正在加载视频...

视频加载失败

پولیس والوں نے میرے پاپا کو میرے سامنے چھت سے نیچے گرا کر مار دیا۔ 5 سالا بچے نے مبینہ طور پر پولیس والوں پر پاکستان۔ کی تاریخ کا سب سے دردناک الزام لگا دیا، اس ویڈیو میں کہے گئے بچے کے الفاظوں میں کتنی حقیقت ہے یہ اللہ...

13,753 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

🚨 راولپنڈی کے عوام، راولپنڈی پولیس اور متعلقہ حکام سے فوری اپیل 🚨 یہ ویڈیوز میں نے خود ریکارڈ کی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے اپنے ایک دوست کے فلیٹ پر آنا جانا ہوا، جہاں کھڑکی سے سامنے والے ایک گھر میں تقریباً 8 سے 10 سال کے ایک معصوم بچے کے ساتھ مسلسل تشدد ہوتے دیکھا۔ کچھ دن پہلے میں نے اس گھر کے سربراہ کو اس بچے کو مارتے ہوئے دیکھا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد آج اسی گھر کے ایک نوجوان بیٹے کو بھی اس بچے پر تشدد کرتے دیکھا۔ میری نظر میں یہ ایک بار کا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ہونے والا رویہ معلوم ہوتا ہے۔ اس بچے سے مسلسل گھریلو کام کروایا جاتا ہے، اسے ڈانٹا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے، اور متعدد مرتبہ میں نے اسے لوہے کی راڈ سے مارتے ہوئے بھی دیکھا۔ یہ سب رات کے وقت چھت پر میری آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ یہ سوچ کر دل مزید دکھتا ہے کہ اگر کھلی جگہ پر اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے تو گھر کے اندر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ میں نے اس پوسٹ کے ساتھ ویڈیوز، گھر کی بیرونی تصویر اور لوکیشن بھی شامل کر دی ہے تاکہ متعلقہ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر اس بچے کی حفاظت یقینی بنائیں اور اگر تحقیقات میں یہ حقائق درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ ایک معصوم بچے کے ساتھ ظلم کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ راولپنڈی پولیس اور متعلقہ اداروں تک جلد از جلد پہنچ سکے اور اس بچے کو مزید تشدد سے بچایا جا سکے۔ Sattelite block c Near punjab food authority office Opposite Hafiz abad motton shop Rawalpindi

Israr Ahmed Rajpoot

118,662 次观看 • 28 天前

سانحہ کاہنہ میں زندہ بچ جانے والے اس بچے کو ہسپتال والوں نے سر پر ٹانکے لگا کر پٹی اس لئے نہیں باندھی اور گھر بھیج دیاکیونکہ اس کی ماں ہسپتال کے باہر سے پٹی خرید کر ڈاکٹروں کو نہیں دے سکی۔ اس بچے کا منہ چوٹوں سے سوجا ہوا ہے اور اس اس کے جسم پر زخموں پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ میں نے جب اس کے خاندان والوں کو کہا کہ ہم اس کا علاج کسی پرائیویٹ ہسپتال سے کروا دیتے ہیں تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ سب انسپکٹر نے کہا ہے کہ اسے جزل ہسپتال کے علاوہ کہیں نہیں دکھا سکتے کیونکہ پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ حکومت پنجاب نہ تو صحافیوں کو گلیوں میں جانے دے رہی ہے اور نہ ہی کسی کو متاثرہ بچوں کے علاج کی سہولت فراہم کرنے دے رہی ہے۔ یہ وزیراعظم شہباز شریف Shehbaz Sharif کا حلقہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو اپنے حلقے میں ہونے والے اتنے بڑھے سانحے پر خود جانا چاہئے۔ وزیراعلی پنجاب Maryam Nawaz Sharif کو محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کے ذمہ داران کے خلاف کروائی کرنی چاہئے

Faisal Mir

29,386 次观看 • 1 个月前