Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

پشتو سمجھ تو نہیں آ رہی ہو، مگر کمنٹری کا جوش صاف بتا رہا ہے کہ زبان کا اثر کتنا ہوتا ہے۔ اگلے سال صرف اردو ہی نہیں، بلکہ پشتو اور پنجابی میں بھی کمنٹری ہونی چاہیے تاکہ ہر فین اپنے انداز میں میچ کا لطف اٹھا سکے 🏏

27,824 views • 5 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

عطا قباد جھیل۔گزشتہ سال کا یہ منظر اور آج کی تشویش۔۔ یہ عطااباد جھیل کا گزشتہ سال کا خوبصورت منظر ہے، جب جھیل کا نیلا شفاف پانی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا تھا اور لوگ اس کے ٹھنڈے پانی میں خوب انجوائے کرتے نظر آتے تھے۔ 💙🏔️ مگر آج صورتحال تشویشناک دکھائی دے رہی ہے۔ پانی کی سطح میں کمی کے ساتھ جھیل کے کئی حصوں میں ریت اور مٹی جمع ہوتی جا رہی ہے، جس سے اس خوبصورت قدرتی اثاثے کا حسن بھی متاثر ہو رہا ہے۔ عطاباد جھیل صرف ہنزہ ہی نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان کی سیاحت کا ایک اہم مرکز اور قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ اگر پانی کی کمی، ریت اور مٹی کے جمع ہونے اور دیگر ماحولیاتی مسائل پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں اس جھیل کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکامِ بالا سے گزارش ہے کہ اس جھیل کی موجودہ صورتحال کا فوری جائزہ لیا جائے، ماہرین کی مدد سے اس کے تحفظ کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کیے جائیں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس خوبصورت جھیل کے نیلے پانی اور حسین مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں۔ اتاباد جھیل کو بچانا صرف ہنزہ کی نہیں، پورے گلگت بلتستان کی ذمہ داری ہے۔ 🏔️💙

Gilgit Baltistan Tourism.

29,353 views • 9 days ago

بائیں طرف ڈھائی سال کے بچے کے ہاتھ کا ایکسرے ہے، اور دائیں طرف چھ سال کے بچے کا۔ صرف چند سالوں کا فرق ہے، مگر کلائی کی ہڈیوں کی نشوونما میں کتنا بڑا فرق صاف نظر آ رہا ہے۔ اب خود سے ایک سوال پوچھیے... اگر ان دونوں بچوں کے ہاتھ میں ایک جیسی پنسل دے کر کہا جائے کہ "صاف لکھو، لائن کے اندر لکھو، شکل درست بناؤ"... تو کیا دونوں ایک جیسا لکھ سکیں گے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ لکھنا صرف ذہانت کا نہیں، جسمانی نشوونما کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ جب تک کلائی، انگلیوں کی باریک حرکتوں (Fine Motor Skills) اور پٹھوں کی مناسب نشوونما نہ ہو، بچہ چاہ کر بھی وہ گرفت پیدا نہیں کر سکتا جو خوبصورت لکھائی کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ لیکن افسوس... ہم میں سے بہت سے والدین روز یہی ظلم کرتے ہیں۔ دو، ڈھائی یا تین سال کے ننھے بچوں کے ہاتھ میں پنسل تھما دیتے ہیں، پھر کہتے ہیں: "سیدھا لکھو!" "لائن سے باہر کیوں نکل گئے؟" "شکل خراب کیوں بنائی؟" "دوسرے بچے تو کتنا اچھا لکھ لیتے ہیں!" اور جب بچہ نہ کر سکے تو اسے ڈانٹ، ڈپٹ، شرمندگی، بلکہ بعض اوقات مار تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ذرا سوچیے... جس معصوم کی کلائی کی ہڈیاں ابھی مکمل بنی ہی نہیں، جس کے ہاتھ کے ننھے ننھے پٹھے ابھی مضبوط ہی نہیں ہوئے، اس سے آپ وہ کام کیوں چاہتے ہیں جس کے لیے اس کا جسم ابھی تیار ہی نہیں؟ دنیا کے کئی کامیاب تعلیمی نظام اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ مثلاً فن لینڈ میں بچے عام طور پر سات سال کی عمر سے پہلے باقاعدہ اسکول شروع نہیں کرتے، اور ابتدائی برسوں میں کھیل، تخلیقی سرگرمیوں اور جسمانی و ذہنی نشوونما پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ فن لینڈ کا تعلیمی نظام طویل عرصے سے دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے. یاد رکھیے... اگر آپ کا بچہ چھ یا سات سال کی عمر تک بھی لکھنے میں دوسروں سے پیچھے ہے، تو ضروری نہیں کہ اس میں کوئی خرابی ہو۔ انکے جِسم نے ابھی وہ مسل ہی نہیں بنائے ہوتے جو پنسل پکڑ سکیں .. اگر آپ کا بچہ چھ سات سال تک صحیح نہیں لکھ پاتا تو وہ غلط نہیں آپ غلط ہو ...شیئر کرو تاکہ سب آنکھیں کھول کر پڑھ لیں منقول

DTE PUNJAB DSD

42,287 views • 2 months ago

ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔

Sammi Deen Baloch

45,411 views • 3 months ago