Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

پورا ڈرامہ اردو میں چلتا ہے لیکن جیسے ہی نوکر، مزدور یا کمزور کردار دکھانا ہو تو فوراً اسے پنجابی بولنے والا بنا دیا جاتا ہے چوکیدار یا دہشت گرد دکھانا ہو تو پشتون بنا دیا جاتا یہ پنجابی / پشتو زبان اور پنجابی/ پشتون شناخت کے خلاف ایک...

24,489 просмотров • 2 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

کیا اب اپنے ہی ملک میں گھومنے کے لیے ہمیں اپنی قومیت کا سرٹیفکیٹ دکھانا پڑے گا؟ جو پنجابی اس ملک کی معیشت چلاتا ہے، سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، اور فوج میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کرتا ہے، اسے یہ طعنے دینا کہ "تم پنجابی یہاں کیوں آتے ہو؟" یہ صرف پنجابیوں کی توہین نہیں، بلکہ پاکستان کی سالمیت پر کلہاڑی مارنے کے برابر ہے! یاد رکھیں! پاکستان کا ہر کونا چاہے وہ گلگت بلتستان ہو، سندھ ہو، بلوچستان ہو یا خیبر پختونخوا ہر پاکستانی کا گھر ہے۔ کسی دیسی یا ملازم کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ زبان یا علاقے کی بنیاد پر کسی محبِ وطن شہری کو نیوا دکھائے یا اس پر ہاتھ اٹھائے۔ پنجابی، پٹھان، بلوچی، سندھی، کشمیری اور گلگتی—ہم سب اس مٹی کے بیٹے ہیں۔ عزت ہر ایک کا حق ہے، اور اپنے کسی بھی بھائی کی بے عزتی ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ویڈیو میں نظر آنے والے ان شرپسند عناصر کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے، تاکہ سیاحت کے نام پر نفرت اور تقسیم پھیلانے والوں کو عبرت کا سبق ملے۔ "پاکستان ساریاں دا اے، تے پاکستان دے ہر علاقے تے سارے پاکستانی برابر حق رکھدے نیں۔"

Qamar PindiAana 🌾✨

28,782 просмотров • 2 месяцев назад

صحیفہ جبار خٹک کے پنجاب کے لوگوں اور اردو بولنے والے طبقے کے خلاف حالیہ بیان نے عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ کسی بھی محنتی قوم کو "کام چور" کہنا نہ صرف حقیقت کے منافی ہے بلکہ یہ نفرت پھیلانے کے مُترادِف ریویوز فیک نہیں بلکہ پنجابی عوام نے دیئے جو صحیح ہیں پنجاب کی عوام اور اردو بولنے والوں کی تضحیک • محنت کش طبقہ: پنجاب کی عوام اور اردو بولنے والے پاکستانی معیشت کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی محنت پر شک کرنا ان کی توہین ہے۔ • گوگل ریٹنگ اور ردِعمل: جب ان لوگوں نے احتجاجاً ان کے کاروبار کی ریٹنگ کم کی، تو اب ان کا رونا ان کے اپنے کیے کا نتیجہ ہے۔ جو دوسروں کی عزت نہیں کرتا، اسے اپنی عزت کے لیے رونے کا حق نہیں۔ • کاروباری اخلاقیات: پنجاب میں رہ کر اور یہاں سے کما کر یہیں کے لوگوں کو برا بھلا کہنا اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے۔ ایسے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کاروبار صرف پیسوں سے نہیں بلکہ عوام کی محبت اور عزت سے چلتا ہے۔ قانونی اور سماجی مطالبات • بھاری جرمانہ: نفرت انگیز بیانات اور فرقہ واریت یا لسانیت کو ہوا دینے پر ایسے افراد پر بھاری جرمانہ عائد ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی ایسی جرات نہ کرے۔ • عوامی بائیکاٹ: پنجابی عوام کا اپنی طاقت دکھانا اور ریٹنگ کم کرنا ایک جائز جمہوری حق ہے، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ پنجابی عوام اب ایسی بدتمیزی کو برداشت نہیں کرے گی۔

Naina💫

22,506 просмотров • 5 месяцев назад

سُپر اسٹور کے سیلز مین اور بلی کی روزانہ کی ملاقات نے سب کو حیران کر دیا ترکی میں پیش آنے والا ایک دل کو چھو لینے والا واقعہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ کہانی ایک دکان کے مالک فرحات حیات اور ایک آوارہ بلی کے درمیان غیر معمولی تعلق کی ہے، جو وقت کے ساتھ محبت، مانوسیت اور وفاداری کی ایک مثال بن گیا۔ ہر صبح ایک بلی مستقل طور پر اسی دکان پر آتی ہے۔ وہ کسی خوف یا جھجھک کے بغیر سیدھا کاؤنٹر کے قریب پہنچتی ہے، جیسے وہ اس جگہ کو اپنا گھر سمجھتی ہو۔ دکان کے مالک فرحات حیات بھی اسے پہچانتے ہیں اور اس کے ساتھ اسی اپنائیت سے پیش آتے ہیں جیسے کوئی پرانا شناسا ہو۔ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ بلی کاؤنٹر کے قریب آ کر ان سے لپٹتی ہے، گلے لگ جاتی ہے، ان کے گرد گھومتی ہے اور بعض اوقات ان کی گود یا قریب بیٹھ کر سکون محسوس کرتی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ بلی عرصہ دراز سے اسی علاقے میں رہ رہی ہے اور وقت کے ساتھ دکان کے مالک نے نہ صرف اسے کھانا دینا شروع کیا بلکہ اس کے لیے ایک طرح کی مستقل شفقت اور دیکھ بھال کا ماحول بھی پیدا کیا۔ یہی تعلق رفتہ رفتہ ایک عادت نہیں بلکہ ایک جذباتی رشتے میں بدل گیا، جہاں بلی روزانہ کی بنیاد پر اپنی موجودگی درج کراتی ہے۔ یہ منظر جب سوشل میڈیا پر آیا تو دیکھنے والوں نے اسے بے حد پسند کیا۔ لوگوں نے اس میں جانوروں کی فطری وفاداری، احساس اور محبت کو سراہا۔ بہت سے صارفین نے کہا کہ جانور انسانوں کی طرح حساب کتاب نہیں کرتے، وہ صرف احسان کو محسوس کرتے ہیں اور اس کا جواب اپنی معصومیت سے دیتے ہیں۔ یہ ایک طرف انسان اور جانور کے درمیان فطری تعلق کی خوبصورت جھلک ہے تو دوسری طرف ایک تلخ سماجی حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ بعض اوقات انسان ہی وہ مخلوق ہے جو احسان کو بھلا دیتا ہے، جبکہ بے زبان جانور بھی اپنی حد تک وفاداری اور وابستگی کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔ شاید احساس اور وفاداری صرف زبان کی محتاج نہیں، بلکہ یہ دل کی وہ زبان ہے جو کبھی کبھی انسانوں سے زیادہ جانور بہتر انداز میں بول لیتے ہیں۔ #AajNews #Turkey #Viral #Heartwarming #HumanInterest #SocialMedia #Trending #WorldNews #Inspiration

Aaj TV Urdu

25,227 просмотров • 2 месяцев назад