Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

پولیس نے پسپا ہونا شروع کر دیا ہے ۔۔ “کل ہی بتایا تھا کہ تھوڑا سا بھی پریشر بنا عوام کی طرف سے تو پولیس اپنے کرپٹ افسران کے غیرقانونی و غیرآئینی احکامات نہیں مانے گی” ۔۔ “عوام کا خوف بھی ہے اور کسی کسی کو ضمیر کا بوجھ بھی”

380,466 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 10

Фото профиля Tariq Khan
Tariq Khan1 год назад

A true hero....

Фото профиля 👹👹 Ur BooTa👺👺
👹👹 Ur BooTa👺👺1 год назад

یہ تو ڈر گئے 😂😅 جہاں سے آپ سوچنا شروع کر دیتے ہے وہاں ہماری سوچ ختم ہوتی ہیں۔ بات تو سچ ہے 😅😂

Фото профиля Aasma Rehan
Aasma Rehan1 год назад

ضمیر کا بوجھ نہیں ہو سکتا عمران بھائی ہم نے ان کو قریب سے دیکھا ہے ان میں سب کچھ ہو سکتا ہے انسانیت نہیں ہو سکتی حرام کھلا کھلا کر ان کا DNA ہی کرپٹ کر دیا گیا ہے

Фото профиля Kashif Elahi
Kashif Elahi1 год назад

كيا يہ پوليس كى وردى میں نامعلوموں كى فورس نہیں ہے.

Фото профиля freedom fighter
freedom fighter1 год назад

Punjab police Ka koi zameer Nahin hai. Agar Woh fauj Jo Allah o Akbar Ka Nara lagaye aur ye sab Kuch support karey. Unkay zameer ho sakty hain.

Фото профиля Sana
Sana1 год назад

ایسی باتیں نہ کریں ابھی نہیں تو آی جی اپنے تازہ دم کٹے مطلب دستے بیجھج دے گا 🤧

Фото профиля hina
hina1 год назад

ضمیر نام کی تو خیر کوئی چیز نہیں ہے ان بیغیرتوں میں

Фото профиля Mohsin Sardar Mughal
Mohsin Sardar Mughal1 год назад

@PakistanJutt1 میرا ایسا خیال نہیں ہے کے پولیس پسپا ہو گئی یہ بلکل جال بچھایا جا رہا ہے کوئی ٹریپ کرنے کے لیے

Фото профиля IslamabadMasacar
IslamabadMasacar1 год назад

zabardast...bas is ka khial rahey k jaan boojh kar gherney k lye na peechey hat rahey hon

Фото профиля amaas amaas
amaas amaas1 год назад

کئی پولیس والے اپنے افسران کو کہہ رہے ہیں ہم مزید غیر قانونی آرڈرز نہیں مان سکتے ہم استعفی دے رہے ہیں اور عدالتوں میں جائیں گے

Похожие видео

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 просмотров • 7 месяцев назад