایک بیٹی کو بادشاہوں والی زندگی دے رہے ہیں اور اس autistic بیٹی کو تعلیم ، علاج اور بنیادی ضروریات کا حق بھی نہیں دے رہے۔ اللہ کی عدالت سے ہی ہمیشہ امید تھی اور ہے لیکن میں ماں ہوں، بے بس بھی ہوں اور اپنی بیٹی کی تکلیف کو دیکھ کر بہت تکلیف میں بھی ہوں۔ میرے لئے اور میری autistic بیٹی کے لئے آپ سب دعا کیجئے گا #Autism #AutismAwareness #AutismAcceptance #Neurodiversity #AutismSpectrum #AutismParent #AutismMom #AutismJourney #AutismLife #SingleMomLife #SupportAutism #DifferentNotLess #noorulaminmengal #autisminpakistan

Ambreen Sardar

104,921 次观看 • 5 个月前

ایرانی بے بس۔۔ سعودی عرب نے"آبنائے ہرمز اور باب المندب"کو بائی پاس کر کے ڈائریکٹ"بحیرہ عرب"پہنچنے کا منصوبہ مکمل کرنا شروع کر دیا سعودی عرب اور عمان کا بارڈر آپس میں جڑا ہوا ہے، اور سعودی عرب اب عمان کے ذریعے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) اور باب المندب کو بائی پاس کر کے جغرافیائی اور تزویراتی ایڈوانٹیج لے گا دونوں ممالک کے درمیان 741 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد واقع ہے، جو زیادہ تر مشہور صحرا"ربع الخالی"(The Empty Quarter) پر مشتمل ہے۔ دسمبر 2021 میں دونوں ممالک کے درمیان ربع الخالی کے ذریعے پہلی براہِ راست ہائی وے (سعودی-عمان ہائی وے) کھولی گئی۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان زمینی سفر متحدہ عرب امارات (UAE) سے گزر کر ہوتا تھا، مگر اب یہ زمینی رابطہ بالکل براہِ راست ہو چکا ہے۔ عمان کی بندرگاہیں دقم (Duqm) اور صلالہ (Salalah) آبنائے ہرمز سے مکمل طور پر باہر، خلیجِ عمان اور بحیرہ عرب (انڈین اوشن) کے کھلے ساحلوں پر واقع ہیں۔ تیل اور لاجسٹکس کاریڈور کے لیے عمان اور سعودی عرب کے درمیان ایک مجوزہ ریلوے نیٹ ورک اور خام تیل کی پائپ لائنز بچھانے پر بات چیت اور معاہدے جاری ہیں۔ اگر سعودی عرب ربع الخالی کے راستے اپنی مشرقی آئل فیلڈز کو عمان کی بندرگاہ "دقم" (Duqm) سے پائپ لائن کے ذریعے جوڑ دیتا ہے، تو اس کا تیل آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے بغیر براہِ راست عالمی منڈیوں میں جا سکے گا۔ موجودہ صورتحال میں فی الحال سعودی عرب آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے اپنی ملکی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن (East-West Pipeline) کا استعمال کر رہا ہے، جس کے ذریعے تیل کو بحیرہ احمر (Red Sea) کی بندرگاہ "ینبع" (Yanbu) تک پہنچایا جاتا ہے۔ تاہم، بحیرہ احمر میں حوثی باغیوں کے خطرات کی وجہ سے عمان کا راستہ (بحیرہ عرب کی طرف) سعودی عرب کے لیے مستقبل کا سب سے محفوظ ترین لائف لائن متبادل بن کر ابھر رہا ہے۔ عمان اور سعودی عرب نے "محفوظ گرین لینڈ کوریڈور" پر کام شروع کیا ہے جو عمان کی صحار بندرگاہ کو سعودی عرب کے SPARK ڈرائی پورٹ سے خالی کوارٹر ہائی وے کے ذریعے جوڑتا ہے۔ سعودی حصے کی لمبائی تقریباً 564 کلومیٹر ہے اور اس کی تعمیر پر تقریباً 533 ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔ اس زمینی راستے کا مقصد مال برداری کے اخراجات کم کرنا، سامان کی ترسیل تیز کرنا اور سمندری راستوں کی اہم رکاوٹوں کو نظرانداز کرنا ہے۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی اہمیت کم ہو جائے گی۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

25,977 次观看 • 1 个月前