Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

پورا ڈرامہ اردو میں چلتا ہے لیکن جیسے ہی نوکر، مزدور یا کمزور کردار دکھانا ہو تو فوراً اسے پنجابی بولنے والا بنا دیا جاتا ہے چوکیدار یا دہشت گرد دکھانا ہو تو پشتون بنا دیا جاتا یہ پنجابی / پشتو زبان اور پنجابی/ پشتون شناخت کے خلاف ایک...

24,489 views • 4 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

“سرائیکی کوئئ زبان ہی نہیں ہے۔میں شاہ پور سرگودھا کا ہوں ۔میری مادری زبان پنجابی ہے۔میں اپنی مادری زبان پرکسی بدنییت،متعصب غیرمقامی ،کسی پناہگیر کو سرائیکی کا لیبل لگانے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتا ۔کسی کا باپ بھی پنجاب کی زبان اور پنجابیوں کی نسل نہیں بدل سکتا ۔پنجابی کے ملتانی، ریاستی، ڈیروی لہجہ ملاکر گھڑی گئی جعلی زبان ہے،مقصد پناہگیروں قبضہ گیروں کا پنجاب کی سرزمین ،وسائل اور دریاؤں پر قبضہ ہے "سما کے ٹاک شو میں پی ہی کے قمرالزمان کائرہ،ن لیگ کے زعیم قادری پر غشی کے دورے ،محمد علی درانی کی خاموشی اور اینکر فریحہ ادریس شاک میں ۔تھرتھلی پے گئی۔سچ زہر ہوتا ہے ۔برداشت نہ کرسکے کہوٹ کو وقفہ کے بعد باقی کےشو سے کاٹ دیا گیا۔پنجابی زبان کے خلاف قومی میڈیا کا امتیازی سلوک قابل مذمت ہے۔پاکستان کےآئین ،قانونی اور پنجابی اکثریت کے بنیادی آئینی ، قانونی ، جمہوری ، انسانی اور پیدائشی حق کے تحت پنجابی کو پنجاب کی تعلیمی ، سرکاری ، دفتری اور عدالتی زبان کے طور پر نافذ کیا جائے ۔

Chaudhry Nazeer Kahut

16,219 views • 1 month ago

کیا اب اپنے ہی ملک میں گھومنے کے لیے ہمیں اپنی قومیت کا سرٹیفکیٹ دکھانا پڑے گا؟ جو پنجابی اس ملک کی معیشت چلاتا ہے، سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، اور فوج میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کرتا ہے، اسے یہ طعنے دینا کہ "تم پنجابی یہاں کیوں آتے ہو؟" یہ صرف پنجابیوں کی توہین نہیں، بلکہ پاکستان کی سالمیت پر کلہاڑی مارنے کے برابر ہے! یاد رکھیں! پاکستان کا ہر کونا چاہے وہ گلگت بلتستان ہو، سندھ ہو، بلوچستان ہو یا خیبر پختونخوا ہر پاکستانی کا گھر ہے۔ کسی دیسی یا ملازم کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ زبان یا علاقے کی بنیاد پر کسی محبِ وطن شہری کو نیوا دکھائے یا اس پر ہاتھ اٹھائے۔ پنجابی، پٹھان، بلوچی، سندھی، کشمیری اور گلگتی—ہم سب اس مٹی کے بیٹے ہیں۔ عزت ہر ایک کا حق ہے، اور اپنے کسی بھی بھائی کی بے عزتی ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ویڈیو میں نظر آنے والے ان شرپسند عناصر کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے، تاکہ سیاحت کے نام پر نفرت اور تقسیم پھیلانے والوں کو عبرت کا سبق ملے۔ "پاکستان ساریاں دا اے، تے پاکستان دے ہر علاقے تے سارے پاکستانی برابر حق رکھدے نیں۔"

Qamar PindiAana 🌾✨

28,834 views • 3 months ago

صحیفہ جبار خٹک کے پنجاب کے لوگوں اور اردو بولنے والے طبقے کے خلاف حالیہ بیان نے عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ کسی بھی محنتی قوم کو "کام چور" کہنا نہ صرف حقیقت کے منافی ہے بلکہ یہ نفرت پھیلانے کے مُترادِف ریویوز فیک نہیں بلکہ پنجابی عوام نے دیئے جو صحیح ہیں پنجاب کی عوام اور اردو بولنے والوں کی تضحیک • محنت کش طبقہ: پنجاب کی عوام اور اردو بولنے والے پاکستانی معیشت کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی محنت پر شک کرنا ان کی توہین ہے۔ • گوگل ریٹنگ اور ردِعمل: جب ان لوگوں نے احتجاجاً ان کے کاروبار کی ریٹنگ کم کی، تو اب ان کا رونا ان کے اپنے کیے کا نتیجہ ہے۔ جو دوسروں کی عزت نہیں کرتا، اسے اپنی عزت کے لیے رونے کا حق نہیں۔ • کاروباری اخلاقیات: پنجاب میں رہ کر اور یہاں سے کما کر یہیں کے لوگوں کو برا بھلا کہنا اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے۔ ایسے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کاروبار صرف پیسوں سے نہیں بلکہ عوام کی محبت اور عزت سے چلتا ہے۔ قانونی اور سماجی مطالبات • بھاری جرمانہ: نفرت انگیز بیانات اور فرقہ واریت یا لسانیت کو ہوا دینے پر ایسے افراد پر بھاری جرمانہ عائد ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی ایسی جرات نہ کرے۔ • عوامی بائیکاٹ: پنجابی عوام کا اپنی طاقت دکھانا اور ریٹنگ کم کرنا ایک جائز جمہوری حق ہے، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ پنجابی عوام اب ایسی بدتمیزی کو برداشت نہیں کرے گی۔

Naina💫

22,506 views • 6 months ago

سُپر اسٹور کے سیلز مین اور بلی کی روزانہ کی ملاقات نے سب کو حیران کر دیا ترکی میں پیش آنے والا ایک دل کو چھو لینے والا واقعہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ کہانی ایک دکان کے مالک فرحات حیات اور ایک آوارہ بلی کے درمیان غیر معمولی تعلق کی ہے، جو وقت کے ساتھ محبت، مانوسیت اور وفاداری کی ایک مثال بن گیا۔ ہر صبح ایک بلی مستقل طور پر اسی دکان پر آتی ہے۔ وہ کسی خوف یا جھجھک کے بغیر سیدھا کاؤنٹر کے قریب پہنچتی ہے، جیسے وہ اس جگہ کو اپنا گھر سمجھتی ہو۔ دکان کے مالک فرحات حیات بھی اسے پہچانتے ہیں اور اس کے ساتھ اسی اپنائیت سے پیش آتے ہیں جیسے کوئی پرانا شناسا ہو۔ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ بلی کاؤنٹر کے قریب آ کر ان سے لپٹتی ہے، گلے لگ جاتی ہے، ان کے گرد گھومتی ہے اور بعض اوقات ان کی گود یا قریب بیٹھ کر سکون محسوس کرتی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ بلی عرصہ دراز سے اسی علاقے میں رہ رہی ہے اور وقت کے ساتھ دکان کے مالک نے نہ صرف اسے کھانا دینا شروع کیا بلکہ اس کے لیے ایک طرح کی مستقل شفقت اور دیکھ بھال کا ماحول بھی پیدا کیا۔ یہی تعلق رفتہ رفتہ ایک عادت نہیں بلکہ ایک جذباتی رشتے میں بدل گیا، جہاں بلی روزانہ کی بنیاد پر اپنی موجودگی درج کراتی ہے۔ یہ منظر جب سوشل میڈیا پر آیا تو دیکھنے والوں نے اسے بے حد پسند کیا۔ لوگوں نے اس میں جانوروں کی فطری وفاداری، احساس اور محبت کو سراہا۔ بہت سے صارفین نے کہا کہ جانور انسانوں کی طرح حساب کتاب نہیں کرتے، وہ صرف احسان کو محسوس کرتے ہیں اور اس کا جواب اپنی معصومیت سے دیتے ہیں۔ یہ ایک طرف انسان اور جانور کے درمیان فطری تعلق کی خوبصورت جھلک ہے تو دوسری طرف ایک تلخ سماجی حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ بعض اوقات انسان ہی وہ مخلوق ہے جو احسان کو بھلا دیتا ہے، جبکہ بے زبان جانور بھی اپنی حد تک وفاداری اور وابستگی کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔ شاید احساس اور وفاداری صرف زبان کی محتاج نہیں، بلکہ یہ دل کی وہ زبان ہے جو کبھی کبھی انسانوں سے زیادہ جانور بہتر انداز میں بول لیتے ہیں۔ #AajNews #Turkey #Viral #Heartwarming #HumanInterest #SocialMedia #Trending #WorldNews #Inspiration

Aaj TV Urdu

25,293 views • 4 months ago