正在加载视频...

视频加载失败

🚨پتن رپورٹ کے بعد اگر اس الیکشن کا ذرا سا بھی پردہ تھا تو وہ اٹھ چکا ہے، 80 قومی اسمبلی کے حلقوں میں دھاندلی کے واضح ثبوت اس رپورٹ میں موجود ہیں، بیرسٹر سلمان اکرم راجہ

31,233 次观看 • 1 年前 •via X (Twitter)

1 条评论

Syed 的头像
Syed1 年前

ویسے یہ محنت پی ٹی آئی کو خود بہت پہلے کرنی چاہئے تھی پارٹی میں پڑھے لکھے باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں بس ایک ٹیم بنا کر اسکو ذمہ داری سونپ دیتے، وقت گزرنے کے ساتھ معاملے کی سنگینی اور ثبوت دونوں متاثر ہوئے ہیں

相关视频

وہ تمام لوگ جو جمہوریت کی فکر رکھتے ہیں وہ کامن ویلتھ کی یہ رپورٹ پڑھیں۔ الیکشن سے قبل کم شرح خواندگی والے ملک جہاں انتخابی نشان بہت اہمیت کا حامل ہوتا پی ٹی آئی سے انتخابی نشان چھین لیا گیا۔اس کےباوجود پی ٹی آئی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری 193 سیٹیں جیتی لیکن فارم 47 کے ذریعے پی ٹی آئی کو 93 سیٹیں دی گئیں۔ فارم 45 میں اوپر جس امیدوار کو جتوانا تھا اس کے ووٹ توکاٹ کے بڑھا دیے گئے لیکن ٹوٹل ووٹ کا اضافہ نہ کیا جا سکا یہ سب الیکشن کمیشن کی ویبسائٹ سے ویریفائی کیا جاسکتا۔ اسی طرح فارم 46 جو ٹوٹل استعمال ہونے والے بیلٹ پیپر پر مشتمل ہوتا ہے اس کا اور فارم 45 کا بھی آپس میں واضح فرق ہے۔ کامن ویلتھ رپورٹ کے صفحہ نمبر 94 کے پیرا نمبر 2 میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ ایک ہی علاقہ کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ووٹرز ٹرن آوٹ میں فرق انتہائی ناقابل یقین ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقے کا ٹرن آوٹ 90 سے زیادہ جو ناممکن ہے وہیں صوبائی اسمبلی کے حلقے کا ٹرن آوٹ40 فیصد ہے۔ سلمان اکرم راجہ کی کامن ویلتھ رپورٹ پر تفصیلی گفتگو

PTI

31,511 次观看 • 11 个月前