Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

پروپیگنڈا الرٹ! اس ویڈیو میں “سوشل میڈیا ٹیم کو 5 کروڑ روپے دینے” کا جو دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ سراسر جھوٹ، گمراہ کن اور حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ میں اسکی پہلے بھی بھرپور اندازمیں تردید کرچکا ہوں اور آج پھر سے اس کی واضح الفاظ میں...

32,151 görüntüleme • 7 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔

Sammi Deen Baloch

45,359 görüntüleme • 2 ay önce

ہماری پرامن تحریک کو متنازعہ بنانے کے لئے ہر وقت صرف اور صرف جھوٹ اور میڈیا پروپیگنڈہ کا سہارہ لیا گیا ہے، اور وہی جھوٹ آج بھی دہرایا جا رہا ہے۔ اب تک ہم پر جتنے الزامات لگائے گئے، ان میں سے ایک بھی ثابت نہیں ہو سکا۔ اس کے باوجود جھوٹا پروپیگنڈا بند ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ نیچے دی گئی ویڈیو میں اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان، سرفراز بگٹی، میرا نام لے کر دعویٰ کرتے ہیں: “وہ ویڈیو چلائیں جس میں سمی دین پاکستان کو ماچس لگا رہی ہیں”، یعنی پاکستان کے جھنڈے کو آگ لگا رہی ہیں اور ان کے مطابق یہ ویڈیو ان کے پاس موجود بھی ہے۔ میں سرفراز بگٹی کو کھلے عام چیلنج کرتی ہوں کہ وہ یہ ویڈیو قوم کے سامنے لائیں۔ بتائیں کب، کہاں اور کس موقع پر میں نے ایسا کیا؟ اگر وہ اپنا الزام ثابت کر دیں، تو میں خود کو قانون کے حوالے کر دوں گی اور ہر قانونی کارروائی کا سامنا کروں گی۔ لیکن اگر وہ ثبوت پیش نہ کر سکیں ( وہ بلکل بھی نہیں کر سکیں گے ) تو پھر انہیں فوراً مستعفی ہونا ہوگا۔ ریاست کی اعلیٰ عدلیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جھوٹ، بہتان اور گمراہ کن بیان پر سرفراز بگٹی کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ یہ ضروری ہے تاکہ سچ، جھوٹ، اور پروپیگنڈے میں فرق عوام کے سامنے واضح ہو۔ اور یہ تماشہ اب بند ہونا چاہیے۔ اگر صرف جھوٹے الزامات کی بنیاد پر ہم اور ہمارے لوگوں کو اٹھایا جا سکتا ہے، یا گرفتار کیا جاسکتا ہے تو پھر قانون سب کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے۔

Sammi Deen Baloch

76,038 görüntüleme • 1 yıl önce

🚨 عمران خان کی زندگی کو شدید خطرہ — علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی پریس کانفرنس! 🚨 ​سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے عظمیٰ خان اور دیگر فیملی ممبران کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انتہائی تشویشناک حقائق سامنے رکھ دیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ خان صاحب کے خلاف جیل میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ ​ ​ خان صاحب کے مقدمات اور کارروائیوں میں جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کیے جا رہیے ہیں۔ ​ کچھ مخصوص ڈاکٹرز نے سپریم کورٹ کو غلط معلومات دے کر اور گمراہ کر کے معاملات کو طول دیا۔ ​ علیمہ خان نے بڑا دعویٰ کیا ہے کہ اس سارے کھیل اور تاخیر کا اصل مقصد عمران خان کو جیل کے اندر ہی (نعوذ باللہ) ختم کرنا ہے۔ ​جیل کے اندر کیا چل رہا ہے، وہ سب عوام اور خاندان سے چھپایا جا رہا ہے جس پر شدید تشویش ہے۔ ​ ہم سپریم کورٹ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے پر فوری اور بلا تاخیر کارروائی کی جائے۔ سب سے پہلے ان ڈاکٹرز کو کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے عدالت کو گمراہ کیا اور حقائق کو سامنے لایا جائے!

Aleema khan

12,231 görüntüleme • 2 ay önce

”آج جمعہ،6 فروری 2026 ہے۔ عمران خان صاحب کی فیملی کی جانب سے میرے ساتھ ایک رپورٹ شیئر کی گئی، جو آج ہی کی تاریخ میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، اسلام آباد سے جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان صاحب کی آنکھ کی تکلیف کے لیے کون سے ٹیسٹس کیے گئے، لیکن ان ٹیسٹس کی رپورٹس یا رزلٹس کے بارے میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ تشخیص کے مطابق عمران خان صاحب کو سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن ہوا ہے۔ یہ وہی تکلیف ہے جس کا ذکر پہلے بھی میڈیا میں آ چکا ہے، جس میں آنکھ سے خون واپس لے جانے والی شریان میں خون جم جاتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ علاج کے طور پر ایک آنکھ کے اندر ایک خاص دوا کا انجیکشن لگایا گیا، جو اس بیماری میں عام طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ ہمیں جو تشویش پہلے بھی تھی، اور جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا تھا، وہ یہ ہے کہ خان صاحب کی آنکھ کے علاج کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ انہیں ریٹینل اسپیشلسٹ دیکھے۔ اس حوالے سے رپورٹ میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ ضرور لکھا گیا ہے کہ کوالیفائیڈ اور ایکسپیرینسڈ آف Ophthalmologists نے انہیں دیکھا، یعنی آنکھ کے ماہرین نے معائنہ کیا، لیکن ہر آنکھ کا ماہر اس بیماری کا علاج نہیں کرتا۔ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے کہ ایسے مریض کو ریٹینل اسپیشلسٹ دیکھے۔ جبکہ ایسے ڈاکٹرز ہمارے ملک میں دستیاب ہیں اور ہر بڑے شہر میں موجود ہیں، اس لیے ہم دوبارہ امید کرتے ہیں کہ ریٹینل اسپیشلسٹس کو بلایا جائے گا تاکہ وہ خان صاحب کا معائنہ، ایویلیوایشن اور علاج کر سکیں۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ فالو اپ کی ضرورت ہے، اور یقیناً وہ پلان بھی کیا گیا ہوگا، لیکن اس کی کوئی تفصیل موجود نہیں کہ فالو اپ کب ہوگا اور اس دوران کیا علاج کیا جائے گا۔ ایک اور نہایت اہم پہلو یہ ہے، جس کا پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے، کہ اس بیماری کے پیچھے اکثر کوئی اور میڈیکل کنڈیشن ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی ذکر نہیں کہ آیا کسی میڈیکل اسپیشلسٹ نے خان صاحب کو دیکھا، کوئی متعلقہ ٹیسٹس کیے گئے، یا اگر کوئی ایسی میڈیکل کنڈیشن سامنے آئی ہے تو اس کا کوئی علاج شروع کیا گیا یا نہیں۔ میں دوبارہ زور دینا چاہتا ہوں کہ یہ ایک بہت سنجیدہ بیماری ہے، اور اس سے آنکھ کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہم ابھی خطرے سے باہر نہیں آئے، اور مزید فالو اپ اور علاج کی اشد ضرورت ہے۔ آخر میں، میں ایک بار پھر اپیل کرتا ہوں کہ مجھے رسائی دی جائے۔ میں گزشتہ تقریباً پچیس سال سے عمران خان صاحب کا پرسنل فزیشن ہوں، اور میرے ساتھ ساتھ دستیاب اسپیشلائزڈ، کوالیفائیڈ اور ٹرینڈ ریٹینل اسپیشلسٹس کو بھی اجازت دی جائے تاکہ ہم خان صاحب کی دیکھ بھال میں شامل ہو سکیں اور یہ یقینی بنا سکیں کہ انہیں بہترین ممکنہ علاج فراہم کیا جا رہا ہے “ ڈاکٹر عاصم یوسف #FreeTheSoulOfPakistan #AllowAccessToImranKhan

Jibran Ilyas

65,792 görüntüleme • 7 ay önce

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 görüntüleme • 2 yıl önce

ارب پتی جاگیردار مزاریوں کا یہ غریب چیلا اور اسد نام کا یہ چوٹھے درجے کا صحافی پھر اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ یہ اب ایک ایسے آدمی کے بارے میں جھوٹی بک بک کر رہا ہے جسے پورا پاکستان اسکی شکل، آواز، نام اور اس کے گانوں کی وجہ سے جانتا ہے۔ Asad Ali Toor آج اسے سٹپٹایا ہئوا دیکھ کر مجھے یہ اچھی طرح سمجھ آ گئی ہےکہ اسے ریاست نے کیوں سبق سکھایا تھا اور کیوں لوگ اس غلیظ فطرت آدمی سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے جھوٹے اور منافق لوگ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اپنے طبقے کا غدار یہ وہ بے غیرت ہے جو مڈل کلاس کا ایک صحافی ہو کر بھی مزاریوں جیسے جاگیرداروں کی چمچہ گیری کرتا ہے اور ان کی شہہ پرخود کو ایک گھٹیا سا باغی سمجھتا ہے۔ میں تو اس فراڈیے کو صرف ترس کے قابل سمجھتا ہوں جو میرے جیسے پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول سنگرز میں سے ایک کے بارے میں مکمل غلط بکواس کر رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ یہ سوشل میڈیا پر لائیو مائیک لے کر سب سے پہلے اپنے دادکے اور نانکے خاندان میں ہی چلا جائے اور ہر ایک سے یہ پوچھے کہ وہ جواد احمد کو جانتے ہیں یا نہیں۔ مگر یہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے پر میں اس کے بارے میں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ جس جگہ یہ رہتا ہے وہاں دو گلیاں چھوڑکر اس کے محلے والے بھی اسے نہیں جانتے۔ کم ظرفی اورجھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں نے اپنا کیریر 26 سال پہلے شروع کیا تھا مگر میں نے 2003 کے بعد سوشل ورک اور فلاحی کاموں اور پھر سیاست کی وجہ سے پاکستان میں کوئی البم نہیں نکالا پھر بھی میرے بہت سے طاقتور گانے اس وقت سے لے کر اب تک پوری دو نسلوں کو یاد ہیں۔ پھر بھی 2026 میں آج بھی جب پاکستان میں 18 سال بعد بسنت ہوئی تو میرا گانا "اچیاں مجاجاں والی" ہی انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ کی ٹرینڈنگ میں نمبر 1 پر تھا اور ہر چھت پر وہی بج رہا تھا۔ یہ تو میڈیا کا آدمی ہے مگر کیا اس جاہل کو اتنا بھی پتا نہیں؟ کیا اسے پتا نہیں کہ میں ایک نہیں بلکہ تین صدارتی ایوارڈز پانے والا پاکستان کا واحد آرٹسٹ ہوں؟ یہ یو ٹیوب پر پیسے بنانے کے لیے کس حد تک گر سکتا ہے وہ اس وڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ میرے جیسے ایک سوشلسٹ انقلابی آدمی کی سیاست کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جو اس ملک کے مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو اس ملک کا حاکم بنانا چاہتا ہے اور اس کئے لیے ہر قسم کی ذاتی قربانی کر رہا ہے۔ میں اپنی ذات پر کچھ بھی برداشت کر لیتا ہوں مگر صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام مڈل کلاس اور غریب عام لوگوں کے لیے اپنی صاف شفاف سوشلسٹ سیاست پر جھوٹ بول کر اسے نقصان پہنچانے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جو بھی اس پر بات کرے گا وہ میرے سے اپنی اصل اوقات کے بارے میں سنے گا تاکہ آئندہ اسے ایسا جھوٹا گھٹیا پن کرنے کی ہمت نہ ہو۔ مگر مجھے پتا ہے کہ یہ بیچارہ مجبور ہے۔ اگر عمران کی طرفداری کرنے پر PTI والے اسے ویوز نہ دیں تو یوٹیوب پر اس کی روزی روٹی بند ہو جائے۔

Jawad Ahmad

28,733 görüntüleme • 6 ay önce

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 görüntüleme • 29 gün önce

امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کی کنونشن سنٹر اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو ماضی میں بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا تھا اب بھی کرسکتا ہوں افغان قیادت سے رابطے ہوئے ہیں وہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتی ہے پاک افغان جنگ بندی تو ہوگئی اب زبان بندی بھی ہونی چاہئے سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ دونوں ممالک کو اشتعال کی بجائے معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے کشمیر پر بیان پر واویلا کرنے کی بجائے کشمیر پر اپنے کردار کو بھی دیکھنا چاہئے کشمیر پر پاکستان نے کتنی پالیسیاں بدلی ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہے کیا پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح کے مطابق کشمیر کا حل چاہتا ہے اور اس کے لئے کیا پیشرفت کی ہے افغانستان کی انٹیلی جنس اور دیگر عسکری صلاحتیں ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں افغانستان سے جو تقاضا کیا جاتا ہے دیکھا جائے وہ اس قابل بھی ہے پاکستان ایک عالمی معیار کی فوج اور صلاحیت رکھتا ہے ہماری ریاست کو سوچنا چاہئے کہ کیا مغربی محاذ کھولنا اس وقت کسی طرح درست جنگی حکمت عملی ہے ؟ تحریک لبیک کے ساتھ جو کچھ سلوک کیا گیا ہے میں نے پہلے بھی مذمت کی اور اب بھی کرتا ہوں حکومت کو کسی بھی صورت تحریک لبیک کے ساتھ تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئے تھا احتجاج کرنا سب کا حق ہے میں تحریک لبیک کے قائدین سے رابطے میں رہا ہوں کے پی کے میں وزیر اعلی کے انتخاب کا معاملہ عدالت میں ہے عدالت کو آئین و قانون کے مطابق معاملے کو دیکھنا چاہئے عدالت انتظامی حکم کی بجائے آئینی تقاضے کے مطابق دیکھے اور سماعت کرے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

49,752 görüntüleme • 11 ay önce

پشتون تحفظ مومنٹ اور اس کی قیادت نے جو پشتون جرگہ بلایا اور پھر اس پر جو تشدد کیا گیا اور ان کے کارکنوں کو شہید کیا گیا کچھ زخمی ہیں ہم اس پرتشدد کاروائی کے پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، جب وہ مسلح بھی نہیں ہے جب وہ ایک پرامن جلسہ کرنا چاہتے تھے تو ملک کی آئین کے تحت بھی کوئی ایسی رکاوٹ نہیں تھی اور ہمیں تو ابھی تک سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس تحریک کو غیر قانونی کیوں قرار دیا گیا، کلعدم کیوں قرار دیا گیا، نہ اس بارے میں اب تک حکومت اپنی پوزیشن واضح کر سکی ہے سوائے کچھ بیان بازیوں سے زیادہ آگے نہیں جا سکی ہے، جمیعۃ علماء اسلام اس جرگے کے حوالے سے اس بات کو واضح کرنا چاہتی ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے لوگ ہوں یا ملک میں جو بھی پشتون برادری سے تعلق رکھتے ہوں اور ان کا تعلق اگر جمیعۃ علماء اسلام کے ساتھ ہیں تو ان کو اس میں شرکت کی پوری اجازت ہے کوئی کسی قسم کی پابندی نہیں ہوگی جو لوگ اس میں شریک ہونا چاہتے ہیں اور جمیعۃ علماء اسلام اپنے کچھ سینئرز پر مشتمل وفد وہ بھیجے گی نمائندگی کے لیے تاکہ اس میں شرکت ہو سکے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی پریس کانفرنس

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

31,304 görüntüleme • 1 yıl önce

کسی بھی ملک میں دہشت گردی ہو پاکستان ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف کھڑا رہا ہے جو واقعہ پیش افسوسناک ہے بھارت کے اپنے شہری پوچھ رہے سری نگر میں تعینات 7 لاکھ فوج کی موجودگی میں یہ حملہ کیسے ہو گیا؟ وہ پوچھ رہے ہیں جو پہلے حملے ہوئے ان کی رپورٹیں کہاں ہیں؟ بھارتی شہری اپنی ہی حکومت پر سوالات اٹھارہے ہیں یہ ایک فالس فلیگ ہے اور ہمیشہ کی طرح ایک بزدلی کا مظاہرہ ہے یہ بزدلی کا مظاہرہ بھارت ہمیشہ کرتا ہے اور کر رہا ہے اس کا الزام وہ پاکستان پہ ڈال رہا ہے میں نے سنا ہے کوئی گیدڑ بھپکیاں بھی دی جا رہی ہیں میں تو صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ ہماری چائے ہے بہت اچھی لیکن ہم ہر دفعہ چائے نہیں پلایا کرتے ایک آدھی دفعہ کوئی مہمان آئے تو اس کو چائے پلا دیتے ہیں لیکن اس کے بعد اگر مہمان زیادہ ہوں تو اس کا جواب پاکستان کی فوج کو پاکستان اور عوام کو بہت اچھے سے دینا آتا ہے اس قسم کے فالس فلیگ کو بنیاد بنا کر اگر بھارت کسی بھی قسم کی کسی ایڈونچر کا سوچ رہا ہے میں ان کو خبردار کرنا چاہتی ہوں پہلے بھی الحمدللہ پاکستان نے بھارت کو ہر دفعہ دھول چٹائی ہے پچھلی دفعہ ہم نے چائے پلا کے بھیجا تھا اس دفعہ ہم سے شاید اتنی مروت نہ ہوگی

Azma Zahid Bokhari

36,194 görüntüleme • 1 yıl önce