Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

پاکستان چوہدری بنا ہوا ہے اور عالمی سمجھوتے کروا رہا ہے ڈونلڈ ٹرمپ عاصم منیر سے بات کر رہے ہیں، ان کی دعوتیں کر رہے ہیں مودی کو آج کوئی سنجیدہ نہیں لیتا، ہم نے چین سے آگے بڑھنا تھا مگر پاکستان سے بھی پیچھے ہو گئے ہیں جس...

45,033 views • 5 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

آپ نے جن افغانوں کو یہ کہہ کر کریڈٹ لیتے رہے کہ ہم نے ان کی اتنے سال مہمان نوازی کی اور پھر جس ذلالت اور انسانیت سے گرے ہوئے انداز میں آپ نے ان کو نکالا اور پھر اب آپ حملہ آور ہوئے اور کس کے کہنے پر حملہ آور ہوئے جس طرح زبیر بھائی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جو ایران کے معصوم 136 بچوں کے خون کا قاتل ہے وہ سکول پر بمباری کر رہا تھا اور اس وقت بھی سکول پر بمباری ہو رہی تھی میناب میں جہاں پر کلاس روم میں بچے بیٹھے ہوئے تھے اس ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھی آپ کو افغانستان کی جنگ میں کہہ رہا ہے کہ پاکستان ایز ڈوئنگ اے گریٹ جاب کس کو آپ الو بنا رہے ہیں ہم یہ 25 کروڑ عوام کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ہیں آپ کو بتانا پڑے گا کہ آپ یہی جو آج کابل کے اوپر لوگ بیٹھے ہیں کل آپ کہہ رہے تھے کہ غلامی کی زنجیریں آزاد ہو گئی ہیں پوری قوم کو پتہ ہے آج ایسا کیا ہو گیا کہ آپ بمباریاں کر رہے ہیں سویلینز کو مار رہے ہیں ادھر بھی کیجولٹیز ہو رہی ہیں ہم تو نہیں چاہتے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان امن کی داعی ہے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ہمیشہ امن کا ایجنڈا لے کر چلتی ہے اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ اگر آپ اس مسئلے میں سیریس ہیں تو ہم آپ کو فیسلیٹیٹ کر سکتے ہیں کیوں کہ اس میں سب سے بڑی سٹیک ہولڈر خیبر پختونخواہ کی حکومت ہے وہاں کے قبائلی عوام ہیں آپ نے کس سے پوچھا ہے کیا خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس معاملے میں آن بورڈ لیا گیا ہے یقیناً ہرگز نہیں مجھے پتہ ہے تو کس طرح یہ معاملہ لے کر جا رہے ہیں دوسری بات ایران کے حوالے سے ابھی تک پاکستان کی خارجہ پالیسی اور پاکستان کی ریاستی بیانیہ ایران کے حوالے سے بالکل بھی کلیئر نہیں ہے کہ ہم اس جنگ میں کس طرف کھڑے ہیں خالی بیانوں سے کام نہیں چلتا میں آج یہاں سے کہہ رہا ہوں کہ حکومت جوائنٹ سیشن بلائے جس کا ہم نے مطالبہ کیا ہے اس جوائنٹ سیشن میں قرارداد لے کر آئیں مذمت کریں جو اسماعیل ہنیہ صاحب کو شہید کیا گیا جو رہبرِ معظم تھے جن کا ہمارے دلوں میں ان کے لیے بہت احترام ہے مذمت کریں ان 136 بچوں کی جن کو امریکیوں نے مارا ہے اسرائیلیوں نے صیہونیوں نے مارا ہے 170 سے اوپر ہیں پہلے جب وہ تو 136 رپورٹ ہوئے تھے تو ہم اس میں ساتھ دیں گے آپ تگڑے ہو جائیں۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

24,169 views • 5 months ago

کبھی کشمیر کبھی گلگت بلتستان کے لوگوں سے الجھتے ہیں۔ ان کی زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔ ان کو آئینی شناخت نہیں دیتے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ حیات کہا گیا۔ کشمیریوں کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے۔ جس طرح پاکستان کے علاقوں میں لوگوں کے مینڈیٹ کو ٹھڈے مار کر پرے پھینکا جاتا ہے اور اپنی مرضی کے حکمران ٹھونسے جاتے ہیں۔جی بی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ عوام کی منتخب حکومت کو گرایا گیا اور لوٹوں کو مسلط کیا گیا۔ کشمیر کے لوگوں کو وہ حقوق نہیں مل رہے جو متنازع علاقے کے حقوق ہوتے ہیں۔ کشمیری بھائی کہتے ہیں کہ بجلی یہاں بنتی ہے ہم سستی دو آئی ایم ایف سے قرضے لے کے بجلی مہنگے کرتے ہو۔ بجلی، پٹرول، ڈیزل، گندم سب کچھ مہنگا کر دیا گیا۔ اگر تم یہاں پر گندم کے حوالے سے کام کرتے تو پاکستان میں گندم کی مطلوبہ مقدار پیدا ہو جاتی ہے۔ پاکستان زرعی ملک ہے۔ اب ان کو مارو مت ان کی بات سنو۔ لوگوں کے اندر کئی سالوں کا غصہ موجود ہے۔ یہ ایک دو دن کی بات نہیں ہے۔ تم نے ناراض کیا انہیں، تم نے انہیں چھوٹا، حقیر اور پست سمجھا۔ اج کشمیر کے لوگوں پر گولیاں جلتی ہیں۔ ان کے ساتھ ملو بات کرو ۔یہ پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ انہیں مایوس نہ کرو جو بھی ان کے ان کو مایوس کر رہا ہے وہ پاکستان کا دوست نہیں ہے۔ وہاں پر اس وقت حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے جیسے پورے پاکستان میں لیک آف ریٹ ہے۔ آپ بلوچستان کو دیکھ لو کیا حالت ہے۔ سندھ کو دیکھ لو۔ کراچی کو دیکھ لو وہاں دن دھاڑے ڈاکے پڑتے ہیں۔ لوگ قتل ہو رہے ہیں کچے کے ڈاکو لوگوں کے بچوں کو اٹھا کے لے جا کر قتل کر رہے ہیں۔ بھتہ لے رہے ہیں۔ کوئی پوچھ نہیں رہا اب لوگ تنگ آچکے ہیں۔ تنگ آمد بجنگ آمد ہوتا ہے۔ جن کے پاس طاقت ہے میں انہیں کہتا ہوں خدا کے لیے مزید آگے نہ بڑھو اس وطن کا خیال رکھو۔ ہر وہ کام جس سے انڈیا طاقتور اور پاکستان کمزور ہو اس سے انڈیا علاقے کا اسرائیل بنے۔ 25 26 کروڑ عوام کا ایٹمی ملک پاکستان سرجیکلی اپ جگہ پر واقع ہے اور ساؤتھ ایشیا کے اندر، اس خطے کے اندر طاقت کا توازن بحال رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کمزور ہونے سے طاقت کا توازن بگڑ جائے گا ابھی انڈیا نے ہماری علاقائی حدود میں داخل ہو کر بیس بائیس افراد مارے ہیں۔ گارڈین نے خبر نشر کی ہے انڈین وزیر دفاع نے اعتراف کیا ہے۔ یہاں کوئی کیوں بولتا نہیں ہے۔ ہمیں اپنوں سے نہیں انڈیا سے لڑنا چاہیے۔ ہمیں کشمیر آزاد کروانا چاہیے تھا۔ ہمیں کشمیری مظلوموں کے ساتھ دینا چاہیے تھا۔ کشمیر کے مظلوموں کے ساتھ بات چیت کرو دشمن کو فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دو۔ اسے طولانی نہ ہونے دو۔ان سے بات چیت کرو۔ کشمیری اس وطن کے باوفا بیٹے اور سرحدوں کے محافظ ہیں۔ جیسے چمن کے لوگ ہیں وہ بھی پاک افغان بارڈر پر مدت سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان پر بھی ظلم ہو رہا ہے ان کے ساتھ بھی گھناونا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ لہذا کشمیر کے لوگوں کو ہم تنہا نہیں چھوڑیں گے وہ ہمارے بھائی ہیں ہماری جانیں ان پر فدا ہوں۔ ہم ان کے ساتھ ہیں ہم کبھی بھی ان پر ظلم کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیں گے انشاءاللہ۔ مجھے امید ہے وہاں کی حکومت بھی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں گی۔ یہ لوگ بڑے سخی ہیں بڑے دل والے ہیں یہ ٹھیک کر لیں گے جیسے جی بی کے لوگ ہیں وہ سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن پاکستان سے محبت کی وجہ سے صبر کرتے ہیں برداشت کرتے ہیں لہذا ہم سب کی ذمہ داری ہے ہم میدان میں حاضر ہیں ہم نے پاکستان کو کمزور نہیں ہونے دیتا

Senator Allama Raja Nasir

50,869 views • 2 years ago

ہم اس ملک میں جنگوں کے متحمل نہیں ہیں۔ ذرا سوچو، خدا کے لیے — حکمران ہو تو ذرا سوچو۔ سن 1950ء سے لے کر امریکی قرضے لے-لے کر تم نے آج تک صرف ان کے قرضوں پر اپنی زندگی گزاری۔ آج تمہارا حشر کیا ہے؟ ہندوستان معاشی لحاظ سے ترقی کر رہا ہے، چین ترقی کر رہا ہے، بنگلہ دیش ترقی کر رہا ہے، افغانستان کی حالت ہم سے بہتر ہے، ایران ترقی کر رہا ہے — اور اس پورے خطے میں ایک پاکستان ہے جو ڈوب رہا ہے۔ کس پالیسی کی وجہ سے ڈوب رہا ہے؟ تمہاری غلامانہ پالیسیوں کی وجہ سے۔ تمہارے اندر خودداری نہیں ہے، تم فکری طور پر غلام ہو۔ تمہیں صرف اپنے قوم کے بچوں کو قتل کرنا آتا ہے، تمہارے اندر پاکستان کو ترقی دینے کی صلاحیت نہیں ہے۔ آج چین کا اعتماد اٹھ رہا ہے، خطے میں پاکستان تنہا ہو رہا ہے۔ ہندوستان ہمارا دشمن ہے اور افغانستان سے بھی لڑائی، ایران سے بھی لڑائی — کہاں گئی ہماری خارجہ پالیسی؟ پرامن خارجہ پالیسی کہاں گئی؟ پاکستان کے بقا و استقلال کی پالیسی کہاں گئی؟ پروپیگنڈوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ پروپیگنڈی کی زبان روک دو، جنگ کی زبان روک دو۔ میں افغانستان سے بھی کہنا چاہتا ہوں اور پاکستان سے بھی کہہ رہا ہوں: افغانستان-پاکستان کی لڑائی نہ پاکستان کے مفاد میں ہے نہ افغانستان کے۔ ایک طرف ہم بھارت سے لڑیں، دوسری سرحد پر افغانستان سے لڑیں — ہم نے پاکستان کو کہاں کھڑا کر دیا ہے؟ جب ہم جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں تو صرف جنگ بندی کے لیے نہیں، زبان بندی کے لیے بھی کہہ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف بولنا روکو، غلط پروپیگنڈے روکو۔ ایک کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”۔ ایک کہتا ہے “میں صرف دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”۔ ان چیزوں سے مقام نہیں بنتا۔ جمعیت علماءِ اسلام نے پہلے بھی کردار ادا کیا ہے اور اس سفارتی کردار میں ہم نے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وہ کام جو تمہاری پوری وزارتِ خارجہ نے حاصل نہیں کیا، ایک سیاسی جماعت نے حاصل کیا۔ جب تم نے الیکشن میں دھاندلی کی اور جمعیت علماءِ اسلام اپوزیشن میں بیٹھی تو بنی بنائی باتیں تمہارے ہاتھوں بگڑ گئیں۔ تمہارے اندر معاملات کو آگے بڑھانے کی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں۔ ہم آج بھی دونوں ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، لیکن اس کردار کے لیے سازگار ماحول درکار ہوگا۔ دنیا چاہتی ہے، امریکہ چاہتا ہے، مغرب چاہتا ہے کہ افغانستان میں اسلام کیوں آیا، امارتِ اسلامیہ کیوں قائم ہوئی — ان کے پیٹ میں درد ہے۔ ہم نے بہت پراکسی جنگیں لڑی ہیں۔ جب کمیونسٹ آئے تو ہم نے مجاہدین کا ساتھ دیا؛ جب مجاہدین آپس میں لڑے تو ہم نے دوسرے مخالف کا ساتھ دیا؛ طالبان آئے تو ہم نے طالبان کا ساتھ دیا؛ طالبان کے خلاف ہم نے کرزئی کا ساتھ دیا۔ ہم نے اڈے دیے، امریکہ کو اڈے دیے — اُن کے طیارے ہمارے فضائوں سے گزرے اور افغانستان پر بمباری کرتے رہے۔ آج کہتے ہیں افغانستان پر قابض حکومت ہے، قابض حکومت — کیوں؟ کہتے ہیں جنگ کر کے آئے ہیں، عوام کے منتخب نہیں ہیں۔ تو میں نے کہا: ملا عمر بھی تو جنگ کر کے آیا تھا، وہ بھی عوام کے انتخاب سے نہیں آیا تھا۔ آپ نے انہیں سرکاری طور پر تسلیم کیا یا نہیں؟ آپ نے وہاں سفارتخانہ دیا اور یہاں بھی انہوں نے سفارتخانہ قائم کیا۔ آپ نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو سفارتی معیار پر قائم رکھا — آج کیا ہو گیا ہے؟ اپنی قبلہ سیدھا کرو، دوسروں کے قبلوں پر بحث نہ کیا کرو، اپنا قبلہ ٹھیک کرو۔ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کو ایک پرامن ریاست دیکھنا چاہتے ہیں — پرامن ہوگا تو پھر پاکستان معاشی ترقی کر سکے گا۔ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو۔ ملک میں اگر مسلح گروہ پھر رہے ہیں تو پاکستان کے اندر بھی مسلح گروہ موجود ہیں، اور آپ جاتے ہو افغانستان میں بمباری کرنے کے لیے — نئی نئی باتیں بنانا اور معصوم بن کر جنگ کا جواز فراہم کرنا اب وہ وقت گزر چکا ہے۔ چالیس، پینتالیس سال سے لوگ آپ کو اسی طرح دیکھ رہے ہیں: آپ ہمیشہ مظلوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ معصوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں — اس کے باوجود حالات کیوں بہتر نہیں ہو رہے؟ آپ پیچھے کیوں جا رہے ہیں؟ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو، بیٹھ کر دوبارہ سوچو۔ میں اپنے حکمرانوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں: دوسروں کا گلہ نہ کیا کرو، ذرا اپنے گھر کی صفائی بھی کر لو۔ کہیں تم اپنے اندر گھس بیٹھے ہوئے مسائل کو نہیں دیکھ رہے تو بس حالات ایسے ہی پیدا ہوتے رہیں گے۔ یہ امکان افغانستان میں بھی ہے، اور یہاں بھی۔ وہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو افغانستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، اور یہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو پاکستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ دو ممالک امن میں نہیں رہے تو یورپ اور امریکہ میں بھی ایسے ہاں ہیں جو چاہتے ہیں کہ جنگ پھر سے شروع ہو۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

23,913 views • 10 months ago

یہ مشرک ایسے ہی دھمکی نہیں دے رہے۔۔انہوں نے تیاری پوری کر لی ہے دوبارہ سے کسی بھی وقت جنگ شروع کرنے کی۔۔۔ پاکستانی قوم اور حکومت تو اپنی مستیوں میں لگے ہوئے ہیں، دشمن کی فوج اور اس کے سیاستدان اور حکمران پوری طرح سنجیدہ ہیں اور ان کے بیانات سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ بہت سخت بپھرے ہوئے ہیں اپنی پہلی ذلت کی وجہ سے اور انتقام لینا چاہتے ہیں۔ یہ ہم نے اپ کو بتایا تھا کہ مودی کو ایک چانس اور دیا جا رہا ہے اپنی عزت بچانے کا ورنہ اسے تبدیل کر کے یوگی کو لایا جائے گا۔ اس لیے مودی کو بھی جلدی ہے کہ پاکستان کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرے۔ ظاہر ہے اس مرتبہ اسرائیل دوبارہ اس کے ساتھ شامل ہوگا۔ پاکستانی قوم غیر معمولی غیر سنجیدہ مزاج اور موڈ میں ہے۔۔۔ اللہ نہ کرے ہم کو نقصان ہو جائے گا۔۔ اب کی دفعہ جنگ بہت بڑے پیمانے پر ہوگی اور ہمارے شہروں میں ہوگی۔ کراچی سے لے کر ازاد کشمیر گلگت بلتستان تک۔ یہ سارا فساد جو کشمیر میں کیا جا رہا ہے اسی حملے کی تیاری ہے ۔ کسی بھی دن شروع ہو سکتی ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

49,271 views • 11 months ago