正在加载视频...

视频加载失败

پنجاب میں ایک عورت کا گھر مسمار ہُوا پولیس نے گھسیٹ کر اسے باہر نکالا، عورت نے اس وقت ایک بچے کو سڑک پر جنم دیا کوئی پُوچنے والا نہیں‼️ سندھ میں کارو کاری کے نام پر دو دن پہلے ایک بچی کو مار دیا گیا کوئی پُوچھنے والا...

42,952 次观看 • 4 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

دنیا اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں بین الاقوامی قوانین کھلم کھلا پامال ہو رہے ہیں۔ غزہ ایک کھلی جیل بن چکا تھا، جہاں فلسطینی عوام پر ظلم، نسل کشی اور تباہی مسلط کی گئی، اور ان کی مزاحمت ایک جائز حق ہے۔ اسرائیلی قیادت، بالخصوص نیتن یاہو، عالمی قوانین کو تسلیم نہیں کرتی اور خطے کے مختلف ممالک پر مسلسل جارحیت کرتی رہی ہے۔ امن کے نام پر پیش کیا جانے والا نیا “پیس بورڈ” درحقیقت فلسطینیوں کو غیر مسلح کرنے اور ان کے حقِ آزادی کو سلب کرنے کی کوشش ہے۔ اس بورڈ میں فلسطینی عوام کی کوئی نمائندگی موجود نہیں، جبکہ اس کی قیادت متنازع عالمی شخصیات کے ہاتھ میں دی جا رہی ہے۔ پاکستان نے پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر اس عمل میں شمولیت اختیار کر کے اپنی ساکھ اور قومی وقار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کو کمزور کرنے اور اسلامی اصولِ “نفیِ سبیل” کے بھی منافی ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے، اس فیصلے پر تفصیلی بحث کی جائے، اور اس نام نہاد پیس بورڈ کے خلاف قرارداد منظور کی جائے۔ یہ مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پاکستان، اس کے عوام، دینِ اسلام، غیرت اور قومی حمیت کا معاملہ ہے۔ (پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب)

Senator Allama Raja Nasir

11,343 次观看 • 7 个月前

میں یہ سطور ایک بھاری دل کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ خاران کے علاقے کلی بزگ گواش میں جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا، اس نے مجھے بطور بلوچ، بطور صحافی اور بطور انسان اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں بی ایل اے کے مسلح افراد ایک شہری کے گھر میں داخل ہوئے۔ یہ کوئی میدانِ جنگ نہیں تھا، کوئی مورچہ نہیں تھا، بلکہ ایک عام گھر تھا جہاں خواتین اور بچے موجود تھے۔ متاثرہ خاندان نے مجھے بتایا کہ گھر کے تمام افراد کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دو حملہ آوروں کی شناخت بھی ہو چکی ہے، اور یہ لوگ کوئی اجنبی نہیں، مقامی سطح پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس بات نے دی کہ اس حملے میں صرف جسمانی تشدد نہیں ہوا، بلکہ گھریلو تقدس کو پامال کیا گیا۔ بلوچ معاشرے میں گھر اور عورت کو ہمیشہ حرمت دی گئی ہے۔ میں نے اپنے بڑوں سے سنا، اپنی تاریخ میں پڑھا اور اپنی زمین پر دیکھا ہے کہ بلوچ روایت میں عورت پر ہاتھ اٹھانا غیرت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس رات، بندوق کے زور پر اسی روایت کو روند دیا گیا۔ میں صاف کہنا چاہتا ہوں کہ عورت پر تشدد کسی بھی نام پر قابلِ قبول نہیں۔ چاہے کوئی خود کو آزادی کا دعویدار کہے، مزاحمت کے نام پر ہتھیار اٹھائے یا کسی نظریے کا سہارا لے ۔ خواتین پر ہاتھ اٹھانا نہ بلوچ روایت ہے، نہ بلوچ غیرت، اور نہ ہی انسانیت۔ اس واقعے کے بعد میں نے خاران ہی نہیں، پورے بلوچستان میں غم اور غصہ محسوس کیا۔ قبائلی عمائدین، سماجی حلقے اور انسانی حقوق کے کارکن سب ایک آواز میں یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ عمل ناقابلِ قبول ہے۔ میں بھی انہی لوگوں میں شامل ہوں جو سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے آج اس پر خاموشی اختیار کی تو کل یہ آگ ہر گھر تک پہنچ سکتی ہے۔

Junaid Baloch

10,971 次观看 • 7 个月前

معروف چینی محقق وکٹر گاؤ کا شرمین نروانی کے ایران جنگ میں پاکستان کے کردار سے متعلق سوال پر تفصیلی جواب: میں پاکستان کو بہت اچھے طریقے سے جانتا ہوں۔ پاکستان کے عوام، حکومت اور فوج غیور مسلمان ہیں اور وہ عالمِ اسلام کے تمام ممالک کے جائز حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ کبھی اپنے کسی برادر اسلامی ملک کی بربادی نہیں چاہیں گے۔ ایران جنگ میں بھی یہی صورتحال رہے گی۔ پاکستان، سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی معاہدہ انتہائی اہم ہے۔ پاکستانی فوجی پہلے ہی بڑی تعداد میں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں تعینات ہیں اور پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے۔ لہٰذا اگر کوئی سعودی عرب کے خلاف کوئی بیوقوفانہ حرکت کرے گا تو یہ معاہدہ عمل میں آ سکتا ہے۔ میں یہ نہیں سمجھتا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف اس وقت تک اپنے انتہائی مہلک ہتھیار استعمال کرے گا جب تک کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو کوئی سنجیدہ ترین خطرہ ہو۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ ہم اِس وقت اُس سطح پر ہیں۔ جہاں تک پاکستان اور چین کی بات ہے تو ہم حقیقی بہن، بھائی ہیں۔ اور ہم ایک دوسرے کو تمام تر طرح سے مدد اور حمایت فراہم کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کوئی قانونی طور دفاعی معاہدہ نہیں ہے۔ پر ہم بہت سے اہم ترین معاملات پر ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ آپس میں بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی۔ لہٰذا اگر چین اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تو پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتے تعلقات کو منفی انداز میں دیکھنے کی قطعاً کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کے دنیا میں زیادہ سے زیادہ ممالک کے ساتھ مثبت سفارتی تعلقات ہوں اور ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کو پتہ ہے اسے کیا کرنا ہے۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ پاکستان عالمِ اسلام کے جائز مفادات کا ایک زبردست محافظ ہے، بشمول مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے۔

Naya Daur Videos

96,427 次观看 • 5 个月前