Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

پہلے میں پارٹی عہدے پر تھا، اسلئے اخلاق کا دامن نا چھوڑا۔ لیکن یوتھیو! یاد رکھنا، آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں عاطف رؤف تمھارا باپ ہے۔ اب میں پارٹی عہدے پر، اگر اب مجھ پر بکواس کی تو میں ایسا مواد نکالوں گا کہ تمھاری نسلیں بھی یاد رکھیں گی یہ...

262,360 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

میں ایک صحافی ہونے کے ناطے چند گزارشات رکھنا چاہتی ہوں۔ آپ سب اس تحریر کو پڑھ کر اپنی رائے ضرور دیں میری تمام ویڈیوز اور تصاویر میں میں نے ہمیشہ حجاب اور شلوار قمیض پہنی ہے، کبھی بھی غیر مہذب لباس استعمال نہیں کیا۔ پھر بھی کچھ لوگوں کو مجھ سے اعتراض ہے تو میں ان سے سوال کرتی ہوں: کیا یہی لباس آپ کی بہن یا بیٹی نہیں پہنتی؟ اگر وہ بھی شلوار قمیض ہی پہنتی ہیں تو پھر میرا قصور کیا ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ بڑے نیک اور مولوی بننے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت ان کے رویے اور کمنٹس میں نظر آ جاتی ہے۔ میں صرف اتنا کہتی ہوں کہ دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے خود کو بھی دیکھ لینا چاہیے۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ میں فیک ہوں یا ریئل، تو ان شاءاللہ میں اپنا ثبوت ضرور دوں گی کہ میں ایک لڑکی ہوں۔ لیکن جنہوں نے مجھے فیک کہا، اگر میں نے اپنی سچائی ثابت کر دی تو کیا ان پر بھی کوئی جرمانہ ہوگا؟ یہ سوال باقی سب کے لیے چھوڑتی ہوں۔ تحریر: نادیہ ملک، صحافی

Nadia Malik

67,265 просмотров • 9 месяцев назад

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

659,634 просмотров • 2 лет назад

ہمارے معاشرے میں جوائنٹ فیملی سسٹم کئی دفعہ خواتین کے لئے بہت بڑا عذاب بن جاتا ہے خاص طور پر جو دوسرے خاندان سے بیاہ کر جوائنٹ فیملی والے خاندان میں آتی ہیں انکو اپنے سسر ،ساس، جیٹھانی اور دیور کی وہ کڑوی کسیلی باتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں شوہر خود مجبور ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کو منع کرے گا تو اسکو کہا جاتا ہے کہ رن مرید ہو گیا اور والدین تو خاص طور پر جذباتی بلیک میلنگ بھی کر جاتے ہیں کہ کیسے تم کو پالا پوسا جوان کیا پڑھایا اور اب تم اپنی بیوی کو ہم پر ترجیح دے رہے ہو آج صبح سے ایک سسر کی ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ اپنی بہو کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے گو پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے مگر اب بہو خود یہ ویڈیو بیان دے رہی ہے کہ میں بد تمیزی کی تھی اس لئے سسر نے مارا ہے اور کوئی کاروائی بھی نہیں کروانا چاہتی اسکی وجہ یہ ہے کہ اس نے اس گھر میں رہنا ہے اگر سسر کو اندر کرواے گی تو سسر سب سے پہلے باہر آ کر اس کو گھر سے نکالے گا اور بچے بھی چھین لے گا بس ایسا خاندانی نظام ہے ہمارا

KHURRAM

279,836 просмотров • 2 лет назад