正在加载视频...

视频加载失败

پتا نہیں ن لیگ کا وہ ویژن کہاں دفن ہوگیا جب بُلٹ ترین ، گوادر کو دبئی اور چائنہ انڈسٹری کو پاکستان میں فری ہینڈ دینا تھا اسوقت پاکستان کو الیکٹرک سونامی کی ضرورت ہے اور ہم سو رہے ہیں جبکہ ایلن مُسک اوبر کو تباہ کرنے جا رہا...

29,353 次观看 • 22 天前 •via X (Twitter)

9 条评论

Chilli-Milli 🌶️ 的头像
Chilli-Milli 🌶️22 天前

بھائی جان ! گوادر کو دوبئی ؟ دوبئی دس سال سے گوادر میں جنگ لگائے بیٹھا ہے گوادر پر ساری دنیا کی نظر ہے گوادر کو صوبہ بنا کے وہاں سارے پاکستان سے لوگ آباد کرنے چاہیے جیسے کینیڈا کر رہا ہے۔ نظام کو کنٹرول کرنا ضروری ہے ورنہ ایتھوپیا کا حال پہلے پڑھ لیجئے دنیا اسی مشن پر ہے۔

Ch Sohail Rehman 的头像
Ch Sohail Rehman21 天前

ایلن مسک اوبر تو تباہ نہیں کرنے جا رہا اوبر مسک کی گاڑیاں استعمال کرے گی ڈرائیور لیس اوبر دی کمیشن کھری

‏𝑴𝒂𝒔𝒐𝒐𝒅 𝑼𝒔𝒎𝒂𝒏𝒊 的头像
‏𝑴𝒂𝒔𝒐𝒐𝒅 𝑼𝒔𝒎𝒂𝒏𝒊21 天前

نہیں اُس نے اپنی فرم رجسٹر کی ہے جو سروس دے گی ٹیسلا سائیبر جبکہ لندن میں اوبر وائمو چلا رہی ہے اگر اوبر چلاتی ہے تو ریٹ تیسلا والا دینا پڑے گا جو اوبر سے آدھا ہے

M H MUAVIA🌐 的头像
M H MUAVIA🌐22 天前

تم سے ہی جاہلیت نکلی ہے💯💯

Shahbaz Sharif Puri 的头像
Shahbaz Sharif Puri21 天前

ڈالر کے حساب سے چار ملکوں کی پٹرولیم مصنوعات کا تجزیہ

M Ejaz 的头像
M Ejaz22 天前

یہ لوگ آپنے پیٹ بھرنے سے فرست ملے تو

Ingenieur M Zeeshan Ch 的头像
Ingenieur M Zeeshan Ch21 天前

Wo sab election k time yaad aye ga....filhal wo awam ko nichorney me masroof hain

🇵🇰 的头像
🇵🇰21 天前

bhai kis tran ki bt kr rhy ho in chizo k liye pely tagra infrastructure chaiye jisy thk krny mn 100 sal b kam hain krachi mn chla lo ay din ye cab gatr mn giri ho gi ya koi is k tyr e utar k ly jay ga

Muhammad Irfan 的头像
Muhammad Irfan22 天前

پاکستان میں بجلی ہوتی ہی نہیں ہے تو کہاں سے چارج کریں گے

相关视频

آج ہم پر معاشی دباؤ ہے، پاکستان کو معاشی بحران کا شکار بنایا جا رہا ہے، ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی اگر چاہتی ہے کہ ملک کو طاقتور اور توانا بنائے ان کو بھی بلیک میل کیا جا رہا ہے، ہماری فوج کو بلیک میل کیا جا رہا ہے، ہماری بیوروکریسی کو بلیک میل کیا جا رہا ہے، ان کو اپنی ڈگر پر لانے اور ان کی خواہشات کے مطابق پاکستان کی ریاست کو تشکیل دینے کے لیے ان کا ہم پہ دباؤ بڑھ رہا ہے، پاکستان کی معاشی استاد یہ کسی حادثے کی بنیاد پر نہیں! گزشتہ چار پانچ سالوں میں اور آپ کے صوبے میں گزشتہ آٹھ دس سالوں سے ایک ایجنڈے کے تحت یہاں ایسی حکومتیں قائم کی گئی کہ پاکستان کو مذہب سے بھی دور کر دے، پاکستان کی تہذیب کو بھی تباہ کر دے، پشتون تہذیب کو زمین بوس کر دے اور ان کی معیشت کا خاتمہ کر کے پاکستان کے وجود کو ختم کردیں! ہم نے ان قوتوں کا مقابلہ میدان میں کیا ہے، ہم نے وطن کو بچایا ہے۔ مولانا فضل الرحمان/ پشاور میں خطاب Maulana Fazl-ur-Rehman #Peshawar_JUI_Ka

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

21,276 次观看 • 2 年前

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
6:46

Sensitive content

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟

Maulana Fazl-ur-Rehman

24,358 次观看 • 12 天前

کسی بھی ملک میں دہشت گردی ہو پاکستان ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف کھڑا رہا ہے جو واقعہ پیش افسوسناک ہے بھارت کے اپنے شہری پوچھ رہے سری نگر میں تعینات 7 لاکھ فوج کی موجودگی میں یہ حملہ کیسے ہو گیا؟ وہ پوچھ رہے ہیں جو پہلے حملے ہوئے ان کی رپورٹیں کہاں ہیں؟ بھارتی شہری اپنی ہی حکومت پر سوالات اٹھارہے ہیں یہ ایک فالس فلیگ ہے اور ہمیشہ کی طرح ایک بزدلی کا مظاہرہ ہے یہ بزدلی کا مظاہرہ بھارت ہمیشہ کرتا ہے اور کر رہا ہے اس کا الزام وہ پاکستان پہ ڈال رہا ہے میں نے سنا ہے کوئی گیدڑ بھپکیاں بھی دی جا رہی ہیں میں تو صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ ہماری چائے ہے بہت اچھی لیکن ہم ہر دفعہ چائے نہیں پلایا کرتے ایک آدھی دفعہ کوئی مہمان آئے تو اس کو چائے پلا دیتے ہیں لیکن اس کے بعد اگر مہمان زیادہ ہوں تو اس کا جواب پاکستان کی فوج کو پاکستان اور عوام کو بہت اچھے سے دینا آتا ہے اس قسم کے فالس فلیگ کو بنیاد بنا کر اگر بھارت کسی بھی قسم کی کسی ایڈونچر کا سوچ رہا ہے میں ان کو خبردار کرنا چاہتی ہوں پہلے بھی الحمدللہ پاکستان نے بھارت کو ہر دفعہ دھول چٹائی ہے پچھلی دفعہ ہم نے چائے پلا کے بھیجا تھا اس دفعہ ہم سے شاید اتنی مروت نہ ہوگی

Azma Zahid Bokhari

36,194 次观看 • 1 年前