Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

پنجابی ایچ کی کہندی سے سٹا لا سٹا لا بہت پیاری پنجابی لڑکی کی ویڈیو

28,905 görüntüleme • 10 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

"آرام سے چل۔۔۔۔آرام سے چل" پینٹ شرٹ پہنی اس پنجابی لڑکی کو پنجاب کے کسی ہسپتال یا میڈیکل کالج میں عورت کو جانور سمجھنے والے کلچر کی پیداوار ایک ہاؤس جاب کرنیوالے اس مشتعل مزاج پشتون ڈاکٹر یا میڈیکل سٹوڈنٹ نے آواز کس دی پہلے بدتہذیبی کی ۔ اس لڑکی نے بے خوف ہوکر وہیں اس بزدل کو للکارا۔آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے پوچھا "کیوں بکواس کی۔ میرے ساتھ بدتمیزی کیوں کی ،تم ہو کون میرے اوپر حد لگانے والے۔ تیرے باپ کا کھاتی ہوں کیا"چپ رہنے یا معافی مانگنے کی بجائے آگے سے جب پشتون ڈاکٹر نے جھگڑا کیا الٹا زبان درازی کی تو پنجابی لڑکی نے پوری طاقت سےرکھ کر اس کے مونہہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ دے مارا۔موقع پر موجود لوگوں کے مطابق اس شیطان آدمی نے اس لڑکی کو چھیڑا تھا۔جس پر مشتعل ہوکر لڑکی نے اسے تھپڑا مارا۔پھر اس نامرد نے معافی مانگنے کی بجائے الٹا اس لڑکی پر حملہ کردیا اور اسے بری طرح مارا۔ وہ بزدل نامرد جانور چاہتا تو نرمی سے بھی بات کرسکتا تھا۔مگر پنجابیوں سے نفرت کرنے والا پشتون ڈاکٹر یہ بھول گیا تھاکہ یہ پتھردورکاقبائلیت ذدہ خیبر پختونخواہ یا افغانستان نہیں ہے۔پنجابی عورت گاوں میں ہو یا شہر میں پنجابی ہڑپن تہذیب کے دور سے ہزاروں سال سے پنجاب میں آزاد ہے ۔پنجابی پنجاب پر راج کرتی ہے۔افسوس وہاں پنجابی لڑکے کھسی ہیجڑوں کی طرح بے غیرت بنے کھڑے اس لڑکی کو اس غنڈے سے مار کھاتے دیکھتے رہے۔کچھ غیر پنجابی حرامی اور بےغیرت اس موقع پر لڑکی پر تشدد ہوتا دیکھ کر تالیاں بجارہے تھے اور اس جانور کو ہلاشیری دے رہے تھے کہ اور مارسالی کو۔مرد کے آگے زبان چلاتی ۔ہاتھ اٹھاتی ہے۔لڑکی کو تھپڑ مارنےوالا پشتون تھا یا پنجابی تھا مگر تھا پکا بےغیرت پتھردور کا جانور۔ People cheering in the comments while women are beaten and harassed publicly. Disgusting
2:25

Sensitive content

"آرام سے چل۔۔۔۔آرام سے چل" پینٹ شرٹ پہنی اس پنجابی لڑکی کو پنجاب کے کسی ہسپتال یا میڈیکل کالج میں عورت کو جانور سمجھنے والے کلچر کی پیداوار ایک ہاؤس جاب کرنیوالے اس مشتعل مزاج پشتون ڈاکٹر یا میڈیکل سٹوڈنٹ نے آواز کس دی پہلے بدتہذیبی کی ۔ اس لڑکی نے بے خوف ہوکر وہیں اس بزدل کو للکارا۔آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے پوچھا "کیوں بکواس کی۔ میرے ساتھ بدتمیزی کیوں کی ،تم ہو کون میرے اوپر حد لگانے والے۔ تیرے باپ کا کھاتی ہوں کیا"چپ رہنے یا معافی مانگنے کی بجائے آگے سے جب پشتون ڈاکٹر نے جھگڑا کیا الٹا زبان درازی کی تو پنجابی لڑکی نے پوری طاقت سےرکھ کر اس کے مونہہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ دے مارا۔موقع پر موجود لوگوں کے مطابق اس شیطان آدمی نے اس لڑکی کو چھیڑا تھا۔جس پر مشتعل ہوکر لڑکی نے اسے تھپڑا مارا۔پھر اس نامرد نے معافی مانگنے کی بجائے الٹا اس لڑکی پر حملہ کردیا اور اسے بری طرح مارا۔ وہ بزدل نامرد جانور چاہتا تو نرمی سے بھی بات کرسکتا تھا۔مگر پنجابیوں سے نفرت کرنے والا پشتون ڈاکٹر یہ بھول گیا تھاکہ یہ پتھردورکاقبائلیت ذدہ خیبر پختونخواہ یا افغانستان نہیں ہے۔پنجابی عورت گاوں میں ہو یا شہر میں پنجابی ہڑپن تہذیب کے دور سے ہزاروں سال سے پنجاب میں آزاد ہے ۔پنجابی پنجاب پر راج کرتی ہے۔افسوس وہاں پنجابی لڑکے کھسی ہیجڑوں کی طرح بے غیرت بنے کھڑے اس لڑکی کو اس غنڈے سے مار کھاتے دیکھتے رہے۔کچھ غیر پنجابی حرامی اور بےغیرت اس موقع پر لڑکی پر تشدد ہوتا دیکھ کر تالیاں بجارہے تھے اور اس جانور کو ہلاشیری دے رہے تھے کہ اور مارسالی کو۔مرد کے آگے زبان چلاتی ۔ہاتھ اٹھاتی ہے۔لڑکی کو تھپڑ مارنےوالا پشتون تھا یا پنجابی تھا مگر تھا پکا بےغیرت پتھردور کا جانور۔ People cheering in the comments while women are beaten and harassed publicly. Disgusting

Chaudhry Nazeer Kahut

132,599 görüntüleme • 4 ay önce