Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

پچھتر سال سے اسرائیل نے فلسطین پر اپنا قبضہ اور تسلط جما کر فلسطینیوں کا قتل عام کرتا آرہا ہے، امریکا جیسی قوتیں اسرائیل کی پشت پناہی کرتے آرہے ہیں، یہ انسانی حقوق کے قاتل ہیں، آج پہلی مرتبہ فلسطینیوں نے پیش قدمی کی ہے،ہمت اور تیاری کے ساتھ...

155,505 просмотров • 3 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 10

Фото профиля عبدالسلام راکٹی
عبدالسلام راکٹی3 лет назад

جو مشورہ مولانا فضل الرحمان نے دیا تھا حماس کے سربراہ نے اس پر عمل کرکے جاری کردیا لیکن پاکستان میں کچھ اسرائیل کے ایجنٹس اس بیان پر پروپیگنڈے کررہے ہیں.

Фото профиля SSG of Pti
SSG of Pti3 лет назад

ووٹ لینے کے لیے کیسا بدلا ہے شکل ساتھ نہیں دے رہی جو کہ رہا ہے

Фото профиля Sadaqat Khan
Sadaqat Khan3 лет назад

پوری امت مسلمہ کو فلسطینی مجاہدین کی پشت پے کھڑا ہونا چاہیئے. مولانا فضل الرحمٰن صاحب

Фото профиля M.israr
M.israr3 лет назад

سلامت رھو قائد محترم

Фото профиля JUI Answers Back
JUI Answers Back3 лет назад

مظلوموں کی آواز۔۔۔۔

Фото профиля 𝑴𝒐𝒍𝒗𝒊 | مولوی
𝑴𝒐𝒍𝒗𝒊 | مولوی3 лет назад

قوم لوط کا امیر ڈر گیا اپنے پہلے بیان سے پھیر گیا. اس کے لوطی پیروکار اب اس پر بھی اس کا چومیاں دیں گے.

Фото профиля واحد مراد
واحد مراد3 лет назад

آپ کی آواز ہم غریبوں کی صدا ہے، آپ کی خدمات اور فلسطین مسلمانوں سے محبت کرنا اس سے کون واقف نہیں! رب کریم آپ کا سایہ دیر تک ہمارے سروں پر قائم رکھے آپ نے ہمیشہ حق کی ترجمانی کی ہے ❤️

Фото профиля First Strike 🇺🇸
First Strike 🇺🇸3 лет назад

مُلا ڈیزل تم یہودیوں کے پالتو کتے ہو

Фото профиля Jamiat Social Media Team
Jamiat Social Media Team3 лет назад

قربان جاواں 🥰 قائد ملت اسلامیہ

Фото профиля ÝÆ§ÎŘ Wážïŕ
ÝÆ§ÎŘ Wážïŕ3 лет назад

قربان مرشد ❤️ آپ کے جرات مندانہ موقف کے

Похожие видео

مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے،قائد اعظم نے اقوام متحدہ کی تجویز کو مسترد کرکے امریکی صدر کو خط لکھا تھا کہ فلسطین کو دو ریاستی تصور کے ساتھ قبول نہیں کرسکتے لیکن نگران وزیر اعظم نے جو دو ریاستی تصور پیش کیا وہ قائد اعظم کے موقف کی نفی ہے،اگر امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کی حمایت میں کھلم کھلا بیان دے سکتا ہے تو کیا ہم فلسطین کی حمایت کا حق نہیں رکھتے،امریکہ اور برطانیہ براہ راست فلسطین میں اپنی فوجیں لے کر آگئے ہیں، یہ لوگ حماس کے مجاہدین کے ساتھ جنگ نہیں کر رہے بلکہ براہ راست بلا تفریق غزہ شہر پر حملے کئے جا رہے ہیں،ہسپتالوں اور سکولوں پر حملے کر رہے ہیں،اسرائیل جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے، وہ جنگی مجرم ہے، اسرائیل اور ان کے آقاؤں کے جمہوری دعوے جھوٹے اور مکاری کے لئے ہیں، دوسری جانب مسلم اُمّہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑے جس طرح مغربی دنیا اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم نے او آئی سی کے سربراہی اجلاس کا مطالبہ کیا جس کے جواب میں سعودی عرب نے اجلاس طلب کیا ہم ان کے شکر گذار ہیں،لیکن اجلاس میں حماس کے نمائندوں کو بھی دعوت دی جائے ان کے بغیر یہ اجلاس نا مکمل ہے، اسلامی برادر ممالک فلسطین کے ساتھ عسکری تعاون کریں اور یہ فیصلہ بھی او آئی سی اپنے اجلاس میں کرے، جے یو آئی کا اوّل روز سے موقف فلسطینیوں کی حمایت کا رہا ہے،ہمارا موقف الیکشن کے بعد یہی ہوگا جو اب ہے, فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور فلسطینیوں کا رہے گا اس لئے قضیہ فلسطین پر فلسطینیوں سے براہ راست بات چیت کی جائے۔ جے یو آئی نے پشاور،کوئٹہ اور کراچی میں بڑے جلسے کئے،جس پر انڈیا کی میڈیا کو بڑی تکلیف ہوئی کہ جیسے ہم نے ان پر حملہ کیا ہے،انڈین میڈیا پھر گاندھی کی جدوجھد آزادی کے بارے میں کاوشوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں،ہم جو حق اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں وہ فلسطینیوں اور افغانوں کے لئے بھی جائز سمجھتے ہے،تحریکوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ مسجد اقصی ہمارا قبلہ اوّل ہے سب مسلمانوں پر اس کا حق ہے،اگر اسلامی دنیا بابری مسجد پر متحد ہوسکتی ہے تو مسجد اقصی پر کیوں متحد نہیں ہوسکتی؟

Maulana Fazl-ur-Rehman

166,012 просмотров • 2 лет назад

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی ہے ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہم نے جو نشاندہی کی تھی وہ اب درست ثابت ہورہی ہے، اسرائیل امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں کا ایک خنجر ہے جس نے فلسطین کی پیٹھ پر گھونپ کر مقدس سر زمین پر قبضہ کیا،بیت المقدس پہ قبضہ کیا اور عالمی قوتیں ایک ناجائز ملک کا تحفظ کر رہی ہیں، اسرائیل وہ ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں وجود میں آیا،جس کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر پہلا پالیسی بیان دیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا اساس اور اس کا بنیادی ہدف دنیا میں ایک نو زائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،اسرائیل اپنے قیام کے بعد اپنی زندگی کا آغاز پاکستان کے خاتمے کے اہداف سے کرتا ہے اور پاکستان میں لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی کر رہے ہیں،یہ وہ غلامانہ ذہنیت ہے جس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں،یہ تہذیب کی جنگ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی جنگ ہے، پھر اس کے پیچھے اقتصادی جنگ ہے۔اور ہم انشاءاللہ اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کا ہر محاذ پر راستہ روکیں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

202,645 просмотров • 3 лет назад

خیبرپختونخوا کی عوام کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کے لئے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ اور ایران کی جانب سے مسلم ممالک پر مبینہ حملوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایران کو مسلم ممالک کے خلاف کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان کو اس تنازع سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا بلکہ نقصان کا سامنا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوام نے اپیل کی کہ تمام اسلامی ممالک اس جنگ بندی کے لئے کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک کو آپس میں تقسیم کیا جائے، اور باہمی اختلافات یا جنگ کی صورت میں صرف نقصان ہی ہوگا۔

Shazia

10,610 просмотров • 6 месяцев назад

جمعیت علماء اسلام تسلسل کے ساتھ فلسطینیوں کے موقف کو درست سمجھتی ہے،آج بھی اپنے اس موقف کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں،فلسطینی مجاہدین کا اسرائیل پر حملہ تاریخی کامیابی اور تاریخی معرکہ ہے کہ اپنے علاقوں کو اسرائیل کے غاصبانہ قبضے سے چھڑایا ہے، دنیا سمجھ رہی تھی کہ مسئلہ فلسطین مردہ بن چکا ہے، اس حملے نے اسرائیل کے دفاعی نظام اور ان کے گھمنڈ کو زمین بوس کردیا ہے،یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اسرائیل کوئی بڑی قوت نہیں بلکہ اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، فلسطینی بھائیوں سے اپیل ہے کہ انسانی حقوق کا احترام کریں،بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کو تکلیف نہ پہنچائیں اور ثابت کریں کہ اسلام اور مسلمان کیسے انسانی حقوق کا تحفظ کرتا ہے، اقوام متحدہ اپنا فرض پورا کرے اور 1967 کی قراردادوں پر عملد رآمد کرواتے ہوئے بیت المقدس کو مسلمانوں کے حوالے کرے، اسکے علاؤہ او آئی سی کا فوری اور بھرپور اجلاس طلب کیا جائے،جہاں مشرق وسطی میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کی منصوبہ بندی کی جائے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطین کوتسلیم کئے بغیر اور انکا ملک ان کے حوالے کئے بغیر مشرق وسطی میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔۔ اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر جے یو آئی اہل فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے آئندہ جمعے کو ملک بھر میں ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں مظاہروں کا اعلان کرتی ہے،پوری قوم مظاہروں میں شریک ہوکر امت کے جسد واحد ہونے کا ثبوت پیش کریں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

248,613 просмотров • 3 лет назад

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 просмотров • 2 лет назад

حکمرانوں کی دنیاوی پالیسیوں اور لالچ کا قرآن و سنت کے قطعی(مستقل) فیصلوں کے سامنے کوئی وزن نہیں ہے، یہودیوں کی تاریخ معاہدہ توڑنے کی ہے،امریکہ کی تاریخ مداخلت کی ہے، یہاں کئی معاہدے ہوئے مگر تاریخ میں ہر صلح نے فلسطینیوں کو کمزور اور اسرائیل کو مضبوط کیا ہے، امریکہ اور ٹرمپ اسرائیل کو عسکری اور مالی امداد کے ذریعے فلسطینیوں پر ظلم کے ذمہ دار ہیں، امریکہ نے 2023 میں 21 ارب کی اسرائیل کو امداد بھیجی،جس معصوم بچوں کو لہو لہان کیا گیا اور انسانی تاریخ کا سب سے بڑا ظلم غزہ کی سر زمین پر ڈھایا گیا۔ نیتن یاہو جنگی اور انسانیت شکن جرائم کا مرتکب ہوا ہے، مصلحت چھوڑ کر اصولی موقف اپنائیں کیونکہ قرآن و احادیث کی روایت میں یہودیوں کے ساتھ مفاہمت پر اعتبار مشکل ہے۔جن کو قرآن و حدیث میں معاہدہ شکن قرار دے کر لعنت کی گئی ہے ان کے ساتھ معاہدے میں کس کو خوش کرنے کے کئے شمولیت کی گئی ہے ؟ بانی اسرائیلی جارحیت پر بانی پاکستان کے نظریہ اور فکر کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جس میں انہوں نے اسرائیل کو ناجائز بچہ قرار دیا۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا ڈیرہ اسماعیل خان میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

12,349 просмотров • 11 месяцев назад

آج اس تاریخی اور فقید المثال اجتماع کا انعقاد کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ سرزمین فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اس سرزمین پر صہیونیت کا کوئی حق نہیں ہے، چند مہینے قبل یہاں اسی اجتماع میں جس اجتماع کو ہم نے طوفان اقصیٰ کا نام دیا تھا اور ہم نے اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا ہم آج بھی ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم ایک مضبوط موقف پہ قائم ہیں اور جس طرح آپ میدان جنگ میں ہیں ہم بھی پاکستان کی سرزمین پر آپ کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم آپ کے جہاد میں شریک ہیں۔ امریکہ ہو یا مغربی دنیا انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں مجھے ان کی تاریخ بھی معلوم ہے مجھے ان کا کل بھی معلوم ہے اور آج بھی معلوم ہے۔ جنگ عظیم اول میں اسی مغربی دنیا نے کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا، جنگ عظیم دوم میں اسی مغربی دنیا میں کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا اور آج 20 سال تک افغانستان میں افغانوں کا قتل عام ہوتا رہا، عرب دنیا میں عرب مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا، آج غزہ کے مسلمانوں پر بمباریاں ہو رہی ہیں، 50 ہزار کے قریب وہ اپنے شہداء دے چکے ہیں، اسرائیل مجاہدین کی مقابلے میں میدان میں نہیں ٹھہر پا رہا وہ معصوموں اور بے بس مسلمانوں پر بمباری کر رہے ہیں، اس وقت بھی اگر 50 ہزار شہدا ہیں جو 15 مہینوں میں دے چکے ہیں 75 فیصد اس میں چھوٹے بچے اور خواتین ہیں، آپ بتائیں کہ اس ظلم اور فلسطینیوں کی اس نسل کشی پر اگر امریکہ انہیں سپورٹ کر رہا ہے، اگر برطانیہ ان کو سپورٹ کر رہا ہے، اگر نیٹو ممالک ان کو سپورٹ کر رہے ہیں تو کیا ان کو آج کے بعد انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ جن کے ہاتھوں انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، جن کے ہاتھوں انسان کی جان محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسان کا مال محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسانوں کی عزت و آبرو محفوظ نہیں اور چھوٹے چھوٹے شیر خوار بچے آج وہاں پر یہ نہیں سمجھ پائیں گے کل کہ ہم کس کی اولاد ہیں میرے باپ کا نام کیا تھا اور میری ماں کا نام کیا تھا۔ کیا ان کو بھی انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ تمہارے ہاتھوں سے انسانوں کا خون ٹپک رہا ہے، انسانیت کا خون ٹپک رہا ہے، انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، تم انسانیت کے قاتل ہو۔ اگر صدام حسین کو اس بنیاد پر پھانسی دی جاتی ہے کہ آپ نے ایک شہر میں آپریشن کیا اور اتنے لوگ آپ نے قتل کیے تھے تو اتنی انسانیت کے قتل عام پر کیا نیتن یاہو کو پھانسی پہ چڑھانا ان کا حق نہیں بنتا؟ یہ انسانیت کا دشمن ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا انسانیت کے قاتل ہیں اور ان شاءاللہ ہم نے یہاں پر حق و انصاف کی آواز بلند کی ہے، ہم نے اس خطے میں انسانیت کو شعور عطا کیا ہے پتہ چل جائے کہ دنیا میں مظلوم کون ہے اور ظالم کون ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

30,597 просмотров • 1 год назад

امریکی صدر کے امن منصوبہ پر پاکستان کے وزیر اعظم کا موقف نا صرف پاکستان کے اساسی موقف کے خلاف ہے بلکہ ان کے اپنے بیانات سے متضاد ہے،بانی پاکستان نے اسرائیل کو عرب دنیا کی پیٹھ پر خنجر قرار دیا تھا،اسرائیل کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔ امریکی صدر کی عالمی مجرم نیتن یاہو کے ساتھ پریس کانفرنس عالمی عدالت کی توہین ہے،نیتن یاہو کو عالمی عدالت نے انسانی جرم قرار دیا ہے،اسرائیل کی ہمیشہ طاقت کے زور پر فیصلہ منوانے کی روش رہی ہے آج امریکہ بھی اس کو فالو کر رہا ہے جو سیاسی اور اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔ جہاں تک دو ریاستی منصوبہ کے بات ہے تو ہم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں جب تک وہ خود کوئی فیصلہ نہیں کرتے تب تک ان پر جبری فیصلہ مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ حماس فلسطین کے عوام کی منتخب جماعت ہے، امریکی صدر نے اپنے اعلامیہ میں حماس کو لاتعلق کردیا ہے جو کہ اصل فریق ہیں،ان کے بغیر مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوسکتا۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

202,953 просмотров • 1 год назад

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی غیر ملکی میڈیا کے نمائندہ گان سے ملاقات مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان قائد اعظم نے اقوام متحدہ کی تجویز کو مسترد کیا اور امریکی صدر کو خط لکھا کہ فلسطین کو دو ریاستی تصور کے ساتھ قبول نہیں کرسکتے ۔مولانا فضل الرحمان فلسطین کی سرزمین کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل اور فلسطینی حالت جنگ میں ہیں جنگ میں کوئی بھی اقدام کیا جاسکتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان امریکہ برطانیہ براہ راست فلسطین میں اپنی فوجیں لے آیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان حماس کے مجاہدین کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ براہ راست غزہ شہر پر حملے کیے جا رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہسپتالوں سکولوں پر حملے ہو رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیلی کو جنگی مجرم قرار دے جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے ۔ مولانا فضل الرحمان قضیہ فلسطین کے براہ راست فریق فلسطینی ہیں ان کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان مسلم اُمّہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑے جس طرح مغربی دنیا اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان آج انسانیت کا قتل ہورہا ہے ۔بچوں بوڑھوں اور خواتین کو قتل کیا جا رہا ہے کیا اس کے بعد بھی انسانی حقوق کا علمبردار کہا جائے گا ۔ مولانا فضل الرحمان کیا ان کو یاد نہیں کہ نازنیوں نے ان کا کیسے قتل عام کیا کیا اس کا بدلہ فلسطینیوں سے لیا جائے گا ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا خواب بکھر گیا اب دنیا کو سوچنا ہوگا ایک اور زاویہ سے ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل اس خطے میں فرعون کے جانشین ہیں ،موسی کے جانشین فلسطینی ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہم نے مطالبہ کیا کہ او اوئی سی کا سربراہی اجلاس بلایا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان سعودی عرب نے اجلاس طلب کیا ان کا شکر گذار ہوں ۔ مولانا فضل الرحمان فلسطینی قیادت کا بھی مطالبہ تھا کہ او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان اس میں حماس کے نمائندوں کو دعوت دی جائے ان کے بغیر یہ اجلاس نامکمل ہے ۔ مولانا فضل الرحمان جے یو آئی کا اوّل روز سے موقف فلسطینیوں کی حمایت کا رہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان پشاور کوئٹہ اور کراچی میں بڑے جلسے کئے ۔ مولانا فضل الرحمان امریکہ میں برطانیہ فرانس یورپ میں مظاہرے ہوئے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ان کو بھی عوام کا احترام کرنا ہوگا ورنہ جمہوریت کی بات چھوڑ دیں ۔ مولانا فضل الرحمان اگر بند کمروں میں فیصلے کرنے ہیں تو پھر عوام کی کوئی حیثیت نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان انڈیا کی میڈیا پر تعجب ہے کہ ان کو اتنی تکلیف کیوں ہے ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اب پر حملہ کیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان اگر اپنی سرزمین کو حاصل کرنے کی جدوجہد دہشت گردی ہے تو پھ گاندھی جی کی جدوجہد کو کیا نام دیں گے ۔ مولانا فضل الرحمان کیا یہ حق فلسطین کو نہیں دیں گے جن کے زمین پر قبضہ ہے ؟ مولانا فضل الرحمان فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور رہے گا ۔ مولانا فضل الرحمان تحرکیوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہے گا ۔ مولانا فضل الرحمان ہم جو حق اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں وہ فلسطینیوں اور افغانوں کے لئے بھی جائز سمجھتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان جو آزادی کی جنگ لڑتا ہے کاج اس کو دہشت گرد کہا جاتا ہے ؟ مولانا فضل الرحمان پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو موقف اختیار کیا ہے اس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہم سیاسی لوگ ہیں جو موقف فلسطین کے حوالے سے الیکشن سے پہلے ہے وہی الیکشن کے بعد بھی ہوگا ۔ مولانا فضل الرحمان نگران وزیر اعظم نے جو دو ریاستی تصور پیش کیا وہ قائد اعظم کے تصور کی نفی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان فلسطین نے پاکستان کے موقف کو جراتمندانہ کہا اور کہا کہ وہ قیادت کرے ۔ مولانا فضل الرحمان برطانیہ سپر طاقت تھا امریکہ نے اس کی جگہ لینی تھی ۔اقوام متحدہ کا دفتر امریکہ میں تھا ۔ مولانا فضل الرحمان پاکستان نے اس وقت بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی اور قیام پاکستان کے بعد ۔ مولانا فضل الرحمان حماس کے حوالے سے کمزور پہلو کو تلاش کیا جارہا ہے کیا اس کا سیاسی پہلو نہیں۔ مولانا فضل الرحمان اسلامی دنیا کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں مزاحمتی تحریک کے ختم ہونے کا تصور ختم ہوگیا ۔ مولانا فضل الرحمان اگر امریکہ وزیر خارجہ ان کی حمایت کو کھلم کھلا آتا ئے تو کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم ان کی حمایت کریں ۔ مولانا فضل الرحمان کارگل پر حملہ کیا تو کیا دنیا سے پوچھا تھا یہ سیکرٹ ہوتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان دنیا کو یہ میسج چلا گیا کہ فیصلہ فلسطینی کریں گے کسی اور کو یہ حق نہیں۔ مولانا فضل الرحمان

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

40,212 просмотров • 2 лет назад

آج ایک بار پھر سرزمین فلسطین پر صہیونی قوتوں نے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں، پانچ ہزار کے قریب چھوٹے بچے، ہماری مائیں اور بہنیں شہید ہوئی ہیں، ملبوں کے نیچے اب بھی دبی ہوئی ہیں، وہی ملبے ہی ان کی قبرستان بنے ہوئے ہیں، یہ بزدل کا کام ہوا کرتا ہے جو چھوٹے بچوں ،عورتوں، پرامن شہریوں پر بمباری کرتا ہے۔ جرات ہے تو پھر میدان میں کیوں نہیں آتے،لوگ بڑے بڑے فلسفوں میں جاڑ رہے ہیں، بحث کر رہے ہیں، جدلیات لڑا رہے ہیں، ہم تو صاف بات کرتے ہیں، المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے نہ خود اس کے اوپر ظلم کرتا ہے اور نہ کسی کے ظلم کے لیے اس کو سپرد کرتا ہے۔ اہل فلسطین ہمارے بھائی ہیں اور آج پوری امت مسلمہ پر فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، جانی مالی قربانی ہو ،اخلاقی ،سیاسی حمایت ہو اور آج خدا خدا کر کے اسلامی تنظیم کانفرنس کا سربراہی اجلاس بھی ہو رہا ہے، میں آپ کی اجازت سے انہیں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آج امت مسلمہ اکٹھی ہے خیال رکھو کمزور موقف مت دکھانا! اگر امریکہ اور مغربی دنیا اپنے بحری بیڑے لا کر صہیونی قوتوں کی حمایت کر سکتا ہے، ان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کے لیے آسکتا ہے تو پھر مسلمان برادری کو کیا سانپ سونگھ گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں صرف رونے کے لیے ہے اور میدان میں نکلنے کے لیے نہیں ہیں۔ اگر افغانستان کے محاذ پر ہمارے بھائیوں پر تکلیف آئی ہم شانہ بشانہ کھڑے رہے، آج اگر فلسطین کے مسلمانوں پر ایک مشکل گھڑی آئی ہے، پوری دنیا کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں ۔ جمعیت علماء اسلام نے پشاور ، کوئٹہ ،کراچی میں جلسہ کیا۔آج آپ کے اس اجتماع سے بھی جو تائید مل رہی ہے، میں اسے معمولی تائید نہیں سمجھتا۔ مسلمان امت کیا چاہتی ہے؟ اسلامی قیادت نے مسلمانوں کے جذبات کو دیکھنا ہے۔ خود امریکہ میں وہاں کے عوام نے اس ظلم کے خلاف مظاہرے کئے ہیں، برطانیہ،فرانس میں مظاہرے ہوئے ہیں اور اپنی حکومتوں پہ تنقید کی ہے جو کچھ آج ہو رہا ہے وہ دنیا کے عوام کی رائے کے مطابق نہیں ہو رہا۔ ہم اسلامی تنظیم کانفرنس سے امید رکھتے ہیں کہ وہ جرات مندانہ موقف لے اور براہ راست اپنے بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کریں۔ میں نے کبھی کسی کی پرواہ نہیں کی۔ وطن عزیز اور اس پر بسنے والے پاکستانیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے میں فلسطین کے حماس قیادت کو ملنے ے گیا اور میں نے ان کی قیادت کو واضح طور پر کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ آپ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے بھی بڑے وضاحت کے ساتھ کہا کہ پوری دنیا میں ہماری سب سے بڑی امید پاکستان ہے، کہ پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے، اور پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو جرات مندانہ موقف دیا ہے ہم دل و جان سے اس کی قدر کرتے ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے بچوں کے اوپر بمباری کا سلسلہ بند کر دیا جائے، یہ جنگ کا حصہ نہیں ہوا کرتے، یہ اسلام ، شریعت اسلامیہ کا اخلاق ہے کہ جنگ میں بچوں کا قتل ،عورتوں ،بوڑھوں پہ ہاتھ اٹھانا جرم ہے، یہاں تک کہ ان کی کلیساؤں میں اور عبادت خانوں میں بیٹھے ہوئے عبادت میں مصروف راہبوں کو بھی مت چھیڑنا، ان کے مال مویشی کو بھی نہیں چھیڑنا، ان کے باغات کو تباہ نہیں کرنا، ان کے فصلوں کو تباہ نہیں کرنا، یہ جنگ کے وہ عظیم الشان اصول ہیں جو دین اسلام نے دئے ہیں۔ جس طرح صہیونی قوم کہتی ہے کہ ہمارے لیے بچوں کو بھی قتل کرنا جائز ہے، عورتوں کو بھی قتل کرنا جائز ہے، انسانیت کا قتل، میں سوچتا ہوں کہاں ہے وہ انسانی حقوق کی تنظیمیں، آج اگر ہم یہاں پر جلسے میں ایک سخت لفظ کہہ دے پوری دنیا کی مغربی دنیا ان کے این جی اوز ان کے انسانی حقوق کی تنظیمیں وہ ہمارے پیچھے پڑ جاتی ہے یہ بڑے شدت پسند ہیں۔آتنگ واد ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

78,024 просмотров • 2 лет назад

امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کی کنونشن سنٹر اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو ماضی میں بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا تھا اب بھی کرسکتا ہوں افغان قیادت سے رابطے ہوئے ہیں وہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتی ہے پاک افغان جنگ بندی تو ہوگئی اب زبان بندی بھی ہونی چاہئے سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ دونوں ممالک کو اشتعال کی بجائے معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے کشمیر پر بیان پر واویلا کرنے کی بجائے کشمیر پر اپنے کردار کو بھی دیکھنا چاہئے کشمیر پر پاکستان نے کتنی پالیسیاں بدلی ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہے کیا پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح کے مطابق کشمیر کا حل چاہتا ہے اور اس کے لئے کیا پیشرفت کی ہے افغانستان کی انٹیلی جنس اور دیگر عسکری صلاحتیں ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں افغانستان سے جو تقاضا کیا جاتا ہے دیکھا جائے وہ اس قابل بھی ہے پاکستان ایک عالمی معیار کی فوج اور صلاحیت رکھتا ہے ہماری ریاست کو سوچنا چاہئے کہ کیا مغربی محاذ کھولنا اس وقت کسی طرح درست جنگی حکمت عملی ہے ؟ تحریک لبیک کے ساتھ جو کچھ سلوک کیا گیا ہے میں نے پہلے بھی مذمت کی اور اب بھی کرتا ہوں حکومت کو کسی بھی صورت تحریک لبیک کے ساتھ تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئے تھا احتجاج کرنا سب کا حق ہے میں تحریک لبیک کے قائدین سے رابطے میں رہا ہوں کے پی کے میں وزیر اعلی کے انتخاب کا معاملہ عدالت میں ہے عدالت کو آئین و قانون کے مطابق معاملے کو دیکھنا چاہئے عدالت انتظامی حکم کی بجائے آئینی تقاضے کے مطابق دیکھے اور سماعت کرے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

49,752 просмотров • 11 месяцев назад