Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

پنجاب کے بعد اب خیبر پختونخوا میں بھی وہی طرزِ عمل دہرایا جا رہا ہے۔ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر پنجاب میں تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں کی گرفتاریاں کی گئیں، اور اب کے پی کے میں بھی اسی نوعیت کی کارروائیاں سامنے آ...

13,665 Aufrufe • vor 6 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

پنجاب حکومت کی جانب سے پاکستان تحریکِ انصاف کی رکنِ قومی اسمبلی عنمبر مجید خان کے شوہر سابق رکنِ قومی اسمبلی عبدالمجید خان نیازی کے پٹرول پمپس اور دکانیں سیل کرنے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ کارروائی پنجاب کی فسطائی حکومت کی سیاسی انتقام پر مبنی پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عبدالمجید خان نیازی اور ان کے خاندان کو صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور مشکل ترین حالات میں اپنی سیاسی وفاداری اور اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ سیاسی اختلاف کو ذاتی انتقام، کاروباری نقصان اور خاندانوں کو دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کرنا جمہوری اقدار اور قانون کی حکمرانی کے منافی ہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اوچھے ہتھکنڈوں، دباؤ، انتقامی کارروائیوں اور کاروبار سیل کرنے جیسے اقدامات سے نہ عمران خان کی جدوجہد ختم کی جا سکتی ہے اور نہ ہی ان کے نظریے سے وابستہ کارکنان اور رہنماؤں کو جھکایا جا سکتا ہے۔ ہم ہر قسم کے سیاسی دباؤ کے باوجود آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق، مضبوط پارلیمان اور آزاد عدلیہ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Asad Qaiser

49,268 Aufrufe • vor 24 Tagen

آئینی ترمیم کے معاملے پر جس عجلت سے حکومت کام لے رہی ہے، وہ ناقابلِ فہم ہے۔ ایسی کوئی ایمرجنسی نظر نہیں آ رہی جس کی بنیاد پر اس ترمیم کو فوری طور پر پاس کرنے کی ضرورت ہو۔ ہمیں ماضی میں کہا گیا کہ اگر ترمیم اتوار کو منظور نہ کی گئی تو پیر کو بڑا بحران آئے گا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ یہ جلد بازی ہمیں کسی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے۔ بل میں موجود تفصیلات اور اصولوں پر ہمیں سخت اعتراضات ہیں، اور ہم کسی بھی قیمت پر حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حکومت کی ترجیحات حیران کن ہیں۔ 1973 سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی کا مطالبہ موجود ہے، جسے آئین میں سات سال کے اندر مکمل کرنے کا ذکر ہے، لیکن آج 2024 میں ایک بھی سفارش پر قانون سازی نہیں ہوئی۔ تاہم، جب سیاسی مفادات کی بات آتی ہے تو راتوں رات آئینی ترامیم منظور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے لیے ہم نے نو مہینے لگائے، اور آج ہم سے 24 گھنٹوں میں ایک نئی ترمیم منظور کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جو بالکل ناقابلِ قبول ہے۔ ملک میں، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، جہاں حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے، موجودہ قوانین اور اختیارات کافی ہیں۔ نئی قانون سازی یا ترامیم کی ضرورت نہیں ہے۔ ملٹری کورٹس اور عدلیہ میں اصلاحات کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، جنہیں ہم مانتے ہیں کہ ضروری ہیں۔ تاہم، یہ اصلاحات عدالتوں کے فیصلوں میں شفافیت کے ساتھ ہونی چاہئیں اور انہیں کسی "سیل پرچیز" کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ ہم عدالت کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، لیکن اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان فیصلوں کا غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

32,812 Aufrufe • vor 1 Jahr

سابق وزیر اعظم عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے ان کے وکلاء جب عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں ان کو وکالت ناموں پر عمران خان کے دستخط چاہیے ہوتے ہیں لیکن عدالت کے حکم کے باوجود وکلاء کو عمران خان سے ملنے نہیں دیا جاتا ہے اور عمران خان کے دستخط نہیں لینے دیئے جاتے، اسی لیے 7 اپریل کو منگل کے دن علیمہ خان نے پاکستان تحریکِ انصاف کے تمام ایم این ایز، ایم پی ایز اور عہدیداران کو کال دی ہوئی ہے کہ آپ سب نے اظہارِ یک جہتی کے لیے اڈیالہ کے باہر آنا ہے اور تقریباً دس ہزار کی تعداد ہونی چاہیے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا علیمہ خان کی اس کال کو پاکستان تحریکِ انصاف کے ایم این ایز، ایم پی ایز اور عہدیداران سیریس لے رہے ہیں یا نہیں، میری تمام لوگوں سے اپیل بھی ہوگی کہ آپ نے 7 اپریل کو اڈیالہ جیل کے باہر پہنچنا ہے اور پر امن رہتے ہوئے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے، جو بھی الیکشن میں جیتے ہیں وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر عمران خان کے نام سے جیتے ہیں اور خاص طور پر جو 8 فروری کا الیکشن ہوا ہے اس میں تو لوگوں نے لائنوں میں لگ کر کھمبے، گاجر، مولی جیسے انتخابی نشانات کو ووٹ دیا ہے، لوگوں کا الیکشن کمپین میں ایک روپیہ بھی نہیں لگا اور عمران خان کے نام پر ووٹ لیے ہیں تو ان سب کو عمران خان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے، اسی طرح نو اپریل کو ہماری حکومت کو گرائے ہوئے چار سال ہو جائیں گے اور نو اپریل کے دن تحریکِ انصاف نے لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان کیا ہے، میری تحریکِ انصاف کے تمام لوگوں سے یہ گزارش ہوگی کہ آپ نے اس جلسے میں بھرپور شرکت کرنی ہے۔ #علیمہ_خان_کی_کال_اڈیالہ_احتجاج

Qasim Khan Suri

10,715 Aufrufe • vor 4 Monaten

دلچسپ۔۔۔۔۔۔ راولپنڈی کے حلقہ PP-19 سے منتخب پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ پنجاب اسمبلی تنویر اسلم راجہ کا تعلق باغ، آزاد کشمیر سے ہے۔ وہ مہاجرِ کشمیری نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے مستقل رہائشی ہیں اور ان کے پاس آزاد کشمیر اور پاکستان، دونوں کی شہریت موجود ہے، پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران انہوں نے خود بتایا کہ ان کا ووٹ پنجاب میں بھی ہے اور آزاد کشمیر میں بھی، وہ پنجاب سے الیکشن لڑ کر رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ اب سوال یہ ہے اگر آزاد کشمیر کا ایک رہائشی پاکستان میں ووٹ ڈال سکتا ہے، الیکشن لڑ سکتا ہے اور صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہو سکتا ہے، جس پر پنجاب کے لوگوں کو کوئی اعتراض نہیں تو پھر پاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ نوٹ: تنویر اسلم راجہ نے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا مسلہ ووٹ کا نہیں بلکہ ووٹوں کے کم تناسب پر پاکستان سے منتخب ہوکر آزاد کشمیر اسمبلی کا ممبر منتخب ہونا ہے، پنجاب کی کوئی نشست آزاد کشمیر میں نہیں اسی طرح آزاد کشمیر اسمبلی کی کسی نشست پر پاکستان میں کیسے ووٹنگ ہوسکتی ہے۔

Shabbir Dar

21,505 Aufrufe • vor 2 Monaten