Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

پہلے بھی کہا تھا فوجی دیکھ تجھ سے اپنی کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے تو بھی نوکری کو پکا کرکے میرے مُلک پر قبضے میں طوالت کے لیے سارے ظلم کررہا ہے اور میں اس مُلک پر تیرا غاصبانہ قبضہ چھڑانے کے لیے بضد ہوں اور تجھے بھی معلوم...

14,330 görüntüleme • 8 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 görüntüleme • 2 yıl önce

میں عدنان اس بات کا حلف اٹھاتا ہوں (اور اس کا ثبوت بھی ویڈیوز کی صورت میں میرے پاس موجود ہے) کہ مجھے مریم نواز نے بتایا کہ "یہ جو دہشتگردی ہے، اسکے پیچھے وردی ہے"۔ مجھے فضل الرحمان نے بتایا کہ "پاکستانی فوجی جرنیل اسرائیلی ایجنٹ ہیں اور انکے پیسوں پر پلتے ہیں"۔ مجھے خواجہ آصف نے بتایا کہ "پاکستانی فوج نے قوم کی ہڈیوں سے گوشت تک نوچ لیا ہے مگر آج تک کوئی ایک بھی جنگ نہیں جیت سکی ہر جنگ ہاری ہے"۔ مجھے ایاز صادق نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر بتایا کہ "بھارت کے نام سے فوج کی ٹانگیں کانپتی ہیں"۔ آصف زرداری نے پوری قوم کے سامنے افواج پاکستان کو دھمکیاں دی کہ "اوقات میں رہو ورنہ ہم تماری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے"۔ حضور! قوم کو بے وقوف بنانا بند کریں، عوام سب کچھ جان چکی ہے، اگر تھوڑی سی غیرت اور شرم باقی ہے تو ان کے خلاف بھی ایکشن لیجئے۔ اور رہی بات عمران خان کی تو اس نے کبھی بھی فوج کے خلاف بات نہیں کی، اس نے تو ہمیشہ کہا ہے کہ "یہ ملک بھی میرا ہے اور یہ فوج بھی میری ہے"۔

Adnan

293,164 görüntüleme • 2 yıl önce

ارب پتی جاگیردار مزاریوں کا یہ غریب چیلا اور اسد نام کا یہ چوٹھے درجے کا صحافی پھر اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ یہ اب ایک ایسے آدمی کے بارے میں جھوٹی بک بک کر رہا ہے جسے پورا پاکستان اسکی شکل، آواز، نام اور اس کے گانوں کی وجہ سے جانتا ہے۔ Asad Ali Toor آج اسے سٹپٹایا ہئوا دیکھ کر مجھے یہ اچھی طرح سمجھ آ گئی ہےکہ اسے ریاست نے کیوں سبق سکھایا تھا اور کیوں لوگ اس غلیظ فطرت آدمی سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے جھوٹے اور منافق لوگ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اپنے طبقے کا غدار یہ وہ بے غیرت ہے جو مڈل کلاس کا ایک صحافی ہو کر بھی مزاریوں جیسے جاگیرداروں کی چمچہ گیری کرتا ہے اور ان کی شہہ پرخود کو ایک گھٹیا سا باغی سمجھتا ہے۔ میں تو اس فراڈیے کو صرف ترس کے قابل سمجھتا ہوں جو میرے جیسے پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول سنگرز میں سے ایک کے بارے میں مکمل غلط بکواس کر رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ یہ سوشل میڈیا پر لائیو مائیک لے کر سب سے پہلے اپنے دادکے اور نانکے خاندان میں ہی چلا جائے اور ہر ایک سے یہ پوچھے کہ وہ جواد احمد کو جانتے ہیں یا نہیں۔ مگر یہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے پر میں اس کے بارے میں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ جس جگہ یہ رہتا ہے وہاں دو گلیاں چھوڑکر اس کے محلے والے بھی اسے نہیں جانتے۔ کم ظرفی اورجھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں نے اپنا کیریر 26 سال پہلے شروع کیا تھا مگر میں نے 2003 کے بعد سوشل ورک اور فلاحی کاموں اور پھر سیاست کی وجہ سے پاکستان میں کوئی البم نہیں نکالا پھر بھی میرے بہت سے طاقتور گانے اس وقت سے لے کر اب تک پوری دو نسلوں کو یاد ہیں۔ پھر بھی 2026 میں آج بھی جب پاکستان میں 18 سال بعد بسنت ہوئی تو میرا گانا "اچیاں مجاجاں والی" ہی انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ کی ٹرینڈنگ میں نمبر 1 پر تھا اور ہر چھت پر وہی بج رہا تھا۔ یہ تو میڈیا کا آدمی ہے مگر کیا اس جاہل کو اتنا بھی پتا نہیں؟ کیا اسے پتا نہیں کہ میں ایک نہیں بلکہ تین صدارتی ایوارڈز پانے والا پاکستان کا واحد آرٹسٹ ہوں؟ یہ یو ٹیوب پر پیسے بنانے کے لیے کس حد تک گر سکتا ہے وہ اس وڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ میرے جیسے ایک سوشلسٹ انقلابی آدمی کی سیاست کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جو اس ملک کے مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو اس ملک کا حاکم بنانا چاہتا ہے اور اس کئے لیے ہر قسم کی ذاتی قربانی کر رہا ہے۔ میں اپنی ذات پر کچھ بھی برداشت کر لیتا ہوں مگر صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام مڈل کلاس اور غریب عام لوگوں کے لیے اپنی صاف شفاف سوشلسٹ سیاست پر جھوٹ بول کر اسے نقصان پہنچانے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جو بھی اس پر بات کرے گا وہ میرے سے اپنی اصل اوقات کے بارے میں سنے گا تاکہ آئندہ اسے ایسا جھوٹا گھٹیا پن کرنے کی ہمت نہ ہو۔ مگر مجھے پتا ہے کہ یہ بیچارہ مجبور ہے۔ اگر عمران کی طرفداری کرنے پر PTI والے اسے ویوز نہ دیں تو یوٹیوب پر اس کی روزی روٹی بند ہو جائے۔

Jawad Ahmad

28,731 görüntüleme • 5 ay önce

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,199 görüntüleme • 12 gün önce

یہ لاہورئیے تو آزادی کے نام پر پاگل ہی ہو گئے ہیں اور گھر میں قید ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ گلی محلے تو ایک طرف رہے پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے ڈیفنس سے گلبرگ مین بلیوارڈ پہنچنے کی کوشش کر رہا ہوں اور صرف لونڈے لپاڈے نہیں ہیں بلکہ فیملیز ہیں۔ خواتین اور بچوں کی سبز اور سفید کمبی نیشن میں ڈریسنگ دیکھنے والی ہے۔ اس بار آزادی کے جشن کا جوش زیادہ لگتا ہے۔ باقاعدہ میلے کا سماں ہے اور اس کی وجہ معرکہ حق کے میں بھارت کی شکست کے بعد مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستان پر مان بڑھا ہے، پاکستانیوں کی امید بڑھی ہے۔ بے شک یہ جشن اور یہ وارفتگی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہے مگر ان کی موت ضرور ہے جو مایوسی، ناکامی، نفرت اور فساد کے بیوپاری ہیں۔ میں جن لوگوں کو دیکھ رہا ہوں وہ مایوس اور نامراد نہیں ہیں۔ جوش اور امنگ سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کے انداز میں کوئی معذرت خواہی نہیں ہے۔ آپ اسے ہلڑ بازی بھی کہہ سکتے ہیں اور جوش و خروش بھی۔ میرے ارد گرد گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا سیلاب ہے۔ خصوصی ملبوسات ہیں، بڑے بڑے پرچم ہیں اور باجے بھی ہیں۔ یہ ایک زندہ قوم ہے۔

Najam Wali Khan

12,403 görüntüleme • 16 gün önce

ہمیں معلوم ہے کہ ہمارا دُشمن ہم سے طاقت میں زیادہ ہے مگر ہم جن کو اپنا حق واپس لینا ہے وہ تعداد میں اُس سے کئی گُنا زیادہ ہیں ہمیں یہ لڑائی لڑنی ہے دُشمن کے ناک میں دم کرکے لڑنی ہے اور ہر وہ بندہ جس کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے وہ اسے اپنے ہاتھ میں اسلحہ سمجھ کر استعمال کرے دراصل یہ لڑائی شعور اور آگاہی دینے اور سمجھنے کی ہے .یہ جنگ کسی باغی ، بلال ،انکیڈو ، شرارتی ،پاکستان والی یا ہم جیسے کسی بے نامی کی ذاتی نہیں ہے خدا کی قسم ہمارا گھر بار بہت اچھا چل رہا ہے مستقبل بھی اللہ کے کرم سے بہت secure ہے ہم یہ جنگ عام پاکستانی کو اُسکی اہمیت بتانے کے لیے لڑ رہے ہیں . اور اگر آج آپ نے سُستی کی تو ہوسکتا ہے یہ لڑائی آپکی آنے والی دس نسلوں کو لڑنی پڑ جائے خدارا اپنے دُنیا میں آنے کے مقصد کو پہچانیں اور ہر بندہ اپنے حصے کا اثر چھوڑ سکتا ہے آزادیاں اپنے تاثر اور اظہار رائے کو لوگوں تک صحیح طور پر پہنچانے سے ہی مل سکتی ہیں 🙏✌️✌️

AI creator شرارتی

11,008 görüntüleme • 8 ay önce

رات ایک پروگرام میں موصوف شیر افضل مروت صاحب بھی کسی کی چابی بن کر مجھ پر تنقید کر رہے تھے۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ پارٹی میں اندرونی معاملات پر بطور عہدیدار نہ بات کروں۔ لیکن اس شخص کا ہمیشہ سے مخصوص ایجنڈا رہا ہے اور اندرونی طور پر میں نے ہمیشہ اس کو رانگ نمبر کہا کہ یہ نوسر باز ہے اور مخصوص ایجنڈا کے تحت مخصوص لوگوں کو ٹارگٹ کرتا ہے۔ میں تو حقیر سا ورکر ہوں اس شخص کو سب سے پہلے Azhar Mashwani سے مسئلہ تھا جس کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھُپی نہیں جو شادی کے دوسرے ہفتے اٹھایا گیا جس کے خاندان پر زمین تنگ کر دی گئی، پھر اس نے عمران خان صاحب کے خاندان خاص کر Aleema Khanum آپا پر مسلسل الزامات کی بوچھاڑ کر رہا ہے ان پر بھی اس کو اعتراض ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب بھی کوئی تحریک چلنے لگتی ہے یا کوئی ہلچل ہونے لگتی ہے تو چابی والا بندر میدان میں آ جاتا ہے پھر Intazar Hussain Panjutha پر بھی اعتراض ہے اس کو۔ جو ظلم انتظار پنجوتہ صاحب کے ساتھ ہوا ہے کیا وہ سارے پاکستان نے نہیں دیکھا اس لیے یہ پاگل ہو چکا ہے ہے اور جو پیچھے سے پرچی پر لکھ کر دیا جاتا ہے یہ اردلی کا کردار ادا کرتا ہے۔ میری پارٹی کے لیڈران سے گزارش ہے کہ جس پروگرام میں یہ شخص بھیجا جاتا ہے اس کا بائیکاٹ کریں کیوں کہ ان کی اہمیت صرف اس پٹاخے کی ہے جو چل چکا ہے اور اب صرف اس کی واحد جگہ کوڑے دان کا ہے

Ehsan Toor

11,345 görüntüleme • 1 yıl önce