Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

پنجاب میں ڈالا کلچر ختم کرنے کی باتیں: وزیراعلی ہو جائیں یا سابق وزیراعظم نواز شریف صاحب ان کے ساتھ کتنی گاڑیاں ہوتی ہیں؟اصل ڈالا کلچر تو حکمرانوں کا ہے،عوام کے پیسوں سے پروٹوکول کی گاڑیاں ڈالے تو حکمران اشرافیہ کےآگے پیچھے ہوتے ہیں۔چینی کی قیمت، انتظامیہ کیوں کارروائی...

20,053 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

6 Kommentare

Profilbild von Omar Haye
Omar Hayevor 1 Jahr

This Dalla culture has to stop, everyone else will automatically follow 😒

Profilbild von Hi-Apple
Hi-Applevor 1 Jahr

الحمدللہ میری وزیر اعلی مریم نوازشریف ہے ✌️🇵🇰

Profilbild von Ayesha Rajab Baloch
Ayesha Rajab Balochvor 1 Jahr

100% درست بات

Profilbild von Khizar Abbas
Khizar Abbasvor 1 Jahr

بے غیرت ٹٹو علی امین گنڈا پور کا نام کیوں نہیں لے رہا جو سرکاری پروٹوکول کے ساتھ لاھور آیا

Profilbild von Nasir Malik
Nasir Malikvor 1 Jahr

Mehakk malik also have dalla

Profilbild von Nasir Malik
Nasir Malikvor 1 Jahr

Dr from abbottabad Zindabad

Ähnliche Videos

مریم نواز کی ترقی کا اصل چہرہ مریم نواز شریف صاحبہ کل ترقی کی بات کر رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ ایک صوبے میں سترہ سال حکومت کرنے والے بھی کچھ نہیں کر سکے۔ تو آئیے، ہم آپ کو بھی مریم نواز شریف صاحبہ کی ترقی کا اصل چہرہ دکھاتے ہیں۔ لاہور کے تھانوں میں خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعات اور قتل کے کیسز—کیا یہ مریم نواز کی پنجاب میں ترقی ہے؟ لاہور میں چند منٹ کی بارش کے بعد انڈر پاسز پانی سے بھر جاتے ہیں۔ پورے پنجاب کا بجٹ خرچ کرکے سڑکیں تو بنائی جا رہی ہیں، لیکن نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام کیوں نہیں بنایا گیا؟ یہ کیسی ترقی ہے کہ بارش ہوتے ہی لاہور کے شہری مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں؟ اب ذرا جنوبی پنجاب کی طرف چلتے ہیں، جس کی حکمران مریم نواز شریف ہیں۔ ہر سال بڑی تعداد میں جنوبی پنجاب کے لوگ بہتر اور مفت علاج کی سہولت کے لیے پنجاب سے باہر سندھ کا رخ کرتے ہیں، جہاں سکھر، گمبٹ اور دیگر شہروں میں NICVD، SIUT اور گمبٹ انسٹیٹیوٹ جیسے ادارے دل، گردوں اور جگر کے علاج کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو اپنے ہی صوبے میں ایسی معیاری اور مفت طبی سہولیات کیوں میسر نہیں؟ اگر ایک مریض کو علاج کے لیے پنجاب چھوڑ کر سندھ جانا پڑے تو یہ پنجاب کی ترقی کا ثبوت ہے یا ناکامی کا؟ سندھ میں عوام کو دل، گردوں اور جگر کے علاج کی مفت سہولیات فراہم کرنے والے ادارے موجود ہیں، جبکہ پنجاب کے عوام آج بھی ان بنیادی سہولیات کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ، صرف سڑکیں اور دعوے ترقی نہیں ہوتے۔ ترقی وہ ہے جس میں شہری محفوظ ہوں، خواتین کو انصاف ملے، لاہور بارش میں ڈوبے نہیں اور جنوبی پنجاب کے عوام کو علاج کے لیے سندھ کا رخ نہ کرنا پڑے۔ یہ ہے وہ ترقی جس کا جواب پنجاب کے عوام مانگ رہے ہیں۔ احمد رحمان گھمن ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی، لاہور Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Azma Zahid Bokhari Marriyum Aurangzeb Faisal Mir

Ahmad Ghuman

56,467 Aufrufe • vor 1 Monat

شاید مقدمہ درج ہوا نہیں کروایا گیا ہے: عمران شفقت صاحب کا اہم نقطہ شریف خاندان کی پنجاب اور وفاق میں حکومت ہو، اسحاق ڈار پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ ہوں اور پاکستان نے سفارتی سطح کے اوپر بڑی کامیابیاں سمیٹی ہوں، ایسے وقت میں اُن کے نواسے کے خلاف مقدمہ درج ہو جانا اس کا مطلب ہے کہ یہ مقدمہ درج ہوا نہیں بلکہ کروایا گیا ہے، اسحاق ڈار پاکستان کے نائب وزیراعظم اس لیے ہیں کہ وہ نواز شریف صاحب کے سمدی ہیں، اور وہ نواز شریف صاحب کے سمدی اس لیے ہیں کہ نواز شریف کے بچپن کے دوستوں میں سے ہیں، اگرچہ وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف صاحب کے بھائی ہیں لیکن اُن کے ساتھ اسحاق ڈار کا ہونا نواز شریف کا آدمی ہونا قرار دیا جاتا ہے، اور پھر پنجاب میں علی ڈار مریم نواز کے مشیر ہیں، کچھ لوگ تو کہتے ہیں کہ حمزہ شہباز کا راستہ روکنے کے لیے مریم نواز نے اگلے وزیراعلی پنجاب کے لیے علی ڈار کو ذہن میں رکھا ہوا ہے تاکہ حمزہ شہباز کا راستہ روک سکیں:

Zeshan Noor

34,817 Aufrufe • vor 2 Monaten