Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

پچھلی ويڈيو ميں کسی کو نہيں پتا چلا کيا خاص تھا ويڈيو ميں اب بھی نا پتا چلا تو سب للو ہی ہيں يہی سمجھا جائے گا🙊🙉

19,162 просмотров • 3 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

پاکستان میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل آج کل ہر جگہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ جہاں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سب کو بلا کر تفتیش کر رہی ہے۔ وہاں صرف اس ویڈیو میں موجود FBR کے افسر اور لیویز اہلکار کو بلا کرمیڈیا کے سامنے تفتیش ضرور کرے۔ اور کیس کو FIA کے حوالے کیا جائے۔ تاکہ پتا چل سکے کہ یہ لیویز اہلکار کس ٹرک کو اسکواڈ کی سہولت مہیا کر رہے تھے؟ کیا اس ٹرک میں واقعی سگریٹ بنانے والی مشینری موجود تھی؟ کیا یہ ٹرک مبینہ طور پر لیویز سکواڈ کی حفاظت میں مشینری سندھ لے کر جا رہا تھا؟ کیا واقعی اس ٹرک میں کسی سیاستدان کی سگریٹ فیکٹری کی مبینہ طور پر مشینری موجود تھی؟ ہمارا کام اس ویڈیو کے حوالے سے جنم لینے والے سوالات کو پوچھنا ہے۔ باقی تفتیش FIA نے کرنی ہے۔ لیکن دونوں اہلکاروں سے سوال جواب میڈیا کے سامنے اگر پوچھے جائیں تو کون سچا کون جھوٹا، سب پتا چل جائے گا۔ Shehbaz Sharif Prime Minister's Office Mohsin Naqvi Ministry of Interior GoP

Maleeha Hashmey

70,816 просмотров • 11 дней назад

آپ میرے بڑے بھائیوں جیسے ہیں۔ اور ہمارے حسان کے والد محترم بھی۔ اس لئے آپ کا بے حد احترام۔ اب کیوں کہ آپ کے نزدیک عاصم منیر صاحب تقریبا اولیا اللہ سے بھی اوپر کا درجہ رکھتے ہیں تو ظاہر ہے وہ آپکی بات بھی سنتے ہوں گے۔ تو جیسے ہی میں پاکستان اتروں گا ان ولی اللہ صاحب کے احکامات پر جہاز کے زینے سے سیدھا زندان میں بند کر دیا جاؤں گا۔ اس کا عمران خان کو تو کوئی فاہدہ نہیں ہو سکے گا۔ ہاں جو میں آپکے ولی اللہ کی خدمت میں روز گستاخی کرتا ہوں۔ وہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ جو حسان نیازی کو ملٹری کورٹس کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرنے والے مسرت حلالی جیسے گھٹیا ججوں کا میں منہ کالا کرتا ہوں وہ ختم ہو جائے گا۔ عمران خان کا ارشد شریف کا بشری بی بی یاسمین راشد کا حسان نیازی کا ایک اور ہمدرد خاموش کروا دیا جائے گا۔ آپ جیسے دوست ہوں تو دشمن کی تلاش پھر کیوں۔ اور آخری بات کاش آپ نے ایسا ہی مشورہ اپنے پیارے نواز شریف کو بھی دیا ہوتا۔ مجھے لگا تھا آپ کا غصہ ختم ہو چکا ہو گا۔ لیکن ابھی بھی جوبن پر ہے۔ اللہ آپکے دل میں نرمی پیدا کرے۔ وسلام

Dr. Shahbaz GiLL

309,201 просмотров • 3 дней назад

مریم نواز صاحبہ! نہ تجربہ، نہ منڈیٹ، نہ عوامی سپورٹ، نہ کوئی حکمتِ عملی… پھر بھی ہمیں “سیاسی مفادات” کا لیکچر؟ اگر واقعی سیاسی مفادات کو سائڈ پر رکھنا چاہتی ہیں تو سب سے پہلا قدم آپ کا استعفیٰ ہونا چاہئے۔ کیونکہ آپ مجھ سے ہارنے کے باوجود پنجاب پر مسلط ہیں اور اس وقت عوامی نمائندہ بھی نہیں ہیں، تو پھر سی ایم پنجاب کیسے؟ آپ سیلاب زدگان کی بات کرتی ہیں، لیکن عمران خان سمیت آدھے سے زیادہ عوامی نمائندے ناحق جیلوں میں ہیں۔ کسی کو جھوٹے مقدمات میں پانچ سال، کسی کو دس سال اور کسی کو تیس سال کی سزائیں سُنا کر سیاسی انتقام لیا جارہا ہے، جبکہ باقی سب کو بھی کسی نہ کسی ایف آئی آر یا ضمنی میں نامزد کرتے ہوئے جلاوطنی پر مجبور کیا گیا ہے۔ ایسے میں نمائندے اپنے حلقے میں جا کر کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟ یہ سب ظلم کرنے کے باوجود ہمیں ہی باشن دینا اگر منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟ عوام کا مفاد صرف تب محفوظ ہوگا جب عمران خان اور ان کے ساتھیوں پر بنائے گئے تمام جھوٹے مقدمات ختم ہوں، گرفتاریاں روکی جائیں، عوامی نمائندوں کو عوام کے درمیان جانے دیا جائے اور عوامی رائے کا بھرپور احترام کیا جائے۔ ورنہ “سیاسی مفاد چھوڑنے” کا ڈرامہ صرف ڈرامہ ہی رہے گا! Maryam Nawaz Sharif

Mehar Sharafat Ali

37,313 просмотров • 11 месяцев назад

شکر، صد شکر کہ فیض حمید جیسا کوئی سابق DG ISI اور طاقتور ترین جرنیل سیاسی مداخلت جیسے الزامات کی فرد جُرم کا سامنا کر رہا ہے، فیض حمید کی فرد جُرم کا مطلب ہے کہ انہوں نے حلف توڑا اور آئین سے غداری کی لہذا اس پر آرٹیکل 6 بھی لگانا چاہیے۔ میں تو کہوں گا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی جنرل پاشا اور جنرل ظہیر الاسلام پر بھی سیاست میں مداخلت کا الزام لگاتی رہی ہیں، ن لیگ کو اب تو ہمت کرتے ہوئے ان دونوں جرنیلوں کا بھی احتساب شروع کر دینا چاہیے۔ اگر کوئی کسی اور سابق جج یا جرنیل کا احتساب کروانا چاہتا ہے تو میں اسکے ساتھ بھی غیر مشروط کھڑا ہوں اب آ جائیں کہانی کے دوسرے رخ کی طرف: جنرل باجوہ نے بطور آرمی چیف قوم کے سامنے اعتراف کیا کہ انکے دور سمیت 70 سال تک فوج سیاست میں مداخلت کرتی رہی، باجوہ کے دور میں ہی فیض حمید ISI میں ایک اعلیٰ عہدہ پر فائز تھا اور پھر باجوہ دور میں ہی DG ISI بنا، کیا باجوہ فیض حمید کے سیاسی جرائم سے بری الذمہ ہو سکتا ہے؟ اسوقت سپریم کورٹ کا آئینی بنچ جنرل اسلم بیگ اور مرحوم حمید گُل جیسے جرنیلوں کی بنائی ہوئی IJI کا کیس بھی سن رہا ہے جس میں فوج نے سیاستدانوں میں پیسے بانٹے۔ جو فیض حمید کے ہم پلہ جرم تھا، لہذا کیا ہی کمال ہو جائے کہ IJI بنانے والے جرنیلوں کا بھی احتساب ہونے دیا جائے۔ تیسری اور آخری بات، پرویز مشرف کو بھی پھانسی دینے کی سزا پشاور ہائیکورٹ کے جج نے سنائی تھی لیکن کوئی مائی کا لال مشرف کو ہاتھ نہیں لگا سکا خلاصہ: اگر ریاست واقعی احتساب کی دلداہ ہے تو پھر باجوہ سے لیکر اسلم بیگ تک کا بھی احتساب کیا جائے ورنہ مورخ یہی کہے گا کہ فیض حمید بہانہ تھا عمران خان نشانہ تھا

Ameer Abbas

81,385 просмотров • 1 год назад

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 просмотров • 1 месяц назад

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

659,634 просмотров • 2 лет назад

ایک بار پھر اڈیالہ جیل کے باہر کل رات ظلم کیا گیا لیکن کوئی نہیں پانی ہی تھا کیا ہوا لیکن جو ظلم ہماری خواتین کے ساتھ کیا گیا ان کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لیئے نہ ممکن ہے جس دلیری کے ساتھ اب سب نے ان نامردوں کا مقابلہ کیا میں سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔۔ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ جتنے بھی ہمارے ورکرز موقع پر موجود ہوتے ہیں آخری وقت تک ان سب کا دفاع کروں اور خیریت سے گھروں کو پہنچاوں یہ ہم سب مل کر روز اول سے کر رہے ہیں جب سے انہوں نے اڈیالہ کے باہر ہم پہ ظلم کرنا شروع کیا ہے۔ ہر ہفتے منگل کے دن جس طرح اڈیالہ جیل ہماری خواتین سمیت ورکرز کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے اس کے بعد میں یہ ضروری سمجھتا ہونکہ پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز، ٹکٹ ہولڈرز اور پارلیمینٹیرنز اور وکلاء کو پیغام دینا چاہتا ہونکہ کم از کم ایسی صورتحال میں میدان نہ چھوڑا کریں ہم نہیں کہتے کہ آپ ان سے لڑیں کیونکہ ہم سب نہتے لوگ ہیں ہمارا ان سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا اور نہ ہم ہم گولی کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن ہم سب مل کر مزاحمت ضرور کر سکتے ہیں جس طرح رات ظلم کیا گیا اگر ہم 100 یا 200 کی تعداد میں ہوتے تو کم از کم ہم میدان میں کھڑے ہوکر بہترین مزاحمت کر سکتے تھے اور اپنی خواتین کو باحفاظت وہاں سے نکال سکتے تھے جس طرح اس بھائی نے واٹر کینین کا راستہ روکا حلانکہ میں ان کو جانتا بھی نہیں تھا بس اڈیالہ دیکھتا ہوں اور آخری میں ان کو میں زبردستی وہاں سے گھسیٹ کر لایا ورنہ یہ ابھی بھی آنےکو تیار نہیں تھے اس ویڈیو کو لگانے کا مقصد ہرگز اپنی تشہیر کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہر رات کو کیا ہوتا ہے اسی طرح ہم بے بس ہوتے ہیں اور میری بے بسی کا اندازہ آپ اس ویڈیو سے لگا سکتے ہیں کہ ایک طرف خواتین تھی اور دوسری جانب یہ نواجون تھا سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کس طرف جایا جائے اور کس کو بچایا جائے میں کر کچھ نہیں سکتا تھا لیکن کوشش کر سکتا تھا جو میں نے کی اور سب کو گاڑیوں تک پہنچایا بتانے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ اگر ہم اگھٹے مل مزاحمت سے ان کا راستہ روکیں تو تو یہ مشکل نہیں کیونکہ انسان اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے کامیابی اللہ دیتا یے۔۔ ہم اس وقت فسطائیت کے ندترین دور سے گزر رہے ہیں اور جتنا جلدی ہوسکے ہم اپنا یہ دماغ بنا لیں کہ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے تو کامیابی ملی گی ورنہ یہ لوگ ہمیں ایسے ہی اکیلا اکیلا کر کہ ماریں گے اور اس میں ایک دن سب کی باری آئی گی اس لیئے سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہمیں ماریں گے یا جیل بھیج دیں گے اور آخری میں جان ہی رہ جاتی ہے انسان کے پاس لیکن یاد رکھیں حق اور سچ کے ساتھ دیتے ہوئے اگر آپ کی موت بھی آگئی تو اللہ کے ہاں سرخرو ہونگے۔ آخر میں یہ بتاتا چلو کہ عمران احمد خان نیازی کے خاندان کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے ان کی تضلیل ہماری تضلیل ہے میری بات اگر کسی کو بری لگی تو میں معزرت خواہ ہوں اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ 🙏

Ch Awais Younas Adv

18,446 просмотров • 8 месяцев назад

فوج نے اسٹنٹ مین Mian Abbad Farooq کو کسی وجہ سے رہا کیا ہے۔ لوگوں نے جب جیل وین میں بلند کیے گئے مکے والی اس کی منظم تصویر دیکھی، تو یہ سمجھا کہ وہ باہر آکر اڈیالہ جیل پر چھاپہ مارے گا اور عمران خان کو آزاد کروائے گا۔ لیکن رہا ہونے کے بعد سے اب تک اس اسٹنٹ مین نے صرف تماشے ہی کیے ہیں، چاہے وہ سیاسی قیدیوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی خاطر ذاتی ویب سائٹس بنانا ہو (جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے سے کئی ایسے پلیٹ فارمز موجود ہیں)، یا یہ دعویٰ کہ پنجاب میں عوام کو متحرک کرنا مشکل ہے کیونکہ وہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہے، جو دراصل کچھ نہ کرنے کا بہانہ ہے۔ اگر یہ سب باتیں بے معنی لگیں، تو اس کا کے پی کا بجٹ سپورٹ کرنا، غدار علی امین گنڈاپور کے ساتھ کھڑا ہونا، عمران خان کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی کرنا، اور فوج کے مائنس عمران خان فارمولے کا حصہ بننا یقیناً سب کچھ واضح کر دیتا ہے۔ اگر عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ بجٹ اُن کی منظوری کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا، تو آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ اگر بجٹ پاس نہ ہوا تو حکومت گر جائے گی؟ ایسی حکومت رکھنے کا کیا فائدہ جو فوج کی کٹھ پتلی ہو؟ جیل میں گزارا ہوا وقت نہ تو وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی اہلیت کی۔ اس کا مختلف صلاحیتوں کا حامل بیٹا اس کی حراست کے دوران انتقال کر گیا، جو ایک گہری ذاتی قربانی ہے، لیکن یہ بھی نہ وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی قابلیت کی۔ مبارک زیب کا بھائی ریحان زیب کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا، اور آج مبارک زیب کس شکل میں سامنے آیا ہے، سب کے سامنے ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایتیوں کو صرف دکھاوے اور ڈرامے کی بنیاد پر ایسے اسٹنٹ مین کو ہیرو بنانا بند کرنا ہوگا۔

Pakistan Walli

75,986 просмотров • 1 год назад