正在加载视频...

视频加载失败

پاکستان میں بیوروکریسی کی اکاؤنٹیبلٹی میں مقننہ کا بڑھتا ہوا کردار ! اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، سیکرٹری اور دیگر انتظامی افسران کے دفاتر بنیادی طور پر پبلک آفسز ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت اور ریاستی امور کی انجام دہی ہے، اس لیے یہ دفاتر عوام کے...

27,911 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

11 条评论

Humanitarian 🇵🇰فیلڈ مارشل لوور 的头像
Humanitarian 🇵🇰فیلڈ مارشل لوور1 个月前

یہ ایم پی اے صاحب عام آدمی کے لیے کبھی بھی نہیں جاے گا یہ تو ملتے ہی نہیں

𝐅𝐞𝐞𝐥𝐢𝐧𝐠𝐬 🍁 的头像
𝐅𝐞𝐞𝐥𝐢𝐧𝐠𝐬 🍁1 个月前

ان کا جتنا رویہ اپنے آفسز میں ہوں تا ہے اللہُ معاف کرے، مجھے ایک بیوہ کی پینشن کے لیے ایک اے سی صاحب کے دفتر میں دو ماہ زلیل ہونا پڑا. سیاست دان بیوروکریسی سب کے سب ایک ہی پلڑے میں ہیں عوام دوسرے میں ہے

arshad hameed khan 的头像
arshad hameed khan1 个月前

do parliamentarians know their job? They need to bring good laws before asking executive.

Muzammil Shigri 的头像
Muzammil Shigri1 个月前

موجودہ حکومت غیر آئینی ڈاکہ زدہ انتخابات کے ذریعے وجود میں ضررو آئی ہے لیکن بیوروکریٹس کو عوامی نمائندوں کی عدالت میں پیش کرنے کا یہ سلسلہ بہت اعلیٰ ہے خیر تینوں کی چہرے اترے ہوئے ہیں

Desi=Pandu 的头像
Desi=Pandu1 个月前

سیاسی کارکن یا منتخب شدہ لیڈر وہ تو براہ راست عوام کی رسائی میں ہوتے ہیں ان کو تو کوئی راہ چلتے بھی گالیاں بک دیتا ہے یا مارنے کے لیے بھی اتر اتا ہے لیکن ان سرکاری بابوں کا کیا کیا جائے۔ ان تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے۔ پاکستان کے اندر untouchable ہے یہ والی مخلوق

fawad raja 的头像
fawad raja1 个月前

Strict action should be taken for arrogance of public servants.

abrar alee 的头像
abrar alee1 个月前

یہ اے سی جب ڈی سی اور پھر سیکرٹری بنے گا تو کیا تباہی پھیرے گا ملک صوبے اور ڈویثرن کی

Dr. Ahmad Farooq 的头像
Dr. Ahmad Farooq1 个月前

Both are equal.... bureaucrats knows how they helped them to get selected in elections..politicians knows that how beaucrates are living over luxurious lifestyle even pay is just peanuts...so 🤫

Aziz 的头像
Aziz1 个月前

عوامی نمائندوں کا عزت و احترام لازمی ہے ۔ رولز ریگولیشن ہوتے رہیں گے اپنے آپ کو سروس میں آکر سپیرر سمجھنے کا رویہ پہلے ختم کرنا چاہیے ۔ اپنے باپ کی عمر کے نائب قاصد کو بچے کہہ کر پکارنا چھوڑدے تو ان کی عزت میں کونسی کم آئے گی۔

MA 的头像
MA1 个月前

فارم ۴۷ کے ایم پی اے کس منہ سے افسرشاہی کااحتساب کر سکتے ہیں؟

Amir Rana ۔ 的头像
Amir Rana ۔1 个月前

لعنت اییسی اسٹیبلشمنٹ پر جو ۷۹ سالوں بعد بھی فرنگی زبان میں اپنا تعارف کروا رہے ہیں

相关视频

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 次观看 • 8 个月前

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 次观看 • 8 个月前

آئینی ترمیم کے معاملے پر جس عجلت سے حکومت کام لے رہی ہے، وہ ناقابلِ فہم ہے۔ ایسی کوئی ایمرجنسی نظر نہیں آ رہی جس کی بنیاد پر اس ترمیم کو فوری طور پر پاس کرنے کی ضرورت ہو۔ ہمیں ماضی میں کہا گیا کہ اگر ترمیم اتوار کو منظور نہ کی گئی تو پیر کو بڑا بحران آئے گا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ یہ جلد بازی ہمیں کسی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے۔ بل میں موجود تفصیلات اور اصولوں پر ہمیں سخت اعتراضات ہیں، اور ہم کسی بھی قیمت پر حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حکومت کی ترجیحات حیران کن ہیں۔ 1973 سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی کا مطالبہ موجود ہے، جسے آئین میں سات سال کے اندر مکمل کرنے کا ذکر ہے، لیکن آج 2024 میں ایک بھی سفارش پر قانون سازی نہیں ہوئی۔ تاہم، جب سیاسی مفادات کی بات آتی ہے تو راتوں رات آئینی ترامیم منظور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے لیے ہم نے نو مہینے لگائے، اور آج ہم سے 24 گھنٹوں میں ایک نئی ترمیم منظور کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جو بالکل ناقابلِ قبول ہے۔ ملک میں، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، جہاں حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے، موجودہ قوانین اور اختیارات کافی ہیں۔ نئی قانون سازی یا ترامیم کی ضرورت نہیں ہے۔ ملٹری کورٹس اور عدلیہ میں اصلاحات کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، جنہیں ہم مانتے ہیں کہ ضروری ہیں۔ تاہم، یہ اصلاحات عدالتوں کے فیصلوں میں شفافیت کے ساتھ ہونی چاہئیں اور انہیں کسی "سیل پرچیز" کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ ہم عدالت کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، لیکن اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان فیصلوں کا غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

32,812 次观看 • 2 年前

اس ویڈیو میں ایک خاتون ہاتھ جوڑ کر فریاد کرتی نظر آ رہی ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے تشویشناک منظر ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وفاقی دارالحکومت میں عوام کو انصاف اور سروس کے لیے اس طرح اپیلیں کرنا پڑیں تو پھر ذمہ داری کس کی بنتی ہے؟ دو سال گزرنے کے باوجود اگر اسلام آباد پولیس کی سروس ڈلیوری پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو یہ وقت ہے کہ اس پورے نظام کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ پاکستان میں قابل اور تجربہ کار افسران کی کمی نہیں، اس لیے عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا وفاقی پولیس کو ایسے افسران کے سپرد نہیں ہونا چاہیے جو عملی تجربے کے ساتھ دارالحکومت کی پولیس کو بہتر انداز میں چلا سکیں۔اسلام آباد پولیس کے آپریشن ڈویژن کے حوالے سے بھی یہ تاثر سامنے آ رہا ہے کہ اختیارات کا توازن درست نہیں۔ ایس ایس پی آپریشن کو وسیع اختیارات حاصل ہیں جبکہ ڈی آئی جی آپریشن جیسے سینئر عہدے کو مکمل طور پر مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔حقیقت یہ ہے کہ ڈی آئی جی آپریشن جیسے تجربہ کار افسران اگر مکمل اختیارات اور سپورٹ کے ساتھ کام کریں تو اسلام آباد پولیس کا آپریشنل نظام کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو سکتا ہے۔ عوام کی توقع صرف ایک ہے: دارالحکومت کی پولیس مضبوط، منظم اور حقیقی معنوں میں عوام دوست نظر آئے۔ Islamabad Police Mohsin Naqvi

Abbas Ahmed

12,152 次观看 • 6 个月前

کچھ ویڈیوز سامنے آچکی ہیں اور اطلاعات ہیں کہ آنے والے دنوں میں مزید ویڈیوز بھی سامنے آسکتی ہیں۔ ممکن ہے بچے اور بچیاں ابھی خوف کی وجہ سے خاموش ہوں، یا ان کے والدین نے انہیں خاموش رہنے کا مشورہ دیا ہو۔ اس لیے کسی بھی واقعے کے تمام پہلوؤں پر حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے مکمل شواہد کا سامنے آنا ضروری ہے۔ خاتون کا گریبان پکڑنے یا انہیں ہراساں کرنے کے الزام کی تاحال کوئی ویڈیو سامنے نہیں آئی۔ البتہ ایسی ویڈیوز ضرور سامنے آچکی ہیں جن میں ایک خاتون کو لاتیں چلاتے، پولیس اہلکار سے لاٹھی چھینتے اور بچیوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ مزید یہ کہ ویڈیو میں بچیوں کو ایف آئی آر کی دھمکیاں بھی سنائی دیتی ہیں، جبکہ دوسری طرف باحجاب بچیاں صرف ’’وی وانٹ جسٹس‘‘ کے نعرے بلند کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اب تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد ہر شخص اپنے ضمیر سے یہ سوال ضرور کرے کہ اس موقع پر ہراساں کون کر رہا تھا اور انصاف کا مطالبہ کون کر رہا تھا؟ فرعونیت کے سامنے انصاف مانگنا اگر کسی کی رعونت کو ’’ہراساں‘‘ کرنا بن جائے تو پھر مسئلہ انصاف مانگنے والوں میں نہیں، طاقت کے زعم میں ہے۔ جس طرح ایک باحجاب بچی یہ کہتی دکھائی دیتی ہے کہ ان کے سروں سے دوپٹے کھینچے گئے، لیکن اس دعوے کی تائید میں تاحال کوئی واضح ویڈیو یا قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا، اسی طرح ٹیچر کا گریبان پکڑے جانے اور انہیں ہراساں کیے جانے کے دعوے کے لیے بھی فی الحال کوئی واضح ویڈیو ثبوت موجود نہیں۔ دونوں دعووں کو ایک ہی معیارِ ثبوت پر پرکھا جانا چاہیے۔ اس معاملے میں ایک اور عجیب پہلو یہ ہے کہ ابتدا میں مذکورہ خاتون کو ’’افسر صاحب کی بیٹی‘‘ کہا گیا، پھر ’’بیوی‘‘ قرار دیا گیا، جبکہ اب یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ شاید ان میں سے کوئی نسبت درست نہیں۔ اگر یہ دعوے غلط ثابت ہوتے ہیں تو بھی اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کے بجائے حقائق کی تصدیق ضروری ہے۔ معاملہ بنیادی طور پر اتنا سادہ تھا کہ بچے اور بچیاں احتجاج کر رہے تھے۔ اساتذہ کو چاہیے تھا کہ معاملہ باہمی گفتگو سے حل کرتے، طلبہ کی بات سنتے اور انہیں اعتماد میں لیتے۔ ’’امورِ طلبہ‘‘ سے وابستہ ذمہ داران کا بنیادی کام ہی یہی ہے کہ طلبہ کے مسائل سنیں اور تنازعات کو مزید بگاڑنے کے بجائے انہیں حل کریں۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اختیار، ذمہ داری کے بجائے طاقت کا احساس پیدا کرنے لگے۔ ایسی صورتِ حال میں احتجاج کرنے والے طلبہ کو سننے کے بجائے ان پر غصہ، دھمکی یا طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اور حیرت ان لوگوں پر بھی ہے جو ایسی صورتحال میں درجنوں لاشیں گرانے کی باتیں کرتے ہیں، سوال اٹھانے والوں کو گالم گلوچ کا نشانہ بناتے ہیں، یا محض اس بنیاد پر کہ معاملے میں ایک عورت موجود ہے، بغیر شواہد کے اپنی تمام ہمدردیاں ایک ہی فریق کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں۔ ان سے صرف ایک سوال ہے: اگر یہی طرزِ عمل آپ کی اپنی بچیوں کے ساتھ کسی تعلیمی ادارے میں اختیار کیا جائے تو کیا آپ اسے درست سمجھیں گے؟ کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کی بچیاں بھی اختلاف یا احتجاج کے جواب میں لاتیں چلائیں، پولیس سے لاٹھی چھینیں اور دوسری بچیوں کی طرف حملہ آور ہونے کی کوشش کریں؟ اگر یہ دعویٰ بھی درست ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ خاتون کا افسر صاحب سے بیٹی یا بیوی کا کوئی رشتہ نہیں، تو پھر ان تمام لوگوں کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے جو محض کسی بااثر شخصیت سے تعلق یا قربت کے مفروضے کی بنیاد پر ایسے رویے کا دفاع کر رہے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں طاقتور سے قربت کسی کو قانون، اخلاق اور دوسرے انسانوں کی عزت سے بالاتر نہیں کرتی۔ جہاں تک افسر صاحب کا تعلق ہے، ان کے معاملے کی تحقیقات متعلقہ ادارہ کر رہا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے اور جو بھی نتیجہ سامنے آئے، اسے شواہد اور قانون کی بنیاد پر پرکھا جائے۔ اور آخر میں ان لوگوں کے لیے جو ہر صورت میں غلاظت کو ’’کھیر‘‘ ثابت کرنے پر بضد ہیں: آپ اپنی ملازمت، اپنے مفادات اور اپنی مجبوریوں کے مطابق جس طرح چاہیں اسے درست ثابت کرتے رہیں۔ لیکن کم از کم اتنا ضرور یاد رکھیے کہ سچ کو شور، گالم گلوچ یا طاقت کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اصل ضرورت کسی فریق کو ہیرو یا ولن بنانے کی نہیں، بلکہ مکمل حقائق سامنے لانے کی ہے۔ جو قصوروار ہو، اسے قانون کے مطابق جواب دینا چاہیے، اور جو بے قصور ہو، اسے محض الزام یا طاقت کے زور پر نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ #fmasimmunirleadingpeace #SarhadUniversity

Muhammad Maaz Siddiqui - ⚖️

11,657 次观看 • 1 个月前

اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں جو افسوسناک سانحہ پیش آیا، اس کی ذمہ داری صرف ایک سرکاری افسر کو ہٹا کر ختم نہیں کی جا سکتی۔ اگر سیکریٹری ہیلتھ کو ہٹایا گیا ہے تو میرا سوال ہے کہ وفاقی وزیرِ صحت سے بھی جواب طلبی کیوں نہیں کی گئی؟ پمز کے حوالے سے ایک سال سے مسلسل شکایات سامنے آ رہی تھیں۔ اگر وفاقی وزارتِ صحت کو ان شکایات کا علم تھا تو پھر ان پر بروقت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ سرکاری افسر اپنی جگہ جواب دہ ہے، لیکن سیاسی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی کی ہوتی ہے۔ وفاقی وزیر صاحب عوام کے ووٹوں سے آنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو پھر عوام کو یہ جواب بھی دینا ہوگا کہ ایک سال سے سامنے آنے والی شکایات پر کیا کارروائی کی گئی؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سانحے کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کی جائیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک کسی کو سیاسی یا انتظامی دباؤ کے تحت بچانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اور میں پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز صاحبہ سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ صوبے کے ہسپتالوں پر بھی توجہ دیں۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسیز میں آج بھی بیڈز کی کمی ہے، آکسیجن کی سہولیات کئی جگہ ناکافی ہیں، لاہور کے بڑے ہسپتالوں میں لفٹس خراب ہیں، مریضوں کو ایک منزل سے دوسری منزل تک منتقل کرنا اہلِ خانہ کے لیے عذاب بن چکا ہے۔ کئی ہسپتالوں میں MRI، X-Ray اور دیگر ضروری مشینری خراب پڑی ہے۔ بڑے سرکاری ہسپتالوں میں آگ لگنے کی صورت میں ایمرجنسی ایگزٹ اور حفاظتی انتظامات بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ! چین اور جاپان کے دورے اپنی جگہ، لیکن اگر آپ خود پنجاب کے ہسپتالوں کا دورہ نہیں کر سکتیں تو اپنے ساتھ جانے والے وزراء کو ہی پاکستان میں رکھیں۔ انہیں لاہور اور پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کا دورہ کروائیں اور دیکھیں کہ عام آدمی کس صورتحال میں علاج کروانے پر مجبور ہے۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی جیسے بڑے ہسپتال میں ایک عام مریض کے لیے علاج اور پروسیجر کے انتظار کا طویل عرصہ اس نظامِ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر مریض کے پاس سفارش نہیں تو اسے علاج کے لیے دنوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ہم کسی حادثے کے انتظار میں نہیں رہ سکتے۔ پمز میں جو ہوا وہ ہمارے لیے ایک وارننگ ہے۔ وفاقی اور پنجاب حکومت دونوں کو اس سانحے سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات، ایمرجنسی سہولیات، مشینری، آکسیجن، بجلی اور ایگزٹ روٹس کا فوری آڈٹ کرایا جائے، تاکہ کسی اور ماں باپ کو اپنے نومولود یا کسی عزیز کی جان اس نظام کی غفلت کی وجہ سے نہ گنوانی پڑے۔ Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Faisal Mir Azma Zahid Bokhari Marriyum Aurangzeb

Ahmad Ghuman

43,583 次观看 • 1 个月前

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 次观看 • 6 个月前

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,845 次观看 • 21 天前

لیبیا میں ایک خاتون کو سرِعام 100 کوڑوں کی سزا دینے کی وڈیو سامنے آئی ہے۔یہ صرف ایک قانونی سزا کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی وقار، بنیادی انسانی حقوق اور ریاستی اختیار کی حدود پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔ کسی بھی جرم کے الزام میں انصاف کا تقاضا ہے کہ ملزم کو شفاف عدالتی کارروائی، دفاع کا حق اور منصفانہ سماعت حاصل ہو۔ لیکن سزا کا ایسا طریقہ جس میں انسان کو مجمع کے سامنے جسمانی اذیت اور تذلیل کا سامنا کرنا پڑے، انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں سے شدید تصادم پیدا کرتا ہے۔ مذہب، قانون اور ثقافت کے نام پر ہونے والی ہر کارروائی کو تنقید سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ انسانی وقار ایک بنیادی قدر ہے، اور ریاست کی طاقت کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ سزا دیتے ہوئے بھی انسان کی عزت کو برقرار رکھے۔ جرم کی سزا ضروری ہو سکتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا انصاف کا مقصد انسان کو درست کرنا ہے یا اسے سب کے سامنے ذلیل کرنا؟ ایک مہذب معاشرے میں قانون کی حکمرانی کے ساتھ انسانی حقوق، شفاف انصاف اور انسانی وقار کا تحفظ بھی لازم ہے۔

Ather Salem®

40,184 次观看 • 1 个月前

ہم پولیٹیکل لوگ ہیں، ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، چاہے وہ ادارے ہوں یا سیاسی لوگ، سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ مجھے کوئی شرم نہیں کہ میں اپنے اداروں کے ساتھ بیٹھوں اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کروں کہ اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ مضبوط ادارے مضبوط پاکستان کی علامت ہیں، لیکن مضبوط اداروں کے پیچھے عوام کا اعتماد بھی ہونا چاہیے۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق بھی مضبوط ہو۔ عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے عوام میں اداروں کے حوالے سے ناراضی پیدا ہو رہی ہے، اور ہمیں اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے بات کرنی چاہیے۔ 80 فیصد عوام عمران خان صاحب کے ساتھ جڑے ہیں اور عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگ اداروں سے ناراض ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، تو مجھے تو خوشی ہے کہ یہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہو۔ اس سے پہلے بھی ہم ملے ہیں۔ جب بھی میاں صاحب نے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی، ہم نے بالکل ویلکم کیا، لیکن دوسرے دن ہمارے وارنٹ نکل جاتے تھے اور ہمیں مزید ایف آئی آرز میں ڈال دیا جاتا تھا۔ حکومت صرف باتوں سے نہیں، اپنے عمل سے ثابت کرے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ ہمارے پاس ووٹ کا مینڈیٹ عمران خان کا ہے، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان صاحب کے مشورے کے بغیر ہم کوئی بات کریں۔ جب ووٹ اُن کا ہے، پہچان اُن کی وجہ سے ہے، مجھے ووٹ اُن کا ملا ہے اور مجھے اُن کی وجہ سے پیار ملتا ہے، تو میں کس طرح یہ بات کر سکتا ہوں؟ حکومت کو ہمارا اختیار دیکھنا ہے تو ہماری ملاقات عمران خان سے کروا دیں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ ہمارے پاس بات کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ بالکل، ہم پولیٹیکل لوگ ہیں۔ ہم خان سے بات کر سکتے ہیں، انہیں موجودہ زمینی حقائق سے آگاہ کر سکتے ہیں اور گائیڈ کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں جو جمہوری کلچر ہے، یہ اُن لوگوں سے پوچھیں جو پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں۔ یہ جو غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ خان صاحب بات نہیں سنتے، خان صاحب سنتے ہیں۔ آپ مسلم لیگ میں کسی سے پوچھ لیں، کیا کسی میں ہمت ہے کہ میاں صاحب کے سامنے اُن سے اختلاف کرے؟ میٹنگ میں میری اور خان صاحب کی لڑائی بھی ہوتی تھی۔ ہم انہیں کہتے تھے کہ آپ غلط ہیں، اس طرح نہیں، اس طرح ہونا چاہیے۔ یہ والا کلچر آپ کو کسی اور پارٹی میں نہیں ملتا۔ میں محسن نقوی صاحب کو وزیراعظمِ پاکستان سے بھی زیادہ مضبوط سمجھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس حکومت میں اگر کسی بندے سے بات ہو سکتی ہے اور جو اپنی بات منوا سکتا ہے، تو وہ نقوی صاحب ہیں۔

Junaid Akbar

18,399 次观看 • 7 天前

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 次观看 • 2 年前

خیبرپختونخوا کی عوام کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کے لئے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ اور ایران کی جانب سے مسلم ممالک پر مبینہ حملوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایران کو مسلم ممالک کے خلاف کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان کو اس تنازع سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا بلکہ نقصان کا سامنا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوام نے اپیل کی کہ تمام اسلامی ممالک اس جنگ بندی کے لئے کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک کو آپس میں تقسیم کیا جائے، اور باہمی اختلافات یا جنگ کی صورت میں صرف نقصان ہی ہوگا۔

Shazia

10,610 次观看 • 6 个月前

ہم اب تک تقریباً سو شہداء کے جنازے اٹھا چکے ہیں، ہزاروں زخمیوں کا دکھ دیکھ چکے ہیں ہزاروں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں اور ایک طویل عرصے سے شدید حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آج بھی اپنی پُرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد کے اصول پر قائم ہے اور بامعنی مذاکرات، سنجیدہ بات چیت اور سیاسی حل کے لیے تیار ہے۔ یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ سمجھ لی جانی چاہیے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی پالیسی کسی جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ، غیر مصدقہ پوسٹ، انفرادی رائے یا اشتعال انگیز بیان سے طے نہیں ہوتی۔ تحریک کا پالیسی مؤقف صرف مرکزی قیادت اور اس کے مستند ذرائع سے جاری ہونے والے بیانات کے ذریعے سامنے آتا ہے۔ ہم نے نہ کبھی مسلح جدوجہد کی حمایت کی ہے، نہ اسلحہ اٹھانے کی ترغیب دی ہے اور نہ ہی مستقبل میں کسی ایسی سرگرمی کی حمایت کریں گے۔ ہماری جدوجہد عوام کے بنیادی، سیاسی، معاشی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے ہے۔ بدقسمتی سے بعض عناصر ایک منظم انداز میں ہماری پُرامن عوامی تحریک کو مسلح جدوجہد یا تشدد سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسی کوششیں نہ صرف حقائق کے منافی ہیں بلکہ اس تحریک کے حقیقی، عوامی اور جمہوری کردار کو مسخ کرنے کی کوشش بھی ہیں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ کسی بھی فرد، گروہ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے تشدد، اسلحہ یا اشتعال انگیزی پر مبنی مؤقف کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسوب نہ کیا جائے۔ تقریباً سو جانوں کی قربانی کے بعد بھی اگر ہم مذاکرات، مکالمے اور پُرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں تو یہ ہماری کمزوری نہیں بلکہ ہمارے اصولی مؤقف، سیاسی سنجیدگی اور عوام کے سامنے ہماری ذمہ داری کا ثبوت ہے۔ سردار عمر نذیر کشمیری کور ممبر، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی

Sabir Shakir

50,198 次观看 • 1 个月前

میرپور کا جلسہ صرف ایک عوامی اجتماع نہیں تھا، بلکہ یہ پاکستان کی سیاست کا رخ متعین کرنے والا طاقتور پیغام تھا۔ میری رائے میں اس جلسے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ نواز شریف Nawaz Sharif آج بھی پاکستان کے سب سے بڑے عوامی رہنما اور حقیقی “کروڈ پلر” ہیں۔ برسوں کی سیاسی مہمات، تنقید اور مخالفت کے باوجود عوام کا سمندر اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔ دوسری جانب مریم نواز شریف Maryam Nawaz Sharif نے خود کو صرف ایک سیاسی وارث نہیں بلکہ ایک باعمل اور نتائج دینے والی قائد کے طور پر منوایا ہے۔ پنجاب میں ان کی کارکردگی، ترقیاتی منصوبے اور عوامی رابطہ انہیں ووٹروں کے لیے ایک مضبوط اور پرکشش انتخاب بنا رہے ہیں۔ ان کی تقاریر بھی عوام کے دلوں پر اثر چھوڑ رہی ہیں۔ وفاق میں میری نظر میں وزیراعظم شہباز شریف Shehbaz Sharif نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی ریاستی معاملات سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ معاشی اور سیاسی چیلنجز ہوں یا سفارتی آزمائشیں، انہوں نے اپنی حکمتِ عملی اور انتظامی صلاحیت کے ذریعے پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش کی ہے، جس سے ایک تجربہ کار منتظم کے طور پر ان کا تاثر مزید مضبوط ہوا ہے۔ میری رائے میں مسلم لیگ (ن) کے پاس اس وقت تجربہ، عوامی مقبولیت اور حکومتی کارکردگی کا ایسا امتزاج موجود ہے جسے اس کے سیاسی مخالفین نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آئندہ انتخابی معرکے میں یہ ٹیم دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

Azhar Javaid

17,025 次观看 • 2 个月前

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,165 次观看 • 3 个月前

"کیا زخموں کی شماری بتآئیگی ملک سے یاری ؟" آج کی پریس کانفرنس کا سب سے نرالہ اور خطرناک مطلب یہ تھا کہ آج ڈی جی ای ایس پی آر کی طرف سے حب الوطنی کا ایک نیا معیار سیٹ کیا گیا ہے - ماضی میں کسی لیڈر کو ایجنٹ کہ دینا یا کسی کو غدار یا دشمن کا آلہ کار کہ دینا تو سنا تھا پر یہ معیار کہ جس جماعت کے زیادہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہویے ہیں وہ زیادہ حب الوطن ہے جبکہ جس جماعت کے لوگ اس کا شکار نہیں ہوتے وہ دہشت گردوں کی سہولت کار اور ہمنوا ہے' بہت ہی خطرناک ہے - یہ بات نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس منصب اور ڈیوٹی کے بھی برعکس ہے جسکے تحت ملک کے اداروں کا کام یہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے نہ کہ دہشت گردوں کو نیے نیے ٹارگٹ دکھانا - 1. کی پی کے صوبے کے اسی ہزار سے زیادہ عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پنجاب یا سندھ کے لوگ کم حب الوطن اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ؟ 2. پیپلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر کو شہید کیا گیا پر آج تک مسلم لیگ نواز کے کسی بڑے لیڈر کو یوں قتل نہی کیا گیا ' تو کیا یہ پیپلز پارٹی کو "محب الوطن " اور نواز لیگ کو ملک دشمن ثابت کرتا ہے ؟ 3. جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو یہ بات حقائق کے ہی برعکس ہے کہ ان کے لوگوں کو کبھی دہشت گردوں نے نشانہ نہیں بنایا - 2024الیکشن کے دوران اکرام الله گنڈا پور کا قتل ہو یا بونیر میں کی پی کے کے چیف منسٹر کے مشیر خاص سردار سوران سنگھ کا قتل ہو جس کی ذمے داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی ' تحریک انصاف کے ممبر ملک لیاقت علی خان پر گولیاں چلنا ہو یا بلوچستان میں تحریک انصاف کی ریلی میں خود کش حملے کے نتیجے میں چار لوگوں کا ہلاک ہونا ہو ' یہ حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ پر اپنے خون کی مہر ثبت کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہیں ؟ 4. نومبر 2022 میں عمران خان خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں - وزیر آباد میں ان پر جو گولیاں چلائی گئیں' کیا وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی ؟ اور اگر نہیں آتی تو پھر اس کا یہ مطلب کیوں نہ لیا جائے کہ وہ ان کی طرف سے ہی تھا جو آج ایک ادارے سے ایک سیاسی جماعت بن چکے ہیں ؟ 5. جہاں تک یہ بات کہ بس ایک جماعت ہی ملٹری آپریشن کے خلاف ہے ' حقائق کے منافی ہے - دہشت گردی کے خلاف ملٹری آپریشن کا فیصلہ محض تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پورے صوبے کی تمام جماعتیں اور جرگے "امن جرگہ " میں اسی رایے کا اظہار کر چکے ہیں تو کیا اب ان سب کو بھی اپنے لاشے بچھانے پڑیں گے تب جا کر ان کی نیت پر اداروں کو یقین آئیگا ؟ 6. اور اگر اسی منطق پر چلنا ہے تو آج تک کسی تھری یا فور سٹار جرنیل کو بھی تحریک طالبان نے ڈائریکٹ ٹارگٹ نہی کیا ' تو کیا پھر ان کو بھی سہولت کار سمجھا جائے اور ان کی حب الوطنی پر بھی سوالیہ نشان لگایا جاسکتا ہے یا یہ پیشکش بس سیاسی جماعتوں کیلئے ہی ہے ؟ اب عوام جب یہ نکتہ اٹھائیگی تو کہا جائیگا کہ دہشتگردوں کو راستہ دکھایا جارہا ہے ' تو پھر سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے آج ڈی جی آئ ایس پی آر کے اس بیان کو دہشت گردوں کو تحریک انصاف کے لوگوں کو ٹارگٹ کرنے کا راستہ دکھانا کیوں نہ سمجھا جائے ؟ 7. آج کی پریس کانفرنس میں کسی طلال چوہدری کسی فیصل واوڈا اور کسی رانا ثنا الله کی طرح اپنی مرضی کے کلپس دکھاے گیے جس میں فقط تحریک انصاف کے لیڈروں کی تقریریں دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ طالبان اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ' تو لگے ہاتھوں ایک کلپ اس جلسے کا بھی چلا دیتے جس میں مریم نواز کی موجودگی میں "یہ جو دہشت گردی ہے " والے نعرے لگا کر اداروں کو بھی ان کا سہولت کار کہا گیا تھا ' جس پر مریم نواز محض مسکراتی رہی تھیں ' تو پھر ہمیں لگتا کہ واقعی اداروں کا کسی سیاسی جماعت سے بغض یا تعلق نہی ہوتا بلکہ وہ غیر سیاسی ہوتے ہیں - لیکن یہاں تو ایسا لگ رہا تھا کہ رانا ثنا الله وردی میں ملبوس چیخ چنگھاڑ رہے ہیں فیصل واوڈا جوش خطابت سے سرشار ہیں - 8. اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر طالبان کے خلاف آپریشن نہی کرنا تو کیا ان کے قدموں میں بیٹھ جانا ہے ' یہ ہیبت الله کو صوبے کا چیف منسٹر بنانا ہے ؟ یہ کہتے ہویے ہمارے ڈی جی آئ ایس پی آر ان طالبان کی ہسٹری ہی بھول گیے کہ آج سے پینتالیس سال قبل امریکا اور سی آئ اے کے ایماپر ان طالبان کو جنم دینے والی کوکھ بھی ہمارے اداروں کی ہی تھی - زیادہ دور نہیں جاتے 2022 میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کا حل ان سے بات چیت ہے - اگر فوجی آپریشن مسلے کا حل ہے تو پچھلے بائیس بڑے اور چودہ ہزار کے قریب انٹیلجنس آپریشنز ' جن کی تفصیل ہر مہینے یہی ادارے آ کر بتاتے رہے ہیں ' تو یہ سب فوجی آپریشن بھی آج تک ان کو کیوں نہیں ختم کرسکے ؟ اور جو اگلا ملٹری آپریشن ہوگا اس میں ایسا کیا نیا ہوگا جو پچھلے بائیس میں نہیں تھا ؟ 9. کیا کبھی اس ملک کے میڈیا اور اداروں نے ایک عام پشتون بن کر بھی ان آپریشنز کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں سوچا ہے ؟ ان فوجی آپریشن میں کولیٹرل ڈیمیج جو ہوتا ہے وہ بھی اسی صوبے کے عوام کا ہوتا ہے جن کی حب الوطنی پر آج سوال اٹھاے گیے ہیں - طالبان کا جو ردعمل آتا ہے وہ بھی ان کے شہروں اور بستیوں میں آتا ہے کسی ڈی ایچ اے میں نہی - ڈرون سے لے کر فضائی حملوں میں بم کبھی بچوں اور مقامی پشتونوں اور طالبانوں میں فرق نہی کرتے اور اس بات کی ہسٹری گواہ رہی ہے - 10.لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملٹری آپریشن کی اجازت دینے کا مینڈیٹ کس کا ہے ؟ اگر اس ملک میں تھوڑا سا بھی آئین ' قانون اور ضابطہ بچ گیا ہے تو پھر ڈی جی آئ ایس پی آر کو یہ پڑھنا چاہیے کہ کسی بھی صوبے میں ملٹری آپریشن کا اختیار کسی ادارے کے گریڈ بائیس کے کسی افسر یا ملازم کے پاس نہی بلکہ اس صوبے کے چیف ایکزیکٹو کے پاس ہوتا ہے جس کو اس صوبے کے عوام نے منتخب کیا ہوتا ہے اور جو اس صوبے کی باقی جماعتوں ' جرگوں اور عوامی حلقوں کے باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہاں کیا کرنا ہے اور یہ مینڈیٹ کسی بھی عسکری ادارے کے پاس نہی ہے - یہ بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ ملکہ کے دفاعی ادارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈروں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکتوں سے ہی اس جماعت کی ملک دوستی اور دہشت گردوں کے خلاف ان کی سنجیدگی کے بارے میں مطمین ہوں - پاسبانی والے اداروں کا مقتولین کی تعداد اور وکٹم کے زخموں کی بنیاد پر ان کے وفاداری کو جج کرنا میرے نزدیک ایسے ہی ہے کہ آپ ایک غازی اور ایک شہید فوجی میں آپس میں مقابلہ کروادیں کہ جو شہید ہوا ہے وہ زیادہ وفادار اور بہادر تھا اور جو جان بچانے میں کامیاب ہوگیا ہے ' اس کی بہادری اور جانثاری قابل سوال اور قابل اعتراض ہے - آپ کا کام زخموں کی گنتی سے وفاداری کی جانچ کرنا نہی بلکہ ان زخموں پر مرہم رکھنا ہے - باقی آپ ضرور ہر پریس کانفرنس میں عمران خان کے خلاف زہر اگلیں ' کیوں کہ اس سے آپ کا اپنا ہی بیانیہ کہ "آپ کا سیاست سے تعلق نہیں ہے " غلط اور جھوٹا ثابت ہوتا ہے لیکن جس بہادری اور جرات کا نشان آپ نے اپنے جسم پر ملبوس کیا ہوا ہے اس کا تو یہی تقاضہ ہے کہ ہر دوہفتے بعد ایک جیل میں بند انسان کے خلاف تین تین گھنٹے کی پریس کانفرنس کرنے کے بعد آپ کم سے کم دو مہینے میں ایک دفعہ ضرور اس کو جواب دینے کا موقع دیں کہ وہ اپنی فیملی سے مل کر آپ کے ان دعووں اور الزامات کا پوسٹ مارٹم تو کرسکے- شکریہ "قلم کی جسارت وقاص نواز " ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

24,708 次观看 • 8 个月前