Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

پنجاب کی پی ٹی آئی کی صدر عالیہ حمزہ کولاہور سے گرفتار کر لیا گیا ہے ایسا بالکل بھی نہیں تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کو پتہ نہیں تھا کہ عالیہ حمزہ کہاں ہیں غائب ہیں،وہ جلسے جلوسوں میں جاتی تھیں سہیل آفریدی کی سٹریٹ موومنٹ میں بھی شامل تھیں عالیہ...

37,761 görüntüleme • 6 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

🚨اکسفورڈ کے بنگلہ دیشی اسٹوڈنٹ نے خرم بٹ کے سارے نیریٹو کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی! خرم برڈ جو کہ اکسفورڈ یونیورسٹی کے باہر عمران خان کے خلاف کیمپین کر رہا تھا کہ انہیں چانسلر نہیں بننا چاہیے، ان سے ایک بنگلہ دیشی اسٹوڈنٹ نے سوال کر لیا کہ "عمران خان کو کیوں نہیں چانسلر ہونا چاہیے؟" تو خرم بٹ نے جواب دیا کہ "کیونکہ کورٹس نے پاکستان کی، عمران خان کو مجرم ڈکلیئر کیا ہے"، جس پر بنگلہ دیش کے اسٹوڈنٹ نے کہا کہ "کون سے کورٹس وہ کورٹس جو کہ ریجیم کے ما تحت کام کر رہے ہیں پاکستان میں، میں بھی بنگلہ دیش سے ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ کورٹس ہمارے ملکوں میں کس کے ما تحت ہوتے ہیں!" کتنے شرم کی بات ہے کہ پوری دنیا کو یہ پتہ ہے کہ ہمارے کورٹس بھی ہماری اسٹیبلشمنٹ چلا رہی ہے! بنگلہ دیشی سٹوڈنٹ کہتا ہے پھر کہ "مجھے یہاں کے کورٹس کی ججمنٹ پر اعتبار ہے لیکن ہمارے ملکوں کے کورٹس کے ججمنٹ پر اعتبار نہیں ہے کیونکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی ماتحت ہوتے ہیں۔" جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے!

S.H

177,362 görüntüleme • 2 yıl önce

ہم کل کی پریس کانفرنس کا جواب دینے نہیں بیٹھے وہ ایک افسوسناک اضطرابی گفتگو تھی اس میں کوئی ایسا بیانیہ نہیں تھا جس کا جواب دیا جائے محض الزامات تھے ہم آپ کو اس کا جواب نہیں دینگے صرف اتنا کہیں گے پاکستان کی عوام کو مت دھتکارو، پاکستان کی عوام عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے۔ عمران خان سیکیورٹی تھریٹ نہیں عمران خان نے اس ملک کو جوڑ کے رکھا ہوا ہے پاکستان کے کروڑوں نوجوان عمران خان کی وجہ سے اس بیانیے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ نسل پرستی فرقہ واریت صوبائیت جیسے تمام بیانیوں کو رد کرکے عمران خان پاکستان کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہے عمران خان جو ایک قومی لیڈر ہے اس کو سیکیورٹی تھریٹ کہا گیا جو کہ ایک مضحکہ خیز بات ہے اور پہلی بار یہ بات نہیں ہوئی۔ 1990 میں میں اصغر خان کا وکیل تھا جس نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف کے خلاف مقدمہ لڑا اس کا موقف تھا کہ انہوں نے انتخابات میں مداخلت کی جس کی وجہ سے ہمارے عسکری اداروں کا امیج خراب ہوا ہے۔ سولہ سال مقدمہ چلا اس وقت کی ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے ایک ایفی ڈیوٹ فائل کیا جس میں تسلیم کیا کہ ہم نے مداخلت کی ہم نہیں چاہتے تھے بینظیر وزیراعظم بنے پیپلز پارٹی کا وجود باقی رہے ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی نیشنل سیکیورٹی تھریٹ ہیں۔ بار بار انہوں نے فیصلے کیے کہ عوام کا کوئی مقبول لیڈر سیکیورٹی تھریٹ ہے جس کو منظر سے ہٹانا ضروری ہے لیکن ایسا ممکن نہیں پاکستان کی عوام باشعور ہے ان کے دلوں سے آپ ان کے لیڈر کو نہیں ہٹا سکتے پاکستان کے عوام جانتے ہیں ان کی خاطر کون سیاست کررہا ہے، کون ہے جو عہدے سے بے نیاز ان کے حقوق کی خاطر لڑ رہا ہے۔اس بدلتے ہوئے معاشی نظام میں جب تک عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے نہیں ہونگے تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ جب تک پاکستان کی عوام کی مرضی پاکستان کے ایوانوں میں پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس میں نہیں گونجے گی تب تک فلاح ممکن نہیں ہے۔ آپ نے سولہ سیٹوں والی پارٹی کو پاکستان کی حکومت دے کر کہا یہ عوامی فلاح کے منصوبے بنائیں گے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ جھوٹ اور فریب کے اس نظام کو پاکستان کے عوام کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے سلمان اکرم راجہ

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

64,970 görüntüleme • 9 ay önce