Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

پرسوں یہ کیمپ پمز اسپتال کے ایڈمن بلاک کے سامنے لگایا گیا تھا، یہاں بیٹھ کر قائم مقام سیکرٹری صحت کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود شکایات سُنیں گے، پہلی شکایت سُن لیں، گارڈز نے کیمپ میں داخل ہونے سے منع کر دیا ہے، میڈیا کیلئے بھی یہاں سے رپورٹنگ پر...

14,239 просмотров • 1 месяц назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

🔔🔔 کسی کی دل آزاری مقصود نہیں لیکن کراچی میں بارش اور “اربن فلڈنگ” کے دعوؤں کی رپورٹنگ بہت ہی دلچسپ ہے۔ صُبح ایک خاتون رپورٹر کی پانچ منٹ کی لائیو رپورٹنگ دیکھی وہ ملیر کینٹ کو جانے والی سڑک پر چھتری لیے موجود تھیں اور اُن کے عقب میں سڑک بالکل صاف تھی لیکن وہ منظر کشی ایسی کررہی تھیں جیسے بارش سب بہا کر لے گئی ہو، یہاں تک کہ اینکرز نے پوچھ لیا آپ ہمیں سڑک پر پانی دکھا سکتی ہیں؟ تو انہوں نے کیمرہ مین کو کہا آپ دوسری طرف کیمرہ گُھما کر دکھائیں اور جب کیمرہ گھوما تو سڑک کے آدھے حصہ پر تقریباْ ایک سے آدھا انچ پانی کھڑا تھا جبکہ باقی آدھی سڑک پر وہ آدھا انچ پانی بھی نہیں تھا اور ٹریفک کے ساتھ ساتھ لوگ پیدل بھی جارہے تھے صرف شلوار ٹخنوں سے تھوڑی اوپر کر رکھی تھی تاکہ شلوار پر “چھینٹے” نہ پڑ جائیں۔ ابھی یہ وڈیو بھی دیکھیے کار کے ٹائر کا ایک چوتھائی حصہ تک بھی پانی میں نہیں ڈوب رہا یعنی کہ یہاں بھی پانی دو یا تین انچ سے زیادہ نہیں کھڑا لیکن بتایا یوں جارہا ہے جیسے حیدرآباد سے پانی نہیں راوی چناب سے سیلاب بند توڑ کر کراچی میں داخل ہوگیا ہے۔

Asad Ali Toor

104,103 просмотров • 1 год назад

آج ہم کوئٹہ پریس کلب میں فیملیز کی جانب سے بی وائی سی کے رہنماؤں کے کیسز اور ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی صحت کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے۔ لیکن آج صبح سے ہمیں پریس کلب کے سامنے کھڑا رکھا گیا اور کہا گیا کہ پہلے ڈی سی سے این او سی لے کر آئیں۔ حالانکہ ہمارے سامنے کئی دیگر فیملیز کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی گئی۔ جب ہم نے پوچھا کہ اُن سے این او سی کیوں نہیں مانگا جا رہا اور ہم سے کیوں، تو ہمیں جواب دیا گیا کہ “اوپر سے آرڈر ہے” کہ یہاں صرف اُن فیملیز کو پریس کانفرنس کی اجازت ہے جن کے بچے پہاڑوں پر گئے ہیں یا جن کا تعلق منشیات کے کیسز سے ہے۔ اس کے علاوہ مسنگ پرسنز کی فیملیز یا دیگر سیاسی جماعتوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ مجبوراً ہم نے کوئٹہ پریس کلب کی سیڑھیوں کے سامنے بیٹھ کر اپنی پریس کانفرنس شروع کی۔ اسی دوران پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور صحافیوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ ہماری پریس کانفرنس کو ریکارڈ نہ کریں۔ بلوچستان میں نااہل حکومت کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب بولنے اور سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں رہی #ReleaseBYCLeaderes

Nadia Baloch

32,366 просмотров • 7 месяцев назад